... loading ...
حمیداللہ بھٹی
امریکیوں کاخیال ہے کہ وہ کیونکہ دنیا سے زیادہ ذہین ہیں ،لہٰذا دنیا کو بے وقوفیوں سے روکنابھی اُن کی ذمہ داری ہے، مگر حالات وواقعات سے اِس خیال کی تائید نہیں ہوتی کہ وہ ذہانت میں دنیا سے آگے ہیں۔ سب سے زیادہ طاقتورہونے کے امریکی دعوے کو ایران جنگ سے جو دھچکالگاہے وہ بہت سخت ہے، جس کے نتائج ہمہ گیرہیں اور اپنایہ نقصان امریکہ نے اسرائیل کوخوش کرنے کے لیے بخوشی کرایاہے ۔چینی رسوخ دنیا کو اپنی طرف مائل کرچکا ، اُس کی معیشت اول نمبر پرہے ۔جنگ لڑے بغیر اُس کی عسکری طاقت دنیاتسلیم کرچکی مگروہ کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہا،لیکن امریکہ نے جنگوں میں الجھ کرناکامیوں کابوجھ اُٹھارکھاہے۔ ایران جنگ کے اختتام کاسبق یہ ہے کہ ہمیشہ اسرائیل اول ترجیح کاخیال بھی تبدیلی کے مراحل میںہے ۔
امریکہ وایران مفاہمت نامے پر الیکٹرانک دستخط سے حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہوچکی ۔اِس کا خطے کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے سے تیل کی تجارت کادوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ اب نہ صرف تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ دنیا میں بڑھتی مہنگائی کی لہرپربھی قابوپایاجاسکے گا اور معاشی دبائو میں کمی آئے گی لیکن جمعہ کوجنیوامیں ہونے والی باضابطہ تقریب تک تمام فریقین کو محتاط رہنا ہو گا کیونکہ اسرائیل کو امن معاہدے سے تحفظات ہیں ۔وہ چاہتا ہے پہلے ایران جوہری ومیزائل پروگرام کو محدودکرنے کی یقین دہانی کرائے ،حماس،حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی سرپرستی ترک کرے، تب کوئی معاہدہ کیاجائے۔ لبنان میں جاری اسرائیلی کاروائیوں سے جوتاثرملتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایران معاہدے سے تل ابیب ناخوش ہے اوراِسے اپنے مفاد کے منافی تصور کرتا ہے۔ انتہائی دائیں بازوکے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر نے توامریکہ وایران معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ ٹرمپ معاہدے کے ہم پابندنہیں، کیونکہ ہم اِس میں بطور فریق شامل نہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ لہٰذاحزب اللہ کے مکمل طورپر خاتمے تک مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ زمین کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیلی افواج غزہ،لبنان اور شام میں جب تک ضروری ہوا رہیں گی ۔اِن حالات میںانہونی ہوسکتی ہے عین ممکن ہے زیادہ سخت ردِ عمل کی صورت میں امریکی مقتدرہ اسرائیل سے فاصلہ کرلے مگر ایسا کرنا آسان نہیں۔ امریکی اگر دنیا سے زیادہ ذہین ہونے کے دعوے دارہیں تو ذہانت سے امن کی ایسی راہ تلاش کرسکتے ہیں جو اسرائیل کو چاہے پسند نہ ہو۔
عالمی رائے عامہ کی سخت مخالفت اور ایرانی ردِ عمل نے امریکہ کو مجبورکیا کہ جنگ چھوڑکر امن کی طرف آئے، یوں مفاہمتی کوششوں کو تقویت ملی ،یہ مکالمے کی طاقت ہے جو دومتحارب فریقین کوافہام و تفہیم کی راہ تک لے آئی ہے جس میں پاکستان کا غیر معمولی اور کلیدی کردار ہے۔ مفاہمت کے بعد اگر حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو خطے کے ساتھ عالمی معاشی استحکام آئے گا جس کے ثمرات پاکستان کوبھی حاصل ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ آنے والی کمی ایک ایسی پیش رفت ہے جو بہت مثبت ہے۔ اسی لیے اقوامِ عالم مفاہمت پر خوش ہیں اور اِس عمل کوجاری رکھنے کی خواہشمند ہیں۔یہ معاہدہ ایران کے لیے بھی ترقی کا نُکتہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ نہ صرف منجمد اثاثے واپس ملنے کی راہ ہموارہوگی بلکہ عالمی پابندیوں کے خاتمے سے جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی حاصل ہو سکے گی ۔نیز تیل کی آزادانہ تجارت سے آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگاجو معاشی دبائو سے نکلنے میں مدد گارہوگا ،جس کے ثمرات ایرانی عوام کو حاصل ہوں گے اور جوسیاسی استحکام کاباعث بنے گا ۔
وقت آگیاہے کہ اپنی بقاکوہمیشہ حالتِ جنگ میں سمجھنے والے اسرائیل اور اُس کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو حکمتِ عملی تبدیل کریںکیونکہ امن معاہدے سے اسرائیل کو الگ رکھنے سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیلی رسوخ ماضی سے کم ہوچکا اور امریکی حکام اب اسرائیل کے سوا بھی کچھ دیکھ سکتے ہیں مستقبل میں شاید ہی کوئی امریکی صدر اسرائیلی ایما پر ایران کے خلاف کارروائی پر رضا مند ہو۔ نیتن یاہو جو بدعنوانی کے الزامات سے بچنے کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرتے رہے، مفاہمتی معاہدہ اُن کے اقتدار کوانجام کی طرف دھکیل سکتاہے ۔اب تک کے جائزوں کے مطابق اکثریتی اسرائیلی رائے عامہ نیتن یاہوکے خلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو محفوظ سے غیر محفوظ ملک بنا دیاہے۔ تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ رواں برس اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں جس کے بعد یاہو یا تو جیل ہوں گے یا پھر سیاست سے الگ ۔ ایران سے جنگ میں رجیم تبدیلی تو نہیں ہو سکی، البتہ یاہوکا سیاسی خاتمہ ہوگیا ہے ۔پہلی بار اسرائیل اور امریکہ کی سوچ میں تضاد نظرآنے لگاہے ۔ناپسندیدگی کے باوجود امریکہ و ایران مفاہمت اِس امر کی دلیل ہے ۔
اسلام آباد آنے کو بے قرار صدرٹرمپ کا معاہدے کے لیے جنیواجانا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ یہ فیصلہ غیر متوقع ہونے کی بناپر اِس لیے حیران کُن ہے کہ باربار تعطل کے باوجود ایرانی قیادت کومذاکرات کے لیے رضامند کرنے میں پاکستان کاکردار عیاں ہے۔ اِس میں کسی حدتک قطر،ترکیہ،سعودی عرب اور مصر نے بھی معاونت کی لیکن پاکستان کی کوششیں سفارتی اور حکومتی سطح تک وسیع تھیں۔ اِس کے باوجود معاہدے پر جنیوا کے انتخاب پر تعجب ہے، اِس بارے میں عام قیاس یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایران پر بھارتی دبائو کانتیجہ ہے ۔بھارت نہیں چاہتا کہ اسلام آباد عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے اور دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہو۔
جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تودونوں ممالک میں ازسرنوشراکت داری پر اتفاق کیاگیا ۔معاہدہ پاکستان کے بجائے کہیں اور کرنے کی تجویز کیونکہ ایران کی طرف سے آئی وگرنہ قطرکے ذریعے اسلام آباد کی بجائے جنیوا میں معاہدہ کرنے کامطالبہ نہ ہوتا۔ اب بھی جواز یہ پیش کیاگیاہے کہ امریکہ و ایران میں کیونکہ پہلے بھی جنیوا میں مذاکرات ہو چکے اِس لیے دستخط کی تقریب یہاں ہونی چاہیے۔ ایرانی خواہش پر ہی امریکہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے جنیوا کوتقریب کا میزبان شہر بنانے پر رضامند ہواجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے اخلاص کے باوجود آج بھی ایرانی جھکائو بھارت کی طرف ہے ۔لہٰذاہمیں زیادہ توقعات کے بجائے حالات و واقعات اور ملکی مفاد کومدنظررکھ کر چلناہوگا کیونکہ یکطرفہ اخلاص کے نتائج ماضی میں بھی اچھے نہیں رہے۔
٭٭٭