وجود

... loading ...

وجود

امریکہ ایران جنگ کے پیچھے کس کا ہاتھ؟

هفته 06 جون 2026 امریکہ ایران جنگ کے پیچھے کس کا ہاتھ؟

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

بدنام مالیاتی ماہر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایبسٹین نے 2019میں نیویارک کی ایک جیل میں خودکشی کر لی تھی جہاں وہ جنسی جرائم اور اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کی سماعت کے منتظر تھے ۔ماگاحامی اس کیس کو نام نہاد ڈیپ اسٹیٹ کے مکمل زوال کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ ایپسٹین کی ذات میں دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ وہ اس خیال کی وجہ سے فکر مند ہیں کہ ایپسٹین کسی ایسے خفیہ نظام کا حصہ تھا جو ہماری حکومت ،ہمارے اداروں، ہماری زندگیوں پرکنٹرول رکھتا تھا،کئی سالوں سے اس بارے میں دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ سرکاری حکام کے پاس ایپسٹین سے متعلق فائلز موجود ہیں جن میں شرمناک تفصیلات ہیں، بشمول ایک کلائنٹ لسٹ جس میں معروف شخصیات کے نام ہیں جو ایپسٹین کے مبینہ جرائم میں ممکنہ طور پر ملوث تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں اس گروہ ماگا کی حمایت کی ہے۔ پچھلے سال کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ایپسٹین کیس کی فائلوں کو منظر عام پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور انتخابات کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان فائلوں کو منظر عام پر لائیں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہاں ہاں میں ایسا کروں گا ۔
سازشی سوچ صدر ٹرمپ کی تحریک کا حصہ رہی ہے۔ ایک دہائی قبل جب وہ ریپبلکن پارٹی کی سیاست کے میدان میں داخل ہوئے تو انہوں نے یہ جھوٹا نظریہ پھیلایا کہ باراک اوباما کا جنم امریکہ میں نہیں ہوا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تو ایپسٹین فائلوں کو وعدے کے مطابق منظر عام پر لے آتے لیکن اس بات کا خدشہ تھا کہ اس کی لپیٹ میں ان کی ذات بھی آتی۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے جب ڈونلڈ ٹرمپ سے ایپسٹین فائلوں کے بارے میں سوالات شروع کیے تو انہوں نے فرار حاصل کرنا شروع کر دیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین فائلوں کے موضوع کو منظر عام سے ہٹانے کے لیے ایران جنگ کی بنیاد رکھی۔ انٹرایکٹو سازشی نظریہ ہے جو ٹرمپ کے پہلے دور میں انٹرنیٹ پرچھا گیا تھا ۔ اس میں اس خیال کو تقویت ملی تھی کہ معاشرے کے اعلیٰ درجوں پر موجود افراد بچوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے والے اشرافیہ کے گروہ کے زیر کنٹرول ہیں۔ یہ سازشی نظریہ ایک نامعلوم کردار کے خفیہ پیغامات کے ذریعے پھیلا صدر ٹرمپ اس کیس سے آگے بڑھنے کے خواہشمند دکھائی دیے۔ انہوں نے ایپسٹین کیس کو شرمناک لیکن بورنگ قرار دیا اور ڈیموکریٹس پر
الزام لگایا کہ وہ اسے ایشو بناتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سازشی نظریات صدر کے حامیوں کے کچھ حصوں کو متحرک کرنے کی
طاقت رکھتے ہیں۔ کیوائین کے حامی جنوری 2021کے امریکی کیپٹل ہل پر ہونے والے فسادات میں سب سے زیادہ نمایاں شرکاء میں
شامل تھے گزشتہ سال نومبر کے انتخابات سے عین قبل کیے گئے ایک سروے میں پبلک ریلیجن ریسرچ انسٹیٹیوٹ بی آر آر آئی تھنک ٹینک نے
یہ پایا کہ تقریبا پانچویں حصہ امریکی کیو ائن سے متعلق بیان سے متفق ہیں جن میں سب سے واضح طور پر یہ کہ امریکہ میں حکومت میڈیا اور مالیاتی دنیا ایک شیطان پرست پیڈو کا کنٹرول ہے جو عالمی سطح پر بچوں کی جنسی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایپسٹین کیس کو ان نظریات کی سچائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور پی آر آر آئی کے سامنے یہ بھی آیا کہ کیوائین پر یقین رکھنے والا طبقہ بھاری اکثریت سے ٹرمپ کی حمایت کرتا ہے جس میں سے 80 فیصد صدر کے حق میں ہیں ۔رچ لوگس جو ایک طویل عرصے تک ٹرمپ کے حامی رہے اور بعد میں انہوں نے لیگا نامی تنظیم شروع کی ،نے کہا کہ یہ عجیب و غریب نظریات ماگا کمیونٹی کے اندر بہت سے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ حتی کہ ان لوگوں کو بھی جو ان پر شک رکھتے ہیں۔ لوگس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ان خدشات کو مسترد کرنے سے کچھ حامی الجھن اور حیرت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ ٹرمپ اپنا وعدہ پورا کریں گے اور ان لوگوں کو بے نقاب کریں گے جنہوں نے مبینہ طور پر ایسٹین کی مدد کی یا ان کی حمایت کی ہے۔ ان کے حامیوں خاص طور پر اثر رسوخ رکھنے والے طبقے کے لیے بھی ایک مسئلہ ہے کہ وہ اپنے وہ غصے کو کہاں لے جائیں۔ صدر کو ہدف بنانا ان کے اپنے پیروکاروں کے حوالے سے الٹا پڑ سکتا ہے۔ بہت سے بڑے اثرو رسوخ رکھنے والے اس وقت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹین فائلوں کو منظر عام پہ لے آتے تو ان کا سیاسی قد بڑھ جاتا ۔لیکن فائلوں کو منظر عام پر نہ لا کر انہوں نے اپنی ساکھ کو بری طرح سے مجروح کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر ان کی مخالفت میں اضافہ ہوا ۔ان بنیادوں پر ان کا مڈ ٹرم الیکشن جیتنا خاصا مشکل ہو چکا ہے ۔گزشتہ چند مہینوں سے ہر آنے والے دن کوئی ایک لڑکی جس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی منظر عام پر آکر وہ راز افشا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے بڑی بڑی شخصیات پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ان لڑکیوں نے ایپسٹین جزیرے کو جہنم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر سینکڑوں یا ممکن ہے ہزاروں لڑکیوں کی زندگی تباہ کی گئی۔
16سالہ گلائشیا نہیں جانتی تھی کہ اصل میں جین برونل کون ہیں اور کس دھندے میں ملوث ہیں۔ تحقیقات میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ جین برونل نے کم عمر لڑکیوں کو بھرتی کرنے کے لیے ان ماڈل ایجنسیوں کا استعمال کیا جن سے وہ اس وقت بطور ماڈلنگ ایجنٹ منسلک تھے۔ جین برونیل جنومی امریکہ سے نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو ایپسٹین کے لیے تلاش کرنے، بھرتی کرنے اور ایسی لڑکیوں کے لیے امریکی ویزوں کا بندوبست کرتے تھے۔ اینا کا شمار بھی ان بد نصیب لڑکیوں میں سے ہے، اینا کہتی ہے کہ وہ ایپسٹین کے ساتھ ایک کمرے میں گئی ،چاہے سین نے انہیں کپڑے اتارنے کو کہا، وہ کہتی ہیں کہ وہ کپڑے اتارنے کے دوران مجھے گھور رہا تھا۔ میرے لیے بہت ناگوار تھا۔ لیکن یہ اس کی بڑی برائیوں میں سے ایک چھوٹی برائی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی اس ماڈل کمپنی کیرن ماڈلز کے
لیے کبھی کام نہیں کیا لیکن انہیں بتایا گیا تھا کہ دستاویزات میں اس کمپنی کا نام بطور اسپانسر لکھنے میں انہیں امریکہ کا ویزا ملنے میں مدد ملے گی۔ اینا کے مطابق اس ویزے کا واحد مقصد ایپسٹین سے ملنا تھا ۔اینا کا دعویٰ ہے کہ ان کا امریکی ویزہ منسوخ ہونے سے پہلے انہوں نے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کم از کم چھ بار سفر کیا تھا۔ اینا کہتی ہیں کہ کئی مواقع پر ایپسٹین نے مجھے گھر سے باہرجانے کو کہا ۔انہوں نے کہا کہ تم میوزیم دیکھ آؤ کلاسزمیں جاؤ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں دیکھوں کہ انہیں چھوٹی لڑکیاں پسند ہیں اور وہ ان میں گھرے ہوئے ہیں۔ اینا کا کہنا ہے کہ ایپسٹین نے ایک بار مجھے بتایا کہ بورونیل نے میرے ساتھ سونے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ایپسٹین نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اینا صرف میری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس بات پر گھبرائیں یا شکر بجا لائیں۔ اینا کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ برونیل بھیڑیے کی طرح ہے جو ایک بھیڑ کے بچے کو ہمیشہ کھا جائے والی نظروں سے دیکھتا ہے۔ پھر چاہے وہ میں ہوں یا کوئی اور لڑکی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہوٹل میں پہلی ملاقات اور پیرس کے سفر کے لیے اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایپسٹین برازیلی میڈم کو 10 ہزار امریکی ڈالرزادا کریں گے۔ اینا کہتی ہیں کہ ویزا کینسل ہونے کے بعد ایپسٹین نے انہیں امریکہ میں رہنے کے لیے مستقل رہائشی کارڈ کی پیشکش بھی کی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور برازیل واپس جانے کا فیصلہ کیا اور برازیل کی فیڈرل پبلک پراسیکوٹرآفس ایم پی ایف نے فروری 26 میں تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا برازیل میں ایپسٹین سے منسلک کوئی بھرتی نیٹ ورک موجود تھا۔ برازیلی حکام کے مطابق اینا اور دوسری لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ جنسی استحصال کے غرض سے کی جانے والی انسانی اسمگلنگ تھی۔ گلاشیا اب شکرگزار ہیں کہ ان کی والدہ نے انہیں نیویارک جانے کی اجازت نہیں دی۔ ورنہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو گیا ہوتا۔ اینا بھی خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہوں نے ایپسٹین کی دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں خوش قسمت تھی لیکن مجھے اپنی جیسی دوسری خواتین کے لیے افسوس ہوتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائل پس منظر میں رکھنا ایک عالمی سازش ہے کیونکہ اس میں دنیا بھر کے کئی سربراہ مملکت کے علاوہ نامور شخصیت کے نام شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین فائل کو منظر عام پر لانے سے انکار کیا کیونکہ جو اہم شخصیات ایپسٹین فائل کا حصہ ہیں، امریکہ ایران جنگ کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر