وجود

... loading ...

وجود

رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کا جھگڑا: کراچی میں فوجی اور سول حکام کا مشترکہ اور الگ الگ اجلاس

منگل 08 دسمبر 2015 رینجرز کی مدتِ  قیام میں توسیع کا جھگڑا: کراچی میں فوجی اور سول حکام کا مشترکہ اور الگ الگ اجلاس

raheel and nawaz

کراچی میں امن وامان اور اقتدار کی رسہ کشی کا کھیل 7 دسمبر کی رات تک اپنے عروج پر رہا ۔ رینجرز کے سندھ میں قیام کی مدت میں توسیع کا معاملہ سندھ کی سائیں سرکار نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں حائل دشواریوں سے نتھی کرکے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے مشکل ترین بنا کر دکھایا ۔ وزیرا عظم میاں نوازشریف اپنی کابینہ کے دو اہم اراکین وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ کراچی پہنچے۔ تو گورنر ہاؤس اہم ترین اجلاسوں کا مرکز بن گیا۔ کراچی میں ایک اجلاس اعلیٰ ترین عسکری قیادت کے درمیان ہوا ۔ جن میں فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار شریک ہوئے۔ اس اہم ترین اجلاس کا کراچی میں ذکر تو ہوا مگر ذرائع ابلاغ نے اس اجلاس کی متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا۔ اس کے برعکس وزیراعظم میاں نوازشریف اور قائم علی شاہ کے درمیان ہونے والے ایک انتہائی اہم اجلاس کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے نہ صرف ہر قسم کی قیاس آرائیاں کی بلکہ اس کی اندرونی کہانیاں تک بیان کر ڈالی۔ ان دونوں اجلاسوں کے علاوہ ایک اجلاس وزیراعظم میاں نوازشریف کی سربراہی میں عسکری اور سول اداروں کے ساتھ وفاقی اور سندھ حکومت کے ذمہ داران کا ہوا۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔

اجلاس میں قائم علی شاہ پہلی مرتبہ حاوی نظر آئے اور وزیرداخلہ اُن کے کسی سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے براہ راست ایف آئی اے کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اُٹھائے جانے والی ہزاروں فائلوں کے بارے میں پوچھا کہ اُس پر اب تک کیا کارروائی ہوئی؟

اس مشترکہ اجلاس میں فوجی سربراہ نے اپنے عزم کو غیر مبہم الفاظ میں دہر ا دیا کہ کراچی آپریشن میں فورسز نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب یہاں سے آپریشن کی سمت موڑی نہیں جاسکتی۔ وزیر داخلہ نے بھی عسکری قیادت سے ہم آہنگ ایک موقف اختیار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہو رہا ہے، جو ہر صورت میں جاری رہے گا۔ اگر اس سے کوئی ہمیں شکایتیں ہیں تو اس کا ذکر اس پلیٹ فارم پر کرنا چاہئے ذرائع ابلاغ میں کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس پر وزیر اعظم نے وزیراعلیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں ۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے تحفظات کا کھلا ذکر کیا۔ اُنہوں نے وزیرداخلہ کو اپنی شکایتوں کا مرکز بناتے ہوئے اس پلیٹ فارم پر براہ راست فوجی اداروں کا ذکر کرنے سے یہاں گریز کیا، اور ایف آئی اے کا مسئلہ اُٹھا دیا۔ اُنہوں نے وزیرداخلہ کو کہا کہ اُنہوں نے ایف آئی اے کو خصوصی اختیارات دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف ایک ماہ کے لئے ہیں اوراُنہوں نے سندھ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ اس اجلاس میں قائم علی شاہ پہلی مرتبہ حاوی نظر آئے اور وزیرداخلہ اُن کے کسی سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے براہ راست ایف آئی اے کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اُٹھائے جانے والی ہزاروں فائلوں کے بارے میں پوچھا کہ اُس پر اب تک کیا کارروائی ہوئی۔ وزیرداخلہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ چوہدری نثار نے اس موقع پر بس اتنا کہا کہ وہ اس معاملے میں پوچھ کر بتائیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے درمیان ون ٹوون ملاقات میں قائم علی شاہ نے سندھ حکومت کے اصل تحفظات کا ذکر کیا ۔ اورڈاکٹر عاصم حسین کا مسئلہ اُٹھا یا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رینجرز ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ تک اپنے پاس رکھ چکی ہے اور اب قانونی طور پر وہ پولیس کی تحویل میں ہیں اب رینجرز کو اُن سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے مگر وہ اُن سے جڑے ہر مسئلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر وزیراعلیٰ سے رینجرز کی مدت ِ قیام میں توسیع کے مسئلے کو حل کرنے کا کہا۔ جس پر قائم علی شاہ نے اس مسئلے کو حل کرنے کی حامی بھری مگر ڈاکٹر عاصم حسین کے مسئلے پر اُن سے ضمانت چاہی۔

فوجی اور سیاسی قوتوں کے مشترکہ اجلاس میں شریک ایک اہم افسر نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اس موقع پر خود کو ایک غیر جانب دار پوزیشن پر رکھا۔ اور کسی موقع پر بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ اُن کا کسی جانب جھکاؤ ہیں۔ جب مذکورہ افسر سے سوال پوچھا گیا کہ نوازشریف کی یہ پوزیشن دونوں فریقین کے لئے قابلِ قبول تھی یا نہیں ؟ اس پر مذکورہ افسر کا جواب نہایت دلچسپ تھا کہ اس پوزیشن کو جس فریق نے اپنے لئے پسند کیا ، یہ پوزیشن دراصل اُن کے حق میں سمجھی جانے چاہئے۔ وجود ڈاٹ کام نے سوال کیا کہ میاں نوازشریف کی اس پوزیشن کو کس نے پسند کیا ۔ تو اُنہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ کسی بھی شک کے بغیر یہ پوزیشن سائیں سرکار کے لئے پسندیدہ تھی۔

وجود ڈاٹ کام کواپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قائم علی شاہ نے رات گئے سابق صدر آصف علی زرداری سے ان تمام اجلاسوں کی روداد فون کرکے بیان کی ہے۔ جس کے بعد اُن دونوں رہنماؤں کے درمیان رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کے معا ملے پر بھی بات ہوئی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کا معاملہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔تاہم سندھ حکومت اس کے عوض ڈاکٹر عاصم حسین کے معاملے سے رینجرز کی” زبردستی پر مبنی دلچسپی ” ختم کرانے کی پوری کوشش کرے گی۔


متعلقہ خبریں


میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر