... loading ...

مصر کی ایک عدالت نے الجزیرہ کے دو صحافیوں سمیت چھ افراد کی سزائے موت کی تصدیق کردی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری راز قطر کو منتقل کیے تھے۔ جاسوسی کے الزام میں جن 11 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا، ان میں مصر کے جمہوری صدر محمد مرسی بھی شامل تھے جنہیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سنیچر کو عدالت نے 7 مئی کے اس فیصلے کی توثیق کی، جس میں چھ مدعا علیہان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ابتدائی فیصلے کے بعد قاہرہ کی عدالت نے مصر کے مفتی اعظم شوقی عالم سے رابطہ کیا تھا کہ وہ فیصلے کو حتمی صورت دیں۔ مصری قانون کے مطابق موت کی سزا پر مفتی اعظم کے دستخط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی رائے لازمی واجب التعمیل تو نہیں لیکن عموماً عدلیہ اس کا احترام کرتی ہیں۔ دیگر مدعا علیہان کے ساتھ صدر مرسی بھی اس مقدمے میں 15 سال قید کے مستحق قرار پائے ہیں۔
سزائے موت پانے والوں میں الجزیرہ کے عربی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز ابراہم ہلال بھی شامل ہیں۔ وہ اس وقت مصر میں موجود نہیں اس لیے یہ سزا انہیں غیر موجودگی میں دی گئی۔ ہلال پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری راز قطر کو دیے جس پر انسانی حقوق کی انجمنون کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک سیاسی مقدمہ تھا اور دھوکہ دہی پر مبنی تھا۔ علاء سبلان، جو گزشتہ سال تک الجزیرہ کے ملازم تھے، اور اسما الخطبب، جو رسد نیوز نیٹ ورک کی صحافی تھیں، کو بھی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ موت کی سزا پانے والے دیگر میں سیاسی کارکن احمد عفیفی، فلائٹ اٹینڈنٹ محمد کیلانی اور تعلیمی شخصیت احمد اسماعیل بھی ہیں، جو اس وقت ریاستی حراست میں ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔
انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اسٹیون ایلس نے کہا ہے کہ انہیں فیصلے پر سخت مایوسی تو ہوئی ہے لیکن یہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ مصر میں آزادی صحافت کے حوالے سے ماحول کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انٹرپول اور پولیس کسی وارنٹ کے جاری ہونے کی صورت میں اس کا احترام نہیں کریں گے کیونکہ یہ ایک سیاسی اور جھوٹا مقدمہ تھا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے مصر کو صحافیوں کو سب سے زیادہ جیلوں میں ٹھونسنے والا ملک قرار دیا تھا اور صحافت کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔
جنوری 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں کو رپورٹ کرنے کے بعد ہی سے مصری حکام نے الجزیرہ کو نشانے پر رکھا ہوا تھا۔ اس کے دفاتر جبراً بند کرائے گئے اور متعدد صحافیوں کو قید کرلیا گیا تھا۔ 2013ء میں تحریر اسکوائر پر موجود ادارے کے دفاتر پر بم پھینکے گئے۔ پھر اسی سال جولائی میں ملک کے پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور اسی دن فوجی قاہرہ میں الجزیرہ کے دفاتر میں اس وقت گھس گئے جب براہ راست نشریات جاری تھی اور چینل کو نشریات بند کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ سال کے آخر تک الجزيرہ کے پانچ صحافی جیلوں میں تھے، جنہیں قید کرنے کی صرف ایک وجہ تھی کہ وہ صحافی ہیں۔
گو کہ ایک بین الاقوامی مہم نے ان صحافیوں کی رہائی کو ممکن بنایا لیکن اب بھی 70 سے زیادہ صحافی مصر کی جیلوں میں موجود ہیں۔ الجزیرہ نے ایسے تمام الزامات کی تردید کی ہے جو صحافتی اصولوں کے خلاف ہوں۔
اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی اور اعلیٰ قیادت سے لے کر عام کارکن تک، اس وقت اخوان کے ہزاروں اراکین جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...