... loading ...
سوات میں سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو بالا خر جعلی ثابت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے سوات میں چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لئے گیے ازخود نوٹس کو نمٹا دیا ہے۔ سوات میں چاند بی بی نامی ایک سترہ
سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی یہ جعلی ویڈیو 3 اپریل 2009 ء کو منظر عام پر آئی تھی۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایک این جی اوسے تعلق رکھنے والی خاتون ثمر من اللہ نے اس کا چرچا کرنا شروع کردیا تھا۔
https://www.youtube.com/watch?v=Crfs8YsZPGE
چاند بی بی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو موبائل فون سے بنائی گئی تھی۔ جس کا دورانیہ دو منٹ تھا۔ ویڈیو میں سرخ جوڑے میں ملبوس ایک جواں سال لڑکی کو دکھایا گیا تھا جسے زمین پر الٹا لِٹاکر کوڑے مارے گیے تھے۔ ویڈیو میں اس بات کا التزام کیا گیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے والے لوگ شکل وصورت سے طالبان کے حُلیے کے محسوس ہوں۔ چنانچہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کو پشت پر کوڑے برساتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔جبکہ ایک دوسرے شخص نے لڑکی کے پیروں کو پکڑا ہوا تھا اور تیسرے شخص نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو براہِ راست دیکھ رہے تھے۔ سزا دینے والے افرادپشتو زبان میں بات کررہے تھے۔ اور لڑکی بھی چیختی چلاتی پشتو میں فریاد کر رہی تھی ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ “میرے باپ کی توبہ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔”ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ پندرہ سے زائد کوڑے مارنے کے بعد لڑکی کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور لڑکی فوراًبعد شٹل کاک برقعہ میں ملبوس نظر آتی ہے۔ اُسی وقت وہاں موجود بڑی داڑھی والا ایک شخص اس لڑکی کو قریب واقع ایک کمرے میں لے جاتا ہے۔
مذکورہ جعلی ویڈیو کو سامنے لانے والی ایک خاتون ثمر من اللہ تھی جو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او سے تعلق رکھتی تھی۔ ثمر من اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جن افراد نے لڑکی کو پکڑا ہے ان میں خود اس کا اپنا بھائی بھی شامل ہے۔ثمر من اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں مرکزی کردار لڑکی کے پڑوسی نے ادا کیا ہے۔وہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹیلی ویژن پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے چیخ وپکار کرنے میں سب سے نمایاں تھیں۔ اُن کے بعدطاہرہ عبداللہ نامی ایک خاتون نے بھی اس معاملے پر آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون طاہرہ عبد اللہ نے اُس موقع پر یہ کہا تھا کہ طالبان کا یہ عمل غیر انسانی ہے، ہمیں مشترکہ طور پر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
عدالت عظمیٰ نے اب سات برس بعد فیصلہ سنا یا ہےکہ سوات میں 2009 میں 17سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو جعلی ثابت ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 17 سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جس میں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گلہ بان بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی تھی، جعلی ویڈیو کو میڈیا پر ریلیز کیا گیا۔یہی کچھ حکومتی وکیل نایاب گردیزی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ویڈیو جعلی نکلی تھی، چاند بی بی اور اس کے خاوند نے بیان دیا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ مگر یہ حقیقت اول روز سے ہی عیاں تھی۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں اس معاملے کو فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے۔ اس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکاہے۔
ویڈیو کے جعلی ہونے کا ثبوت ویڈیو کا تکنیکی جائزہ تھا۔ جو ماہرین نے اُسی وقت پیش کر دیا تھا۔ مگر تب کسی نے اس پر دھیان تک نہیں دیا۔ خود ویڈیو میں کوڑے کھانے والی لڑکی کے متعلق کبھی یہ درست طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ اُسے کوڑے کیوں مارے گیے۔ اس کی وجوہات پر الگ الگ دعوے ہوتے رہے۔ اور جس لڑکی کوکوڑے مارے گیے ، وہ لڑکی کون تھی ؟ اس پر بھی الگ الگ لڑکیا ں سامنے آتی رہیں۔ ابتدا میں کہا گیا کہ جس لڑکی کو ڑے مارے گیے، وہ چاند بی بی تھی۔اور وہ کنواری تھی۔ پھر بتایا گیا کہ نہیں وہ شادی شدہ ہیں۔ اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ منظر عام پر بھی آئیں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ایک اور خاتون سائرہ بی بی منظر عام پر آئیں، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی لڑکی چاند بی بی نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اور وہ کنواری نہیں بلکہ اُس کے دوبچے بھی تھے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے چاند بی بی کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی ہو چکا تھا کہ وہ کنواری ہے اور اُسے شادی سے انکار پر کوڑے مارے گیے تھے۔ دو بچوں کی ماں سائرہ بی بی نے چار باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس میں فضل ہادی نامی ایک شخص کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس کردار کا ذکر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ الغرض مذکورہ ویڈیو کےپہلے دن سے ہی جعلی ہونے کی حقیقت سب کے علم میں تھی۔اُس وقت کے کمشنر مالاکنڈ سید محمد جاوید نے ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عملے کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاکہ ویڈیوکے متعلق اصل حقائق کا سراغ لگایا جا سکے۔ تب کمشنر مالاکنڈ نے تحقیقات کے بعد ہی اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔اس طرح کا کوئی حقیقی واقعہ سرے سے سوات میں پیش ہی نہیں آیا تھا۔جعلی ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے پندرہ روز بعد تب کے وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بھی یہی کہا تھا کہ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔ طالبان سوات کے اُس وقت کے ترجمان مسلم خان نے اُس ویڈیو کو تب ہی ایک سے زیادہ مرتبہ جعلی کہا تھا۔ اُنہوں نے اپنے ردِ عمل میں اس کے دو مقاصد بیان کئے تھے۔ مغرب زدہ این جی اوز ویڈیو کے ذریعے اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔ اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں۔ مگر اس معاملے نے اس سے بھی بڑا ایک نقصان کیا تھا۔جس کا اندازہ پاکستان کے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقے تب لگا نہیں سکے تھے۔
طالبان نے تب طے کر لیا تھا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ اُن کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈے میں فریق ہیں۔ اور اُنہیں دونوں طرف کے موقف سننے کے بعد سچائی کو سامنے لانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کے اندر جاری مختلف معاملات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت تک کرنے کے عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کو اُن قوتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا جو اِسے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی مرضی کا رخ دینا چاہتی تھیں۔ جس طرح کے ویڈیو کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس نقصان نے پاکستان کے عوام کو پروپیگنڈے کی یلغار میں کسی دوسرے متبادل نقطہ نظر کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے خود طالبان کی صفوں میں بھی ایک نہایت منفی ردِ عمل پیدا کردیا اور وہاں ایسے لوگ جگہہ بنانے میں رفتہ رفتہ کامیاب ہوتے چلے گیے جو ریاست پاکستان پر اپنا اعتماد کھو چکے تھے۔ اور جنگ میں ہر چیز کوجائز سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے پھر موقع ملتے ہی نئی نئی قیامتیں بھی ڈھائیں ۔
دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہوا کہ جعلی ویڈیو کے بنائے گیے مصنوعی تاثر میں حکومت اور طالبان میں ہونے والا امن معاہدہ ختم ہو گیا۔ اور فوج نے سوات میں “آپریشن راہ راست”شروع کیا۔ جس کے بعد سوات میں کئی لاکھ لوگ بے گھر ہوگیے۔ اور اُن میں مملکت کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوگیے۔ یہ لوگ اور اُن کے بچے بعد میں طالبان کے لئے سب سے نرم چارہ ثابت ہوئے اور اگلے برسوں میں بھڑکائی گئی ہر آگ کا ایندھن یہی لوگ بنے۔ پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں اضافہ بھی اس آپریشن کے بعد ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں سال کے سب سے زیادہ خود کش حملے 2009ء میں ہی ہوئے۔ جن کی تعداد 76 تھی۔ عالمی سطح پر اس جعلی ویڈیو کو ذرائع ابلاغ نے زبردست پزیرائی دی اور اِسے پاکستان کی چھوی (امیج) کو بگاڑنے کے لئے بُری طرح استعمال کیا۔
سوات کی اس ویڈیو نےیہ ثابت کردیا تھا کہ ریاستی دانش معاملات کے ادراک میں تہی دامن ہے ۔ اور کچھ مغرب نواز این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود ریاست کو بھی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پروپیگنڈے کے گردوغبار میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ رحمن ملک نے ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سب سے انوکھی دلیل یہ دی کہ اب تک کوئی ایسا شخص اُن کے سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس لئے ویڈیو اصلی ہے۔ اُنہوں نے کمشنر مالا کنڈ کی تردیداور ماہرین کی طرف سے ویڈیو کے تکنیکی جائزے کو مکمل نظر انداز کردیا۔سب سے زیادہ طوفان اُس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے اُٹھایا ۔ اور مذکورہ ویڈیو کے سامنے آنے کے صرف تین روز بعد 6 اپریل 2009ء کو اس کا ازخود نوٹس لے لیا۔ یہی وہ نوٹس تھا جسے فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے ۔ اس دوران پروپیگنڈے کے جتنے بھی مقاصد حاصل کیے جانے تھے، سب حاصل کئے جا چکے ہیں۔ اور یہ معاشرہ بُری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔
آخری سوال
اب اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کے بعد اس کو اصلی ثابت کرنے والے اصل جعلسازوں کو کو ن سزا دے گا؟ اس کے پیچھے مقاصد کو کون افشا کرے گا؟اس سے پیدا ہونے والی نفرت کا ازالہ کب ہوگا؟ سوات آپریشن ، لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی، مملکت میں پیدا ہونے والی تقسیم کی گہری لکیریں، ریاست کی پروپیگنڈے کے ذریعے یرغمالی اور عدلیہ میں فیصلے کی تاخیر سے پہنچنے والے مسلسل نقصانات کی ذمہ داری کون لے گا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...