... loading ...

نواز شریف کی حکومت میں وزارت خزانہ کراچی کے کاروباری حلقوں کے لئے انتقام کی ننگی تلوار بن چکی ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنائے گیے مقدمے میں ثبوتوں کی کمیابی کے باعث اب ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر ہانپنے لگے ہیں۔ جس کا انداز ہ 26 فروری کے اُس اجلاس میں ہوا ، جس میں ایف آئی اے کے کراچی دفتر شاہد حیات کے ساتھ ایس ای سی پی کے اہلکارشریک ہوئے۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف پہلے سے ہی فعال ایس ای سی پی کے اہلکاروں سے شاہد حیات نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ آسانی سے کہہ دیا کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف خود ایس ای سی پی اور ’’اوپر‘‘ کے اشاروں سے حرکت میں آئے تھے۔ اور اُنہوں نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمہ تو بنا دیا مگر وہ اِسے ثبوتوں اور شہادتوں کے ذریعے نبھانے میں کامیاب نہیں ہو پارہے۔ اجلاس میں شریک ایک اہم شخص نے بعد ازاں وجود ڈاٹ کام کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی ضمانت پر بتایا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات نے ایس ای سی پی کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ اُنہیں کسی بھی طرح سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ثبوت مہیا کریں ۔ تاکہ وہ عدالت میں اپنے ساختہ مقدمے کا کسی طرح بچاؤ کر سکیں۔
شاہد حیات میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی سے خصوصی قربت رکھتے ہیں ۔ اور جہانگیر صدیقی کے حق میں قانون کے استعمال کے حوالے سے خاصے ’’معروف‘‘ ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے بڑے حصے پر اجارہ داری کے باعث میر شکیل الرحمان شاہد حیات کی امیج (چھوی) کو بہتر بنانے کے لئے جھوٹی کوریج دے کر پہلے سے ہی اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا چکے ہیں۔ اب یہی دونوں حضرات شاہد حیات کو رسوائی سے بچانے کے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر رہے ہیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق شاہد حیات کو عدالت میں ’’ سُبکی ‘‘ سے بچانے کے لیے خصوصی طور پر ایس ایس سی پی کو کچھ متعین اہداف دے دیئے گیے ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کو ایف آئی اے کے ایک ذریعے نے بتا یا ہے کہ ایک طرف اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف پہلے سے بنائے گیے مقدمے میں کسی نہ کسی طرح بے ضرر کاغذوں کے اندر سے سانپ بچھو نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور دوسری طرف اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف نئے مقدمات بنائے جائیں گے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق نئے مقدمات کی تشکیل اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کی معاونت کے لیے خاص طور پر عاکف سعید نامی شخص کو کہا گیا ہے۔ جو میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی اور وزیراعظم نوازشریف کے ذاتی دوست میاں منشا کا ذاتی ملازم بھی رہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی جن کی حیثیت محض انگوٹھا لگانے والے کی بن کر رہ گئی ہے، وہ بھی عاکف سعید کے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بروئے کار آنے پر محض ربڑ اسٹیمپ بن کرمتحرک رہیں گے۔ واضح رہے کہ یہ وہی عاکف سعید ہیں جو جہانگیر صدیقی اور ایم ٹیکس کے تمام فراڈز کا خود مرکزی کردار رہا ہے۔
وجود ڈاٹ کام نے جب اس ساری سازش کے تانے بانے بُننے والے اصل کرداروں کو ٹٹولا تو یہ معلوم ہوا کہ وزارت خزانہ اس پوری سازش کی سرپرستی کر رہی ہے جو ’’قانون ‘‘کے ہر ہر مرحلے میں اپنے بے پناہ اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ’’انصاف‘‘ کے تمام دروازوں کر ایک ایک کرکے بند کرتی جارہی ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق یہ وزارت خزانہ ہی ہے جس نے ایس ای سی پی کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ شاہد حیات کی ہر طرح سے معاونت کرے ، کیونکہ ایک وفاقی تحقیقاتی ادارے کے طور پر ایف آئی اے اگر اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمے میں الزامات کو ثابت نہ کر سکی تو اس سے مرکزی حکومت بدنام ہو گی۔ یہ اس معاملے کی ایک ایسی جہت ہے جس سے نواز حکومت کے تقریباً ہر دورِ حکومت میں کراچی کے کاروباری حلقوں کے خلاف اُس کی انتقامی اور متعصبانہ ذہنیت بے نقاب ہوتی ہے۔
وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزارت خزانہ کی اس انتقامی ہدا یت کے بعد عملاً اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایس ای سی پی میں کام شروع کر دیا گیا ہے اور ایک خصوصی ڈیسک قائم کرکے اے کے ڈی سیکورٹیزکے خلاف نئے مقدمات تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان نئے مقدمات کا جعلی خوف پیدا کرکے ممکنہ طور پر اے کے ڈی سیکورٹیز کے ساتھ ’’سودے بازی‘‘ بھی کی جاسکتی ہے جو انتہائی مستعدی سے اپنے خلاف قائم مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے شاہد حیات کی جعلسازیوں کو بے نقاب کررہی ہے۔ ایس ای سی پی میں سودے بازی کے لیے جھوٹے مقدمات بنانے کا کام جس ٹیم کو سونپا گیا ہے اُن میں ایس ای سی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز محمد آصف جلال بھٹی اور مسرت جبین شامل ہیں۔ کاروباری حلقوں میں آصف جلال بھٹی کا نام جھوٹی رپورٹیں بنانے کے ایک ماہر کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف دو جھوٹی رپورٹیں بنا چکا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں بھی وہی حصے اب تک ثابت کرنے مشکل ہو رہے ہیں، جو عاکف سعید اور آصف جلال بھٹی کے ہاتھوں تیار کرائے گئے تھے۔ عاکف سعید اور آصف جلال بھٹی کے ساتھ اس سنڈیکیٹ کے تیسرے اہم ترین فرد کے طور پر نجم علی کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ جو اسٹاک مارکیٹ کے اُتار چڑھاؤ اورجوڑتوڑ میں عاکف سعید کے فرنٹ مین کے طور پر متحرک رہا ہے۔ یہی نجم علی میاں منشا کا ایک شراکت دار بھی رہا ہے اور اس کا نام جہانگیر صدیقی کمپنی لمیٹڈ کی ایک انکوائری میں بھی رہا ہے۔ وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کراچی کے ایک اہم کاروباری لیڈر نے یہ دلچسپ نشاندہی کی کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بروئے کار آنے والے تمام ایس ای سی پی کے افسران کی ایک قدر ِ مشترک یہ ہے کہ اُن میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی جہانگیر صدیقی کے ساتھ کہیں نہ کہیں کام کیا ہے ۔ حیرت انگیزطور پر یہی افراد بجائے خود کسی نہ کسی انکوائری کا حصہ بھی رہے ہیں، ایسے داغدار پس منظر کے افراد کو دانستہ طور پر اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف اس لیے فعال کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ مقدمات کی تیاری میں قانونی تقاضوں کو کم اور اوپر کے اشاروں کو زیادہ دیکھتے ہیں۔
اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے ، ایس ای سی پی اور وزارت خزانہ کی ان سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح ریاستی اداروں کو چند افراد کی ذاتی خواہشات اور انتقامی جذبات کی تحویل میں دے کر استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہ عمل پاکستان کے اندر خود قانون وانصاف کی سربلندی کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...