... loading ...

عمران خان کا قوم سے خطاب کوئی سرکاری حیثیت نہیں رکھتا ۔ یہ ایک علامتی اور نفسیاتی معنوں میں قوم سے خطاب تھا۔ جسے ایک اخلاقی وزن نے جواز دیا تھا۔ مگر افسوس ناک طور پر اس خطاب کو جانبدارانہ رپورٹنگ سے نشانہ تنقید بنایا گیا۔ ایک خبر کسی نیوز ایجنسی سے جاری کراکے اِسے قومی اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ جس میں نشاندہی کی گئی کہ عمران خان اپنے خطاب سے قبل تین بنیادی چیزیں بھول گئے۔ اولاً: خطاب سے قبل قومی ترانہ نہیں بجایا گیا۔ ثانیاً: خطاب سے قبل کلام پاک کی تلاوت نہیں کی گئی۔ ثالثاً: خطاب کے دوران میں پشت پر قائد اعظم کی تصویر نہیں رکھی گئی۔
ان تینوں اعتراضات کو اُٹھانے والے یہ بھول گئے کہ یہ خطاب سرکاری نہیں تھا۔ یہ حزب اختلاف کے ایک رہنما کی طرف سے قوم کے نام خطاب کا ایک علامتی اظہاریہ تھا۔ یہ ترقی یافتہ ممالک میں حزب اختلاف کی جانب سے ایک ڈی فیکٹو اور متوازی حکومت کی طرح سے کی گئی ایک کوشش تھی۔ جسے عمران خان نے اس جواز پر برتا تھا کہ مسلم لیگ نون اور اُس کے رہنماؤں کی جانب سے پانامہ لیکس میں شامل شریف خاندان اور نوازشریف کے صاحبزادوں یہاں تک کہ صاحبزادی تک کا نام آنے پر وضاحت کے بجائے عمران خان پر تنقید کا طوفان اُٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا اور قومی سطح پر اعتبار رکھنے والے ادارے شوکت خانم اسپتال کو متنازع بنانے کی متواتر مشق کو دہرایا گیا۔ پانامہ کا پورا کھڑاگ بیرون ملک سے اُٹھا تھا جس کاپاکستان کے کسی ادارے اور حزب اختلاف سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ مگر نوازشریف نے خود قوم سے خطاب کرتے ہوئے اور اُن کے رہنماؤں نے دیگر ذرائع سے اسے پاکستان کی سیاست میں طوفان بدتمیزی اُٹھانے کے لیے استعمال کیا۔ پانامہ لیکس کا معاملہ ہر اعتبار سے شریف خاندان کی واجب وضاحتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر شریف خاندان نے اس کے برعکس شوکت خانم اسپتال کو زد پر لے لیا ہے۔ اس تناظر نے عمران خان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اس پر رائے زنی کریں۔ یہاں تک کہ ایک نئی مہم جوئی کے امکانات بھی ڈھونڈیں ۔
عمران خان کے قوم سے خطاب کو نشانہ تنقید بنانے والوں نے یہ بھی فراموش کر دیا کہ وزیر اعظم کا خطاب ادارتی سطح کی ایک چیز ہوتا ہے جس کی تیاری ایک ادارتی نظم وضبط کا حصہ ہوتی ہے جبکہ عمران خان کا خطاب اس طرح کے نظم وضبط کے زمرے میں نہیں آتا۔ پاکستانی صحافت اگر غیر جانب داری سے اس کا جائزہ رکھتی تو پھر اُسے وزیر اعظم نوازشریف کے قوم سے خطاب کا بھی ایک محاکمہ کرنا چاہئے تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف قوم سے خطاب براہِ راست کیوں نہیں کر پاتے۔ ایک ایسا شخص جو قوم سے براہ ِراست مخاطب ہونے کا اعتماد بھی نہیں رکھتا، وہ قوم کی قیادت کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ پاکستانی صحافت کو اس کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وزیر اعظم نوازشریف کو ایک خطاب یا ناگزیر حالات میں کسی انٹرویو کی ریکارڈنگ میں کتنی بار ایک ایک جملے کو ادا کرنے کے لئے نئے سرے سے ریکارڈنگ کرانی پڑتی ہے۔ افسوس ناک طور پر نوازشریف کے ان پہلوؤں کو کبھی موضوع بحث نہیں لایا جاتا ،مگر سوالات یہ اُٹھائے گئے ہیں کہ عمران خان کی تقریر سے قبل قومی ترانہ کیوں نہیں بجایا گیا؟ عمران خان کے قوم سے خطاب میں اہمیت اُس مواد کو حاصل ہے جو اُن کی تقریر کا حصہ تھا۔ جس میں وہ پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نوازشریف پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی نشاندہی کررہے تھے۔ افسوس ناک طور پر اُن کے خطاب کے قابل توجہ حصوں کو نظر اندار کرکے پنجابی کہاوت کے مطابق” آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہوں”والا رویہ اختیار کر لیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ شریف خاندان کے ساتھ پاکستان کی قومی صحافت کے بھی بے نقاب ہونے کا وقت آگیا ہے!
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...