وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جہانگیر صدیقی نے قومی معیشت پر ہاتھ کیسے صاف کیے؟ (قسط ۔4)

بدھ 09 مارچ 2016 جہانگیر صدیقی نے قومی معیشت پر ہاتھ کیسے صاف کیے؟ (قسط ۔4)

Jahangir-Siddiqui

وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے حوالے سے زیر نظر تحقیقاتی سلسلے میں تمام حقائق کو انتہائی چھان بین اور متعلقہ دستاویزات کے باریک بینی سے جائزے کے بعد پیش کررہا ہے۔ یہ قومی صحافت کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں کہ قومی معیشت پر اتنے بڑے اور مسلسل ڈاکوں کی تفصیلات کواس طرح پیش کیا جائے کہ جس کی تمام تفصیلات ثبوت وشواہد کے ساتھ مہیا کی جاسکے۔ وجود ڈاٹ کام انتہائی اطمینان کے ساتھ یہ اعلان بھی کر رہا ہے کہ وہ ان حقائق سے متعلق تمام دستاویزات کو کسی بھی قانونی یا تحقیقاتی فورم پر کسی بھی وقت پیش کرنے کو تیار ہے۔ وجود ڈاٹ کام نے ادارتی سطح پر تمام حقائق کی جانچ پڑتال کی ہے ۔ اور ادارے کے تین نمائندوں نے اس ضمن میں حاصل معلومات کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ جانچ کر اپنی ایک مستحکم رائے قائم کی ہے کہ یہ قومی معیشت پر ڈاکے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اور اس ضمن میں مہیا کاغذات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس مالیاتی دہشت گردی کے ڈانڈے بہت دورتک جاتے ہیں، جس سے قومی مفادات پر بھی واضح زد پڑتی ہے۔ ادارے کے لیے یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے جنگ اور جیو گروپ جہانگیر صدیقی کے لیے ایک ڈھال بن گیا ہے۔ اور وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی دہشت گرد کی حفاظت کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام جنگ اور دی نیوز کے تحقیقاتی سیل کے سربراہ انصار عباسی کوبھی خصوصی طور پر متوجہ کرتا ہے کہ وہ ملک کے تمام اداروں کے اندر بدعنوانیوں کی بو سونگھتے پھرتے ہیں، مگر اپنی ہی ناک کے نیچے تعفن کے اس نالے کو کیوں نظر انداز کئے بیٹھے ہیں؟ انصار عباسی ایک دیانت دار صحافی کی شہرت رکھتے ہیں۔ اور پیشہ صحافت میں ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے جو صحافت کی عاشقی میں عزت سادات بھی بچائے رکھتے ہیں۔ مگر کیا انصار عباسی کو یہ حقائق اپنی دیانت داری کے لیے ایک چیلنج نہیں لگتے؟وہ اس پر خود غور کریں ۔ وجود ڈاٹ کام اس ضمن میں اُن کی کسی بھی طرح کی تسلی کے لیے کسی بھی کاغذ یا دستاویز کو کہیں پر بھی پیش کرنے کی پیشکش کرتا ہے


جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکوں کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں واضح کیا گیا تھا کہ کس طرح انسائیڈ ٹریڈنگ اور ٹیکس فراڈ کے ذریعے قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔ اس ضمن میں آزگرد نائن لمیٹڈ میں ہونے والی اندرونی تجارت کے مختلف پہلوؤں کو آشکار کیا گیا تھا۔ اور جے ایس گروپ کی جانب سے رقوم کے غیر قانونی ہیر پھیر میں فرنٹ مینوں کے استعمال کے علاوہ مختلف طریقوں کو موضوع بحث بنایا گیا تھا۔ زیر نظر تحریر میں جے ایس گروپ کی مالیا تی دہشت گردی کے مزید حقائق کو بے نقاب کیا جارہا ہے۔

