وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کابل میں علاقائی اقتصادی کانفرنس اختتام پذیر؛ سرتاج عزیز کی شرکت

بدھ 09 ستمبر 2015 کابل میں علاقائی اقتصادی کانفرنس اختتام پذیر؛ سرتاج عزیز کی شرکت

RECCA-VI

افغان دارالحکومت کابل میں علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس ختم ہوگئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے مشیر برائےامور سلامتی سرتاج عزیز نے شرکت کی۔ افغان حکومت کی جانب سے بلائی گئی اس دو روزہ کانفرنس کا مقصد علاقے میں اقتصادی ترقی و فروغ کے امکانات کا جائزہ لینا اور اس ضمن میں علاقائی ممالک کا کردار اجاگر کرنا تھا۔ RECCA-6 نامی اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی سرتاج عزیز نے کی۔ موصوف نے افغانستان کے امن و ترقی کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر بحث کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا ساتھ دیا ہے اور مستقبل میں بھی دیتا رہیگا۔ ” افغانستان؛ شاہراہ ابریشم پر” نامی سیشن سے خطاب کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان اپنے محل وقوع کا بھرپور فائدہ اٹھاۓ اور وہ خطے میں ایک بار پھر معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جاۓ تا ہم انہوں نے کہا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے افغانستان میں قیام امن بہت ضروری ہے جس کے لیے علاقے کے تمام ممالک کو ملکر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ارومچی اور مری میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ریکارڈ پر ہیں۔

سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کے عمل میں بھی پاکستان کسی ملک سے پیچھے نہیں رہا ہے ہاس ضمن میں پاکستان نے کابل؛ جلال آباد؛ قندہار میں اسکولوں؛ کالجوں؛ یونیورسٹیوں؛ ہسپتالوں سمیت سڑکوں کے کئ اہم منصوبے پایہء تکمیل تک پہنچاۓ ہیں جبکہ طورخم جلال آباد روڈ کی تعمیر پر جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پشاور کابل موٹروے کی فزیبلٹی پر کام کر رہاہے نیز دریاۓ کنڑ پر ہائیڈروپاور کے ایک بڑے منصوبے کے بارے میں بھی افغان حکومت سے مذاکرات جاری ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں وجود - جمعه 28 اکتوبر 2016

افغان نیشنل آرمی کے کمانڈرز اور ارکان پارلیمنٹ طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کو پرتعیش گاڑیوں میں بٹھاکر ان کے مطلوبہ مقام تک پہنچاتے ہیں موجودہ افغان حکومت کے ساتھ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ ہواتھا،جس سے پاکستان کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوسکاٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی دنیا اب روز بروز سکڑتی جارہی ہے اور جوں جوں دنیا سکڑ رہی ہے قوموں کے معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردار بھی بڑھتا جارہاہے، جس کا اندازہ برطانیہ،امریکا، جرمنی، فرانس ...

بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں

سانحہ کوئٹہ:"را" اورافغان خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی، کَڑیاں ملنے لگیں وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

کوئٹہ پولیس ٹریننگ مرکز پر حملے کی نگرانی افغانستان سے کی گئی، مقامی نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا حساس اداروں نے تفصیلات جمع کرنا شروع کردیں ، افغانستان سے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے  بھاری ہتھیاروں  کے ساتھ کوئٹہ پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے خود کش  حملے کے سراغ ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع نے جرات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارسی بولنے والے حملہ آوروں کی تمام گفتگو کا ریکارڈ حسا س اداروں کے پاس موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مستقل ...

سانحہ کوئٹہ:

علاقائی تجارتی رابطے اور ہم ! رضوان رضی - هفته 10 ستمبر 2016

دو دن قبل ہی چین سے افغانستان کو چلنے والی پہلی مال گاڑی تاجکستان اور ازبکستان کے راستوں سے ہوتی ہوئی افغان صوبہ مزار شریف کے سرحدی گاؤں حیراتان کی خشک بندرگاہ پرپہنچی ہے ۔ یہ مال گاڑی کوئی پندرہ روز قبل چین سے روانہ ہوئی تھی۔ دونوں ممالک اس کو ایک اہم تاریخی سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ کل ہی بھارتیوں کے زیر انتظام افغان فوج کے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ،ٹویٹر کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ ایران کاافغانستان کے سرحد ی گاؤں ’خاف ‘ تک ریلوے لائن بچھانے کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ...

علاقائی تجارتی رابطے اور ہم !

افغان یونیورسٹی حملہ: افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات غلط نکلے! وجود - جمعه 26 اگست 2016

کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملے میں پاکستان پر منصوبہ بندی کے افغان حکام کے الزامات غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ افغان حکام کی طرف سے جن سمز پر رابطوں کا الزام عائد کیا گیا تھا ، وہ افغان نیٹ ورک کا ہی حصہ نکلیں ، جب کہ اس کے تیکنیکی جائزے میں بھی حقائق افغان حکام کے الزامات کے برعکس نکلے۔ تفصیلات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر دارالحکومت کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا۔افغان صدر اشرف غنی کے زیر صدارت نیشنل سیکیور...

افغان یونیورسٹی حملہ: افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات غلط نکلے!

پاک افغان سرحدی حکام کی فلیگ میٹنگ بے نتیجہ، باب دوستی کھل نہیں سکا! وجود - اتوار 21 اگست 2016

پاک افغان سیکورٹی حکام کے درمیان چمن سرحد پر "باب دوستی "دوبارہ کھولنے کے حوالے سے فلیگ میٹنگ بے نتیجہ ختم ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ اجلاس خود افغان حکام کی جانب سےدرخواست پر بلایاگیا تھا مگر اس کے باوجود افغان حکام نے اپنے سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اپنا موقف سخت رکھا۔ تاہم اس اجلاس میں غیر محفوظ سرحد سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے دوروز قبل افغان مظاہرین کی جانب سے مودی کے بلوچستان کے متعلق بیان کی حمایت کرتے ہو...

پاک افغان سرحدی حکام کی فلیگ میٹنگ بے نتیجہ، باب دوستی کھل نہیں سکا!

افغانستان میں پاک-بھارت پراکسی جنگ، امریکا بھارت کے شانہ بشانہ وجود - پیر 15 اگست 2016

اس ہفتے کی اہم لیکن ایسی خبر جسے نظر انداز کردیا گیا، افغانستان میں موجود امریکی کمان سے بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغان فوج کے لیے فوجی امداد میں اضافہ کرے۔ بھارت نے دسمبر 2015ء میں افغانستان کو چار جنگی ہیلی کاپٹر دیے تھے، اب امریکی اور افغان حکام چاہتے ہیں کہ انہیں مزید بھی دیے جائیں اور ساتھ ہی روسی ساختہ دفاعی سامان کے فاضل پرزہ جات بھی تاکہ انہیں پاکستان کے حامی عناصر کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس خبر کا ایک، ایک پہلو اس "پراکسی جنگ" کو ظاہر کرتا ہے جو اب بھی افغان سرزمین ...

افغانستان میں پاک-بھارت پراکسی جنگ، امریکا بھارت کے شانہ بشانہ

افغان طالبان نے پاکستانی ہیلی کاپٹر کا عملہ رہا کردیا، افغان حکومت غیر متعلق ثابت! وجود - اتوار 14 اگست 2016

افغانستان میں کریش لینڈنگ کرنے والے پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کے عملے کو افغان طالبان کی جانب سے رہا کیے جانے کے بعد پاکستان پہنچا دیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار چھ افراد کے عملے کو قبائل کے درمیان معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔رہا ہونے والے عملے میں کیپٹن صفدر حسین (چیف پائلٹ)، کیپٹن صفدر اشرف، کیپٹن محمد شفیق الرحمٰن (فرسٹ آفیسر)، ناصر محمود (فلائٹ انجینئر)، محمد کوثر (کریو چیف) اور روسی شہری سرگئی سیواتیانو (نیوی گیٹ...

افغان طالبان نے پاکستانی ہیلی کاپٹر کا عملہ رہا کردیا، افغان حکومت غیر متعلق ثابت!

قندھار میں پاکستانی کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد وجود - اتوار 07 اگست 2016

افغانستان کے ایک سینئر پولیس عہدیدار نے، جنہیں ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے، صوبہ قندھار میں پاکستانی کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبد الرازق نے کہا کہ کاروباری سودوں میں پاکستانی روپے کے استعمال کو جرم قرار دے دیا ہے لیکن اس "جرم" کی سزا کیا ہوگی،اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ پاکستانی روپیہ افغانستان کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں عام استعمال ہوتا ہے، جو پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔ ایرانی کرنسی مغربی سرحدی صو...

قندھار میں پاکستانی کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد

افغانستان میں پاکستانی ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ، سات سوار یرغمال وجود - جمعه 05 اگست 2016

افغان صوبے لوگر میں پاکستانی ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کی ہنگامی لینڈنگ کا فائدہ اُٹھا کر وہاں موجود طالبان نے ہیلی کاپٹر میں سوار 7 افراد کو یرغمال بنا لیا۔جن میں ایک روسی اور چھ پاکستانی شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر اپنی پروازکی مدت مکمل کر چکا تھا۔ اور اس کی مرمت کے لیے 27 کروڑ 52 لاکھ روپے مختص کیے گیے تھے۔ چنانچہ ایم آئی 17 نے بغرض مرمت ازبکستان کے لیے 8 بج کر 45 منٹ پرپشاور سے اڑان بھری تھی۔ ازبکستان کے لیے افغانستان سے فضائی راہداری کی اجا...

افغانستان میں پاکستانی ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ، سات سوار یرغمال

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کا کوئی ارادہ نہیں، افغانستان کے نخرے وجود - جمعه 15 جولائی 2016

افغانستان نے کہا ہےکہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اسے پاکستان کی "نیم دلانہ کوشش" پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان خلیج کتنی وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بارہا اسلام آباد پر الزام لگایا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کر رہا ہے، حالانکہ اس کی بارہا پاکستان کی جانب سے تردید کی گئی ہے۔اب صدارتی ترجمان ہارون چخانسوری نے کہا ہے کہ افغانستان، پاکستان، چین و امریکاکا چار ملکی گروپ دوبارہ جلد ملاقات...

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کا کوئی ارادہ نہیں، افغانستان کے نخرے

افغانستان میں ہاری جنگ اسلام آباد میں جیتنے کی کوشش محمد انیس الرحمٰن - بدھ 13 جولائی 2016

امریکی سینیٹر جان مکین کی اسلام آباد آمد سے ایک روز قبل وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا بھارتی جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے بیان خاصا معنی خیز ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہوا ہے جب امریکی سینیٹر جان مکین ’’ڈو مور‘‘ کی لمبی لسٹ ساتھ لائے جو یقینی بات ہے افغانستان کے حوالے سے ہیں۔سرتاج عزیز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی دفاعی حکمت عملی کے پیش نظر پاکستان شارٹ رینج کے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری انہیں ترقی دینے کے عمل کو رول بیک کرنے ...

افغانستان میں ہاری جنگ اسلام آباد میں جیتنے کی کوشش

امریکی وفد کا چار روزہ دورہ پاکستان: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کردار کی تعریف وجود - پیر 04 جولائی 2016

پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے امریکی وفد کے سربراہ جان مکین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کردار کی تعریف کرتے ہوئےشمالی وزیرستان اور اس کے اطراف کے علاقوں کی سلامتی کی صورت حال کو اطمینا ن بخش قرار دیا ہے۔امریکی سینیٹر جان مک کین نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔جان مکین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے دورہ پاکستان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائ...

امریکی وفد کا چار روزہ دورہ پاکستان: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  پاکستان کردار کی تعریف