وجود

... loading ...

وجود

گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ اور شکوے

اتوار 07 جون 2026 گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ اور شکوے

حمیداللہ بھٹی

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 33نشستیں ہیں۔ یہ اسمبلی2009میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت بنائی گئی ۔اب یہاں کے لوگ مکمل صوبائی درجہ چاہتے ہیں تاکہ قومی مالیات میںحصہ اور سینٹ میں نمائندگی ملے۔ تینتیس میں سے چوبیس نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے چھ اور تین ٹیکنو کریٹ کے لیے مخصوص ہیں ۔آج سات جون کو گلگت بلتستان کے دس اضلاح کے لوگ مقامی اسمبلی کی چوبیس جنرل نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے ۔اِس حوالے سے جاری انتخابی مُہم نقطۂ عروج پرہے ۔قومی قیادت کی آمد نے انتخابی معرکہ نہایت دلچسپ اور جاندار بنادیاہے۔ مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ یہاں اپنی ہی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف صف آراء ہے ،جبکہ تحریکِ انصاف بھی اپنے وجود کا بھرپوراحساس دلا رہی ہے۔ حالانکہ اُس کے امیدوار مختلف نشانات کے ساتھ میدان میں ہیں۔ آزاد اُمیدواروں کی بڑی بڑی تعددبھی قسمت آزمانے کے لیے میدان میں ہے مگر یہاں اصل مقابلہ مذکورہ بالاتینوں جماعتوںمیں ہے جو علاقے کو گلستان اور مسائل فری بنانے کی دعویدار ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ تینوں اقتدارمیں آکر کچھ نہ کر سکیں ۔ انتخابی جائزے ن لیگ اور پی پی کے حق میں ہیں لیکن یہ حرفِ آخرنہیں بلکہ آئندہ حکومت اتحادی تشکیل پانے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔
پہاڑوں اور وادیوں کی یہ سرزمین سیاحت کامرکز بن سکتی ہے مگر انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تک رسائی مشکل ہے ۔ روزگار
اور صحت کے مسائل بھی ہیں اب تو پانی اور صفائی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرنے لگا ہے ۔تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے مزید کام کی ضرورت ہے۔ اِن مسائل کے حوالے سے وعدے تو کیے جاتے ہیں مگر کامیابی کے بعدیکسر بھلا دیاجاتاہے ۔بلاول بھٹو کا یہ کہناکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، ایک بے تُکی بات کے سواکچھ نہیں ۔اگر اِس پروگرام سے فائدہ اُٹھانے والوں کوہُنرمندہونے سے مشروط کردیاجائے توبہتر ہے ۔ہُنرسکھانے والے اِداروں کے ذریعے لوگوں کو ہُنر مندبنا کر معاشرے کے کارآمد شہری بنایاجا سکتاہے۔ اِس طرح ملک سے غربت اور بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔اِس کے لیے بنگلہ دیش میں گرامین بینک اور محمد یونس پروگرام سے مددلی جاسکتی ہے ۔مگر پیپلز پارٹی بضد ہے کہ لوگوں کو گھر بیٹھے پیسے دیکر گداگربنانے کی ترغیب دی جائے ۔پنجاب کے حقوق پر سوداکرنے کے لیے تیارہونے کان لیگ پر الزام لگانا علاقائیت کو فروغ دیناہے۔
نواز شریف نے اچھا کیا جو اپنی جماعت کے کارکنوں کو متحرک کرنے جا پہنچے لیکن اُن کے شکوے سمجھ سے باہر ہیں۔ وہ گلگت بلتستان کے
لوگوں سے دریافت کرتے پھرتے ہیں کہ اُنھیں کیوں نکالا گیا اور یہاں کے لوگ اِس پر کیوں خاموش رہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے بعد اُنھی کی فرمائش پر اُن کی جماعت کے شاہد خاقان عباسی وزیرِ اعظم بنے۔ آج بھی مرکز میںاسی جماعت کی حکومت ہے ایسے ہی شکوئوں کی وجہ سے مقامی لوگوں میں یہ جماعت وہ پزیرائی حاصل نہیں کر سکی جس کی توقع تھی۔ البتہ مرکز میںحکمران ہونے اور مریم نواز کی طرف سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کلینک آن وہلیز نے مقامی لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے ،جس سے اندازہ ہے کہ ن لیگ اچھی تعداد میں نشستیں جیت جائے گی ۔اگر نواز شریف اپنا بیانیہ روزگار ، تعمیر وترقی ،موٹر وے اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی والا اپناتے تو صورتحال مزید بہتر ہوسکتی تھی۔ لیکن بے موقع شکایات نے کمزور ہونے کا تاثر پختہ کیا۔ ایسا تاثر آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں فائدے کی بجائے نقصان دیتاہے سعدرفیق کی طرف سے گلگت بلتستان کراچی جیسا کھنڈر بنانا یا پنجاب جیسی ترقی دینی ہے۔ فیصلہ عوام کریں جیسا مطالبہ اتحادیوں میں دوری بڑھاسکتا ہے جس کی وفاقی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی ۔
تحریکِ انصاف کا شکوہ ہے کہ آٹھ فروری 2024کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کی طرح اب بھی ہاتھ ہورہا ہے۔ اُسے گلگت بلتستان میں بطورپارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نہ صرف اہم رہنمائوں کو گلگت بلتستان میں داخل ہونے سے روکا گیا بلکہ جو چند ایک رہنما کسی طرح آنے میں کامیاب ہوگئے تو اُنھیں علاقہ بدرکردیا گیا۔یہ جماعت انٹرنیشنل ائیرپورٹ بنانے ،ڈیم متاثرین کے نقصانات پوراکرنے اور سیاحت کوفروغ دینے جیسے کام بطور کارنامے پیش کررہی ہے۔ ایک حیران کُن پہلو یہ ہے کہ انتخابی عمل پر تحریکِ انصاف کے علاوہ پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات ہیں۔ ایک ایسی جماعت جو مرکز میں اتحادی ہے اور چاروں صوبوں میں اسی کے نامزد گورنر ہیں کی طرف سے تحفظات ناقابلِ فہم ہیں ۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُسے ن لیگ سے کم ووٹ ملنے کا معلوم ہو گیا ہے اورمتوقع خفت مٹانے کے لیے ایسا بیانیہ بنارہی ہے ۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل کو صاف شفاف اور آزادانہ بنانے کے لیے کئی قابلِ تعریف اور قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں، جن میں امن و امان کی بحالی کے لیے حفاظتی دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔ چیئرمین نادرا جنرل محمد منیر سے ملاقات کے دوران ووٹر فہرستوں کی درستگی اوربروقت اپڈیٹس کے لیے مدد لی ہے۔ یہ اشتراک انتخابی عمل کی شفافیت ،درستگی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہوسکتاہے ۔ اِس کے بعدشاید ہی کسی کو یہ شکوہ رہے کہ وہ مقامی ہے اور نام فہرست میں شامل ہونے کے باوجود پسندیدہ امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکا ۔مگر ن لیگ ،پی پی اور تحریک انصاف کے شکوے وشکایات کے مدِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ ہارنے کی صورت میں شایدہی کوئی جماعت شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ کرے۔ تحریکِ انصاف کو تو پہلے ہی جنید اکبر خان کی علاقہ بدری اوراسد قیصر کو ائیرپورٹ جانے سے روکنے کے لیے راستے بند کرنے کاشکوہ ہے۔ تعجب تو دونوں حکمران جماعتوں ن لیگ اور پی پی کے شکووئوں پر ہے۔
عرصے بعد ملک میں سیاسی استحکام آیا ہے ۔حکومت کوشش کرے کہ یہ سیاسی استحکام برقرار رہے تاکہ سرمایہ کاری کا عمل تیز اور پیداواری شعبہ بہترہو۔ سیاسی استحکام کا ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا ۔اِس وقت ہر شعبہ زوال اور جمود کاشکار ہے جو بے روزگاری اورمہنگائی بڑھانے کی اہم وجہ ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ خطے کی حساسیت کے پیشِ نظر گلگت بلتستان میں جو بھی جماعت اکثریت حاصل کرے اُسے حکومت بنانے دی جائے، اِس طرح ہی خطے میں سیاسی استحکام برقرار رہ سکتا ہے ۔
٭٭٭

 


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر