... loading ...

وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے حوالے سے زیر نظر تحقیقاتی سلسلے میں تمام حقائق کو انتہائی چھان بین اور متعلقہ دستاویزات کے باریک بینی سے جائزے کے بعد پیش کررہا ہے۔ یہ قومی صحافت کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں کہ قومی معیشت پر اتنے بڑے اور مسلسل ڈاکوں کی تفصیلات کواس طرح پیش کیا جائے کہ جس کی تمام تفصیلات ثبوت وشواہد کے ساتھ مہیا کی جاسکے۔ وجود ڈاٹ کام انتہائی اطمینان کے ساتھ یہ اعلان بھی کر رہا ہے کہ وہ ان حقائق سے متعلق تمام دستاویزات کو کسی بھی قانونی یا تحقیقاتی فورم پر کسی بھی وقت پیش کرنے کو تیار ہے۔ وجود ڈاٹ کام نے ادارتی سطح پر تمام حقائق کی جانچ پڑتال کی ہے ۔ اور ادارے کے تین نمائندوں نے اس ضمن میں حاصل معلومات کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ جانچ کر اپنی ایک مستحکم رائے قائم کی ہے کہ یہ قومی معیشت پر ڈاکے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اور اس ضمن میں مہیا کاغذات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس مالیاتی دہشت گردی کے ڈانڈے بہت دورتک جاتے ہیں، جس سے قومی مفادات پر بھی واضح زد پڑتی ہے۔ ادارے کے لیے یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے جنگ اور جیو گروپ جہانگیر صدیقی کے لیے ایک ڈھال بن گیا ہے۔ اور وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی دہشت گرد کی حفاظت کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام جنگ اور دی نیوز کے تحقیقاتی سیل کے سربراہ انصار عباسی کوبھی خصوصی طور پر متوجہ کرتا ہے کہ وہ ملک کے تمام اداروں کے اندر بدعنوانیوں کی بو سونگھتے پھرتے ہیں، مگر اپنی ہی ناک کے نیچے تعفن کے اس نالے کو کیوں نظر انداز کئے بیٹھے ہیں؟ انصار عباسی ایک دیانت دار صحافی کی شہرت رکھتے ہیں۔ اور پیشہ صحافت میں ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے جو صحافت کی عاشقی میں عزت سادات بھی بچائے رکھتے ہیں۔ مگر کیا انصار عباسی کو یہ حقائق اپنی دیانت داری کے لیے ایک چیلنج نہیں لگتے؟وہ اس پر خود غور کریں ۔ وجود ڈاٹ کام اس ضمن میں اُن کی کسی بھی طرح کی تسلی کے لیے کسی بھی کاغذ یا دستاویز کو کہیں پر بھی پیش کرنے کی پیشکش کرتا ہے
جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکوں کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں واضح کیا گیا تھا کہ کس طرح انسائیڈ ٹریڈنگ اور ٹیکس فراڈ کے ذریعے قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔ اس ضمن میں آزگرد نائن لمیٹڈ میں ہونے والی اندرونی تجارت کے مختلف پہلوؤں کو آشکار کیا گیا تھا۔ اور جے ایس گروپ کی جانب سے رقوم کے غیر قانونی ہیر پھیر میں فرنٹ مینوں کے استعمال کے علاوہ مختلف طریقوں کو موضوع بحث بنایا گیا تھا۔ زیر نظر تحریر میں جے ایس گروپ کی مالیا تی دہشت گردی کے مزید حقائق کو بے نقاب کیا جارہا ہے۔
جے ایس گروپ کمپنی میں سے ایک جے ایس گروتھ فنڈ اور جے ایس لارج کیپ فنڈ نے 2012ء میں بینک جولیئس بایر اینڈ کمپنی لمیٹڈ سوئٹزرلینڈ کو پی آئی سی ٹی حصص فروخت کیےتھے۔ یہ حصص بینک جولیئس بایر کی جانب سے ادارہ حاصل کرنے سے پہلے خریدے گئے اور ایس ای سی پی کو شبہ ہے کہ اس میں جہانگیر صدیقی اصل کلائنٹ تھے کہ جن کے بل بوتے پر بینک جولیئس بایر نے اندرونی معلومات کی بنیاد پر یہ حصص خریدے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے حصص کو روک دیا گیا تھا اور اس نے تحقیقات کیں۔ معاملہ عوام کو بڑے پیمانے پر ٹھگنے اور اندرونی تجارت کے علاوہ حصص میں ہیراپھیری اور 2.787 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کا تھا۔
4.3 ملین ڈالرز کی مشاورتی فیس کے معاملے میں ( جس کا حوالہ قسط نمبر تین میں دیا گیا ہے) جے ایس سی ایل نے یہ کہہ کر علی جہانگیر کو فیس ادائیگی کا جواز پیش کیا کہ انہوں نے آغی سی ٹی ایس آئی موریشیس لمیٹڈ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ یہ دراصل اس امر کو قبول کرنا تھا کہ انہیں معاہدے کے حتمی مرحلے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے عمل سے آگہی حاصل تھی۔ اس لیے اس عرصے کے دوران جے ایس گروپ کے تمام مالی لین دین اندرونی تجارت میں شمار ہوتے ہیں۔ ایس ای سی پی اس معاملے میں جواب طلبی میں ناکام رہا۔ اور بعد ازاں لیپاپوتی سے کام لیتا رہا۔اب یہی ایس ای سی پی عملاً جہانگیر صدیقی کے عمل دخل کے ساتھ بروئے کار ہے۔ مگر وہ اپنی پچھلی دستاویزات اور شواہد سے جان کیسے چھڑا سکے گی؟
پاکستان میں دو بینکوں کے لائسنس رکھنے پر پابندی ہے اور بینک دولت پاکستان نے اس پر سخت ممانعت کر رکھی ہے۔ جے ایس بینک جے ایس سی ایل کا ماتحت ادارہ ہے اور جے ایس گروپ 19 ستمبر 2005ء کو ہونے والے ایک نجی معاہدے کے تحت بینک اسلامی میں بھی واضح اختیار رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ بینک اسلامی کے دیگر کفیل رندری گروپ اور دبئی اسلامک بینک کے ساتھ ہوا تھا کہ جنہوں نے جے ایس سی ایل کو بینک اسلامی پاکستان کے بورڈ میں دو ڈائریکٹرز مقرر کرنے کی اجازت دی تھی اور یوں عملی طور پر تزویراتی اہمیت کے تمام معاملات میں جے ایس سی ایل کو ویٹو پاور دے دیا گیا تھا۔
جے ایس بینک بھارتی اداروں میں مفادات رکھتا ہے کہ جن کی مالیت 493 ملین روپے ہے۔ بھارتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ان بھارتی اداروں کو مالیاتی استحکام حاصل کرنے اور درحقیقت بھارتی معیشت کو مدد دینے کے مترادف ہے۔ اس امر کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ ان سرمایہ کاریوں کے لیے پاکستان سے پیسہ کس طرح گیا اور ساتھ ہی اس کی بھی کہ یہ سرمایہ کاریاں قانونی انداز میں کی گئی تھیں یا نہیں۔
جے ایس بینک جے ایس گروپ کی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوا اور یہ ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹوں سے ثابت ہے۔(وجود ڈاٹ کام کے پاس یہ تمام رپورٹیں کسی بھی قانونی فورم پر پیش کرنے کے لیے محفوظ ہیں۔) ایس ای سی پی نے اپنی آزگرد نائن کمپنی لمیٹڈ کے حصص کی ہیراپھیری کی تحقیقات میں ملاحظہ کیا تھا کہ جے ایس بینک کو جے ایس گروپ کی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے سیکورٹی مارکیٹ میں فراڈ کیے گئے۔ ایس ای سی پی نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں 237 ملین روپے کی بھاری رقوم نکلوانے کا مشاہدہ کیا۔ رقوم نکلوانے کے چند واقعات اورنگی ٹاؤن اور کیماڑی وغیرہ جیسے دہشت گردی کے مراکز میں پیش آئے جو منظم جرائم کے گڑھ ہیں۔ خانانی اینڈ کالیا جیسے منی ایکسچینج ادارے کے ساتھ روابط کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ان ملزمان کے بینک کھاتوں کی مزید تحقیقات منی لانڈرنگ کے ثبوت فراہم کرے گی۔اس امر کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ فراڈ کے پورے منصوبے میں بینک سہولت رساں بنا رہا اور بینک دولت پاکستان کے نگرانی کے پورے نظام کو دھوکا دیتے ہوئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف قواعد و ضوابط کا منہ چڑاتا رہا۔ جے ایس گروپ کے ایک اور ساتھی ادارے کرسبی ڈریگن فنڈ میں ایس ای سی پی کی ایک اور تحقیق میں معلوم ہوا کہ جے ایس بینک کروسبی کو ٹرسٹی سروسز فراہم کر رہا تھا حالانکہ درکار کریڈٹ ریٹنگ سے نیچے ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے کا مجاز نہیں تھا۔
بینک دولت پاکستان بینکاری نظام کی سالمیت و حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بینکوں پر کم از کم سرمایہ برقرار رکھنے کی شرط لگاتا ہے۔ اس شرط کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نقد اثاثے پیش کریں۔ سندھ بینک، میزان بینک و دیگر ان شرائط کو پورے کرکے آئے۔ لیکن جے ایس بینک گروپ نے چالبازی اور فراڈ کے ذریعے بینک دولت پاکستان کے روبرو بیلنس شیٹ میں نقد ڈالے بغیر جے ایس بینک کی کم از کم شرائط پوری کی گئیں۔ 31 دسمبر 2012ء کو اس کے پاس 8.6 بلین ڈالرز کا خالص ادا کردہ سرمایہ تھا۔ جے ایس بینک کے کل حصص سرمائے میں سے 49.8 فیصد کی مالیت 5.339 بلین روپے تھی۔ بجائے نقد پیش کرنے کے ادارے کے حصص حاصل کرکے یہ شرط پوری کی گئی۔ جے ایس بینک نے 1.4بلین کی مالیاتی ساکھ (گڈول )کا بھی اعتراف کیا۔
یہ امر حیران کن ہے کہ بینک دولت پاکستان نے جے ایس گلوبل اور جے ایس انوسٹمنٹ کے حصص قبول کرلیے، جس نے جے ایس بینک کے لیے سرمائے میں اضافہ ممکن بنایا اور یوں کم از کم سرمائے کی شرط کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مزید برآں جے ایس گروپ نے اپنے ہیرا پھیری کے معروف طریقوں کے ذریعے جے ایس گلوبل اور جے ایس انوسٹمنٹس کے حصص کی قیمتیں بڑھائیں تاکہ جے ایس بینک کو سرمایہ بڑھانے میں مدد ملے۔ بغیر نقد پیش کیے کم از کم سرمائے کی شرط کا 50 فیصد پورا کرنے کی وجہ سے جے ایس بینک کی بیلنس شیٹ میں کوئی گہرائی موجود نہیں اور اس میں کمزور اثاثے شامل ہیں۔ (جاری ہے)
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...