وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مجذوب کا رجز

اتوار 25 اکتوبر 2015 مجذوب کا رجز

Whirling-Dervishes

احمد جاوید

تنہ نا ھا یا ھو
تنہ نا ھا یا ھو
گم ستاروں کی لڑی ہے
رات ویران پڑی ہے
آگ جب دن کو دکھائی
راکھ سورج سے جھڑی ہے
غیب ہے دل سے زیادہ
دید آنکھوں سے بڑی ہے
گر نہ جائے کہیں آواز
خامشی ساتھ کھڑی ہے
لفظ گونگوں نے بنایا
آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے
رائی کا دانہ یہ دنیا
کوہ ساری یہ اڑی ہے
وقت کے پاؤں میں کب سے
پھانس کی طرح گڑی ہے
کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو
تنہ نا ھا یا ھو

طرفہ دام و رسن ایجاد!
میں ہوں سیّاروں کا صیّاد
از فلک تا بہ زمیں ہے
گرم ہنگامۂ بے داد
آتشیں آہ یہ خورشید
اور افق ہے لبِ فریاد
چرخ کے شور میں رکھ دی
میں نے سناٹے کی بنیاد
کرۂ بود و عدم ہے
میرے چوگان کا ہم زاد
وحشت انباریِ دل ہے
دانہ دانہ شجر افتاد
آسماں میرا مصاحب
وقت ہے بندۂ ارشاد
پانی ہے پانی میں غرقاب
جال ہے جال سے آزاد
آگ ہے آگ میں ساکن
خاک ہے خاک سے آباد
دشت ہے آبلہ مقدار
عکس ہے آئینہ میعاد
آنکھ کی اصل ہے آنسو
تنہ نا ھا یا ھو

نہیں جو شعلہ بھی حرّاق
آگ کرتی ہے اسے عاق
رات رہنے نہیں دیتی
شمعِ کشتہ کو سرِ طاق
جیشِ قہارِ جنوں کا
ہے ہواؤں سے یہ میثاق
کسی آندھی سے نہ ہو گا
سرنگوں رایتِ عشاق
دشمناں تم کو بشارت
میں وہ سیّاف ہوں مشّاق
دستِ خوں ریز میں جس کے
زہرِ ہستی کا ہے تریاق
جس کا نیزہ ہے سپر دوز
جس کی شمشیر ہے برّاق
جس کا شب دیزِ بلا خیز
چابک و پر دم و سبّاق
جو ہے غارت گرِ آواز
خامشی کے لیے قزّاق
برگ جس کا چمن آہنگ
ذرہ ہے باد یہ مصداق
زور جس کا ہمہ امکاں
شور جس کا ہمہ اطلاق
ایک شعلے میں ہوا صرف
گلخنِ انفس و آفاق
دل ہوا درد پہ یک سو
تنہ نا ھا یا ھو

حاملِ لشکر و رایہ
میں ہوں طوفان کی دایہ
بادیہ گردوں کی میراث
جلتی دیوار کا سایہ
ہے میری چاہ پہ موقوف
دورِ دولابِ عنایہ
ہے میری پیاس کا مرہون
گردشِ چرخِ سقایہ
حضرتِ عشق سے مروی
ہے یہ دل اصلِ روایہ
روحِ طیار کی پرواز
ہے الیٰ غیر نہایہ
میرے دریا میں نہ ڈالو
کوزۂ کنز و ہدایہ
جذبِ سرشارِ فنا کا
مرگ ہے ایک کنایہ
میں ہوں قتال من و تو
تنہ نا ھا یا ھو

میری تنہائی سے ہشیار
اس کی گہرائی سے ہشیار
سب زمانوں کو منادی
لحظہ پہنائی سے ہشیار
غیب در غیب ہے اک شور
چشمِ سودائی سے ہشیار
چھپنے والے کو سنا دو
میری بینائی سے ہشیار
دشت کتنا ہی بڑا ہو
آبلہ پائی سے ہشیار
ماہیاں! چشمۂ دل کی
ہفت دریائی سے ہشیار
اے خدایانِ یم و رود
سیلِ صحرائی سے ہشیار
ہاں مبارز طلباں ! ہاں
میری پسپائی سے ہشیار
باز اشہب ہے میرا تیر
اس کی اونچائی سے ہشیار
بھاگو بھاگو میری چب سے
نیز گویائی سے ہشیار
میں بلا خیز بلا خو
تنہ نا ھا یا ھو

رختِ بینائی ہوئی آگ
آنکھ تک آئی ہوئی آگ
بانیِ نارِ جہنم
میری ٹھکرائی ہوئی آگ
دو جہاں پھونک چکی ہے
یہ میری لائی ہوئی آگ
میرے سینے سے نکلتے
دیکھو گھبرائی ہوئی آگ
شعلۂ نحس کا معدن
ایک پتھرائی ہوئی آگ
اے دُخاں زاد غنیمو!
تم ہو کجلائی ہوئی آگ
کرے حمام و غاگرم
وہ بھی مرجھائی ہوئی آگ
میرے آگے سے اٹھا لو
اپنی دنیائی ہوئی آگ
کم نہ ہو شعلہ برابر
میری رکھوائی ہوئی آگ
عرش تک دل کی پہنچ ہے
یہ ہے نپوائی ہوئی آگ
لوحِ تقدیر پہ ہے ثبت
میری لکھوائی ہوئی آگ
ہے مرا حرفِ مکرر
جیسے دہرائی ہوئی آگ
رکھتی ہے کشتِ فنا سبز
میری برسائی ہوئی آگ
اب ہے آنکھوں سے مخاطب
دل کو سنوائی ہوئی آگ
گنجِ ویرانۂ جاں ہے!
ایک دفنائی ہوئی آگ
اشکِ گرم آنکھ سے نکلا
یا کہ دھلوائی ہوئی آگ
آب شمشیر پہ دم کی
میں نے پڑھوائی ہوئی آگ
آگ ہے زخم کا دارو
تنہ نا ھا یا ھو


متعلقہ خبریں


سب اندھیرے ایک سے نہیں ہوتے، کچھ رات میں پھیلتے ہیں اور کچھ، دن میں! محمد دین جوہر - اتوار 04 ستمبر 2016

اندھیرے جو دل کو ظلمت خانہ بنا دیں وہ رات کو آتے ہیں اور جو ذہن کو تاریک کر دیں وہ دن کو پھیلتے ہیں۔ اندھیرے جو احوال بن جائیں وہ رات میں اترتے ہیں، اور ظلمت جو فکر بن جائے وہ دن کو بڑھتی ہے۔ آج دنیائے آفاق خود اپنے ایندھن سے اور انسانی کاوش سے روشن ہے۔ یہ دنیا انسان کا گھر تو ہے، کوئی عارضی مانے اور کوئی مستقل کہے، وہ الگ بات ہے، گھر تو ہے، اور یہاں اندھیرے بھی ہیں، اور روشنیاں بھی۔ ساری روشنیاں گھر کو منور کرنے میں کھپتی جا رہی ہیں، اور انسان نے اندھیروں کو دنیا سے جلاوطن ک...

سب اندھیرے ایک سے نہیں ہوتے، کچھ رات میں پھیلتے ہیں اور کچھ، دن میں!

ذہانت صرف علم سے نہیں، جہل سے بھی پیدا ہوتی ہے محمد دین جوہر - بدھ 31 اگست 2016

اگر اس قول زریں میں ”ذہانت“ کا مفہوم طے ہو جائے تو اشکال ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اشکال ذہانت کے حوالے سے ”علم“ اور ”جہل“ کی ہم منصبی سے پیدا ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ذہانت کا مفہوم کیا ہے یا درست تر معنی میں اس کی تعریف کیا ہے؟ علم کی عمارت دراصل تعریفات کی اینٹوں سے کھڑی ہوتی ہے۔ اینٹ جتنی اچھی گھڑی ہوئی ہو گی، تعمیر کی صفائی اتنی ہی ظاہر ہو گی۔ ”ذہانت“ کی تعریف کو رندہ لگاتے ہوئے مجھے ایک پرانی بات یاد آ گئی جو شاید قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہو۔ یونی ورسٹی کے زمانے میں و...

ذہانت صرف علم سے نہیں، جہل سے بھی پیدا ہوتی ہے

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ محمد دین جوہر - هفته 27 اگست 2016

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ اس سے احمق بلبلہ، اس سے نادان ذرہ، اس سے بے وفا لمحہ قابل تصور نہیں ہو سکتا۔ یہ اس مسخ شدہ، کارٹون نما بلبلے، ذرے اور لمحے کی کہانی ہے جو نہ خود سے واقف ہے نہ اس دنیا سے جس میں وہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش میں ہے۔ ان احوال کے ساتھ ہونا، کرنا سب لاحاصل اور بے معنی ہے۔ بلبلے کا دریا کی مخالفت کرنا مضحکہ خیز ہے، ذرے کی مٹی سے بغاوت لایعنی ہ...

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ

شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں محمد دین جوہر - جمعرات 18 اگست 2016

"شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں!" جمال کے آتش پیرہن جلوے آب معانی میں بسنے پر راضی ہو جائیں تو شاعری پیدا ہوتی ہے، اور اس ”آبدار پانی“ کا جرعہ نصیب ہونا ذوق ہے۔ ہمارے ہاں شاعری پر جھگڑا نہیں، اور وہ جو عظیم المرتبت یونانی استاد شاگرد کا جھگڑا ہے، اس کی اصل ہمارے ہاں نہیں۔ اس لیے ہم ابھی شعریات کی طرف نہیں جاتے، اور آنجناب کے قول زریں میں ذوق کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حس کے دشت میں ذہن کے بگولوں سے رستگاری ذوق کے چشمے پر ہوتی ہے۔ ذ...

شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں

بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں محمد دین جوہر - جمعه 12 اگست 2016

"بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں" بعض اوقات اصل بات اس قدر اہم ہوتی ہے کہ اسے براہ راست کہنے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس قول زریں کی تہہ داری ہمارے عصری حالات پر تبصرہ بھی ہے، اور اصل بات تک پہنچنے کے لیے مہمیز بھی ہے۔ اول تو اس قول میں ”بعض“ کا لفظ نہایت معنی خیز ہے، جس کا اشارہ ہر سمت پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ایک غالب رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس قول سے بظاہر تو یہی مراد ہے کہ لوگ مذہبی ہو جاتے ہیں، لیکن اچھے نہیں بنتے۔ یہاں توجہ دلانا مقصود ہے کہ ی...

بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں

سیکولر نظام میں خدا کو ماننے کی پوری آزادی ہے، البتہ بندہ بننے پر سخت پابندی ہے محمد دین جوہر - جمعه 05 اگست 2016

سیکولرزم ایک سیاسی نظام کے طور پر دنیا میں عملاً قائم ہے، اور ایک فکر کے طور پر علوم اور ذہن میں جاری ہے۔ یہ ایک کامیاب ترین نظام اور موثر ترین فکر ہے۔ اب سیکولرزم دنیا کا معمول بھی ہے اور عرف بھی۔ عام طور پر یہ سمجھا اور کہا جاتا ہے کہ یہ مذہب کے خلاف ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں، کیونکہ یہ مذہب کو اتنی اہمیت بھی نہیں دیتا کہ اسے اپنے ”خلاف“ قرار دے کر اس کی اہمیت کا اعتراف کرے۔ طاقت اور علم میں سیکولرزم کا غلبہ اتنا مکمل ہے کہ اہل مذہب کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ اور بول...

سیکولر نظام میں خدا کو ماننے کی پوری آزادی ہے، البتہ بندہ بننے پر سخت پابندی ہے

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی! محمد دین جوہر - هفته 30 جولائی 2016

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی! اس قول زریں میں احمد جاوید صاحب نے علم پر مذہبی موقف کو سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ سب سے پہلے اس قول کی تہہ میں کارفرما موقف کو دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گزارش ہے کہ علم کی ایسی تعریف کہیں میسر نہیں ہے، یعنی کہیں بھی میسر نہیں ہے، جس کے مطابق مثلاً فزکس اور وحی کا بیک وقت علم ہونا ثابت ہو جائے۔ اگر اس تعریف کے مطابق فزکس علم ہے تو وحی یقیناً اس تعریف سے خارج ہو گی۔ اور اگر اس تعریف پر وحی علم ہے تو فزکس...

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی!

مناجات وجود - اتوار 06 ستمبر 2015

اونچی لہر بڑھا دیتی ہے دریا کی گہرائی تیرے غیب نے دل کو بخشی روز افزوں بینائی سات سمندر بانٹ نہ پائے موتی کی تنہائی ناپ چکا ہے سارا صحرا میری آبلہ پائی مالک میں ہوں تیرا چاکر مولا! میں مولائی دل ہے میرا گیلا پتھر جمی ہے جس پر کائی (احمد جاوید)

مناجات

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار