وجود

... loading ...

وجود

امریکہ ایران مفاہمت اورپاکستان

جمعرات 18 جون 2026 امریکہ ایران مفاہمت اورپاکستان

حمیداللہ بھٹی

امریکیوں کاخیال ہے کہ وہ کیونکہ دنیا سے زیادہ ذہین ہیں ،لہٰذا دنیا کو بے وقوفیوں سے روکنابھی اُن کی ذمہ داری ہے، مگر حالات وواقعات سے اِس خیال کی تائید نہیں ہوتی کہ وہ ذہانت میں دنیا سے آگے ہیں۔ سب سے زیادہ طاقتورہونے کے امریکی دعوے کو ایران جنگ سے جو دھچکالگاہے وہ بہت سخت ہے، جس کے نتائج ہمہ گیرہیں اور اپنایہ نقصان امریکہ نے اسرائیل کوخوش کرنے کے لیے بخوشی کرایاہے ۔چینی رسوخ دنیا کو اپنی طرف مائل کرچکا ، اُس کی معیشت اول نمبر پرہے ۔جنگ لڑے بغیر اُس کی عسکری طاقت دنیاتسلیم کرچکی مگروہ کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہا،لیکن امریکہ نے جنگوں میں الجھ کرناکامیوں کابوجھ اُٹھارکھاہے۔ ایران جنگ کے اختتام کاسبق یہ ہے کہ ہمیشہ اسرائیل اول ترجیح کاخیال بھی تبدیلی کے مراحل میںہے ۔
امریکہ وایران مفاہمت نامے پر الیکٹرانک دستخط سے حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہوچکی ۔اِس کا خطے کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے سے تیل کی تجارت کادوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ اب نہ صرف تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ دنیا میں بڑھتی مہنگائی کی لہرپربھی قابوپایاجاسکے گا اور معاشی دبائو میں کمی آئے گی لیکن جمعہ کوجنیوامیں ہونے والی باضابطہ تقریب تک تمام فریقین کو محتاط رہنا ہو گا کیونکہ اسرائیل کو امن معاہدے سے تحفظات ہیں ۔وہ چاہتا ہے پہلے ایران جوہری ومیزائل پروگرام کو محدودکرنے کی یقین دہانی کرائے ،حماس،حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی سرپرستی ترک کرے، تب کوئی معاہدہ کیاجائے۔ لبنان میں جاری اسرائیلی کاروائیوں سے جوتاثرملتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایران معاہدے سے تل ابیب ناخوش ہے اوراِسے اپنے مفاد کے منافی تصور کرتا ہے۔ انتہائی دائیں بازوکے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر نے توامریکہ وایران معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ ٹرمپ معاہدے کے ہم پابندنہیں، کیونکہ ہم اِس میں بطور فریق شامل نہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ لہٰذاحزب اللہ کے مکمل طورپر خاتمے تک مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ زمین کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیلی افواج غزہ،لبنان اور شام میں جب تک ضروری ہوا رہیں گی ۔اِن حالات میںانہونی ہوسکتی ہے عین ممکن ہے زیادہ سخت ردِ عمل کی صورت میں امریکی مقتدرہ اسرائیل سے فاصلہ کرلے مگر ایسا کرنا آسان نہیں۔ امریکی اگر دنیا سے زیادہ ذہین ہونے کے دعوے دارہیں تو ذہانت سے امن کی ایسی راہ تلاش کرسکتے ہیں جو اسرائیل کو چاہے پسند نہ ہو۔
عالمی رائے عامہ کی سخت مخالفت اور ایرانی ردِ عمل نے امریکہ کو مجبورکیا کہ جنگ چھوڑکر امن کی طرف آئے، یوں مفاہمتی کوششوں کو تقویت ملی ،یہ مکالمے کی طاقت ہے جو دومتحارب فریقین کوافہام و تفہیم کی راہ تک لے آئی ہے جس میں پاکستان کا غیر معمولی اور کلیدی کردار ہے۔ مفاہمت کے بعد اگر حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو خطے کے ساتھ عالمی معاشی استحکام آئے گا جس کے ثمرات پاکستان کوبھی حاصل ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ آنے والی کمی ایک ایسی پیش رفت ہے جو بہت مثبت ہے۔ اسی لیے اقوامِ عالم مفاہمت پر خوش ہیں اور اِس عمل کوجاری رکھنے کی خواہشمند ہیں۔یہ معاہدہ ایران کے لیے بھی ترقی کا نُکتہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ نہ صرف منجمد اثاثے واپس ملنے کی راہ ہموارہوگی بلکہ عالمی پابندیوں کے خاتمے سے جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی حاصل ہو سکے گی ۔نیز تیل کی آزادانہ تجارت سے آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگاجو معاشی دبائو سے نکلنے میں مدد گارہوگا ،جس کے ثمرات ایرانی عوام کو حاصل ہوں گے اور جوسیاسی استحکام کاباعث بنے گا ۔
وقت آگیاہے کہ اپنی بقاکوہمیشہ حالتِ جنگ میں سمجھنے والے اسرائیل اور اُس کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو حکمتِ عملی تبدیل کریںکیونکہ امن معاہدے سے اسرائیل کو الگ رکھنے سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیلی رسوخ ماضی سے کم ہوچکا اور امریکی حکام اب اسرائیل کے سوا بھی کچھ دیکھ سکتے ہیں مستقبل میں شاید ہی کوئی امریکی صدر اسرائیلی ایما پر ایران کے خلاف کارروائی پر رضا مند ہو۔ نیتن یاہو جو بدعنوانی کے الزامات سے بچنے کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرتے رہے، مفاہمتی معاہدہ اُن کے اقتدار کوانجام کی طرف دھکیل سکتاہے ۔اب تک کے جائزوں کے مطابق اکثریتی اسرائیلی رائے عامہ نیتن یاہوکے خلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو محفوظ سے غیر محفوظ ملک بنا دیاہے۔ تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ رواں برس اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں جس کے بعد یاہو یا تو جیل ہوں گے یا پھر سیاست سے الگ ۔ ایران سے جنگ میں رجیم تبدیلی تو نہیں ہو سکی، البتہ یاہوکا سیاسی خاتمہ ہوگیا ہے ۔پہلی بار اسرائیل اور امریکہ کی سوچ میں تضاد نظرآنے لگاہے ۔ناپسندیدگی کے باوجود امریکہ و ایران مفاہمت اِس امر کی دلیل ہے ۔
اسلام آباد آنے کو بے قرار صدرٹرمپ کا معاہدے کے لیے جنیواجانا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ یہ فیصلہ غیر متوقع ہونے کی بناپر اِس لیے حیران کُن ہے کہ باربار تعطل کے باوجود ایرانی قیادت کومذاکرات کے لیے رضامند کرنے میں پاکستان کاکردار عیاں ہے۔ اِس میں کسی حدتک قطر،ترکیہ،سعودی عرب اور مصر نے بھی معاونت کی لیکن پاکستان کی کوششیں سفارتی اور حکومتی سطح تک وسیع تھیں۔ اِس کے باوجود معاہدے پر جنیوا کے انتخاب پر تعجب ہے، اِس بارے میں عام قیاس یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایران پر بھارتی دبائو کانتیجہ ہے ۔بھارت نہیں چاہتا کہ اسلام آباد عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے اور دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہو۔
جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تودونوں ممالک میں ازسرنوشراکت داری پر اتفاق کیاگیا ۔معاہدہ پاکستان کے بجائے کہیں اور کرنے کی تجویز کیونکہ ایران کی طرف سے آئی وگرنہ قطرکے ذریعے اسلام آباد کی بجائے جنیوا میں معاہدہ کرنے کامطالبہ نہ ہوتا۔ اب بھی جواز یہ پیش کیاگیاہے کہ امریکہ و ایران میں کیونکہ پہلے بھی جنیوا میں مذاکرات ہو چکے اِس لیے دستخط کی تقریب یہاں ہونی چاہیے۔ ایرانی خواہش پر ہی امریکہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے جنیوا کوتقریب کا میزبان شہر بنانے پر رضامند ہواجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے اخلاص کے باوجود آج بھی ایرانی جھکائو بھارت کی طرف ہے ۔لہٰذاہمیں زیادہ توقعات کے بجائے حالات و واقعات اور ملکی مفاد کومدنظررکھ کر چلناہوگا کیونکہ یکطرفہ اخلاص کے نتائج ماضی میں بھی اچھے نہیں رہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر