وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

روس کے طیاروں کی شام میں امریکی خفیہ اڈے پر بمباری

اتوار 24 جولائی 2016 روس کے طیاروں کی شام میں امریکی خفیہ اڈے پر بمباری

Russian-warplanes

روس کے بمبار طیارے شام میں خاص امریکی و برطانوی خفیہ دستوں کی جانب سے استعمال کردہ ایئربیس پر حملے کر رہے ہیں۔

سی آئی اے کے اس خفیہ اڈے پر روس کے حملے اس مہم کا حصہ ہیں جو امریکا کو شام میں داعش کی مدد سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دے رہی ہے کہ روس کسی بھی ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ان حملوں میں چند اہلکار بھی مارے گئے ہوں لیکن ا روس اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کوئی گرمی نہیں دکھائی دیتی۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی دونوں ممالک نے خطے میں القاعدہ سے منسلک تنظیم جھبۃ النصرہ کے خلاف فضائی حملوں کا معاہدہ کیا ہے حالانکہ پینٹاگون اور سی آئی اے نے اس کی مخالفت کی تھی۔ روس نے امریکا کے حامی باغی عناصر پر فضائی حملے نہ کرنے اور شام میں فضائی مہم کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ فریقین اب بھی اس معاملے پر اب بھی مذاکرات کر رہے ہیں کہ کس جگہ حملہ کرنے کے لیے روس کو امریکا کی منظوری کی ضرورت ہوگی۔

معروف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ میں موجود عناصر سمجھتے ہیں کہ جھبۃ النصرہ کے خلاف ان علاقوں میں امریکی فضائی حملے جو پہلے روسی افواج کے پاس تھے شام میں اتحادیوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ البتہ پینٹاگون اور سی آئی اے کے حکام کا سمجھنا ہے کہ معاہدے میں واشنگٹن روس کے سامنے جھکا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو روس کی مخالفت کرنی چاہیے۔

بہرحال، خفیہ اڈے پر روسی حملے کا واقعہ 16 جون کو پیش آیا تھا کہ جہاں امریکی و برطانوی فوجی دستے اردن کے ساتھ ایک بفر زون قائم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دستے اردن کو داعش سے بچانے میں مدد کے لیے شام جاتے ہیں اور وہاں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر رات کو قیام نہیں کرتے۔ حملے سے محض ایک دن قبل 24 میں سے 20 برطانوی فوجی اڈے سے نکال لیے گئے تھے۔ امریکا نے ایک روسی طیارے کو اڈے کی جانب آتا دیکھا کہ جس نے ایک کلسٹر بم پھینکا۔ حملے کے بعد امریکا کی مرکزی کمان نے لاذقیہ میں روس کی فضائی مہم کے صدر دفتر سے رابطہ کیا کہ اس اڈے پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔

البتہ اس رابطے کے صرف 90 منٹ بعد روس نے یہاں ایک اور حملہ کیا اور روس کے کسی پائلٹ نے امریکی مطالبے پر کان نہیں دھرے حالانکہ ان سے اسی فریکوئنسی پر رابطہ کیا گیا جس پر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رابطے پر دونوں ملک رضامند ہوئے تھے۔ ان حملوں میں کم از کم چار افراد مارے گئے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ امریکا کے حامی باغی دستوں سے تعلق رکھتے تھے۔

روس کے حکام نے ابتدائی طور پر پینٹاگون کو بتایا کہ وہ اسے داعش کی تنصیب سمجھے تھے لیکن امریکی حکام نے اس کو مکمل طور پر رد کردیا کہ اس اڈے کی ساخت ایسی ہے کہ روس کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہ داعش کا اڈہ نہیں ہو سکتا۔ اردن کی جانب سے حملے کی منظوری ملنے کی بھی بات کی گئی لیکن امریکا نے اس کی بھی تردید کی ہے۔

اس حملے سے شام میں موجود امریکی و روسی افواج میں بد اعتمادی کی فضا میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب امریکا نے روس سے کہا ہے کہ وہ اردنی سرحد سے دور رہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر وجود - جمعرات 15 ستمبر 2016

شام کے صدر بشار الاسد نے امریکا اور روس کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی سے چند گھنٹے پہلے پورے شام کو دوبارہ اپنی سرکار کے زیر نگیں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ قومی ٹیلی وژن نے دکھایا کہ اسد دمشق کے نواحی علاقے داریا کا دورہ کر رہے تھے کہ جو بہت عرصے سے باغیوں کے قبضے میں تھا اور گزشتہ مہینے سرکاری افواج نے اس کو دوبارہ فتح کیا ہے۔ اسی علاقے کی ایک مسجد میں بشار نے نماز عید بھی ادا کی، جس کی تصاویر اس وقت ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہے۔ اپنی تازہ گفتگو میں شامی صدر نے جنگ بندی کے ...

امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر

ترکی کا "دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ" کا اعلان وجود - پیر 29 اگست 2016

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا ہے کہ ترکی اب دہشت گردی کے خلاف کھلی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ جمعے کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے حملے میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ترکی میں دہشت گردی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں گے۔ "کوئی دہشت گرد تنظیم ترکی کو مجبور نہیں کر سکتی۔ ہم نے ان دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔" روزنامہ حریت کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ "جس طرح جنگ آزادی میں بابائے قوم نے کہا تھا "آزادی یا ...

ترکی کا

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے وجود - هفته 27 اگست 2016

شام کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کے ایک روز بعد ترک فوجی دستوں کے منبج شہر کے گرد امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے خلاف حملے جاری ہیں۔ گو کہ ان حملوں کا آغاز جرابلس کے قصبے سے داعش کو نکالنے کے لیے ہوا تھا لیکن ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا بڑا مقصد کردوں کو کچلنا ہے۔ ترک ریاستی حکام نے کرد گروپ 'وائی پی جی' کے اہداف پر گولہ باری کو "انتباہ" قرار دیا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے "صریح جارحیت" ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے رو...

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا وجود - جمعرات 18 اگست 2016

چین بھی شام تنازع میں شامل ہونے کے قریب ہے۔ بیجنگ دمشق کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات کا خواہشمند ہے اور اس بحران میں "اہم کردار ادا کرنا چاہ رہا ہے۔" چینی تربیت کاروں کی جانب سے شامی اہلکاروں کی تربیت پر گفتگو ہو چکی ہے اور اس امر پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ چینی افواج شام کو انسانی امداد فراہم کریں گی۔ یہ انکشاف پیپلز لبریشن آرمی کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے بتائی۔ روس کے سرکاری خبری ادارے "رشیا ٹوڈے" کے مطابق چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن میں دفتر برائے بین الاقوامی عسکری ...

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا وجود - بدھ 17 اگست 2016

روس نے پہلی بار شام میں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے ایران میں موجود فضائی اڑے استعمال کیے ہیں، اور یوں مشرق وسطیٰ کے معاملات میں اپنی مداخلت کو مزید توسیع دے دی ہے۔ تہران کے ساتھ ماسکو کے تعلقات کس نہج تک پہنچ گئے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز روس کے ٹی یو- 22 ایم3 بمبار طیاروں اور سخوئی-34 لڑاکا بمباروں نے ایران کے ہمدان ایئربیس سے اڑان بھری اور پھر شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس...

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا

عراق و شام فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹوٹ سکتے ہیں، حزب اللہ وجود - جمعه 05 اگست 2016

لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ عراق اور شام کی تقسیم خطے میں جاری فرقہ وارانہ جنگ کا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے اور نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات تک شام میں جنگ کے خاتمے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے نائب رہنما شیخ نعیم قاسم نے کہا ہےکہ حزب اللہ، ایران اور روس آخر تک بشار الاسد کے ساتھ رہیں گے۔ ان کے دستے مغربی و علاقائی طاقتوں کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے خلاف صدر بشار کی دامے، درمے، سخنے حمایت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے خبر رساں ادارے "رائٹرز"...

عراق و شام فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹوٹ سکتے ہیں، حزب اللہ

بشار کو قتل کردیں گے، ہلیری کا وعدہ وجود - پیر 01 اگست 2016

ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر وہ امریکا کی صدر منتخب ہوگئیں تو شام پر حملہ کرکے صدر بشار الاسد کو قتل کردیں گی۔ کلنٹن کے سیاسی مشیر نے تصدیق کی ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ہلیری کی اولین ترجیحات میں سے ایک شام پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا جس میں بشار پر حملہ اور حکومت کی تبدیلی سرفہرست ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کے نائب اور پینٹاگون کے سابق چیف آف اسٹاف جیریمی بیش کا کہنا ہے کہ بشار ایک "قاتل حکومت" ہے اور امریکی خارجہ پالیسی داعش اور ان کے خلاف جنگ کرے گی اور یہ...

بشار کو قتل کردیں گے، ہلیری کا وعدہ

سرحد پر نیٹو مشقیں، روس نے "تیسری عالمی جنگ" کی تیاری شروع کردی وجود - جمعرات 14 جولائی 2016

روس کی سرحدوں کے ساتھ افواج کی تعیناتی پر نیٹو رہنماؤں کے اتفاق کے بعد روس نے "تیسری عالمی جنگ" کے لیے ضروری تیاری شروع کردی ہیں۔ اضافی دستوں کی تعیناتی نیٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں 'ایناکونڈا 16' کے بعد ہو رہی ہے، جس میں 20 مختلف نیٹو ممالک کے 30 ہزار سے زیادہ فوجیوں نے پولینڈ میں دس روز تک حصہ لیا۔ ایناکونڈا 16 کو سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی جنگی مشقیں کہا جا رہا ہے۔ روس کے صدر ولادیمر پوتن نے ان اقدامات کو جارحانہ اور خطرناک اور "اشتعال انگیز" قرار دیا ہے۔ روسی س...

سرحد پر نیٹو مشقیں، روس نے

شام، داعش نے امریکی ہتھیار سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا وجود - اتوار 10 جولائی 2016

داعش کے جنگجوؤں نے شام میں ایک روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، جس میں موجود تمام روسی فوجی مارے گئے ہیں لیکن ذرا ذہن پر زور ڈالیں کہ یہ "کارنامہ" امریکی ساختہ ہتھیاروں سے انجام دیا گیا۔ یہ روسی ہیلی کاپٹر تدمر شہر پر پرواز کر رہا تھا اور اس کی تباہی کی تصدیق خود روسی وزارت دفاع نے کی ہے جس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایئر بیس کی جانب واپسی پر ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ یہ واقعہ 8 جولائی کو پیش آیا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق دو روسی پائلٹ ایوگنی...

شام، داعش نے امریکی ہتھیار سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا

مہاجرین کی تعداد سب حدوں کو پار کرگئی وجود - بدھ 22 جون 2016

تصور کیجیے کہ برطانیہ کی پوری آبادی کو مجبوراً اپنا گھربار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑے، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس سے زيادہ افراد دنیا بھر میں بے گھر ہوں گے جو دوسری جنگ عظیم سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ شام و افغانستان جیسے علاقوں میں مسلسل جنگوں اور ظلم و ستم نے مہاجرین کی کل تعداد میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار مہاجرین و پناہ ...

مہاجرین کی تعداد سب حدوں کو پار کرگئی

اسرائیل کو چھوڑو، سعودی عرب کو نشانہ بناؤ: ایران کی حزب اللہ کو ہدایت وجود - بدھ 18 مئی 2016

لبنان کی حزب اللہ کو ایران کی جانب سے ہدایت ملی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیوں کو معطل کرکے سعودی عرب کو نشانہ بنائے۔ یہ ہدایت شام میں اپنے اہم کمانڈر مصطفیٰ بدر الدین کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر پھیلے غم و غصے کے بعد دی گئی ہے، جس کا الزام حزب اللہ سعودی عرب کے "تکفیری" عناصر پر لگا رہا ہے۔ انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے مطابق یہ حکم پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے بذات خود دیے ہیں، جو کمانڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بیرو...

اسرائیل کو چھوڑو، سعودی عرب کو نشانہ بناؤ: ایران کی حزب اللہ کو ہدایت

تنازعات اور قدرتی آفات، دنیا بھر میں 27.8 ملین افراد دربدر وجود - منگل 10 مئی 2016

ایک معروف امدادی ادارے نے کہتا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں 27.8 ملین افراد داخلی طور پر بے گھر ہوئے، جس کی وجہ خانہ جنگیاں اور قدرتی آفات ہیں۔ یہ دنیا کے چار بڑے شہروں نیو یارک، لندن، پیرس اور قاہرہ کی مشترکہ آبادی سے بھی زیادہ لوگ ہیں۔ بدھ کو جاری ہونے والی نارویجیئن ریفیوجی کونسل کی رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی کے نتیجے میں داخلی طور پر متاثر ہونے والے افراد یعنی آئی ڈی پیز کی تعداد 8.6 ملین ہے جس میں نصف سے زیادہ شام، یمن اور عراق سے تعلق رکھتے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ...

تنازعات اور قدرتی آفات، دنیا بھر میں 27.8 ملین افراد دربدر