11۔ منی لانڈرنگ، پی آئی سی ٹی حصص میں اندرونی تجارت

جے ایس گروپ کمپنی میں سے ایک جے ایس گروتھ فنڈ اور جے ایس لارج کیپ فنڈ نے 2012ء میں بینک جولیئس بایر اینڈ کمپنی لمیٹڈ سوئٹزرلینڈ کو پی آئی سی ٹی حصص فروخت کیےتھے۔ یہ حصص بینک جولیئس بایر کی جانب سے ادارہ حاصل کرنے سے پہلے خریدے گئے اور ایس ای سی پی کو شبہ ہے کہ اس میں جہانگیر صدیقی اصل کلائنٹ تھے کہ جن کے بل بوتے پر بینک جولیئس بایر نے اندرونی معلومات کی بنیاد پر یہ حصص خریدے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے حصص کو روک دیا گیا تھا اور اس نے تحقیقات کیں۔ معاملہ عوام کو بڑے پیمانے پر ٹھگنے اور اندرونی تجارت کے علاوہ حصص میں ہیراپھیری اور 2.787 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کا تھا۔

4.3 ملین ڈالرز کی مشاورتی فیس کے معاملے میں ( جس کا حوالہ قسط نمبر تین میں دیا گیا ہے) جے ایس سی ایل نے یہ کہہ کر علی جہانگیر کو فیس ادائیگی کا جواز پیش کیا کہ انہوں نے آغی سی ٹی ایس آئی موریشیس لمیٹڈ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ یہ دراصل اس امر کو قبول کرنا تھا کہ انہیں معاہدے کے حتمی مرحلے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے عمل سے آگہی حاصل تھی۔ اس لیے اس عرصے کے دوران جے ایس گروپ کے تمام مالی لین دین اندرونی تجارت میں شمار ہوتے ہیں۔ ایس ای سی پی اس معاملے میں جواب طلبی میں ناکام رہا۔ اور بعد ازاں لیپاپوتی سے کام لیتا رہا۔اب یہی ایس ای سی پی عملاً جہانگیر صدیقی کے عمل دخل کے ساتھ بروئے کار ہے۔ مگر وہ اپنی پچھلی دستاویزات اور شواہد سے جان کیسے چھڑا سکے گی؟

جے ایس گروپ نے اپنے ہیرا پھیری کے معروف طریقوں کے ذریعے جے ایس گلوبل اور جے ایس انوسٹمنٹس کے حصص کی قیمتیں بڑھائیں تاکہ جے ایس بینک کو سرمایہ بڑھانے میں مدد ملے۔ بغیر نقد پیش کیے کم از کم سرمائے کی شرط کا 50 فیصد پورا کرنے کی وجہ سے جے ایس بینک کی بیلنس شیٹ میں کوئی گہرائی موجود نہیں اور اس میں کمزور اثاثے شامل ہیں۔

12۔ فراڈ کے ذریعے دو بینکوں کے لائسنس رکھنا

پاکستان میں دو بینکوں کے لائسنس رکھنے پر پابندی ہے اور بینک دولت پاکستان نے اس پر سخت ممانعت کر رکھی ہے۔ جے ایس بینک جے ایس سی ایل کا ماتحت ادارہ ہے اور جے ایس گروپ 19 ستمبر 2005ء کو ہونے والے ایک نجی معاہدے کے تحت بینک اسلامی میں بھی واضح اختیار رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ بینک اسلامی کے دیگر کفیل رندری گروپ اور دبئی اسلامک بینک کے ساتھ ہوا تھا کہ جنہوں نے جے ایس سی ایل کو بینک اسلامی پاکستان کے بورڈ میں دو ڈائریکٹرز مقرر کرنے کی اجازت دی تھی اور یوں عملی طور پر تزویراتی اہمیت کے تمام معاملات میں جے ایس سی ایل کو ویٹو پاور دے دیا گیا تھا۔

13۔ جے ایس بینک فراڈز، منی لانڈرنگ اور بھارتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری

جے ایس بینک بھارتی اداروں میں مفادات رکھتا ہے کہ جن کی مالیت 493 ملین روپے ہے۔ بھارتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ان بھارتی اداروں کو مالیاتی استحکام حاصل کرنے اور درحقیقت بھارتی معیشت کو مدد دینے کے مترادف ہے۔ اس امر کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ ان سرمایہ کاریوں کے لیے پاکستان سے پیسہ کس طرح گیا اور ساتھ ہی اس کی بھی کہ یہ سرمایہ کاریاں قانونی انداز میں کی گئی تھیں یا نہیں۔

جے ایس بینک جے ایس گروپ کی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوا اور یہ ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹوں سے ثابت ہے۔(وجود ڈاٹ کام کے پاس یہ تمام رپورٹیں کسی بھی قانونی فورم پر پیش کرنے کے لیے محفوظ ہیں۔) ایس ای سی پی نے اپنی آزگرد نائن کمپنی لمیٹڈ کے حصص کی ہیراپھیری کی تحقیقات میں ملاحظہ کیا تھا کہ جے ایس بینک کو جے ایس گروپ کی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے سیکورٹی مارکیٹ میں فراڈ کیے گئے۔ ایس ای سی پی نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں 237 ملین روپے کی بھاری رقوم نکلوانے کا مشاہدہ کیا۔ رقوم نکلوانے کے چند واقعات اورنگی ٹاؤن اور کیماڑی وغیرہ جیسے دہشت گردی کے مراکز میں پیش آئے جو منظم جرائم کے گڑھ ہیں۔ خانانی اینڈ کالیا جیسے منی ایکسچینج ادارے کے ساتھ روابط کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ان ملزمان کے بینک کھاتوں کی مزید تحقیقات منی لانڈرنگ کے ثبوت فراہم کرے گی۔اس امر کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ فراڈ کے پورے منصوبے میں بینک سہولت رساں بنا رہا اور بینک دولت پاکستان کے نگرانی کے پورے نظام کو دھوکا دیتے ہوئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف قواعد و ضوابط کا منہ چڑاتا رہا۔ جے ایس گروپ کے ایک اور ساتھی ادارے کرسبی ڈریگن فنڈ میں ایس ای سی پی کی ایک اور تحقیق میں معلوم ہوا کہ جے ایس بینک کروسبی کو ٹرسٹی سروسز فراہم کر رہا تھا حالانکہ درکار کریڈٹ ریٹنگ سے نیچے ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

14۔ جے ایس بینک – بینک دولت پاکستان کی کم از کم سرمایہ شرائط کو دھوکا دینا

بینک دولت پاکستان بینکاری نظام کی سالمیت و حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بینکوں پر کم از کم سرمایہ برقرار رکھنے کی شرط لگاتا ہے۔ اس شرط کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نقد اثاثے پیش کریں۔ سندھ بینک، میزان بینک و دیگر ان شرائط کو پورے کرکے آئے۔ لیکن جے ایس بینک گروپ نے چالبازی اور فراڈ کے ذریعے بینک دولت پاکستان کے روبرو بیلنس شیٹ میں نقد ڈالے بغیر جے ایس بینک کی کم از کم شرائط پوری کی گئیں۔ 31 دسمبر 2012ء کو اس کے پاس 8.6 بلین ڈالرز کا خالص ادا کردہ سرمایہ تھا۔ جے ایس بینک کے کل حصص سرمائے میں سے 49.8 فیصد کی مالیت 5.339 بلین روپے تھی۔ بجائے نقد پیش کرنے کے ادارے کے حصص حاصل کرکے یہ شرط پوری کی گئی۔ جے ایس بینک نے 1.4بلین کی مالیاتی ساکھ (گڈول )کا بھی اعتراف کیا۔

یہ امر حیران کن ہے کہ بینک دولت پاکستان نے جے ایس گلوبل اور جے ایس انوسٹمنٹ کے حصص قبول کرلیے، جس نے جے ایس بینک کے لیے سرمائے میں اضافہ ممکن بنایا اور یوں کم از کم سرمائے کی شرط کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مزید برآں جے ایس گروپ نے اپنے ہیرا پھیری کے معروف طریقوں کے ذریعے جے ایس گلوبل اور جے ایس انوسٹمنٹس کے حصص کی قیمتیں بڑھائیں تاکہ جے ایس بینک کو سرمایہ بڑھانے میں مدد ملے۔ بغیر نقد پیش کیے کم از کم سرمائے کی شرط کا 50 فیصد پورا کرنے کی وجہ سے جے ایس بینک کی بیلنس شیٹ میں کوئی گہرائی موجود نہیں اور اس میں کمزور اثاثے شامل ہیں۔ (جاری ہے)


متعلقہ خبریں


وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ وجود - پیر 12 اپریل 2021

وزیر اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان فواد چوہدری کو دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ذرائع کے مطابق اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری خصوصی طورپر جہلم سے اسلام آباد پہنچنے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو اضافی ذمہ داریاں ملنے کا نوٹیفکیشن (آج) پیر تک جاری ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ...

وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی وجود - پیر 12 اپریل 2021

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی ہے ۔فافن نے گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اپنی رپورٹ جاری کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ انتخاب شفاف رہے ، الیکشن عملے نے توجہ سے انتخابی عمل سرانجام دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں انتخابی خلاف ورزیوں کے واقعات کم رونما ہوئے ، فافن عملے نے الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔فافن رپورٹ کے مطابق 193 میں...

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا وجود - پیر 12 اپریل 2021

کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ اطلاع ہے کہ آپ حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار کے جلسے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ حلقے میں آپ کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کی یہ نشست فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی ہے ، جنھوں نے 2018 کے عام...

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد وجود - پیر 12 اپریل 2021

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقا پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقی کپتان ہینرچ کلاسن نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل وجود - هفته 10 اپریل 2021

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز باقاعدہ شامل ہوگئے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے 6 آزاد اراکین پر مشتمل سینیٹرز کے نئے آزاد گروپ کا سرکولر جاری کردیا۔سینیٹر دلاور خان آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔فاٹا کے دو آزاد اراکین سینیٹر ہلال الرحمن، سینیٹر ہدایت اللّٰہ آزاد گروپ میں شامل ہوگئے ۔

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد وجود - هفته 10 اپریل 2021

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ جوا کی کے پہاڑی علاقے میں مارچ 2012 میں اجتماعی قبروں سے 50 سے زائد لاشیں ملی تھیں۔

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وجود - هفته 10 اپریل 2021

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ، کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس ...

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت وجود - هفته 10 اپریل 2021

ترکی نے اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریغی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان پر یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی توہین کرنے اور انہیں آمر کہنے کے الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کے روز انقرہ میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کے سربراہ کو ملاقات میں کرسی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس ملاقات کے دوران صرف دو کرسیاں تیار کی گئی تھیں جس پر یورپی کونسل کے صدر اور ترک صدر بیٹھ گئے تھے ۔طیب اردوان ا...

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر، برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک رائل کونسورٹ کے عہدے پر رہنے والے شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے ۔رائل فیملی کی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ شہزادہ فلپ کی اچانک موت آج (9اپریل کی) صبح کو ونڈسر محل میں ہوئی۔بیان میں کہا گ...

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان وجود - هفته 10 اپریل 2021

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک میں 30 روزے اور چار جمعے ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق رواں برس سعودی عرب میں عید الفطر 13 مئی کو ہونے کی توقع ہے ۔

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق وجود - هفته 10 اپریل 2021

نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والی مائیں کووڈ 19 ویکسین سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز اپنے دودھ کے ذریعے کئی ماہ تک بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 5 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کو فائزر/بائیو این ٹیک کورونا وائرس استعمال کرائی گئی تھی۔تحقیق میں ان ماؤں کے دودھ کے نمونوں میں ویکسین کی پہلی خوراک سے قبل اینٹی باڈیز کی سطح کو دیکھا گیا اور پھر ویکسین کے بعد 80 دن تک روانہ کی بنیاد پر ...

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا آئین کے تحت سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزراء اور حکام شریک ہوئے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں...

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار