وجود

... loading ...

وجود

ترکی میں انتخابات: پس منظر، پیش منظر

اتوار 01 نومبر 2015 ترکی میں انتخابات: پس منظر، پیش منظر

ترکی میں آج انتخابات کا دن ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کے غالب اکثریت حاصل نہ کرنے اور اتحادی حکومت کی تشکیل میں ناکامی کے چھ ماہ بعد یہ ترکی کے اہم ترین انتخابات ہیں۔

پس منظر

جون میں صدر رجب طیب ایردوغان کی عدالت و ترقی پارٹی 2002ء کے بعد پہلی بار غالب اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکی تھیں۔

موجودہ حالات

جون سے اب تک صرف چھ ماہ میں ترکی میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں ترکی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بھی بنا، جس میں دارالحکومت انقرہ میں ہونے والا ایک بم دھماکا بھی شامل تھا جس میں 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔ پھر حکومت اور کرد باغیوں کے درمیان جنگ بھی دوبارہ شروع ہوئی جس کی وجہ سے 2012ء سے جاری امن مذاکرات تھم گئے ہیں۔ پھر ملک کو مہاجرین کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے 20 لاکھ شامی مہاجرین اس وقت ترکی میں موجود ہیں اور ملک یورپی یونین کے ساتھ مل کر اس بحران پر قابو پانے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

پھر دیگر معاملات میں دھیمی پڑتی معیشت اور ساتھ ہی طیب ایرودغان کے آمرانہ انداز حکمرانی بھی کئی ذہنوں پر حاوی ہے۔ دنیا بھر کی طرح ترکی کی معیشت میں بھی کچھ کمزوری آئی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے اور فی کس جی ڈی پی تو 2007ء سے اب تک نہیں بڑھا۔

ان تمام پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ انتخابات حکمران جماعت عدالت و ترقی پارٹی کے لیے ایک بہت بڑاچیلنج ہوں گے۔ البتہ تمام تر ابتدائی حالات اور پول ظاہر کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں عدالت پارٹی ہی جیتے گی۔ البتہ غالب اکثریت حاصل ہونے کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

ترکی میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟

ترکی کی پارلیمان، بیوک ملت مجلسی، 550 نشستیں رکھتی ہے۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 276 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ آئین کو براہ راست تبدیل کرنے کے لیے 367 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے عوامی ریفرنڈم کی خاطر 330 نشستیں لازمی ہیں۔ گو کہ امکان اتنا زیادہ نہیں دکھائی دیتا، لیکن ایرودغان اب بھی امید رکھتے ہیں کہ عدالت پارٹی آئین کی تبدیلی کے لیے درکار نشستیں جیت جائے گی اور صدر کے عہدے کو مزید اختیارات عطا کرے گی۔

اراکین اسمبلی کا انتخاب 85 حلقہ جات سے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پارلیمان میں داخلے کے کسی بھی جماعت کا 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، جو دیگر ملکوں کے مقابلے میں ذرا سخت معیار ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں 5 فیصد، سوئیڈن میں 4 فیصد، جبکہ ڈنمارک میں تو2 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں بھی پارلیمان پہنچ جاتی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ترک نظام میں اگر کوئی سیاسی جماعت 40 نشستیں جیتتی ہے لیکن اس کے قومی ووٹوں کی تعداد 9.55 فیصد ہے، جیسا کہ 2002ء کے انتخابات میں صراط مستقیم پارٹی کے ساتھ ہوا تھا، تو اسے اپنی 40 نشستیں چھوڑنا پڑ جائیں گی۔ جو بعد ازاں اس معیار پر پورا اترنے والی دیگر جماعتوں کو ملتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں بڑی جماعتوں کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

turk-national-assembly

اہم سیاسی جماعتیں

عدالت و ترقی پارٹی

2001ء میں مختلف قدامت پسند جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے عدالت و ترقی پارٹی قائم کی۔ یہ اسلامی رحجانات رکھنے والی جماعت 2002ء میں شاندار کامیابی کے بعد سے اب تک برسر اقتدار ہے۔ سابق وزیر خارجہ احمد داؤداوغلو اس وتق پارٹی رہنما اور وزیراعظم بنے جب گزشتہ سال عوامی ووٹ کے ذریعے ایرودغان ملک کے صدر قرار پائے تھے۔ اب وہ آج یعنی یکم نومبر کو جماعت کے اہم ترین امیدوار بھی ہیں۔

جمہوری خلق پارٹی

جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے 1923ء میں قائم کردہ جمہوری خلق پارٹی ملک کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے اور حزب اختلاف کا اہم ترین جز بھی۔ جماعت کے رہنما اور ان کے سرفہرست امیدوار کمال کلچ دار اوغلو ہیں۔

جون کے انتخابات میں جمہوری خلق پارٹی کے منشور کا بنیادی نقطہ اقتصادی و مزدوروں کے مسائل تھے۔ جماعت پنشن میں اضافے اور بے روزگاری کی موجودہ شرح پر قابو پانے کا عہد کرتی ہے اور ساتھ ساتھ کم از کم تنخواہ کو 950 لیرا سے بڑھا کر 1500 لیرا ماہانہ تک کرنے کا وعدہ بھی اس کے منشور کا حصہ ہے۔ جمہوری خلق پارٹی موجودہ آئین میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہے، جسے 1980ء کی بغاوت کے بعد فوج نے متعارف کروایا تھا، لیکن وہ صدارتی نظام کے عدالت پارٹی کے منصوبوں کی مخالفت کرتی ہے۔

اپنے موجودہ رہنما کی قیادت میں جماعت خاصی تبدیلیاں لائی ہے، لیکن کئی ووٹرز خاص طور پر کرد اور مذہبی قدامت پسند، جمہوری خلق پارٹی کو متعصب اور اشرافیہ کی جماعت سمجھتے ہیں۔

ملت چی حرکت پارٹی

ملت چی حرکت پارٹی ممکنہ طور پر ترک پارلیمان میں تیسری قوت کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھے گی۔ اس جماعت کی قیادت دولت باخ چیلی کے ہاتھوں میں ہے۔

گو کہ ملت حرکت پارٹی کرد اور اقلیتوں کے حقوق کی ایک حد تک حمایت کرتی ہے، لیکن یہ حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان امن عمل کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کردوں کو ترک ریاست کا اختیار تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی کردوں کے ساتھ تمام مذاکرات کا خاتمہ کردیں گے۔

خلق لرن ڈیموکریٹک پارٹی

ترکی کی جمہوری سوشلسٹ جماعت، جو جون میں کرد امن عمل کو آگے بڑھانے اور نسلی، مذہبی اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ پہلی بار انتخابات میں کھڑی ہوئی اور منظرنامہ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

2012ء میں قائم ہونے والی یہ جماعت صلاح الدین دیمرتاش کی قیادت میں کام کرتی ہے اور گزشتہ انتخابات میں 80 نشستیں حاصل کرکے اہم قوت بنی۔ اس کے امیدوار انتخابات میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہوئے کیونکہ ترکی کے انتخابات کا 10 فیصد کا معیار صرف سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے۔

یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس میں عورتوں کی نمائندگی نصف ہے۔ یہ جماعت خود کو ماحول دوست اور سرمایہ دار مخالف کہتی ہے، جو جوہری توانائی کی مخالفت اور مزدوروں کے حقوق کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

موجودہ منظرنامہ

موجودہ منظرنامہ دیکھیں تو تمام تر پول یہی بتاتے ہیں کہ یہ انتخابات جون کا ‘ری پلے’ ہوں گے۔ یعنی کوئی جماعت غالب اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی۔ البتہ خلق لری ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی –یا ناکامی- انتخابات میں ڈرامائی تبدیلی لا سکتی ہے۔

انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ترک عوام صبح 8 سے شام 5 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد شام کو ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا اور نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر