وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز کا پہلا سال

جمعرات 21 جنوری 2016 سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز کا پہلا سال

King-Salman

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کو اقتدار سنبھالے ہوئے ایک سال گزر گیا ہے، جو بلاشبہ سعودی تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ آئیے سلمان بن عبد العزیز کے اقتدار کے پہلے سال پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

  • 23 جنوری 2015ء: شاہ عبد اللہ کی وفات کے بعد سلمان بن عبد العزیز نے سعودی عرب کی بادشاہت سنبھالی۔ انہوں نے نائب ولی عہد کے طور پر بھتیجے محمد بن نائف کا انتخاب کیا اور بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیر دفاع کے عہدے پر فائز کیا۔
  • 26 مارچ: سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے۔
  • 29 اپریل: شاہ سلمان نے اپنے بھائی مقرن کو ہٹا کر محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کردیا۔ بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنا دیا گیا۔
  • 13 مئی: ایران-امریکا معاہدے کے بعد صدر براک اوباما اور خلیجی رہنماؤں کے درمیان ایک غیر معمولی اجلاس میں شاہ سلمان نے شرکت نہیں کی۔
  • 24 ستمبر: حج کے دوران بھگدڑ میں 2300 حاجی شہید ہوئے، جو حج کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔ ایران، جس کے 464 حاجی شہید ہوئے، نے سعودی انتظامیہ پر نااہلی کا الزام لگایا۔ اسی مہینے کے آغاز میں مسجد الحرام کے قریب ایک کرین گرنے سے 109 عازمین حج شہید ہوئے تھے۔
  • 29 اکتوبر : سعودی بلاگر رائف بداوی کو توہین اسلام پر 10 سال قبل اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ ہمیشہ کی طرح مغرب نے اسلام مخالف کوانعام و اکرام سے نوازا۔ رائف کو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے آزادی اظہار کا سخاروف انعام دیا گیا۔
  • 12 دسمبر: سعودی خواتین کو بلدیاتی انتخابات کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ووٹ دینے کی اجازت ملی۔ جس میں خواتین نے پہلی بار امیدواروں کی حیثیت سے کامیابی بھی حاصل کی۔
  • 15 دسمبر: سعودی عرب نے 34 مسلم ممالک پر مشتمل ایک اتحاد کا اعلان کیا، جو دہشت گردی کے خلاف کام کرے گا۔
  • 28 دسمبر: سعودی عرب نے 98 بلین ڈالرز کے خسارے کا بجٹ پیش کیا۔ اتنے بڑے خسارے کی وجہ تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی ہے۔
  • 2 جنوری 2016ء: سعودی عرب نے 47 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزاغے موت دے دی۔ بیشتر سنی عقیدہ رکھنے والے القاعدہ کے اراکین تھے لیکن ان میں ایک شیعہ رہنما نمر النمر بھی موجود تھے جن کی سزائے موت نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی خراب کردیے۔


متعلقہ خبریں


شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی ایچ اے نقوی - هفته 01 اکتوبر 2016

شام میں گزشتہ کئی سال سے جاری خانہ جنگی،عراق میں غیر یقینی صورتحال اورداعش کی سرگرمیوں کے اثرات اب مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی روزبروز کم ہوتی ہوئی مانگ کے سبب تیل کی قیمتوں کی کمی نے خلیجی ملکوں کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اوریہ کہاجاسکتا ہے کہ اس صورتحال کے سبب خلیجی ممالک کی معیشتیں لرزنے لگی ہیں ۔ جس کا اندازہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے مالامال ممالک میں کفایت شعاری کے اقدامات سے لگایاجاسکتاہے۔ اس صورتحال کی ایک ...

شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی

شامی بحران حل کرنے کے لئے روسی صدر اور سعودی فرمانروا میں رابطہ وجود - هفته 20 فروری 2016

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے شام کی صورت حال پر ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے ، گفتگو میں دونوں رہنماوؤں نے اس بحران کے حل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ کریملن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوؤں کے درمیان 19 فروری (جمعہ )کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں روسی صدر نے خادم الحرمین الشریفین کو روس کے دورے کی دعوت بھی دی ہے جو انھوں نے قبول کر لی ہے۔ سعودی عرب اور روس شامی بحران کے معاملے میں مخا...

شامی بحران حل کرنے کے لئے روسی صدر اور سعودی فرمانروا میں رابطہ

صدر اوباما کی سعودی شاہ سلمان سے ملاقات وجود - پیر 07 ستمبر 2015

امریکا کے صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات کی ہے، جو رواں سال تخت پر بیٹھنے کے بعد پہلی بار امریکا کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا-ایران جوہری معاہدے کی وجہ سے خلیجی ممالک خطے میں عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شاہ سلمان نے صدر اوباما کو بتایا ہے کہ وہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں۔ ملاقات کے دوران ...

صدر اوباما کی سعودی شاہ سلمان سے ملاقات