وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

پیر 08 جون 2026 ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

ریاض احمدچودھری

نیپالی وزیر اعظم بلیندر شاہ نے برطانیہ اور چین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ کالاپانی،لیپولیکھ اورلمپیادھورا کے تنازعات کو حل کرانے کے لئے مداخلت کریں۔ بلیندر شاہ نے نیپال کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کھٹمنڈو اور نئی دہلی دونوں نے ایک دوسرے کی سرزمین پرتجاوز کیا ہے۔ہم نے نہ صرف بھارت اور چین کے ساتھ بلکہ برطانیہ کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔انہوں نے اس تنازعے کو برطانوی ہند کے تحت 1816 کے سوگولی معاہدے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو بھی تشویش کا اظہار کرنا چاہئے۔
نیپال اور بھارت کے درمیان لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی پر دیرینہ سرحدی تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک ان علاقوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نیپال بھارت،تنازعہ 2020 میں اس وقت شدت اختیارکرگیا جب نئی دہلی نے کیلاش مانسروور یاترا کے لیے لیپولیکھ درے سے ایک سڑک کا افتتاح کیا جس کے بعد نیپال نے ایک نظرثانی شدہ نقشہ جاری کیاجس میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کونیپال کا حصہ ظاہر کیاگیا اور بعد میں اسے آئین میں شامل کیاگیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت علاقائی استحکام کی آڑ میں نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے داخلی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مسلسل مداخلت کررہاہے اورجب بھارت کے اقدامات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تویہ کثیر جہتی میکانزم کو مسترد کر تا ہے۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے شہریوں کی طرف سے سرحد پار کاشتکاری اور آباد کاری کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ کے تجاوزات سے متعلق بیان کی وضاحت کی ہے ،پھر بھی نئی دہلی نے کھٹمنڈو کی سفارتی کوششوں کومسترد کیا ہے۔ کالاپانی کا تنازعہ سوگولی معاہدے کے تحت دریائے کالی کی ابتدا کی متضاد تشریحات سے جنم لیتا ہے۔1827 اور 1856 کے ابتدائی برطانوی نقشوں میں کالاپانی کو نیپالی علاقے کے طور پر دکھایا گیا تھا لیکن بعد میں ہونے والے سروے میں اسے تبدیل کر دیاگیا، نیپال کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس کی رضامندی کے بغیر کی گئی تھی۔ بھارت کو 1947 میں یہی سرحد ملی تھی اور اس کے بعد سے اس نے کالاپانی میں اپنی فوجیں برقرار رکھی ہیں۔اسی لئے نیپال برطانیہ اور چین کی مداخلت چاہتاہے۔ یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنوبی ایشیاکے ممالک بھارت کی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور نوآبادیاتی دور کے معاہدوں سے جڑے تنازعات کو حل کرنے کے لیے تیسرے فریق کی مداخلت چاہتے ہیں۔
نیپال کی پارلیمنٹ کا اجلاس 11 مئی کو شروع ہوا تھا۔ شاہ نے مزید کہا کہ ہندوستان اور نیپال نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تاریخ دانوں، سروے کرنے والوں اور ماہرین کی مدد لینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھٹمنڈو نے یہ معاملہ چین اور برطانیہ کے ساتھ اٹھایا ہے۔بھارت کا موقف ہے کہ یہ علاقے اتراکھنڈ کا حصہ ہیں اور اس مسئلے کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ شاہ کے تبصروں پر ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، اس ماہ کے شروع میں، اس نے طویل عرصے سے قائم لیپولیکھ پاس کے ذریعے آنے والی کیلاش مانسروور یاترا پر نیپال کے اعتراض کو مسترد کر دیا تھا۔کیلاش مانسرور چین کے علاقے میں واقع ایک مخصوص پہاڑ ہے، جسے ہندوؤں کے دیوتا شیوا کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔چین ہر برس جون اور اگست کے درمیان محدود تعداد میں انڈین زائرین کو وہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس یاترا کا انتظام انڈیا کی وزارتِ خارجہ کرتی ہے۔یہ یاترا کورونا کی وبا کے بعد بند ہو گئی تھی۔ یہ گذشتہ برس دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ گذشتہ 30 اپریل کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس بار 500 زائرین سکم کے ناتھو لادرے اور دیگر 500 یاتری لیپو لیکھ درے کے راستے کیلاش مانسرور کا سفر کریں گے۔انڈیا نے چند ماہ پہلے سکم کے ناتھولا، ارونا چل پردیش کے تاوانگ اور اتراکھنڈ کے لیپولیکھ سرحدی راستوں کے ذریعے چین سے تجارت دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے لیپو لیکھ پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے اس راستے سے تجارت کرنے پر اعتراض کیا تھا۔
لیپو لیکھ شمالی انڈیا کی ریاست اترا کھنڈ کی شمالی سرحد پر ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ اس کے ایک جانب نیپال ہے اور دوسری طرف چین کی سرحد شروع ہوتی ہے۔انڈیا نے 2015 میں میں تجارت اور مانسرور یاترا کے لیے لیپولیکھ میں سڑکیں اور کچھ عمارتیں وغیرہ بنائی تھیں۔ اس کے خلاف نیپال کے دارالحکومت میں مظاہرے ہوئے تھے۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے کہا تھا کہ لیپولیکھ، لیپیا دھورا اور کالا پانی نیپال کا اٹوٹ انگ ہیں۔نیپال کا کہنا ہے کہ 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے سوگولی کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت اس خطے میں کالی ندی کو انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحد تسلیم گیا تھا۔ندی کے مشرق کے علاقوں پر نیپال کی ملکیت تسلیم کی گئی تھی۔ اسی معاہدے کی بنیاد پر نیپال ان علاقوں کو اپنی زمین مانتا رہا ہے۔ لیکن انڈیا اسے تسلیم نہیں کرتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر