وجود

... loading ...

وجود

افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ

منگل 02 جون 2026 افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ

ریاض احمدچودھری

افغان طالبان رجیم کی جانب سے جرائم پیشہ عناصرکی پشت پناہی نے پڑوسی ممالک کی سماجی اورمعاشی سلامتی کوداؤ پرلگادیا ،عالمی جریدہ افغان سرزمین سے سرحد پاربڑھتی غیرقانونی سرگرمیوں کا ایک اور ثبوت سامنے لے آیا۔کرغزستان کے معروف جریدہ ”دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا”کے مطابق تاجک سکیورٹی اہلکاروں نے افغانستان سے تاجکستان سرحدپار کرنیوالے2 افغان منشیات اسمگلرزکو ہلاک کردیا۔تاجک سکیورٹی حکام کے مطابق افغان منشیات اسمگلروں نے سرحد عبورکرنیکی کوشش کی تھی، تاجکستان کے ضلع فرخورمیں اسمگلرز کیخلاف کارروائی کے دوران ہلاک افغان اسمگلرزسے25 کلومنشیات بھی برآمدکرلی گئی، وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی غیرمستحکم عسکری،سیاسی اور معاشی صورتحال کوپہلے ہی خطے کیلئے تشویشناک قراردے چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پڑوسی ممالک میں افغان جرائم پیشہ عناصرکی مسلسل دراندازی اس بات کاثبوت ہے کہ طالبان رجیم ان مجرمانہ سرگرمیوں میں برابرکی شریک ہے ،طالبان رجیم جرائم پیشہ عناصر اوردہشتگرد گروہوں کواپنی بقاکیلئے بطور اسٹریٹجک ایسٹ استعمال کررہی ہے جس کابراہِ راست خمیازہ پڑوسی ممالک بھگت رہے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سلامتی کونسل سیکریٹریوں کے 21ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان سے جڑے دہشت گردی اور منشیات سمگلنگ کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد شدت پسند گروہوں کے 18 ہزار سے 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں، جو پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، طالبان داعش خراسان کے خلاف برسرِپیکار ہیں، تاہم اب بھی کئی شدت پسند گروہ طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔
افغانستان کی صورتحال خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم مسئلہ بن چکی ہے، داعش خراسان کے تقریباً 3 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، داعش نے سال 2025 کے دوران 12 بڑے دہشت گرد حملے کیے جن میں 40 فوجی اہلکار اور 25 شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔شام سے ایغور، تاجک اور ازبک جنگجوؤں کی افغانستان آمد میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ان میں بعض عناصر ماضی میں حیات تحریر الشام سے وابستہ رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، طالبان کی سیکیورٹی ایجنسیاں افغانستان آنے والے شدت پسند عناصر کی نگرانی کررہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ اسلام پسند گروہ اب بھی طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 2025 کے دوران افغانستان کی سرحدوں پر 30 ٹن سے زائد مصنوعی منشیات پکڑی گئیں۔ افغانستان میں شدید معاشی بحران کے باعث اب بھی تقریباً 40 لاکھ افراد منشیات سے متعلق فصلوں کی کاشت سے وابستہ ہیں۔روس، کیوبا، وینزویلا، عراق، ایران، شمالی کوریا، لیبیا اور افغانستان کے تقریباً 590 ارب ڈالر کے اثاثے مغربی ممالک میں منجمد کیے جاچکے ہیں، اس صورتحال کے بعد دنیا کے کئی ممالک مغربی ممالک میں اپنے قومی ذخائر محفوظ رکھنے کے حوالے سے دوبارہ غور کرسکتے ہیں۔
افغانستان میں دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر مجرمانہ نیٹ ورکس نے طالبان رجیم پر عالمی برادری کا اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔امریکہ میں قائم تحقیقی ادارہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے پچپن ارکان اور اہلکار اب بھی القاعدہ کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔بیس فیصد سے زیادہ افغان طالبان رہنماؤں کی شناخت بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر کی گئی ہے۔ افغان میڈیا کے ادارہ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان رجیم کی 33 رکنی کابینہ میں سے تیرہ سے چودہ ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل میں شائع اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم میں افغانستان سے Methamphetamine جیسی خطرناک منشیات کی سمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ خطے میں Methamphetamine کی ضبطگی 2023ء کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد رہی، جو افغانستان میں اس کی بڑھتی پیداوار کا ثبوت ہے۔دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا ہے، افغان طالبان کی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور وار اکانومی کے خلاف افغان رہنما کھل کر سامنے آگئے۔ افغان سیاستدان احمد مسعود نے افغان طالبان کی زیرسرپرستی دہشت گردوں کے اڈوں کو بے نقاب کر دیا۔ افغانستان میں آج جو حالات ہیں یہ براہ راست افغان طالبان رجیم کے برے اعمال کا نتیجہ ہے، آج افغانستان اپنے لوگوں کے لئے جہنم جبکہ دہشت گرد گروہوں کے لئے جنت بنا ہوا ہے۔
افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) ہی نہیں بلکہ 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، افغانستان پر مسلط افغان طالبان رجیم کے خلاف ہماری شدید نفرت کبھی کم نہیں ہوسکتی۔ افغانستان کو دہشتگروں کو بطور لانچنگ پیڈ کے استعمال کیخلاف افغان عوام میں طالبان رجیم کیخلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے۔ افغان عوام افغان طالبان کی آمریت اور دہشتگردی پر چلنے والی اس رجیم سے تنگ آچکے ہیں، یہ بات اب قطعی طور پر ڈھکی چھپی نہیں کہ افغانستان دہشتگرد عناصر کیلئے جنت بن چکا ہے۔ دہشت گرد عناصر افغان سر زمین سے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔ القاعدہ اور داعش جیسے گروہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ 2021ء کے بعد افغان طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط مزید خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر