وجود

... loading ...

وجود

بھارتی نوجوانوں کی گودی میڈیا کے خلاف مہم

جمعرات 18 جون 2026 بھارتی نوجوانوں کی گودی میڈیا کے خلاف مہم

ریاض احمدچودھری

مودی حکومت کا ساتھ دینے کیلئے بھارتی میڈیا بھی جین زی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے خلاف ہو گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے منشور میں مختلف اداروں سمیت بھارت کے میڈیا کو بھی نشانہ بنایا۔ سی جے پی نے اڈانی اور امبانی کے میڈیا گروپس کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جین زی تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے بھارتی میڈیا گروپس سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔بھارتی صحافی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا ہمیں دہشت گرد ہی کہتا رہے گا تو پھر ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بھارت میں پچھلے 12 سال سے مودی حکومت پر سوال کرنے والوں کو میڈیا ملک دشمن کہتا رہا ہے۔جین زی تحریک کے مشہور ہونے کے بعد مودی حکومت نے سی جے پی کا ایکس اکاونٹ بھی بند کردیا۔
بھارتی گودی میڈیا مسائل سے توجہ ہٹا کرجھوٹ اورپراپیگنڈے کی مشین بن چکا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران نوجوانوں نے گودی میڈیا کی قلعی کھول دی۔ بھارتی نوجوانوں نے بھارتی گودی میڈیا کو دلال اور چورقراردیدیا ۔ نوجوانوں نے گودی میڈیا کوآئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اتنا دلال میڈیا پوری دنیا میں نہیں ہے جتنا بھارت میں گودی میڈیا ہے۔ گودی میڈیا صرف مودی کی تشہیر اوراس کو بہتر دکھانے کیلئے ساری کوششیں کرتا ہے۔ گودی میڈیا بی جے پی حکومت کے پیسوں پرچلنے والا میڈیا ہے جس کاعوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابجیت دیپکے نے کہا کہ نوجوانوں کے بھرپورمطالبہ پرمیں نے گودی میڈیا پرنہ جانے کا وعدہ کیا ہے۔گودی میڈیا کو صرف سنسنی خیزی اور شرانگیزی سے مطلب ہے اوروہ نوجوانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔بھارتی حکومت کی جانب سے نوجوانوں اور طلبہ سے متعلق حالیہ اقدامات عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے ان اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک بین الاقوامی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے بعض نوجوانوں کی تنظیموں اور سرگرمیوں کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے سخت اقدامات کیے، جس کے بعد اس معاملے پر عالمی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔
بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی بھارت میں طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں اور طلبہ کی سرگرمیوں پر پابندیوں اور قدغنوں سے متعلق اقدامات نے بھارت میں جمہوری اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی تنوع کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔رپورٹ میں ناروے کے دورے کے دوران بھارتی قیادت اور صحافیوں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر میڈیا آزادی اور صحافتی حقوق کے موضوع پر مزید سوالات اٹھائے گئے۔عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کے مسائل، روزگار، تعلیم اور سماجی توقعات سے نمٹنا حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور ان شعبوں میں مثر پالیسی سازی ہی پائیدار استحکام کی ضامن ہو سکتی ہے۔ بھارت میں نوجوانوں سے متعلق حالیہ پیش رفت نے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
مودی حکومت کی جانب سے بھارتی نوجوانوں کو شدید معاشی مشکلات، بلند شرحِ بے روزگاری، اور سیاسی پابندیوں کا سامنا ہے۔ طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں اور احتجاجی تحریکوں کو دبانے کے لیے حکومتی اقدامات اور گودی میڈیا کا کردار شدید تنقید کی زد میں ہے۔مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری کا شکار ہے، جس نے انہیں شدید مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جامعات اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور جمہوری اقدار و آزادی اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حقوقِ نوجوانان اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اٹھنے والی احتجاجی آوازوں کو سختی سے کچلا جاتا ہے اور انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مودی حکومت کی ناکامیوں اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی میڈیا کو بطورِ آلہ کار استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان گودی میڈیا سے بھی سخت نالاں ہیں۔
بھارت میں نریندر مودی کے اقتدارمیں رہنے کے جنون نے ملک کی معیشت اور عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی معیشت بکھر چکی ہے، کرنسی کی قدر میں کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔مودی حکومت ذاتی مفاد کے لیے الیکشن کمیشن جیسے اداروں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ میڈیا پر دباؤ نے بھی مودی اور امیت شاہ کے اقتدار میں برقرار رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت ایک ایسے نظام کے تحت کام کر رہا ہے جہاں اشرافیہ کا ایک چھوٹا طبقہ حکمرانوں کو سہارا دے رہا ہے۔ مودی نے ووٹ بٹورنے کیلئے ہندؤں میں یہ خوف پیدا کیا ہے کہ مسلمان ان پر حکمرانی کرنا شروع کر دیں گے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر