وجود

... loading ...

وجود

نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا

پیر 07 دسمبر 2015 نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا

NBP_0

نیشنل بینک کی تاریخ رہی ہے کہ اسکے اعلیٰ افسران ہمیشہ نچلی سطح سے ترقی پاتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائزہوتے رہے اور بینک سے پُرانی وابستگی (چند خامیوں کے باوجود )کے باعث ادارے کی ترقی کو چار چاند لگاتے رہے۔ اس طرح نیشنل بینک آف پاکستان ملک کا مضبوط ترین مالیاتی ادارہ بن گیا۔ اس کے اثاثے اتنے مضبوط ہوگئے کہ ایک عرصہ سے لوٹ مار کے باوجود یہ ادارہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔لیکن گاڑی کتنی ہی مضبوط ہو اگر اس کا چلانے والا اناڑی ہو تو اسے تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کسی تخریب کاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیشنل بینک بدقسمتی سے اب ایسے ہی نااہل اور اناڑیوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے ۔ اس کو ٹھکانے لگانے یعنی نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لئے کئی عشروں سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا رہا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ تاہم اب عالمی و ملکی تناظرمیں حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔کچھ بعید نہیں کہ نیشنل بینک بھی ماضی کا قصہ بن جائے۔ وجود میں یہ انکشاف کیاجاچکا ہے کہ عالمی مالیاتی قوتیں کسی طور کسی ایسے مالیاتی ادارے کو پنپنے نہیں دیں گی جس کی بنیاد کسی مسلمان نے رکھی ہوں۔ماضی میں’’ بی سی سی آئی ‘‘کی مثال تاریخ کاحصہ ہے۔ اس بینک نے جس کا بنانے والا ایک پاکستانی اور سب سے بڑھ کر مسلمان تھا ،عالمی مالیاتی کاروبار میں ہلچل مچاکر اس کے لئے ایک چیلنج بن گیا تھا ۔لہٰذا اسے نشانِ عبرت بنادیا گیا اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔اب نیشنل بینک کی باری ہے۔ اسکی استعداد ، کاروباری وسعت اور حدود میں کافی حد تک رکاوٹیں حائل ہو گئی ہیں۔ کرپشن و لوٹ مار کی بھرمار پہلے ہی عروج پر ہے ۔ اس کے ساتھ اب اسے چلانے والوں کی بھرتیوں کے لئے وہ طریقہ کار استعمال کیا جارہا ہے جس کا مقصد ادارے کو چلانا نہیں بلکہ کسی کو نوازنا ہے۔ درج ذیل تفصیلات ایسی ہی بے ضابطگیوں کے بارے میں ایک وضاحت کرتی ہے۔

نیشنل بینک میں سات عدد سینئر ایگزیکٹو زکی اسامیوں پر بھرتیاں کی جارہی ہیں، کچھ کی جا چکی ہیں۔ جبکہ اس ضرورت کو پہلے سے موجود تجربہ کار اور باصلاحیت ای وی پیز (ایگزیکٹوزوائس پریزیڈنٹ) حضرات کو ترقی دیکر پورا کیا جاسکتا ہے۔مزید برآں یہ بھرتیاں بینک پر اضافی مالی بوجھ کا سبب بھی ہونگیں۔ ان اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ایک ایسا اشتہار دیا گیا جس میں کرائیٹریا، تعلیم، اور تجربہ کے بارے میں تفصیلات طلب ہی نہیں کی گئیں ۔ جبکہ کسی بھی اسامی کے لئے میرٹ کے تقاضے پورے کرنے کے لئے تعلیم اور تجربہ بنیادی ضرورت ہوتی ہیں۔ یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھرتیوں کے لئے اقربا پروری کے ساتھ نااہل اور حسبِ منشا افسران کو بھرتی کیا جانا ہے۔ جبکہ بینک میں انتہائی تجربہ کار افسران کی کمی نہیں۔ حیرت انگیز طور پر بھرتی کے لئے کوئی حتمی تاریخ بھی مقرر نہیں کی گئی جو بھرتیوں کے اصول کے منافی ہے۔جو بھرتیاں عمل میں آچکی ہیں ان کی تنخواہوں میں حیرت انگیز طور پر مراتب، تجربہ اور تعلیمی صلاحیتوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ مثلاً ایک سینئر وائس پریزیڈنٹ عمر عزیز داؤد پوتا کی بنیادی تنخواہ 347,859=/ روپے مقرر کی گئی جبکہ ایک دوسرے سینئر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ مسٹر اویس اسد خان کی بنیادی تنخواہ 180,232=/روپے مقرر کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرتیوں کے لئے واحدکرائیٹریا سفارش اور اقرباء پروری ہے اس میں کسی اہلیت، تعلیم اور تجربہ و صلاحیت کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ یہ اس ادارے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسے ایگزیکٹوز بھی دوبارہ بھرتی کرلئے جاتے ہیں جو ماضی میں انتہائی خراب کارکردگی اور کرپشن کے ساتھ کام کرتے رہے اور حالات ناموافق دیکھ کر بینک چھوڑ گئے تھے۔

نیشنل بینک میں سات عدد سینئر ایگزیکٹوز کی نئی بھرتیاں میرٹ کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرکے کی جانے لگی،بینک کے پرانےافسران کو نظرانداز کرکے سفارشی بھرتیوں کا غیر معیاری سلسلہ شروع کردیا گیا۔

ایسے نااہل افسران کی دوبارہ بھرتیاں شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہیں کہ بینک کو لوٹنے میں یہ اکیلے نہیں اوپر والے بھی ہیں۔ 31 جنوری 2014 ء کو مسٹر معاذ خیرالدین کو بطور سینئر وائس پریزیڈنٹ بھرتی کیا گیا ۔ان کو ڈپٹی جنرل منیجرآپریشنز ڈھاکا بنگلہ دیش کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مگر حیرت انگیز طور پر موصوف آج تک بنگلہ دیش ہی نہیں گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاذ خیرالدین نے بینک کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ اور غالباً یہ بینک کی تاریخ کاپہلا انوکھا واقعہ ہے کہ جب کوئی ملازم، دئیے گئے بینک کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے فرائض ادا کئے بغیر اپنی تنخواہ وصول کرکے بینک کو لاکھوں روپے ماہانہ نقصان پہنچارہا ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیا کوئی بینک ملازم بینک کے قانون سے بالا تر ہو سکتا ہے۔ان بھرتیوں کے باعث نیشنل بینک آف پاکستان جہاں ملک بھر میں ہدف تنقید بن رہا ہے۔ وہیں بینک ملازمین حیران ہیں کہ جب بھی ان کے بچوں کی بھرتیوں کا معاملہ آتا ہے تو بینک انتظامیہ ا نہیں گنجائش نہیں ہے کا عذرلنگ پیش کرتی ہے یا اخراجات کا رونا روتی ہے۔بینک انتظامیہ کا یہی حیران کن رویہ ہے جس کے تحت گولڈن ہینڈ شیک میں نکالے گئے آٹھ ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرکے اس سے کہیں زیادہ بھرتی کرلئے جاتے ہیں۔کنٹریکٹ پر بھرتیوں کا سلسلہ اندھا دھند جاری رہتا ہے۔ اور کرپشن وبد انتظامی اپنے عروج پر رہتی ہے۔

بنگلہ دیش کی ہی برانچ میں 17 ارب روپے سے ذیادہ کا فراڈ ہوچکا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ رقم بڑھ کر 20 ارب تک جا پہنچی ہے ۔ طرہ تماشا یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے شروع ہونے والی یہ تحقیقات طویل سے طویل ہوتی جارہی ہے۔ بینک کی پرانی حکمت عملی کے تحت بدعنوانیوں کے اس نوع کے تمام قصوں میں تحقیقات کا ڈول تو ڈال لیا جاتا ہے مگر اس طوالت کے ذریعے آہستہ آہستہ سردخانے کی نذرکردیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی برانچ میں سترہ سے بیس ارب روپے کا فراڈ بھی اسی طرح اب آہستہ آہستہ سرد خانے میں ڈالا جارہا ہے۔ اسی لئے بینک کے اندرونی معاملات کو سمجھنے والے اسی تحقیقات کو آنکھوں میں دھول جھونکنے سے تعبیر کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر