وجود

... loading ...

وجود

ڈی ایچ اے سٹی معاملہ: سابق فوجی سربراہ کے بھائی کامران کیانی بھی ملوث قرار

پیر 11 جنوری 2016 ڈی ایچ اے سٹی معاملہ: سابق فوجی سربراہ کے بھائی کامران کیانی بھی ملوث قرار

nab

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کے منصوبے ڈی ایچ اے سٹی میں بھیانک بدعنوانیوں کی تحقیقات کا دائرہ پھیلاتے ہوئے ایڈن گروپ کے حماد ارشد کے ساتھ ساتھ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔ جبکہ کامران کیانی کے بیرون ملک ہونے کے باوجود اپنے روایتی اور بھونڈے طریقے سے نہ صرف اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کرلیا ہے بلکہ اُن کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے جیسے شرجیل میمن کی بیرون ملک یقینی موجودگی کے باوجود اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ بدعنوانی کے اس بڑے واقعے میں نیب کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں اب تک سترہ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں۔

نیب کے دعوے کے مطابق ملزم حماد ارشد نے تقریباً چھبیس ہزار افراد کو پلاٹوں کا جھانسہ دے کر اُن سے اربوں روپے بٹورے جبکہ ملزم نے وصول کئے گئے اربوں روپے ڈی ایچ اے لاہور سٹی کے کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے اس رقم کو اپنے ذاتی کھاتے میں جمع کرا دیا۔ نیب کے مطابق ملزم نے جتنے لوگوں کو زمین کی فروخت کرکے پیسے بٹورے اُتنی اراضی ڈی ایچ اے لاہور سٹی کے پاس نہیں تھی۔

گزشتہ 48 گھنٹوں میں میڈیا پر بارہا اس بات کو دہرایا گیا کہ کامران کیانی ایڈن سٹی کے حق میں معاہدے کے لیے سہولت کار تھے۔ یہ کام انہوں نے کس طرح کیا؟ میڈیا پر یہ کہا گیا اور بہت واضح اشارہ دیا گیا کہ انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بھائی ہونے کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

اس ضمن میں نیب نے ہفتے کے روز حماد ارشد کا مزید دو روز کا ریمانڈ لیا ہے۔ نیب اس پورے معاملے میں مرکزی ملزمان میں حماد ارشد کے ساتھ کامران کیانی کو بھی ملوث بتاتی ہے۔ اس ضمن میں بنیادی حقائق جاننے کے لئے جب وجود ڈاٹ کام نے کامران کیانی کے بھائی بریگیڈیئر امجد کیانی سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کافی دنوں سے کیانی برادران کے خلاف بالخصوص سوشل میڈیا پر انتہائی منظم انداز میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ ابتدا میں تو خاموش رہنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے اس خاموشی کو اعترافِ جرم سمجھا گیا۔ کیانی برادران کے بارے میں ان کی انفرادی اور جداگانہ حیثیت کے بجائے ہمیشہ اشفاق پرویز کیانی کے حوالے سے بات کی گئی، جیسے وہ ہمارے کفیل ہیں اور جو بھی ہم کرتے ہیں، یا نہیں بھی کرتے، تو ان کی اجازت اور مدد سے کرتے ہیں۔ اس تازہ معاملے میں کسی قانونی شہادت، دستاویزی ریکارڈ یا ثبوت تو کجا کسی معمولی سی جھوٹی موٹی گواہی تک پیش کیے گئے بغیر ہم پر سنگین الزامات دھرے گئے، جو سرے سے بے بنیاد ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اشفاق پرویز کیانی نہ ہی ہمارے کاروباری مفادات کی کفالت کرتے ہیں، اور نہ ہی ہمیں کوئی سہولیات دیتے ہیں۔

امجد کیانی نے کہا کہ تینوں کیانی برادران نے پاک فوج کے لیے خدمات انجام دی ہیں، اس کا رتبہ، عزت و احترام ہمارے خون میں دوڑ رہا ہے۔ اس لیے ہم پاک فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے، اور اس کے بعد بھی، بلا جھجک کسی بھی ادارہ جاتی جانچ کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ڈی ایچ اے لاہور اور نیب کے حوالے سے چند خبری چینلوں پر ایسے بیانات سامنے آئے ہیں، جن کا بنیادی نشانہ کامران کیانی ہیں، اس لیے ہم کچھ معاملات واضح کردینا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ڈی ایچ اے لاہور نے بھی اپنے جوائنٹ وینچر یعنی مشترکہ منصوبے کے بارے میں آج تمام بڑے اخبارات میں پبلک نوٹس شائع کیا ہے جو حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس منصوبے میں دو اہم شراکت دار ڈی ایچ اے لاہور اور ایڈن پرائیوٹ لمیٹڈ ہیں۔ کامران کیانی اس منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ 48 گھنٹوں میں میڈیا پر بارہا اس بات کو دہرایا گیا کہ کامران کیانی ایڈن سٹی کے حق میں معاہدے کے لیے سہولت کار تھے۔ یہ کام انہوں نے کس طرح کیا؟ میڈیا پر یہ کہا گیا اور بہت واضح اشارہ دیا گیا کہ انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بھائی ہونے کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

بریگیڈیئر امجد کیانی نے کہا کہ ڈی ایچ اے سٹی جیسے حجم کے تمام بڑے منصوبے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز کی انتہائی اعلیٰ سطح پر چلائے جاتے ہیں اور منظور کیے جاتے ہیں۔ کیا کامران ڈی ایچ اے لاہور کے پورے نظامِ مراتب (hierarchy) پر اثر انداز ہوئے تھے؟ وہ بھی 2009ء سے اب تک؟ اس بات کا کوئی ثبوت بھی ہے؟ لیکن بجائے تحقیقات کا انتظار کرنے کے اسے پہلے ہی سے ایک حقیقت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پھر اس مشترکہ منصوبے میں ڈی ایچ اے لاہور سینئر شراکت دار ہے۔ تمام پلاٹ اور فائلیں جو مارکیٹ میں پیش کی گئیں، ڈی ایچ اے ہی نے جاری کی ہوں گی، ان کے علاوہ تو کوئی کر نہیں سکتا، کامران کیانی بھی نہیں۔

ایلیسیئم فارم ہاؤس کے معاملے پر امجد کیانی نے کہا کہ یہ ڈی ایچ اے اسلام آباد اور ایلیسیئم کے مابین 2009ء میں طے پانے والا ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔ ایلیسیئم ہر گز کامران کیانی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کی ملکیت تو سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ہی واضح ہو چکی ہے جس میں ای او بی آئی کو پچاس پلاٹ ایلیسیئم کو واپس کرنے اور ایلیسیئم کو ایک ارب روپے ای او بی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ پھر ڈی ایچ اے اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اسے 500 ملین روپے کا نقصان ہوا، جو مالکان کو زر تلافی کے طور پر دی گئی زمینوں کی 20 فائلوں کی لاگت ہے۔ جواب میں ایلیسیئم نے 6 ہزار کینال زمین ڈی ایچ اے کو دی جس کی مالیت 12 ارب روپے ہے۔

آخر میں امجد کیانی نے کہا کہ یہ بیان دینے کا مقصد دراصل درست سمت سے معاملات کو دکھانا ہے۔ اگر ہم پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو ہم ہر گز اس سے فرار اختیار نہیں کریں گے، اور پاکستان کے تمام شہریوں کی طرح ہر قسم کی جانچ کے لیے تیار ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر