وجود

... loading ...

وجود

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

جمعرات 14 جنوری 2016 سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

سوات میں سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو بالا خر جعلی ثابت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے سوات میں چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لئے گیے ازخود نوٹس کو نمٹا دیا ہے۔ سوات میں چاند بی بی نامی ایک سترہ
سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی یہ جعلی ویڈیو 3 اپریل 2009 ء کو منظر عام پر آئی تھی۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایک این جی اوسے تعلق رکھنے والی خاتون ثمر من اللہ نے اس کا چرچا کرنا شروع کردیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch?v=Crfs8YsZPGE

ویڈیو میں کیا تھا؟

چاند بی بی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو موبائل فون سے بنائی گئی تھی۔ جس کا دورانیہ دو منٹ تھا۔ ویڈیو میں سرخ جوڑے میں ملبوس ایک جواں سال لڑکی کو دکھایا گیا تھا جسے زمین پر الٹا لِٹاکر کوڑے مارے گیے تھے۔ ویڈیو میں اس بات کا التزام کیا گیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے والے لوگ شکل وصورت سے طالبان کے حُلیے کے محسوس ہوں۔ چنانچہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کو پشت پر کوڑے برساتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔جبکہ ایک دوسرے شخص نے لڑکی کے پیروں کو پکڑا ہوا تھا اور تیسرے شخص نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو براہِ راست دیکھ رہے تھے۔ سزا دینے والے افرادپشتو زبان میں بات کررہے تھے۔ اور لڑکی بھی چیختی چلاتی پشتو میں فریاد کر رہی تھی ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ “میرے باپ کی توبہ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔”ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ پندرہ سے زائد کوڑے مارنے کے بعد لڑکی کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور لڑکی فوراًبعد شٹل کاک برقعہ میں ملبوس نظر آتی ہے۔ اُسی وقت وہاں موجود بڑی داڑھی والا ایک شخص اس لڑکی کو قریب واقع ایک کمرے میں لے جاتا ہے۔

ویڈیو کے پیچھے کون تھا؟

مذکورہ جعلی ویڈیو کو سامنے لانے والی ایک خاتون ثمر من اللہ تھی جو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او سے تعلق رکھتی تھی۔ ثمر من اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جن افراد نے لڑکی کو پکڑا ہے ان میں خود اس کا اپنا بھائی بھی شامل ہے۔ثمر من اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں مرکزی کردار لڑکی کے پڑوسی نے ادا کیا ہے۔وہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹیلی ویژن پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے چیخ وپکار کرنے میں سب سے نمایاں تھیں۔ اُن کے بعدطاہرہ عبداللہ نامی ایک خاتون نے بھی اس معاملے پر آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون طاہرہ عبد اللہ نے اُس موقع پر یہ کہا تھا کہ طالبان کا یہ عمل غیر انسانی ہے، ہمیں مشترکہ طور پر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ویڈیو جعلی تھی، پہلے دن سے ہی سب کو پتہ تھا!

عدالت عظمیٰ نے اب سات برس بعد فیصلہ سنا یا ہےکہ سوات میں 2009 میں 17سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو جعلی ثابت ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 17 سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جس میں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گلہ بان بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی تھی، جعلی ویڈیو کو میڈیا پر ریلیز کیا گیا۔یہی کچھ حکومتی وکیل نایاب گردیزی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ویڈیو جعلی نکلی تھی، چاند بی بی اور اس کے خاوند نے بیان دیا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ مگر یہ حقیقت اول روز سے ہی عیاں تھی۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں اس معاملے کو فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے۔ اس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکاہے۔

ویڈیو کے جعلی ہونے کا ثبوت ویڈیو کا تکنیکی جائزہ تھا۔ جو ماہرین نے اُسی وقت پیش کر دیا تھا۔ مگر تب کسی نے اس پر دھیان تک نہیں دیا۔ خود ویڈیو میں کوڑے کھانے والی لڑکی کے متعلق کبھی یہ درست طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ اُسے کوڑے کیوں مارے گیے۔ اس کی وجوہات پر الگ الگ دعوے ہوتے رہے۔ اور جس لڑکی کوکوڑے مارے گیے ، وہ لڑکی کون تھی ؟ اس پر بھی الگ الگ لڑکیا ں سامنے آتی رہیں۔ ابتدا میں کہا گیا کہ جس لڑکی کو ڑے مارے گیے، وہ چاند بی بی تھی۔اور وہ کنواری تھی۔ پھر بتایا گیا کہ نہیں وہ شادی شدہ ہیں۔ اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ منظر عام پر بھی آئیں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ایک اور خاتون سائرہ بی بی منظر عام پر آئیں، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی لڑکی چاند بی بی نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اور وہ کنواری نہیں بلکہ اُس کے دوبچے بھی تھے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے چاند بی بی کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی ہو چکا تھا کہ وہ کنواری ہے اور اُسے شادی سے انکار پر کوڑے مارے گیے تھے۔ دو بچوں کی ماں سائرہ بی بی نے چار باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس میں فضل ہادی نامی ایک شخص کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس کردار کا ذکر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ الغرض مذکورہ ویڈیو کےپہلے دن سے ہی جعلی ہونے کی حقیقت سب کے علم میں تھی۔اُس وقت کے کمشنر مالاکنڈ سید محمد جاوید نے ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عملے کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاکہ ویڈیوکے متعلق اصل حقائق کا سراغ لگایا جا سکے۔ تب کمشنر مالاکنڈ نے تحقیقات کے بعد ہی اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔اس طرح کا کوئی حقیقی واقعہ سرے سے سوات میں پیش ہی نہیں آیا تھا۔جعلی ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے پندرہ روز بعد تب کے وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بھی یہی کہا تھا کہ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔ طالبان سوات کے اُس وقت کے ترجمان مسلم خان نے اُس ویڈیو کو تب ہی ایک سے زیادہ مرتبہ جعلی کہا تھا۔ اُنہوں نے اپنے ردِ عمل میں اس کے دو مقاصد بیان کئے تھے۔ مغرب زدہ این جی اوز ویڈیو کے ذریعے اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔ اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں۔ مگر اس معاملے نے اس سے بھی بڑا ایک نقصان کیا تھا۔جس کا اندازہ پاکستان کے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقے تب لگا نہیں سکے تھے۔

