وجود

... loading ...

وجود

کراچی کا امن پھر خطرے میں: دہشت گردوں کی فوجی گاڑی پر فائرنگ ، دو اہلکار جاں بحق

بدھ 27 جولائی 2016 کراچی کا امن پھر خطرے میں: دہشت گردوں کی فوجی گاڑی پر فائرنگ ، دو اہلکار جاں بحق

01-attack-on-army-personnel-karachi

کراچی کا امن ایک بار پھر شدید خطرے میں ہے۔ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر فوجی اہلکاروں کونشانا بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آزما فوج کو بھی وہ شہروں میں چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب فوج آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں، دہشت گردوں نے عین اُن ہی دنوں میں کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع پارکنگ پلازہ کے قریب فوجی گاڑی کو نشانے بنایا جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار شدید زخمی ہو گیے۔ زخمی فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تو اس دوران میں ایک اہلکارراستے میں ہی دم توڑ گیا۔ جبکہ دوسرا ہلکار علاج کے دوران میں زخموں کی تاب نہ لاکر زندگی ہار گیا۔زخمی اہلکاروں کی شناخت لانس نائیک عبدالرزاق اور حوالدارخادم حسین کے ناموں سے ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق لانس نائیک عبدالرزاق کا تعلق نوشہرو فیروز سے تھاجبکہ حوالدار خادم حسین کا دادو کا رہائشی تھا۔ مذکورہ دونوں فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ اولڈ ریس کورس گراونڈ میں ادا کردی گئی۔ جس میں کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ ، کراچی پولیس چیف مشتاق مہر اورتینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کراچی میں فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ۔ اس سے قبل کراچی کی مصرف ترین شاہرہ ایم اے جناح روڈ پر گزشتہ برس کے اختتامی ماہ یکم دسمبر 2015 میں سیکورٹی ادارے کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں دو اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ 2013 میں بھی فوج کو ایسے ہی ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑاتھا جب کراچی کے علاقے عوامی کالونی کورنگی میں ضمنی انتخابات کی سیکورٹی پر مامور پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 22 اگست 2013 کے اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ فوجی جوانوں کو پہلی بار کراچی میں بم حملے کے ذریعے نشانا بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس میں دو جوان جاں بحق اور 17کے قریب لوگ زخمی ہو گیے تھے۔ بدقسمتی سے ان واقعات کے حوالے سے ذمہ داروں تک پہنچنے اور اُنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

05-attack-on-army-personnel-karachi

کراچی کا یہ المیہ ہے کہ یہاں تفتیشی عمل کبھی بھی عوامی سطح پر اعتبار حاصل نہیں کرسکا۔ اور ایک ہی واقعے کے اتنےذمہ داران کے نام زیر گردش رہتے ہیں کہ یہ پورا عمل شکوک کے گرداب میں چلا جاتا ہے۔ کراچی میں فوجی اہلکاروں پر حملے کے 2013 سے اب تک تین واقعات کے بارے میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اُنہیں نشانہ بنانے والے کون ہیں؟ اور کیا یہ کوئی ایسا گروہ ہے جو بھارت کے احکامات پر کراچی میں پاک فوج کو کوئی خصوصی پیغام دینے کے لیے اپنی کارروائیاں کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیریوں کی حالیہ جدوجہد کے تناظر میں یہ پہلو خاصا اہمیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اور افغانستان میں ان دنوں پاکستان کے خلاف ایک ایسی ملی بھگت موجود ہے جو کوئی بہت زیادہ مخفی نہیں رہی ہے۔

اس سے قطع نظر کراچی کے حالیہ واقعے میں دہشت گردوں نے اس مرتبہ تفتیشی عمل میں مشکلات پیدا کرنے کی خاطر اسلحہ کے ساتھ ایک تھیلے کا استعمال کیا تاکہ تفتیش کاروں کو جائے واردات سے گولیوں کے خول نہ مل سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ساؤتھ نے واضح کیا ہے کہ جائے واردات سے کوئی خول نہیں ملا ہے ، کیونکہ حملہ آوروں نے بیگ یا کیچر کا استعمال کیا ہے۔ واقعے کے ایک عینی شاہد رکشہ ڈرائیور نے بھی ابتدائی بیان میں یہی کہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دو دہشت گرد گاڑی کے پیچھے تھے۔ گاڑی جوں ہی سنسان سڑک پر پہنچی تو موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے دہشت گرد نے فائرنگ کردی۔ عینی شاہد کے مطابق دہشت گرد کے ہاتھ میں اسلحہ کے ساتھ ہاتھ میں ایک تھیلا بھی تھا۔

واضح رہے کہ اس طرح اسلحے کے ساتھ ہاتھ میں تھیلا رکھ کر حملہ کرنے کا ایک واقعہ اس سے قبل بھی کراچی میں پیش آچکا ہے جب عزیز آباد میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

کراچی میں فوجی اہلکاروں کو ایک بار پھر نشانہ بنانے سے دو چیزیں بالکل واضح ہو گئی ہیں ۔ اولاً دہشت گردوں کے خلاف ایک وسیع تر فوجی آپریشن اور اُن کے خلاف قانونی کاررائیوں اور پھانسیوں کے باوجود وہ نفسیاتی طور پراب بھی حملہ کرنے اور پلٹ کر وار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ ثانیاً : دہشت گرد اس ضمن میں اس قدر بے پرواہ ہیں کہ وہ اپنے اہداف میں فوجی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں فوجی اہلکاروں پر ہونے والے تازہ حملے نے کراچی آپریشن کی کامیابی کے دعوے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر