... loading ...

برطانیہ کے سینکڑوں مصنفین نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دورے پر آئے ہوئے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی توجہ بھارت میں بڑھتے ہوئے ‘خوف کے ماحول’ پر دلائیں جس میں قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں، وہ ملکہ برطانیہ سے ملاقات کریں گے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے ۔ برطانیہ آمد پر بقول شخصے ان کا “اولمپک انداز” میں استقبال کیا جا رہا ہے۔ فضاؤں میں کرتب دکھانے والے طیارے محو پرواز ہیں، آسمان آتش بازی سے روشن ہے اور تاریخی ویمبلی اسٹیڈیم میں زبردست محفل موسیقی ان کی منتظر ہے۔ لیکن برطانیہ کے لکھاریوں کی نظر بھارت کی ان آوازوں پر ہے، جنہیں سختی سے دبایا جا رہا ہے۔ 200 برطانوی مصنفین نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔ ان میں ہاری کنزرو، این میک ایون، وال میک ڈرمڈ، نیل مکھرجی، مرینا لیویکا، ڈیوڈ لوج، اوون شیئرز اور فرانسسکا سائمن جیسے لکھاری شامل ہیں۔ جنہوں نے بھارت میں قدامت پسندی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے خلاف عدم برداشت اور تشدد کے رویے پر اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہ خط وزیراعظم کیمرون سے مطالبہ کرتا ہےکہ وہ مودی کے ساتھ ملاقات میں سرعام بھی اور خلوت میں بھی اس اہم معاملے پر گفتگو کریں۔ پین انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کیے گئے اس خط میں مرکز کے انگلستان، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں مقیم اراکین کے دستخط کیں۔
برطانوی حکام کا امید ہے کہ لندن میں قیام کے دوران بھارتی وزیر اعظم اہم تجارتی معاہدوں پر دستخط کریں گے لیکن برطانوی مصنفین کہتے ہیں کہ ایجنڈے پر بھارت میں “آزادئ اظہار کی موجودہ صورت حال” بھی شامل ہونی چاہیے۔ اپنے خط میں انہوں نے ملیش پا ماڈیولپا کلبرگی،گووند پنسارے اور نریندر ڈبھولکر جیسے دانشوروں کی حالیہ اموات، حملے کے بعد حکومت کی خاموشی پر بطور احتجاج 40 بھارتی لکھاریوں کی جانب سے ساہتیہ اکیڈمی کو واپس کیے گئے ادبی ایوارڈز کا معاملہ اٹھایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صرف لکھاری ہی نہیں، بلکہ سائنس دان، فن کار، فلم ساز، علمی شخصیات، دانشور اور اداکار بھی عدم برداشت کے ماحول پر شکوہ کناں ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر اپنے اعزازات واپس کیے گئے، جس کی بھارتی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی ترویج سے برطانیہ کی وابستگی کی بنیاد پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا معاملات کو وزیر اعظم مودی کے سامنے اٹھایا جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ لکھاریوں، فن کاروں اور دیگر تنقیدی آوازوں کو حفاظت دیں اور آزادئ اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنائے کیونکہ ان کے بغیر ایک جمہوری و پرامن معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔
دوسری جانب 40 اراکین پارلیمان کے دستخط پر مشتمل ایک تحریک بھی ڈیوڈ کیمرون کو پیش کی گئی ہے، جس میں مودی کے سامنے انسانی حقوق کے معاملات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم کی آمد پر برطانیہ میں جہاں سرکاری سطح پر زبردست استقبال کیا گیا ہے، وہیں عوام نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...