وجود

... loading ...

وجود

نعرے نہیں ۔۔۔ کردار

جمعرات 18 جون 2026 نعرے نہیں ۔۔۔ کردار

بے لگام / ستارچوہدری

پاکستان بچاؤ، لیکن کس سے ؟ یہ وہ سوال ہے جو قوم کو خود سے پوچھنا ہوگا۔ ہمیں ہمیشہ بتایا گیا، پاکستان کو بیرونی دشمنوں سے خطرہ ہے ، سرحدوں سے خطرہ ہے ،سازشوں سے خطرہ ہے ،مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ گزشتہ پچھتر برس میں پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا؟
بات پھروہیں پہنچتی ہے ۔ دو شاہی خاندان اورچند آمر۔
یہ تلخ بات ہے ،مگر حقیقت اکثرتلخ ہی ہوتی ہے ،یہ عالمی سچائی،صدیوں کی تحقیق ہے ،تاجراورجنرل کبھی اچھے حکمران ثابت نہیں ہوسکتے ۔ ذرا نقشہ کھول کر دنیا کو دیکھیں،پاکستان جیسی سرزمین کہاں ہے ؟ چھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ،ہزاروں کلومیٹر طویل ساحل،دنیا کے بلند ترین پہاڑ،زرخیز میدان،کوئلہ، تانبا، سونا، نمک، گیس، لوہا اور درجنوں معدنیات،پھر بھی حالت یہ ہے کہ حکومت چند ارب ڈالر کیلئے دنیا کے دروازوں پردستک دیتی پھرتی ہے اورملک میں غربت کی شرح 50فیصد تک پہنچ چکی،یعنی،12کروڑ افراد دووقت کی روٹی کو ترس رہے ۔آخرکیوں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے وسائل کم دیے تھے ؟ نہیں ۔ کیا عوام محنتی نہیں؟ نہیں ۔ کیا نوجوان صلاحیتوں سے محروم ہیں؟ ہرگز نہیں۔ پھرمسئلہ کیا ہے ؟ مسئلہ حکمرانی کا ہے ۔ دنیا کی صدیوں پر محیط تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،تاجرمنافع دیکھتا ہے ۔آمرحکم دیکھتا ہے ۔لیکن ریاست کو منافع اورحکم سے زیادہ وژن، برداشت، ادارے اورعوامی فلاح درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کامیاب قومیں اداروں سے چلتی ہیں، شخصیات سے نہیں۔ اورپاکستان میں ہمیشہ شخصیات جیتتی رہیں ، پاکستان ہارتا رہا۔
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں،غربت تو ہردورمیں دنیا کے کئی ممالک میں رہی ہے ،پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غلط حکمرانی ہے ،یہ بات لکھتے ہوئے کچھ لوگ ناراض ہوں گے ،مگر سچائی کا کام خوش کرنا نہیں، آئینہ دکھانا ہوتا ہے ۔ذرا ایک لمحے کیلئے تصور کریں۔اگر آج پاکستان کو جاپان، جنوبی کوریا یا ملائیشیا جیسی قیادت مل جائے تو کیا یہ ملک دس، پندرہ سال میں بدل نہیں سکتا؟ بالکل بدل سکتا ہے ۔ اس کا مطلب مسئلہ زمین میں نہیں۔مسئلہ نظام میں ہے ۔
بات پھر وہیں پہنچتی ہے ۔ دو شاہی خاندان اورچند آمر۔
ایک اقتدار میں آتا ہے تو قوم کو جمہوریت کا سبق دیتا ہے ،دوسرا آتا ہے تو احتساب کا نعرہ لگاتا ہے ،تیسرا آتا ہے تو قومی سلامتی کا جھنڈا اٹھا لیتا ہے ،مگر نتیجہ ہربارایک ہی نکلتا ہے ، قرض بڑھ جاتے ہیں،مہنگائی بڑھ جاتی ہے ،بیروزگاری بڑھ جاتی ہے ۔اور عوام کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔آج پاکستان پر کھربوں روپے کے قرض ہیں،یہ قرض کسی غریب مزدورنے نہیں لیا،کسی کسان نے نہیں لیا،کسی ریڑھی والے نے نہیں لیا،مگر واپس کون کررہا ہے ؟ وہی مزدور،وہی کسان،وہی تنخواہ دارطبقہ۔ بجلی کا بل بڑھتا ہے تو غریب ادا کرتا ہے ،پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب ادا کرتا ہے ،ٹیکس بڑھتے ہیں تو غریب ادا کرتا ہے ،لیکن جنہوں نے دہائیوں تک فیصلے کیے ، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ملک اس حال تک پہنچا کیسے ؟ سوال بہت سادہ ہے ، اگر حکمران کامیاب تھے تو پاکستان قرضوں میں کیوں ڈوبا ہوا ہے ؟ اگر پالیسیاں درست تھیں تو کروڑوں لوگ خطِ غربت کے قریب کیوں پہنچ گئے ؟ اگر ترقی ہورہی تھی تو لاکھوں نوجوان ملک چھوڑنے کیلئے کیوں بے چین ہیں؟
پاکستان کے حکمران اکثر قوم کو یہ باور کراتے رہے ہیں کہ ہمارے مسائل کی وجہ بیرونی سازشیں ہیں۔کبھی امریکہ، کبھی بھارت، کبھی افغانستان، کبھی کوئی اورملک،سازشیں دنیا میں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں،آج بھی ہورہی ہیں،کل بھی ہوں گی،مگر سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی ہرسازش صرف پاکستان کے خلاف ہوتی ہے ؟چین کے خلاف سازشیں نہیں ہوتیں؟ترکی کے خلاف نہیں ہوتیں؟ملائیشیا کے خلاف نہیں ہوتیں؟فرق صرف اتنا ہے کہ کامیاب قومیں اپنی کمزوریوں کا علاج کرتی ہیں،ناکام قومیں دوسروں کو قصوروار ٹھہراتی رہتی ہیں۔
بات پھر وہیں پہنچتی ہے ۔۔۔ حکمرانی !
اگرایک گھر کا سربراہ پچیس سال تک قرض لیتا رہے ، بچوں کی تعلیم پر توجہ نہ دے ، آمدنی بڑھانے کے بجائے اخراجات بڑھاتا رہے ، پھر اپنی ناکامی کا الزام پڑوسیوں پر ڈال دے ۔تو کیا گھر سنبھل جائے گا؟ بالکل نہیں، ریاستیں بھی اسی اصول پرچلتی ہیں۔پاکستان میں گزشتہ سات دہائیوں سے عوام کو خواب بیچے جارہے ہیں،کبھی روٹی، کپڑا اورمکان،کبھی سب سے پہلے پاکستان، کبھی خوشحال پاکستان ،کبھی تبدیلی۔۔مگرعام آدمی آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں برسوں پہلے کھڑا تھا، ہمارے حکمرانوں نے عوام کو نعروں میں الجھائے رکھا۔اور خود اقتدار کے کھیل میں مصروف رہے ۔ ایک اورتلخ حقیقت سن لیجیے ، دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں حکمرانوں کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں،سرکاری ہسپتال استعمال کرتے ہیں،قانون ان پر بھی اسی طرح نافذ ہوتا ہے جیسے ایک عام شہری پر۔ پاکستان میں کیا ہوتا ہے ؟ تعلیم الگ،علاج الگ،قانون الگ۔اور زندگی الگ۔ پھرہم حیران ہوتے ہیں کہ قوم میں نفرت کیوں بڑھ رہی ہے ؟ یاد رکھئے ،کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ دولت نہیں۔اعتماد ہوتا ہے ۔ اور پاکستان میں سب سے تیزی سے اگر کوئی چیز ختم ہوئی ہے تو وہ عوام کا اعتماد ہے ، حکمران بدلتے رہے ،وعدے بدلتے رہے ،تقریریں بدلتی رہیں،لیکن عوام کے نصیب نہ بدلے ۔
ہرحکومت آتے ہی دعویٰ کرتی ہے کہ خزانہ خالی ملا،معیشت تباہ ملی،ادارے برباد ملے ۔اور سابق حکمران ملک کو ڈبو کرگئے ہیں، عجیب بات ہے ، پچھتر سال سے ہر آنے والا یہی کہہ رہا ہے ۔اور ہر جانے والے کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے ۔ اگرسب ناکام تھے تو کامیاب کون تھا؟ اگرہرحکومت تباہی چھوڑکر گئی تو پھران تباہیوں کا حساب کس نے دیا؟
بات پھر وہیں پہنچتی ہے ۔۔ پاکستان میں اقتدار تو ہے ، جوابدہی نہیں۔
پاکستان میں اقتدار خدمت نہیں، ایک کاروبار ہے ، سرمایہ لگاؤ،الیکشن لڑو،اقتدارحاصل کرو۔اور پھر پانچ سال میں سرمایہ کئی گنا واپس وصول کرو،پاکستان میں سیاست، کاروباراورطاقت کا ایسا گٹھ جوڑ بن چکا ہے جس نے عام آدمی کو صرف تماشائی بنا کر رکھ دیا ہے ۔ کسی زمانے میں نوجوان خواب دیکھتے تھے کہ وہ ملک بدلیں گے ۔آج نوجوان سوچتا ہے کہ وہ ملک کیسے چھوڑے گا، یہ کسی بھی ریاست کیلئے خطرے کی آخری گھنٹی ہوتی ہے ، جب قابل لوگ جانے لگیں اورنااہل لوگ فیصلے کرنے لگیں تو زوال دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا۔گھر کے اندر داخل ہوجاتا ہے ۔
اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے مسائل کیا ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان مسائل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں؟ کیونکہ بیماری سے زیادہ خطرناک چیز بیماری کا انکار ہوتا ہے ، پچھتر برس گزر گئے ،ہم نے جمہوریت بھی دیکھی،آمریت بھی دیکھی،اتحاد بھی دیکھے ،انقلابات بھی دیکھے ،نئے پاکستان بھی دیکھے ،پرانے پاکستان بھی دیکھے ،مگرایک چیز نہیں دیکھی۔ایک ایسا پاکستان جہاں عام آدمی سکون سے زندگی گزار سکے ۔
بات پھروہیں پہنچتی ہے ۔دو شاہی خاندان اورچند آمر!
قوموں کی قسمت نعروں سے نہیں بدلتی،فیصلوں سے بدلتی ہے ۔جاپان پرایٹم بم گرا،جرمنی جنگ میں تباہ ہوگیا،جنوبی کوریا کے پاس قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے ،سنگاپور ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا،مگر ان قوموں نے ایک فیصلہ کیا،انہوں نے ریاست کو چند لوگوں کی جاگیر نہیں بننے دیا۔ پاکستان نے بھی اب یہی فیصلہ کرنا ہے ، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ملک شخصیات سے بڑا ہے یا نہیں؟ قانون طاقتور سے بڑا ہے یا نہیں؟ عوام اقتدار سے زیادہ اہم ہیں یا نہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب ” ہاں ” ہے تو پھر راستہ موجود ہے ۔ پاکستان کو کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔پاکستان کو انصاف چاہیے ،دیانت چاہیے ،میرٹ چاہیے ۔اور سب سے بڑھ کر ایسی قیادت چاہیے جو اقتدار کو حق نہیں، امانت سمجھے ۔اورخوش قسمتی سے پاکستان میں امید ابھی زندہ ہے ، وہ کسان میں زندہ ہے جو خشک زمین میں بھی بیج ڈالتا ہے ۔وہ مزدور میں زندہ ہے جو فجر سے پہلے روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔وہ ماں میں زندہ ہے جو خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھانا کھلاتی ہے ۔وہ نوجوان میں زندہ ہے جو تمام مشکلات کے باوجود بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے ۔ پاکستان کو اگر کسی نے بچانا ہے تو یہی لوگ بچائیں گے ، نہ کوئی خاندان اکیلا بچا سکتا ہے ،نہ کوئی جنرل اکیلا بچا سکتا ہے ،نہ کوئی جماعت اکیلی بچا سکتی ہے ، کیونکہ پاکستان کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں،یہ چوبیس کروڑ لوگوں کی امانت ہے ۔اور امانتیں سنبھالی جاتی ہیں،لوٹی نہیں جاتیں۔ خدا کرے کہ ہم پاکستان سے محبت کے دعوے کرنے کے بجائے پاکستان کیلئے درست فیصلے کرنا سیکھ جائیں۔کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بچتی ہیں۔
پاکستان زندہ باد۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر