وجود

... loading ...

وجود

اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین افسران رہا، جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کی مشترکہ رچائی گئی سازش ناکام !

جمعه 13 مئی 2016 اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین افسران رہا، جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کی مشترکہ رچائی گئی سازش ناکام !

shahid-hayat

شرم تم کو مگر نہیں آتی !!!


عدالت عظمیٰ نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین عہدیداروں کی گزشتہ روز ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے فرید عالم ، طارق گھمرو اور محمد اقبال کی فی کس دس دس لاکھ روپے کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئےان کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔

یہ بات اول روز سے تمام دستاویزات سے واضح تھی کہ جن کو ای اور بی آئی کے مقدمے میں ملزمان بنایا گیا تھا، اُن کا براہِ راست ای او بی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم اس ضمن میں جو تفتیشی ایجنسی ایف آئی اے کی شکل میں تھی ، اُن کے تمام افسران کا تعلق اے کی ڈی سیکورٹیز کے مخالف گروپ سے ضرور تھا۔ ایف آئی اے کے شاہد حیات نے اول روز سے اس مقدمے میں ایک جانب دار افسر کا کردار ادا کیا ۔ مگر وہ ایس ای سی پی، وزارت خزانہ ، وزارت داخلہ اور وزیراعظم کے سیکریٹری فواد حسن فوادکی مجرمانہ اعانت لینے کے باوجود اس معاملے میں ایسی کوئی براہ راست شہادت یا دستاویزات پیش نہیں کر سکے جو مقدمے کے بے گناہ ملزموں کا براہ راست تعلق ای او بی آئی کے کسی بھی مواخذے کے قابل معاملے سے کوئی تعلق ثابت کر سکے۔ چنانچہ عدالت نے یہی نکتہ اُٹھاتے ہوئے اپنی برہمی کا اظہار کیا کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اب تک کوئی ایسی دستاویز پیش نہیں کرسکے جو ملزمان کا براہ ِ راست تعلق ای او بی آئی سے ثابت کرتی ہوں۔ حیرت انگیز طور پر اس سے قبل گزشتہ ہفتے کی ایک سماعت میں ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کے اسی سوال پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اگلی سماعت ایسی دستاویز پیش کریں گے۔ تب بھی یہ سوال پید ا ہوتا تھا کہ 4 جنوری کو گرفتار کیے گیے اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین افسران کے خلاف پانچ ماہ کے تفتیشی عمل میں اب تک کوئی ایسی دستاویز بھی ایف آئی اے ڈھونڈ نہیں سکی کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہوئے اُس کے سامنے رکھ سکے۔ مگر اس سوال سے قطع نظر ایف آئی اے کو گزشتہ سماعت میں ایک اور موقع عدالت عظمیٰ کی طرف سے دے دیا گیا تھا۔

اس دوران میں وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے افسران اپنے سرپرستوں کے سامنے ناک رگڑتے رہے کہ اُنہیں کوئی تو ایسی دستاویز دی جائے جس میں اے کے ڈی سیکورٹیز کا براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق ای او بی آئی سے ثابت ہو سکتا ہو۔ مگر ایک سازش کے تحت بنائے گیے مقدمے کی کوئی بنیاد سرے سے تھی ہی نہیں ، اس لیے ایف آئی اے کے افسران اپنی ساری سرکاری طاقت کے باوجود عدالت عظمیٰ میں اُٹھائے گیے اس جائز نکتے کو کوئی ناجائز جواب بھی نہیں دے سکے۔

Mir-Shakil-ur-Rehman

شرم تم کو مگر نہیں آتی !!!


اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنایا مقدمہ اپنی مثال آپ تھا۔ جس میں ریاستی قوت کا استعمال چند لوگوں نے کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی کواپنی ڈھب پر لانے اور نشانہ انتقام بنانے کی مکروہ کوشش کی تھی۔ یہ بات اول روز سے ہی واضح تھی کہ اس مقدمے کی پشت پر جہانگیر صدیقی اور اُن کے سمدھی میر شکیل الرحمان کی طاقت اور پیسہ حرکت کررہا ہے۔ حرص وہوس میں ڈوبے ایف آئی اے کے افسران اور شاہد حیات نےا س معاملے کے قانوی پہلوؤں کے بجائے اُن ہڈیوں کو دیکھا جو اُن کے سامنے پھینکی گئی تھیں۔ اس ضمن میں سرکاری اداروں کے استعمال اور سازش کے جملہ پہلوؤں کو دھیان میں لایا جائے تو ایک طلسم ہوش ربا کھل جاتی ہے۔ مثلاً

Jahangir-Siddiqui

شرم تم کو مگر نہیں آتی !!!


٭اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمے میں مختلف اوقات میں وزارت خزانہ، وزارت داخلہ اور وزیراعظم ہاؤس فعال نظر آئے۔ یہاں تک کہ مقدمے کی عدالت میں شنوائی کے وقت اٹارنی جنرل کا دفتر مقدمے کو لٹکانے کے لیے غیر معمولی طور پر استعمال ہوتا رہا۔

٭اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بروئے کار آنے والے ایس ای سی پی کے افسران کی کی ایک قدر مشترک یہ تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی جہانگیر صدیقی کے ساتھ کام کیا تھا۔

٭ایف آئی اے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کےخلاف مقدمہ سازی سے لے کر تفتیش تک ایسے افراد فعال کیے گیے جو داغدار پس منظررکھتے تھے۔ کیونکہ وہ مقدمات کی تیاری میں قانونی تقاضوں کو کم اور اوپر کے اشاروں کو زیادہ دیکھتے تھے۔

٭ایف آئی اے نےمقدمے میں دباؤ کی حکمت عملی اختیار کی ۔ کیونکہ وہ شروع سے آگاہ تھے کہ اس مقدمے کے حقائق اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف نہیں۔

٭یہ ایک حیران کن امر ہے کہ سپریم کورٹ سے منظور ہونے والی ضمانتیں ، آخر ہائیکورٹ سے کیوں نامنظور ہوئی؟ جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں بھی ایف آئی اے قانونی شواہد پیش کرنے میں مکمل ناکام تھی۔ اس ضمن میں عمران شیخ کی پراسرار گرفتاری سے سامنے آنے والے حقائق پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔عمران شیخ نے دوران حراست تفتیش میں اُس طریقہ واردات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی کہ جہانگیر صدیقی کی پشت پناہی سے وہ کس طرح ملک بھر کے اہم ترین افراد کو اپنے زیردام رکھتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر اُن کے پرکشش جال سے اعلیٰ عدالتوں کے معزز جج بھی محفوظ نہیں رہ پائے تھے۔ عمران شیخ نے اُن کے نام بھی لیے ہیں۔

بدقسمتی سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنایا گیا مقدمہ سازش کے ایسے تانے بانے رکھتا ہے جو ملک کے قانونی اور عدالتی نظام پر ایک عام شہری کا اعتماد باقی ہی نہیں رہنے دیتا۔ یہ ایک نہ دکھائی دینے والے تعلقات کی ایسی آکاس بیل ہے جس میں پاکستان کی سیاست ، صحافت اور قانونی نظام دولت کے آگے سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باجود کچھ لوگ اس نظام میں لڑتے ہوئے انصاف کے حصول کی کوششیں جاری رکھتے ہیں۔ اور بآلاخر بہت دیر اور بہت دور جاکر کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی طرح انصاف پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اے کےڈی سیکورٹیز کے تین افسران کی عدالت عظمیٰ سے رہائی ایسی ہی کوششوں کی ایک روشن مثال ہے۔ مگر کیوں نہ اب ایف آئی اے کے شاہد حیات کو خود اُن کے ہی ٹیلی ویژن پر کیے گیے دعووں کو سنا یا جائے جس میں سے ایک بھی وہ پورا نہیں کرسکے۔ مگر کیا اس ملک میں کسی کوکوئی شرم بھی آتی ہے؟


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر