وجود

... loading ...

وجود

ترکی میں انتخابات: پس منظر، پیش منظر

اتوار 01 نومبر 2015 ترکی میں انتخابات: پس منظر، پیش منظر

ترکی میں آج انتخابات کا دن ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کے غالب اکثریت حاصل نہ کرنے اور اتحادی حکومت کی تشکیل میں ناکامی کے چھ ماہ بعد یہ ترکی کے اہم ترین انتخابات ہیں۔

پس منظر

جون میں صدر رجب طیب ایردوغان کی عدالت و ترقی پارٹی 2002ء کے بعد پہلی بار غالب اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکی تھیں۔

موجودہ حالات

جون سے اب تک صرف چھ ماہ میں ترکی میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں ترکی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بھی بنا، جس میں دارالحکومت انقرہ میں ہونے والا ایک بم دھماکا بھی شامل تھا جس میں 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔ پھر حکومت اور کرد باغیوں کے درمیان جنگ بھی دوبارہ شروع ہوئی جس کی وجہ سے 2012ء سے جاری امن مذاکرات تھم گئے ہیں۔ پھر ملک کو مہاجرین کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے 20 لاکھ شامی مہاجرین اس وقت ترکی میں موجود ہیں اور ملک یورپی یونین کے ساتھ مل کر اس بحران پر قابو پانے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

پھر دیگر معاملات میں دھیمی پڑتی معیشت اور ساتھ ہی طیب ایرودغان کے آمرانہ انداز حکمرانی بھی کئی ذہنوں پر حاوی ہے۔ دنیا بھر کی طرح ترکی کی معیشت میں بھی کچھ کمزوری آئی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے اور فی کس جی ڈی پی تو 2007ء سے اب تک نہیں بڑھا۔

ان تمام پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ انتخابات حکمران جماعت عدالت و ترقی پارٹی کے لیے ایک بہت بڑاچیلنج ہوں گے۔ البتہ تمام تر ابتدائی حالات اور پول ظاہر کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں عدالت پارٹی ہی جیتے گی۔ البتہ غالب اکثریت حاصل ہونے کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

ترکی میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟

ترکی کی پارلیمان، بیوک ملت مجلسی، 550 نشستیں رکھتی ہے۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 276 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ آئین کو براہ راست تبدیل کرنے کے لیے 367 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے عوامی ریفرنڈم کی خاطر 330 نشستیں لازمی ہیں۔ گو کہ امکان اتنا زیادہ نہیں دکھائی دیتا، لیکن ایرودغان اب بھی امید رکھتے ہیں کہ عدالت پارٹی آئین کی تبدیلی کے لیے درکار نشستیں جیت جائے گی اور صدر کے عہدے کو مزید اختیارات عطا کرے گی۔

اراکین اسمبلی کا انتخاب 85 حلقہ جات سے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پارلیمان میں داخلے کے کسی بھی جماعت کا 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، جو دیگر ملکوں کے مقابلے میں ذرا سخت معیار ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں 5 فیصد، سوئیڈن میں 4 فیصد، جبکہ ڈنمارک میں تو2 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں بھی پارلیمان پہنچ جاتی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ترک نظام میں اگر کوئی سیاسی جماعت 40 نشستیں جیتتی ہے لیکن اس کے قومی ووٹوں کی تعداد 9.55 فیصد ہے، جیسا کہ 2002ء کے انتخابات میں صراط مستقیم پارٹی کے ساتھ ہوا تھا، تو اسے اپنی 40 نشستیں چھوڑنا پڑ جائیں گی۔ جو بعد ازاں اس معیار پر پورا اترنے والی دیگر جماعتوں کو ملتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں بڑی جماعتوں کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

turk-national-assembly

اہم سیاسی جماعتیں

عدالت و ترقی پارٹی

2001ء میں مختلف قدامت پسند جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے عدالت و ترقی پارٹی قائم کی۔ یہ اسلامی رحجانات رکھنے والی جماعت 2002ء میں شاندار کامیابی کے بعد سے اب تک برسر اقتدار ہے۔ سابق وزیر خارجہ احمد داؤداوغلو اس وتق پارٹی رہنما اور وزیراعظم بنے جب گزشتہ سال عوامی ووٹ کے ذریعے ایرودغان ملک کے صدر قرار پائے تھے۔ اب وہ آج یعنی یکم نومبر کو جماعت کے اہم ترین امیدوار بھی ہیں۔

جمہوری خلق پارٹی

جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے 1923ء میں قائم کردہ جمہوری خلق پارٹی ملک کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے اور حزب اختلاف کا اہم ترین جز بھی۔ جماعت کے رہنما اور ان کے سرفہرست امیدوار کمال کلچ دار اوغلو ہیں۔

جون کے انتخابات میں جمہوری خلق پارٹی کے منشور کا بنیادی نقطہ اقتصادی و مزدوروں کے مسائل تھے۔ جماعت پنشن میں اضافے اور بے روزگاری کی موجودہ شرح پر قابو پانے کا عہد کرتی ہے اور ساتھ ساتھ کم از کم تنخواہ کو 950 لیرا سے بڑھا کر 1500 لیرا ماہانہ تک کرنے کا وعدہ بھی اس کے منشور کا حصہ ہے۔ جمہوری خلق پارٹی موجودہ آئین میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہے، جسے 1980ء کی بغاوت کے بعد فوج نے متعارف کروایا تھا، لیکن وہ صدارتی نظام کے عدالت پارٹی کے منصوبوں کی مخالفت کرتی ہے۔

اپنے موجودہ رہنما کی قیادت میں جماعت خاصی تبدیلیاں لائی ہے، لیکن کئی ووٹرز خاص طور پر کرد اور مذہبی قدامت پسند، جمہوری خلق پارٹی کو متعصب اور اشرافیہ کی جماعت سمجھتے ہیں۔

ملت چی حرکت پارٹی

ملت چی حرکت پارٹی ممکنہ طور پر ترک پارلیمان میں تیسری قوت کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھے گی۔ اس جماعت کی قیادت دولت باخ چیلی کے ہاتھوں میں ہے۔

گو کہ ملت حرکت پارٹی کرد اور اقلیتوں کے حقوق کی ایک حد تک حمایت کرتی ہے، لیکن یہ حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان امن عمل کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کردوں کو ترک ریاست کا اختیار تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی کردوں کے ساتھ تمام مذاکرات کا خاتمہ کردیں گے۔

خلق لرن ڈیموکریٹک پارٹی

ترکی کی جمہوری سوشلسٹ جماعت، جو جون میں کرد امن عمل کو آگے بڑھانے اور نسلی، مذہبی اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ پہلی بار انتخابات میں کھڑی ہوئی اور منظرنامہ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

2012ء میں قائم ہونے والی یہ جماعت صلاح الدین دیمرتاش کی قیادت میں کام کرتی ہے اور گزشتہ انتخابات میں 80 نشستیں حاصل کرکے اہم قوت بنی۔ اس کے امیدوار انتخابات میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہوئے کیونکہ ترکی کے انتخابات کا 10 فیصد کا معیار صرف سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے۔

یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس میں عورتوں کی نمائندگی نصف ہے۔ یہ جماعت خود کو ماحول دوست اور سرمایہ دار مخالف کہتی ہے، جو جوہری توانائی کی مخالفت اور مزدوروں کے حقوق کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

موجودہ منظرنامہ

موجودہ منظرنامہ دیکھیں تو تمام تر پول یہی بتاتے ہیں کہ یہ انتخابات جون کا ‘ری پلے’ ہوں گے۔ یعنی کوئی جماعت غالب اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی۔ البتہ خلق لری ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی –یا ناکامی- انتخابات میں ڈرامائی تبدیلی لا سکتی ہے۔

انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ترک عوام صبح 8 سے شام 5 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد شام کو ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا اور نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید وجود - منگل 30 دسمبر 2025

شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر