... loading ...

شیو سینا دھونس اور دھمکی کی سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ معاملہ پاکستانی کھلاڑیوں، اداکاروں اور گلوکاروں سے آگے نکل کر اب بھارت کے سیاسی رہنماؤں تک پہنچ گیا ہے۔ سوموار کو وسطی ممبئی میں سدھیندر کلکرنی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے جہاں شیو سینا کا سر “فخر ” سے بلند کردیا ہوگا وہیں وہی کالک بھارت کے چہرے پر بھی مل دی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما اور بین الاقوامی پالیسی تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (ORF) کے چیئرپرسن سدھیندر کلکرنی کو اس وقت بدترین غنڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب “Neither a Hawk Nor a Dove” کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ تقریب کے میزبان ہونے کی وجہ انہیں سخت دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا تھا لیکن وہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے اور واقعے کے بعد اسی حال میں، کہ کالک ان کے چہرے اور کپڑوں پر ملی ہوئی تھی، تقریب میں پہنچے۔ اس بدمعاشی کے خلاف اس سے بہتر احتجاج ہو نہیں سکتا تھا۔
کلکرنی کے چہرے کو سیاہ کرکے شیو سینا نے ممبئی کے لبرل حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کی حکومت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ظاہر ہوچکا ہے کہ جب حکومت کے ارادے پختہ ہوں گے، تب ہی وہ مسائل کھڑے کرنے والوں کو لگام دے گی۔
اس افسوسناک واقعے کے باوجود تقریب اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوئی، اور اسی انداز سے جاری رہی، جیسی ہونی چاہیے تھی۔ البتہ پولیس کا پہرہ سخت ترین ہوگیا جو وزیر اعلیٰ کو مزید کسی شرمندگی سے بچانا چاہتی تھی۔ فڑنویس، جو وزارت داخلہ بھی سنبھالتے ہیں، نے حملوں کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا اور کہا کہ “نظریات سے اختلافات کے باوجود جب کوئی اہم غیر ملکی شخصیت یا سفارت آتی ہے اور اجازت کے ساتھ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے تحفظ فراہم کرے۔”
سدھیندر کلکرنی واقعے کے بعد اسی حال میں جنوبی ممبئی میں واقع او آر ایف کے دفتر پہنچے، اور اعلان کیا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کے حوصلے پسند نہیں کیے جا سکتے اور وہ کتاب کے اجراء کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
سابق بھارتی سفارت کاروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ملک کی ساکھ کو ملیا میٹ کررہے ہیں اور ساتھ ہی “نظریہ ہند” کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ وہ سدھیندر کلکرنی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بہت غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “میں اس لیے ممبئی آیا کہ یہ سب کو گود لینے والا شہر ہے، میرے والد نے اپنی قانون کی ڈگری یہیں سے حاصل کی اور میں اس شہر کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ میں شیو سینا کے مظاہرے کے حق کو تسلیم کرتا ہوں جب تک کہ وہ پرامن ہو۔”
دوسری جانب سینئر صحافی دلیپ پڈگونکر نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی حکومت کی بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی علامت ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کمار کیٹکر نے حملے کو شیوسینا کی مایوسی کی علامت قرار دیا ہے “یہ شکست خوردہ شیو سینا کا روایتی انداز ہے، تاکہ وہ سرخیوں میں آئے اور اپنے کارکنوں کو بتائے کہ وہ اپنی پوری بدمعاشی کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور پھر خاموشی کے ساتھ دم دبا کر بھاگ کھڑی ہو۔”
صحافی نکھل واگلے، جو خود بھی شیو سینا کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، نےکلکرنی کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ شیو سینا کی غنڈہ گردی کے سامنے نہیں جھکے۔
واگلے نے کہا کہ “ہم نے 2010ء میں دیکھا کہ شیو سینا نے شاہ رخ خان کی فلم مائی نیم از خان کی نمائش روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ کچھ کر نہ سکے کیونکہ کانگریس-این سی پی حکومت جمی رہی، اور سینماؤں کو کافی سیکورٹی فراہم کی۔”
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیوسینا کے اہم رہنما گجن پٹیل سمیت 6 افراد کو سدھیندر کلکرنی پر حملے کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا ہے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...