وجود

... loading ...

وجود

ہلیری نے وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کو مارا تھا، کتاب میں انکشاف

جمعه 10 جون 2016 ہلیری نے وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کو مارا تھا، کتاب میں انکشاف

bill-and-hillary-clinton

امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ملازمت کرنے والے ایک اہلکار نے اپنی تازہ کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ جب بل کلنٹن امریکا کے صدر تھے تو ایک بار وہ اپنی اہلیہ ہلیری کلنٹن کے ہاتھوں اس بری طرح پٹے تھے کہ ان کی ایک آنکھ پر نیل پڑ گیا تھا۔ ہلیری کلنٹن رواں سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی امیدوار ہوں گی اور ایسے موقع پر ایک قریبی ملازم کے انکشافات پر مبنی کتاب کا آنا ان کی مہم کے لیے سخت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

گیری بائرن نامی سیکریٹ سروس ایجنٹ 90ء کی دہائی میں وائٹ ہاؤس میں صدر بل کلنٹن اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کی پر مامور اہلکاروں میں ایک تھے۔ ان کی کتاب “کرائسس آف کریکٹر” رواں ماہ 28 جون کو جاری ہو رہی ہے لیکن کتاب کے کچھ اقتباسات پہلے ہی منظر عام پر آ گئے ہیں۔ کتاب لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے بائرن نے کہا کہ “ہلیری کلنٹن اب ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار بن چکی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عہدے کے لیے جو سچائی اور راست بازی درکار ہے، ہلیری اس سے محروم ہیں اور یہ بات میں دل کی گہرائی سے جانتا ہوں اس لیے بول رہا ہوں۔ مجھے کلنٹن خاندان سے کوئی عداوت نہیں۔ میں نے ان کی وفاداری میں ایسا ثبوت بھی ٹھکانے لگایا تھا جو بعد میں صدر کے مواخذے کے لیے استعمال ہوا۔ لیکن وہ نیلے رنگ کا لباس ہی کلنٹن کے جرائم کا واحد ثبوت نہیں تھا۔ آج میں میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک کے رہنما اتنے بے پروا اور خطرناک کیسے ہو سکتے ہیں؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ میری یہ کہانی سنیں اور سمجھیں کہ کلنٹن خاندان کو ایک مرتبہ پھر یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو خطرے میں ڈالیں۔”

بائرن نے کتاب میں ان تمام مشہور اور نامعلوم اسکینڈلز کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے اور ساتھ ہی چھوٹے موٹے مسائل سے سے لے کر قومی سطح تک کے معاملات پر وائٹ ہاؤس کے روز مرہ احوال تحریر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کا ایک لفظ بھی سیاسی ایجنڈے کے طور پر نہیں لکھا۔ چاہے کلنٹن خاندان ڈیموکریٹ ہوتا یا ری پبلکن، جو میں نے دیکھا، جو میں نے سنا، وہ اس میں کتاب میں درج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “صدر اور خاتون اول کئی روز محض اس آنے والی کتاب کو روکنے کے لیے سوچنے پر ضائع کیے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بل کلنٹن کی ماں ایک کوٹھا چلاتی تھیں یا پھر کئی قیمتی دن ایک اور ایسے ہی غیر معیاری انکشاف کے خلاف سوچنے صرف کیے۔ ان کی ریشہ دوانیاں اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی مستقل کوششوں نے انہیں اس عہدے کے اصل کام اور قوم کی حقیقی خدمت سے روکے رکھا۔” کتاب میں کہا گیا ہے کہ “ہلیری کلنٹن کے عروج پر آنے سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا قائدانہ انداز ویسا ہی ہے، آتش فشانی، اضطراری، چاپلوسانہ اور حقارت آمیز۔”

کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ “1995ء کے موسم گرما کی ایک صبح میں وائٹ ہاؤس میں داخل ہوا۔ کچھ ہلچل دکھائی دے رہی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا ایسا کیوں ہے۔ رات کو یہاں ڈیوٹی کرنے والے تمام ہی افراد سیکرٹ سروس ایجنٹوں، افسران، گھریلو ملازمین اور سب نے صدر اور خاتون اول کے درمیان اونچی آواز میں ہونے والی گفتگو سنی تھی جس میں ہلیری کی آواز زیادہ بلند تھی۔ وہ دونوں اتنی زور سے چیخ چنگھاڑ رہے تھے کہ آواز سیڑھیوں، روشن اور ہوا دانوں اور سے باہر تک آ رہی تھی۔ بڑی بحث کے بعد اندر کچھ ٹوٹنے پھوٹنے کی آوازیں آئی۔ سیکریٹ ایجنٹوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک گلدان تھا، جو گرگیا تھا۔ بہرحال، صدر 9 بجے دفتر میں داخل ہوئے۔ ان کی آمد کا وقت آگے پیچھے ہوگیا تھا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، ان کی ایک آنکھ پر نیل پڑا ہوا تھا۔ الرجی سے پھولی ہوئی آنکھیں دیکھنے کا تو میں عادی تھا لیکن یہ تو نیل تھا۔ میں چند منٹوں بعد حیرانگی کے عالم میں صدر کی ذاتی سیکریٹری بیٹی کری کے دفتر میں داخل ہوا۔ ان کی پرسنل شیڈولر نینسی ہرنریک بھی وہاں موجود تھیں۔ “یہ صدر کے چہرے پر نیل کیسا تھا؟” میں نے پوچھا۔ مجھے سخت ٹینشن ہو رہی تھی۔ “انہیں کافی سے الرجی ہے” نینسی نے بتایا۔ “کافی سے الرجی صرف ایک آنکھ پر کیسے ظاہر ہوئی؟” میرے اس سوال پر بیٹی مسکرائیں۔ انہوں نے سر جھکا کو خود کو مصروف ظاہر کیا لیکن واضح تھا کہ وہ ہنس رہی ہیں۔ تب میں نے کہا کہ “مجھے بھی کسی کے الٹے ہاتھ سے الرجی ہے۔” دراصل میں پیغام دینا چاہتا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ نشان کہاں سے آیا۔ یہ ہرگز ایک ٹھیک حرکت نہيں تھی۔ کلنٹن خاندان کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ ہم ان کے کتنے قریب ہیں اور ان کی حفاظت کی جو ذمہ داری ہم پر عائد ہے وہ کتنی اہم ہے۔ ہم صرف 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن ان کی حفاظت نہیں کرتے تھے بلکہ ہم ان کے انتہائی وفادار بھی تھے۔ ہم صرف پیسے کے لیے اپنا کام نہیں کرتے تھے۔ اگر ہلیری کا اچانک مارا گیا مکا اپنا کام دکھا جاتا؟ یا گلدان اپنے ہدف پر ٹھیک جا لگتا؟ یا پھر صدر کا سر میز کے کسی کونے سے لگتا، تو ہماری تمام محنتیں اور کام تو ضائع ہو جاتا۔ یہ ایوان صدر نہیں ایک سرکس تھا۔”

اپنی کتاب میں بائرن مزید لکھتے ہیں کہ “فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنے 29 سالہ ملازمت کے دوران میں نے ہیرو بھی دیکھے ہیں اور ولن بھی۔ میں نے انسانی کردار کا اپنی بلندیوں پر بھی مشاہدہ کیا ہے اور اتھاہ گہرائیوں میں ہیں۔ اور یہ جانا ہے کہ کسی بھی ادارے میں کردار دراصل اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتا ہے اور ماتحت افراد میں سرایت کرتا ہے۔ کلنٹن خاندان اس اہم کام کو ایک جز وقتی ملازمت کی طرح چلاتا ہے۔”

یہ اہم کتاب ایمیزن پر قبل از وقت آرڈر کی جا سکتی ہے اور توقع ہے کہ بہت زیادہ فروخت ہوگی۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر