... loading ...

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ تنظیمی دورے پر6تا 8 دسمبر کو،کوئٹہ آئے ۔میڈیا کے نمائندو ں سے بات چیت کی ،اپنی جماعت کے مختلف اجتماعات میں شریک ہوئے اسی طرح کوئٹہ چیمبر آف کا مرس کے صد ر سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ چیمبر آف کامرس ک عہدیداران سے خطاب بھی کیا۔ملک کے منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدانوں میں لیاقت بلوچ کا شمارہوتاہے ، اچھے پارلیمنٹیرین رہے ہیں۔ بلوچستان کی سیاست اور معاشرت پر گہر ی نظر رکھتے ہیں۔یہاں کے حالات اور سیاسی نشیب و فراز سے بھی خوب آگاہ ہیں۔جماعت اسلامی کا بلوچستان کے بارے میں موقف واضح اور اصولی ہے ۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ مسئلہ اب بھی دستوری اور قانونی ہے اگر اس پر عمل ہوتا ہے تو یقینا روایتی امن اور بھائی چارے کی طرف مراجعت ہو گی۔لیاقت بلوچ نے آپریشن کے بجائے نتیجہ خیز مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے ، اس جانب ترغیب اور مطالبے کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس تناظر میں جماعت اسلامی کے صوبائی اور مرکزی نظم کے تحت مختلف اوقات میں کُل جماعتی کانفرنسز اور سیاسی اجتماعات کا انعقادبھی ہوا ہے ۔قاضی حسین احمد (مرحوم )کے دور امارت میں غالباً 2000یا 2001ء میں کوئٹہ کے میلاک ہال میں بلوچستان مسئلے سے متعلق ’’سمینار ‘‘ہوا۔ جس میں ملک اور صوبے کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔معروف کالم نویس جاوید چوہدری خصوصی طور پر شریک ہوئے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ جاوید چوہدری کے خطاب کے دوران میں پشتون بلوچ قوم پرست رہنما ان کے ایک جملے پر برہم اور مشتعل ہوئے ۔ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اُنہیں مزید بات نہ کرنے کا شو ر بلند کیا۔قاضی حسین احمد اور چند دیگر زعماء کی مداخلت او ر اپیل پر یہ حضرات ٹھنڈے ہو گئے۔البتہ جاوید چوہدری کو مختصر تقریر کرنی پڑی۔اس سیمینار کا عنوان ’’بلوچستان کے سلگتے مسائل‘‘ تھا۔ابھی بلوچستان بد امنی کی لپیٹ میں نہیں تھا۔جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا طوطی بول رہا تھا۔چونکہ صوبے کے مسائل پر کان نہیں دھرا گیا ،یوں رفتہ رفتہ آگ اور خون کا لا متناہی سلسلہ چل پڑ ا، ان حالات نے ملک اور صوبے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا،برابر نقصان ہو رہا ہے اور قضیہ ہنوز لاینحل ہے ۔در اصل نتیجہ خیز مذاکرات اور دستور پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد بلوچستان کے مسئلے کی کنجی ہے ۔ یعنی اصل مسئلہ صوبائی خود مختاری یا وسائل پر اختیار کا ہے ۔لیاقت بلوچ نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خدمات کا اعتراف کیااور ان خدمات کے اعتراف میں انہیں مزید اڑھائی سال وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھانے کی تجویز یا مطالبہ بھی کیا،گویا جماعت اسلامی بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حامیوں کی صف میں کھڑی ہو گئی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ نواب ثناء اللہ زہری اگر اگلے اڑھائی سال کیلئے وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو کونسی آفت آن پڑے گی؟وہ کونسی ترقی اور جدت ہے کہ جس سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کو ہمکنار کیا۔سب کچھ پہلے کی طرح ہی تو ہے ،وہی نقشہ ہے جو ہم عشروں سے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دیکھتے چلے آرہے ہیں۔کہیں نہ کہیں ترقی ضرور ہوئی ہو گی۔ مگر مجھے تو ایک دن کیلئے کوئٹہ کا جناح روڈ صاف و شفاف دکھائی نہ دیا۔کوئٹہ صوبے کا قلب ہے اوراس قلب کو ان اڑھائی سالوں میں مزید امراض لاحق ہو چکے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر کو اتنی اجازت بھی گوارا نہیں کی جاتی کہ وہ کم از کم تجاوزات کے خلاف ہی ایکشن لیں۔اگر ڈپٹی کمشنر با اختیار ہو کر مفاد عامہ کیلئے کوئی قدم اُٹھاتے ہیں تو آگے سے حکومت والے اور میئر ، ڈپٹی میئر صاحبان چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں کہ اُن کا ووٹ بینک متاثر ہو رہا ہے ۔میٹرو پولیٹن کی جائیدادیں عوامی نمائندوں کی صوابدید پر ہیں جسے من پسند طریقہ کار کے مطابق الاٹ کر دیا جاتا ہے ۔پبلک پارکوں میں عمارتیں کھڑی کی جا چکی ہیں ،شہر کی حالت یہ ہو گئی کہ پیدل چلنا محال ہے ۔گویا شہر کوئٹہ کا ہر لحاظ سے ستیاناس کیا جا چکا ہے ۔اگر کوئی کہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے امن قائم کرنے میں نمایاں کام کیا ہے ، توعرض ہے کہ امن کے ضمن میں تبدیلی اور پیش رفت خالصتاً فوج ،ایف سی اور خفیہ اداروں کی مرہون منت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بعض محکموں کی فعالیت پر بھی فوج کی توجہ مرکوز ہے ۔معلوم نہیں کہ کیوں ’’نواب زہریُ‘‘ کا راستہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔میاں صاحبان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر نواب زہری وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو پتہ نہیں صوبے کا کیا حشر نشر ہو گا۔حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے ،ممکن ہے کہ وہ ان سب سے بہتر ذمہ داریاں نبھائیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مری معاہدے میں زعماء اور رہنما معاہدے کی پاسداری کی بات تو کرتے ہیں لیکن اندریں خانہ میاں نواز شریف کو نواب زہری کے خلاف قائل کرنے کے بھی جتن کرتے ہیں۔میاں نواز شریف کو چاہئے تھا کہ اول روز ہی معاہدہ تحریر نہ کرتے ، ڈاکٹر عبدالمالک کا ہی حکم جاری کرتے۔ابہام ، تذبذب اور کشمکش کا ماحول بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ چنانچہ عہد وفا نہ کرنا سیاستدانوں کو زیب نہیں دیتا۔نواب زہری تجربہ کار پارلیمنٹیرین ہیں، اُن میں حکومت چلانے کی صلاحیت بہر طور موجود ہے ۔ مری معاہدے سے رجوع یا روگردانی کو کم از کم میں سیاسی تخریب سے تعبیر کرتاہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس تخریب کو عمل پذیر کرانے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نقصان کا بھار بھی مسلم لیگ نواز کو ہی اُٹھانا پڑے گا۔ستم دیکھئے کہ جان محمد جمالی کو استعفیٰ دئیے ہوئے مہینے بیت گئے تب سے اسپیکر کا منصب خالی پڑا ہے ۔ڈپٹی اسپیکر سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ شاید میاں نواز شریف کے ’’اِذن‘‘ کا یہاں بھی انتظار ہے ۔لیاقت بلوچ نے ڈاکٹر مالک کے حق میں بجا فرمایا ،پر قول و قرار بھی معنیٰ رکھتا ہے ۔معاہدے میں مسلم لیگ نواز کی مرضی شامل ہے ۔چنانچہ قول اور معاہدے کو نبھانا نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ با وقار لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...