... loading ...

سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے متحدہ قومی موومنٹ سے اٹھائیس سالہ وابستگی ختم کرتے ہوئے ایک نوزائیدہ، بے نام اور بے سربراہ جماعت میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ جس میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کے بعد وہ تیسرے رہنما ہیں ۔ تاہم تاحال اس جماعت کے خدوخال ، نام اور مستقبل کا کوئی بھی پروگرام واضح نہیں ہے ۔ کراچی میں مصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران میں ڈاکٹر صغیر احمد کی نئی جماعت میں شمولیت کے اعلان کے ساتھ اب یہ سوال نہایت اہمت اختیار کر گیا ہے کہ ایم کیو ایم کی صفوں میں سے اب کون کون افراد اُسے خیر باد کہنے والے ہیں؟ باخبر ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے زیادہ بڑے اور چونکا دینے والے ناموں کا اعلان دوسرے مرحلے پر کیا جائے گا۔ اگلے کچھ دنوں تک ایم کیو ایم کے دوسرے درجے کے رہنما سے رونق میلہ آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔ اس ضمن میں کچھ اہم نام زیر گردش ہیں جو آئندہ چند دنوں میں ڈاکٹر صغیر احمد کی طرح مصطفیٰ کمال کے جلو میں بیٹھ کر اپنی اپنی رام کہانی سناتے نظر آئیں گے ۔ خود ایم کیو ایم کے حلقوں میں ایسے کئی ناموں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جن کے متعلق یہ واضح نہیں ہیں کہ وہ آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے ؟ اس ضمن میں واضح طور پر دو درجہ بندیاں کی جارہی ہیں جو اس وقت موجودہ ایم کیو ایم میں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جو ایم کیو ایم کے اندر جاری سرگرمیوں سے واقعتاً دلبرداشتہ ہے اور وہ کراچی کے مفادات اور اردواسپیکنگ کمیونٹی کے لیے ایک سنجیدہ اور حقیقی پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کررہے ہیں۔ مگر وہ اس کے لیے مصطفیٰ کمال کی صورت میں ہونے والے نیے بندوبست کو بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔ اُن کا خیال ہے کہ اس طرح ایم کیو ایم میں پیدا کی جانے والی دراڑ دراصل کوئی مثبت اور “آزاد” سیاسی سرگرمیوں کا باعث نہیں بنتی۔ اور یہ ماضی کے تجربات کے باعث ہمیشہ کسی کی “مرہون ِ منت” قوت بن کر رہتی ہے ۔ ایم کیو ایم میں پایا جانے والا یہ طبقہ اگر چہ نہایت قلیل ہے مگر اثرات کے اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ تاہم اس طبقے کے پا س موجودہ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کی قیادت میں جما جڑا رہنا بھی دشوار بن گیا ہے ۔ مگر یہ واضح نہیں کہ یہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا؟ ایک دوسرا طبقہ ایم کیو ایم میں وہ ہے جو انتہائی پریشان حالت میں ہے ۔ اُنہیں مختلف نوعیت کے مقدمات کا سامنا ہے ۔ اُن میں سے کچھ جرائم کی وارداتوں میں ملوت ہیں، اور کچھ بدعنوانی کے دلدل میں دھنسے ہیں۔ چائنا کٹنگ ، سٹی گورنمنٹ، وزارتوں اور پلاٹوں کے مزے لوٹنے والے اس طبقے کے لیے اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی اپنے آپ کو احتساب سے بچائیں۔ اور قانونی اداروں کی سرپرستی حاصل کریں ۔ یہ طبقہ اگرچہ موجودہ ایم کیو ایم کے اندر رہ کرہی اپنے دھندوں میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔ مگر احتساب کی لٹکتی تلوار میں اُن کی بقا موجودہ ایم کیو ایم میں نہیں۔ یہ لوگ ایم کیو ایم چھوڑنے کے لیے تو تیار ہیں مگر وہ اس فیصلے کے عوض ہرقسم کے احتساب سے محفوظ رہنے کی سوفیصد ضمانتیں چاہتے ہیں۔ یہ دراصل مصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی کے ذریعے ایک نیا این آر او چاہتے ہیں۔ اس طبقے میں ایم کیو ایم کے اکثر قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین شامل ہیں۔ رابطہ کمیٹی کے علاوہ پرانی کراچی تنظیمی کمیٹی کے اکثر سرکردہ لوگ بھی اس درجہ بندی میں آتے ہیں۔
وجود ڈاٹ کام کو انتہائی قابل اعتبار ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ اہمیت گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو حاصل ہے ۔ جو اس پورے عمل کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں اور ایم کیو ایم کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق قیاس آرائیوں کے اس ماحول میں ایم کیو ایم کے اہم اور قابل ذکر افراد جو کسی بھی طرح کا دونوں جانب اثر پیدا کرسکتے ہیں یا ڈال سکتے ہیں، وہ تمام کے تمام دراصل گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے رابطوں میں ہیں۔ اور وہی اس پورے عمل میں ایک فیصلہ کن پوزیشن رکھتے ہیں۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...