نقصان کیا ہوا؟

طالبان نے تب طے کر لیا تھا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ اُن کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈے میں فریق ہیں۔ اور اُنہیں دونوں طرف کے موقف سننے کے بعد سچائی کو سامنے لانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کے اندر جاری مختلف معاملات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت تک کرنے کے عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کو اُن قوتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا جو اِسے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی مرضی کا رخ دینا چاہتی تھیں۔ جس طرح کے ویڈیو کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس نقصان نے پاکستان کے عوام کو پروپیگنڈے کی یلغار میں کسی دوسرے متبادل نقطہ نظر کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے خود طالبان کی صفوں میں بھی ایک نہایت منفی ردِ عمل پیدا کردیا اور وہاں ایسے لوگ جگہہ بنانے میں رفتہ رفتہ کامیاب ہوتے چلے گیے جو ریاست پاکستان پر اپنا اعتماد کھو چکے تھے۔ اور جنگ میں ہر چیز کوجائز سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے پھر موقع ملتے ہی نئی نئی قیامتیں بھی ڈھائیں ۔

دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہوا کہ جعلی ویڈیو کے بنائے گیے مصنوعی تاثر میں حکومت اور طالبان میں ہونے والا امن معاہدہ ختم ہو گیا۔ اور فوج نے سوات میں “آپریشن راہ راست”شروع کیا۔ جس کے بعد سوات میں کئی لاکھ لوگ بے گھر ہوگیے۔ اور اُن میں مملکت کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوگیے۔ یہ لوگ اور اُن کے بچے بعد میں طالبان کے لئے سب سے نرم چارہ ثابت ہوئے اور اگلے برسوں میں بھڑکائی گئی ہر آگ کا ایندھن یہی لوگ بنے۔ پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں اضافہ بھی اس آپریشن کے بعد ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں سال کے سب سے زیادہ خود کش حملے 2009ء میں ہی ہوئے۔ جن کی تعداد 76 تھی۔ عالمی سطح پر اس جعلی ویڈیو کو ذرائع ابلاغ نے زبردست پزیرائی دی اور اِسے پاکستان کی چھوی (امیج) کو بگاڑنے کے لئے بُری طرح استعمال کیا۔

ریاست کیسے حرکت میں آتی ہے؟

سوات کی اس ویڈیو نےیہ ثابت کردیا تھا کہ ریاستی دانش معاملات کے ادراک میں تہی دامن ہے ۔ اور کچھ مغرب نواز این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود ریاست کو بھی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پروپیگنڈے کے گردوغبار میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ رحمن ملک نے ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سب سے انوکھی دلیل یہ دی کہ اب تک کوئی ایسا شخص اُن کے سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس لئے ویڈیو اصلی ہے۔ اُنہوں نے کمشنر مالا کنڈ کی تردیداور ماہرین کی طرف سے ویڈیو کے تکنیکی جائزے کو مکمل نظر انداز کردیا۔سب سے زیادہ طوفان اُس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے اُٹھایا ۔ اور مذکورہ ویڈیو کے سامنے آنے کے صرف تین روز بعد 6 اپریل 2009ء کو اس کا ازخود نوٹس لے لیا۔ یہی وہ نوٹس تھا جسے فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے ۔ اس دوران پروپیگنڈے کے جتنے بھی مقاصد حاصل کیے جانے تھے، سب حاصل کئے جا چکے ہیں۔ اور یہ معاشرہ بُری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔
آخری سوال

اب اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کے بعد اس کو اصلی ثابت کرنے والے اصل جعلسازوں کو کو ن سزا دے گا؟ اس کے پیچھے مقاصد کو کون افشا کرے گا؟اس سے پیدا ہونے والی نفرت کا ازالہ کب ہوگا؟ سوات آپریشن ، لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی، مملکت میں پیدا ہونے والی تقسیم کی گہری لکیریں، ریاست کی پروپیگنڈے کے ذریعے یرغمالی اور عدلیہ میں فیصلے کی تاخیر سے پہنچنے والے مسلسل نقصانات کی ذمہ داری کون لے گا؟


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر