وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شام کی صورتحال، روس کے مسلمان منقسم

بدھ 07 اکتوبر 2015 شام کی صورتحال، روس کے مسلمان منقسم

Russian-Muslims

شام کے تنازع میں روس کی براہ راست مداخلت روسی مسلمانوں کو مزید تقسیم کررہی ہے۔ گو کہ روس میں موجود مسلمان کبھی متحد نہیں رہے لیکن تازہ ترین صورتحال نے اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔

روس نے ایک ہفتہ قبل شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بارے میں ماسکو کا دعویٰ ہے کہ وہ دولت اسلامیہ (داعش) اور دیگر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنا رہا ہے جبکہ ترکی اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک کو خطرہ ہے کہ حقیقی ہدف شامی صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار شامی گروہ ہیں۔

2011ء کی مردم شماری کے مطابق روس میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ درحقیقت مسلمانوں کی آبادی 2 کروڑ بنتی ہے یعنی روس کی کل آبادی کا 14 فیصد۔ روسی مسلمانوں کی قیادت 80 مفتی کرتے ہیں لیکن ان کا اثر و رسوخ اور انداز ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔ 7 ہزار میں سے 6 ہزار 400مساجد ایسے مفتیوں کی گرفت میں ہیں جو کم و بیش ریاست کے حق میں ہی ہوتے ہیں۔ وہ شام میں حملے شروع کرنے پر صدر ولادیمر پیوتن کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور مغرب کے اُن الزامات پر بات نہیں کرتے کہ روس کے طیارے اعتدال پسند باغی عناصر کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں لیکن چند مذہبی رہنما ایسے ضرور ہیں جو سوالات اٹھا رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مفتی نافع اللہ عاشروف کہتے ہیں کہ “اس وقت ہمیں معلوم نہیں کہ روسی بم آخر کس پر گررہے ہیں، اس لیے کوئی حتمی رائے تو قائم نہیں کرسکتے لیکن اگر روس کے طیارے داعش کے بجائے محض خانہ جنگی کے ایک فریق کو تہہ تیغ کررہے ہیں تو اس کو درست ثابت نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ داعش ایک ایسی قوت ہے جو شام میں باہر سے داخل ہوئی ہے اور اس کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے لیکن حکومت کے حامی اور مخالف گروہوں کے درمیان خانہ جنگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے یہ سراسر شام کے عوام کا داخلی معاملہ ہے۔

ایک مسلمان کارکن علی چارنسکی کہتے ہیں کہ بشار الاسد شام کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں مشہور ہے۔ تمام مسلمان ایک برادری ہیں، ایک جسم ہیں، اس لیے روس کے مسلمان حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہو سکتے۔ میرے دوستوں اور جاننے والوں میں کوئی مسلمان اس صورتحال سے مطمئن اور خوش نہیں ہے۔

ایک مذہبی کارکن ایرات واخیتوف کا کہنا ہے کہ اختلاف رکھنے کے باوجود حکومت کے خلاف کھلے عام مظاہرے کرنے کا تصور تک نہیں کیونکہ اس کے جواب میں سخت کارروائی کا اندیشہ ہے۔ خود ایرات کو بھی شدت پسندی کے الزام پر روس کے خفیہ ادارے متعدد بار گرفتار کرچکے ہیں، یہاں تک کہ عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور خفیہ ادارے کو معذرت طلب کرنا پڑی۔

روس کے سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈھائی ہزار روسی شہری اس وقت داعش کی جانب سے لڑ رہے ہیں جبکہ ہزاروں ایسے بھی ہیں جو داعش میں شمولیت کے لیے سابق سوویت ریاستوں کا رخ کرچکے ہیں لیکن ایرات کہتے ہیں کہ روسی مسلمانوں میں داعش کے حامی بہت کم ہیں اور یہ تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ ان کے خیال میں روس کے مسلمان نام نہاد دولت اسلامیہ کی حقیقت کو سمجھنا شروع ہوگئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر وجود - جمعرات 15 ستمبر 2016

شام کے صدر بشار الاسد نے امریکا اور روس کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی سے چند گھنٹے پہلے پورے شام کو دوبارہ اپنی سرکار کے زیر نگیں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ قومی ٹیلی وژن نے دکھایا کہ اسد دمشق کے نواحی علاقے داریا کا دورہ کر رہے تھے کہ جو بہت عرصے سے باغیوں کے قبضے میں تھا اور گزشتہ مہینے سرکاری افواج نے اس کو دوبارہ فتح کیا ہے۔ اسی علاقے کی ایک مسجد میں بشار نے نماز عید بھی ادا کی، جس کی تصاویر اس وقت ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہے۔ اپنی تازہ گفتگو میں شامی صدر نے جنگ بندی کے ...

امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر

ترکی کا "دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ" کا اعلان وجود - پیر 29 اگست 2016

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا ہے کہ ترکی اب دہشت گردی کے خلاف کھلی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ جمعے کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے حملے میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ترکی میں دہشت گردی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں گے۔ "کوئی دہشت گرد تنظیم ترکی کو مجبور نہیں کر سکتی۔ ہم نے ان دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔" روزنامہ حریت کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ "جس طرح جنگ آزادی میں بابائے قوم نے کہا تھا "آزادی یا ...

ترکی کا

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے وجود - هفته 27 اگست 2016

شام کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کے ایک روز بعد ترک فوجی دستوں کے منبج شہر کے گرد امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے خلاف حملے جاری ہیں۔ گو کہ ان حملوں کا آغاز جرابلس کے قصبے سے داعش کو نکالنے کے لیے ہوا تھا لیکن ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا بڑا مقصد کردوں کو کچلنا ہے۔ ترک ریاستی حکام نے کرد گروپ 'وائی پی جی' کے اہداف پر گولہ باری کو "انتباہ" قرار دیا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے "صریح جارحیت" ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے رو...

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا وجود - جمعرات 18 اگست 2016

چین بھی شام تنازع میں شامل ہونے کے قریب ہے۔ بیجنگ دمشق کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات کا خواہشمند ہے اور اس بحران میں "اہم کردار ادا کرنا چاہ رہا ہے۔" چینی تربیت کاروں کی جانب سے شامی اہلکاروں کی تربیت پر گفتگو ہو چکی ہے اور اس امر پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ چینی افواج شام کو انسانی امداد فراہم کریں گی۔ یہ انکشاف پیپلز لبریشن آرمی کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے بتائی۔ روس کے سرکاری خبری ادارے "رشیا ٹوڈے" کے مطابق چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن میں دفتر برائے بین الاقوامی عسکری ...

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا وجود - بدھ 17 اگست 2016

روس نے پہلی بار شام میں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے ایران میں موجود فضائی اڑے استعمال کیے ہیں، اور یوں مشرق وسطیٰ کے معاملات میں اپنی مداخلت کو مزید توسیع دے دی ہے۔ تہران کے ساتھ ماسکو کے تعلقات کس نہج تک پہنچ گئے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز روس کے ٹی یو- 22 ایم3 بمبار طیاروں اور سخوئی-34 لڑاکا بمباروں نے ایران کے ہمدان ایئربیس سے اڑان بھری اور پھر شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس...

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا

ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا وجود - هفته 13 اگست 2016

انقرہ اور مغرب کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ترکی نے امریکی ڈالرز سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے کے منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے ترکی کو یاددہانی کے صرف ایک روز بعد کہ وہ اب بھی نیٹو کا رکن ہے، ترک وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے کہا ہے کہ ملک دفاعی صنعت کے تعاون کے لیے نیٹو سے باہر دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتا ہے، البتہ اس کا پہلا انتخاب ہمیشہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون ہوگا۔ یہ بیان و فوری تردید اسی روز سامنے آئی ہے جب ترکی نے کہا کہ وہ شام میں...

ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا

عراق و شام فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹوٹ سکتے ہیں، حزب اللہ وجود - جمعه 05 اگست 2016

لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ عراق اور شام کی تقسیم خطے میں جاری فرقہ وارانہ جنگ کا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے اور نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات تک شام میں جنگ کے خاتمے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے نائب رہنما شیخ نعیم قاسم نے کہا ہےکہ حزب اللہ، ایران اور روس آخر تک بشار الاسد کے ساتھ رہیں گے۔ ان کے دستے مغربی و علاقائی طاقتوں کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے خلاف صدر بشار کی دامے، درمے، سخنے حمایت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے خبر رساں ادارے "رائٹرز"...

عراق و شام فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹوٹ سکتے ہیں، حزب اللہ

بشار کو قتل کردیں گے، ہلیری کا وعدہ وجود - پیر 01 اگست 2016

ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر وہ امریکا کی صدر منتخب ہوگئیں تو شام پر حملہ کرکے صدر بشار الاسد کو قتل کردیں گی۔ کلنٹن کے سیاسی مشیر نے تصدیق کی ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ہلیری کی اولین ترجیحات میں سے ایک شام پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا جس میں بشار پر حملہ اور حکومت کی تبدیلی سرفہرست ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کے نائب اور پینٹاگون کے سابق چیف آف اسٹاف جیریمی بیش کا کہنا ہے کہ بشار ایک "قاتل حکومت" ہے اور امریکی خارجہ پالیسی داعش اور ان کے خلاف جنگ کرے گی اور یہ...

بشار کو قتل کردیں گے، ہلیری کا وعدہ

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کو روس نے ہیک کیا، ایف بی آئی کا شبہ وجود - منگل 26 جولائی 2016

امریکی ایف بی آئی کو شبہ ہے کہ روس کے سرکاری حمایت یافتہ ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے نیٹ ورکس میں دال ہو کر ای میلز چرائی ہیں جو جمعے کو وکی لیکس پر پیش کی گئیں۔ یہ وہ آپریشن تھا جس کے بارے میں متعدد امریکی حکام اب سمجھتے ہیں کہ صدارتی انتخابات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں جھکانے کا ایک قدم ہے۔ یہ نظریہ کہ ماسکو ڈونلڈ ٹرمپ کو مدد دینے کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہا ہے جو بارہا روسی صدر ولادیمر پوتن کو سراہ چکے ہیں اور نیٹو کے خاتمے کا بھی کہہ چکے ہیں، اوباما انتظامیہ میں بہت...

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کو روس نے ہیک کیا، ایف بی آئی کا شبہ

روس کے طیاروں کی شام میں امریکی خفیہ اڈے پر بمباری وجود - اتوار 24 جولائی 2016

روس کے بمبار طیارے شام میں خاص امریکی و برطانوی خفیہ دستوں کی جانب سے استعمال کردہ ایئربیس پر حملے کر رہے ہیں۔ سی آئی اے کے اس خفیہ اڈے پر روس کے حملے اس مہم کا حصہ ہیں جو امریکا کو شام میں داعش کی مدد سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دے رہی ہے کہ روس کسی بھی ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان حملوں میں چند اہلکار بھی مارے گئے ہوں لیکن ا روس اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کوئی گرمی نہیں دکھائی دیتی۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہ...

روس کے طیاروں کی شام میں امریکی خفیہ اڈے پر بمباری

شام، داعش نے امریکی ہتھیار سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا وجود - اتوار 10 جولائی 2016

داعش کے جنگجوؤں نے شام میں ایک روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، جس میں موجود تمام روسی فوجی مارے گئے ہیں لیکن ذرا ذہن پر زور ڈالیں کہ یہ "کارنامہ" امریکی ساختہ ہتھیاروں سے انجام دیا گیا۔ یہ روسی ہیلی کاپٹر تدمر شہر پر پرواز کر رہا تھا اور اس کی تباہی کی تصدیق خود روسی وزارت دفاع نے کی ہے جس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایئر بیس کی جانب واپسی پر ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ یہ واقعہ 8 جولائی کو پیش آیا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق دو روسی پائلٹ ایوگنی...

شام، داعش نے امریکی ہتھیار سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا

طیب اردوغان نے معافی مانگ لی: روس کا دعویٰ وجود - منگل 28 جون 2016

روس نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن سے رابطہ کرکے اس واقعے پر معذرت طلب کرلی ہے جس میں ترک افواج نے شامی سرحد پر ایک روسی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس حرکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد روس کے صدر ولادیمر پوتن نے بارہا ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس پر معافی مانگے اور اب یہ تازہ ترین قدم انقرہ کے ساتھ تعلقات کے خاتمے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ "ترک سربر...

طیب اردوغان نے معافی مانگ لی: روس کا دعویٰ