... loading ...

ترکی میں آج انتخابات کا دن ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کے غالب اکثریت حاصل نہ کرنے اور اتحادی حکومت کی تشکیل میں ناکامی کے چھ ماہ بعد یہ ترکی کے اہم ترین انتخابات ہیں۔
جون میں صدر رجب طیب ایردوغان کی عدالت و ترقی پارٹی 2002ء کے بعد پہلی بار غالب اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکی تھیں۔
جون سے اب تک صرف چھ ماہ میں ترکی میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں ترکی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بھی بنا، جس میں دارالحکومت انقرہ میں ہونے والا ایک بم دھماکا بھی شامل تھا جس میں 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔ پھر حکومت اور کرد باغیوں کے درمیان جنگ بھی دوبارہ شروع ہوئی جس کی وجہ سے 2012ء سے جاری امن مذاکرات تھم گئے ہیں۔ پھر ملک کو مہاجرین کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے 20 لاکھ شامی مہاجرین اس وقت ترکی میں موجود ہیں اور ملک یورپی یونین کے ساتھ مل کر اس بحران پر قابو پانے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
پھر دیگر معاملات میں دھیمی پڑتی معیشت اور ساتھ ہی طیب ایرودغان کے آمرانہ انداز حکمرانی بھی کئی ذہنوں پر حاوی ہے۔ دنیا بھر کی طرح ترکی کی معیشت میں بھی کچھ کمزوری آئی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے اور فی کس جی ڈی پی تو 2007ء سے اب تک نہیں بڑھا۔
ان تمام پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ انتخابات حکمران جماعت عدالت و ترقی پارٹی کے لیے ایک بہت بڑاچیلنج ہوں گے۔ البتہ تمام تر ابتدائی حالات اور پول ظاہر کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں عدالت پارٹی ہی جیتے گی۔ البتہ غالب اکثریت حاصل ہونے کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
ترکی کی پارلیمان، بیوک ملت مجلسی، 550 نشستیں رکھتی ہے۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 276 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ آئین کو براہ راست تبدیل کرنے کے لیے 367 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے عوامی ریفرنڈم کی خاطر 330 نشستیں لازمی ہیں۔ گو کہ امکان اتنا زیادہ نہیں دکھائی دیتا، لیکن ایرودغان اب بھی امید رکھتے ہیں کہ عدالت پارٹی آئین کی تبدیلی کے لیے درکار نشستیں جیت جائے گی اور صدر کے عہدے کو مزید اختیارات عطا کرے گی۔
اراکین اسمبلی کا انتخاب 85 حلقہ جات سے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پارلیمان میں داخلے کے کسی بھی جماعت کا 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، جو دیگر ملکوں کے مقابلے میں ذرا سخت معیار ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں 5 فیصد، سوئیڈن میں 4 فیصد، جبکہ ڈنمارک میں تو2 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں بھی پارلیمان پہنچ جاتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ ترک نظام میں اگر کوئی سیاسی جماعت 40 نشستیں جیتتی ہے لیکن اس کے قومی ووٹوں کی تعداد 9.55 فیصد ہے، جیسا کہ 2002ء کے انتخابات میں صراط مستقیم پارٹی کے ساتھ ہوا تھا، تو اسے اپنی 40 نشستیں چھوڑنا پڑ جائیں گی۔ جو بعد ازاں اس معیار پر پورا اترنے والی دیگر جماعتوں کو ملتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں بڑی جماعتوں کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

2001ء میں مختلف قدامت پسند جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے عدالت و ترقی پارٹی قائم کی۔ یہ اسلامی رحجانات رکھنے والی جماعت 2002ء میں شاندار کامیابی کے بعد سے اب تک برسر اقتدار ہے۔ سابق وزیر خارجہ احمد داؤداوغلو اس وتق پارٹی رہنما اور وزیراعظم بنے جب گزشتہ سال عوامی ووٹ کے ذریعے ایرودغان ملک کے صدر قرار پائے تھے۔ اب وہ آج یعنی یکم نومبر کو جماعت کے اہم ترین امیدوار بھی ہیں۔
جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے 1923ء میں قائم کردہ جمہوری خلق پارٹی ملک کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے اور حزب اختلاف کا اہم ترین جز بھی۔ جماعت کے رہنما اور ان کے سرفہرست امیدوار کمال کلچ دار اوغلو ہیں۔
جون کے انتخابات میں جمہوری خلق پارٹی کے منشور کا بنیادی نقطہ اقتصادی و مزدوروں کے مسائل تھے۔ جماعت پنشن میں اضافے اور بے روزگاری کی موجودہ شرح پر قابو پانے کا عہد کرتی ہے اور ساتھ ساتھ کم از کم تنخواہ کو 950 لیرا سے بڑھا کر 1500 لیرا ماہانہ تک کرنے کا وعدہ بھی اس کے منشور کا حصہ ہے۔ جمہوری خلق پارٹی موجودہ آئین میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہے، جسے 1980ء کی بغاوت کے بعد فوج نے متعارف کروایا تھا، لیکن وہ صدارتی نظام کے عدالت پارٹی کے منصوبوں کی مخالفت کرتی ہے۔
اپنے موجودہ رہنما کی قیادت میں جماعت خاصی تبدیلیاں لائی ہے، لیکن کئی ووٹرز خاص طور پر کرد اور مذہبی قدامت پسند، جمہوری خلق پارٹی کو متعصب اور اشرافیہ کی جماعت سمجھتے ہیں۔

ملت چی حرکت پارٹی ممکنہ طور پر ترک پارلیمان میں تیسری قوت کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھے گی۔ اس جماعت کی قیادت دولت باخ چیلی کے ہاتھوں میں ہے۔
گو کہ ملت حرکت پارٹی کرد اور اقلیتوں کے حقوق کی ایک حد تک حمایت کرتی ہے، لیکن یہ حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان امن عمل کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کردوں کو ترک ریاست کا اختیار تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی کردوں کے ساتھ تمام مذاکرات کا خاتمہ کردیں گے۔
ترکی کی جمہوری سوشلسٹ جماعت، جو جون میں کرد امن عمل کو آگے بڑھانے اور نسلی، مذہبی اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ پہلی بار انتخابات میں کھڑی ہوئی اور منظرنامہ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2012ء میں قائم ہونے والی یہ جماعت صلاح الدین دیمرتاش کی قیادت میں کام کرتی ہے اور گزشتہ انتخابات میں 80 نشستیں حاصل کرکے اہم قوت بنی۔ اس کے امیدوار انتخابات میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہوئے کیونکہ ترکی کے انتخابات کا 10 فیصد کا معیار صرف سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے۔
یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس میں عورتوں کی نمائندگی نصف ہے۔ یہ جماعت خود کو ماحول دوست اور سرمایہ دار مخالف کہتی ہے، جو جوہری توانائی کی مخالفت اور مزدوروں کے حقوق کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔
موجودہ منظرنامہ دیکھیں تو تمام تر پول یہی بتاتے ہیں کہ یہ انتخابات جون کا ‘ری پلے’ ہوں گے۔ یعنی کوئی جماعت غالب اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی۔ البتہ خلق لری ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی –یا ناکامی- انتخابات میں ڈرامائی تبدیلی لا سکتی ہے۔
انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ترک عوام صبح 8 سے شام 5 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد شام کو ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا اور نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...