وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں ٹرانسپورٹ و ٹریفک کا سنگین مسئلہ، حل آخر کیا؟

منگل 17 نومبر 2015 کراچی میں ٹرانسپورٹ و ٹریفک کا سنگین مسئلہ، حل آخر کیا؟

karachi traffic

کراچی ملک کا سب اہم شہر ہونے کے باوجود ہمیشہ حکمرانوں کی عدم توجہ یا عدم دلچسپی کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت نے کراچی میں ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے گرین لائن بس ریپڈ سسٹم ( Green Line Bus Rapid Transit System) کا منصوبہ بنایا جس کا اعلان وزیر اعظم میاں نواز شریف نے 10 جولائی 2014ء کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا ۔منصوبے پر صوبائی حکومت نے عمل درآمد شروع کرادیا ہے جس کے تحت شہر میں ایسی بسیں چلائی جائیں گی، جو تیز رفتار اور آرا م دہ ہوں گی۔

اس پروجیکٹ پر کام شروع ہونے کے چند روز بعد ہی یعنی 9 نومبر کو وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے وفاق سے گرین لائن بس کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا مطالبہ کرکے اپنی مجبوری کا اظہار کردیا ہے ۔ اس بیان سے ہی یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوگی، جس کی وجوہات کا اظہار صوبائی حکومت کے سربراہ کرچکے ہیں۔

کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے سڑکوں کو سگنل فری بنانے اور انہیں فلائی اوورز و انڈر پاسز کے جال میں تبدیل کرنے کے لیے گزشتہ دس سالوں کے دوران کم و بیش ساٹھ ارب روپے خرچ کردیے گئے۔ جس کا مقصد شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانا تھا۔ لیکن شہری یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان فلائی اوور ز اور انڈر پاسز کی وجہ سے بھی وہ فوائد حاصل نہ ہوسکے جس کی شہر کو ضرورت تھی اور ہے ۔ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی نے حکومت کو بھیجی گئی رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سڑکوں کو سگنل فری بنانے اور فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کرنے کے لیے ٹریفک پولیس اور ٹریفک کے ماہرین کی رائے نہیں لی گئی ۔ نتیجے میں شہر کے بعض ایسے مقامات پر بھی بالائی اور زیر زمین گزر گاہیں بنادی گئیں، جن کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ شہر کی سڑکوں اور ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لینے سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ بعض پلوں کی تعمیرسے سرکاری خزانے کوبے جا نقصان پہنچاکر بھاری کمیشن بنانے کے سوا کوئی اور فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ جبکہ شاہراہ فیصل ، شہید ملت روڈ ، راشد منہاس روڈ ،نواب صدیق علی خان روڈ، شاہراہ پاکستان اور سر شاہ سلیمان روڈ مجبور شہریوں کے لیے خطرناک ہوگئی ہیں کیونکہ ان سڑکوں کو عبور کرنے کے لیے قریب میں نہ تو کوئی بالائی اور نہ ہی زیر زمین گزرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ جس سے بزرگ اور بیمار لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

جائزے سے پتا چلتا ہے کہ یونیورسٹی روڈ ، شاہراہ پاکستان اور راشد منہاس روڈ پر تعمیر کیے گئے پلوں کا کوئی جواز اور ضرورت ہی نہیں تھی ۔ ان میں ابوالحسن اصفہانی اور یونیورسٹی روڈ کے سنگم پر پل ، یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے سامنے بالائی گزرگاہ اورعائشہ منزل کا پل قابل ذکر ہیں۔

شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ پہلے ایسا نہیں تھا جس کو بہتر بنانے کے بہانے فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کردیے گئے ۔یہاں کا اصل مسئلہ ٹریفک کا نظام بہتر بنانا یا اس نظام کو مینج کرنے یعنی سنبھالنے کا ہے ۔ ہاں البتہ یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ بڑی بسوں کے نظام، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، سے حل ہوسکتا ہے۔ جبکہ ٹریفک کے نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ماہرین سے مدد حاصل کی جائے ۔

کار یا موٹر سائیکل خریدنے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کی موجودگی اور taxpayer ہونا لازمی شرائط بنا دی جائیں

کراچی میں تقریباََ بیس لاکھ گاڑیاں موجود ہیں اور ان گاڑیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ایک مطالعاتی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی میں ہر ماہ 18 ہزار 662 گاڑیوں کا اضافہ ہوتا ہے ۔ ان گاڑیوں میں کاریں ، موٹر سائیکلیں اور دیگر نجی گاڑیاں شامل ہیں ۔ تاہم ان میں بڑی مسافر گاڑیاں یا پبلک ٹرانسپورٹ شامل نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہی ٹریفک کے مسائل میں اضافے کا سبب ہے ۔اس مسئلے کو نجی مقاصد کے لیے اور انفرادی طور پر استعمال کی جانے والی گاڑیوں کی روک تھام سے کیا جاسکتا ہے ۔دنیا بھر میں گاڑیاں کی خریداری کے لیے جو شرائط نافذ ہیں ان کے نفاذ سے بھی گاڑیوں کی خریداری کے رجحان کو کم کیا جاسکتا ہے ۔گاڑیوں کی خریداری کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کی شرط لازمی قرار دیا جانا چاہیے لیکن پاکستان شائد ان ہی چند ممالک میں سے ایک ہوگا جہاں کاریں اورموٹر سائیکلیں خریدنے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس رکھنے کی شرط نہیں ہے، حالانکہ گاڑی ایک ڈرائیور ہی چلاسکتا ہے۔ بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر قسم کی گاڑیاں خریدنے کے لیے ٹیکس ادا کرنے والا (taxpayer) ہونا ضروری ہوتا ہے اس مقصد کے لیے گاڑی کی خریداری کے وقت ڈیلر کو ٹیکس گوشوارے دکھانا اور اس کے پاس جمع کرانا بھی لازمی ہے اس کے بغیر گاڑی نہ کوئی خرید سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو فروخت کی جاسکتی ہے۔ اس لیے ٹریفک کے مسائل پر فوری قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ گاڑیوں کے خریداروں کے لیے ان شرائط کو پورا کرنے کی پابندی لگائی جائے۔رہی بات بی آرٹی ٹرانزٹ سسٹم کی اسے ہر صورت میں وقت پر مکمل کیا جانا بلکہ اسے ضرورت کے تحت وسعت دینا بھی ضروری ہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر