وجود

... loading ...

وجود

بھارتی مسلمانوں کی عید بھی انتہا پسندی کی نذر

اتوار 31 مئی 2026 بھارتی مسلمانوں کی عید بھی انتہا پسندی کی نذر

ریاض احمدچودھری

بھارت میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔فاشسٹ مودی سرکار کی اقلیت دشمن پالیسیوں نے بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ مسلمانوں کیلئے مذہبی آزادی بھی محدود ہوتی جا رہی ہے۔مساجد کی مسماری اور مندروں کی تعمیر کے بعد اب مسلمانوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی سے بھی روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
معروف عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کو عید کی نماز کیلئے عوامی مقامات دینے سے انکار کیا گیا جبکہ بعض مقامات پر اجتماعات کے خلاف دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کی اجتماعی عبادات کیلئے عوامی مقامات کا مسئلہ مزید حساس اور محدود ہوتا جا رہا ہے۔بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کے قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر ہندوتوا غنڈے مشتعل ہوگئے۔ہندو انتہا پسندوں نے مذہبی اشتعال انگیزی کیلئے قربانی کے جانوروں کے جواب میں خنزیر لا کر ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس نے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیا۔
حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل آٹھویں سال کشمیری مسلمانوں کو تاریخی عیدگاہ اور جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے سے محروم رکھا گیا جبکہ انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا۔ ایک پوری نسل کو اپنی مذہبی روایات اور صدیوں پرانی اجتماعی یادوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔مغربی بنگال میں گائے ذبح کرنے کے نئے قواعد کے بعد عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی منڈیوں میں خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کے دور میں بھارت میں مذہبی عدم برداشت اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ عید جیسے مقدس تہوار پر عبادت گاہوں کا گھیراؤ اور قربانی کے خلاف احتجاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی معاشرہ اخلاقی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ مودی سرکار ہندوتوا تنظیموں کو سیاسی فائدے اور اکثریتی ووٹ بینک برقرار رکھنے کیلئے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ہندوتو اتنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی پر مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل کو متنازع بنانے اور مسلم مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔امریکی اخبارنیویارک ٹائمزنے ایک رپورٹ میں خبردار کیاہے کہ مودی حکومت نے مغربی بنگال میں منظم دھاندلی اور مسلمان مخالف جذبات ابھار کر نام نہاد جمہوری انتخابات کا ڈھونگ رچایا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت عملی طور پر ایک ایسی سیاسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ایک ہندوتواتنظیم کی بالادستی جمہوری توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں اپوزیشن کی سیاسی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ اور سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی بنگال جیسے اہم اپوزیشن گڑھ میں بھی بی جے پی کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے سیاسی ماحول کو شدید کشیدہ بنایا۔ ریاستی اداروں اور انتخابی نظام کو اپوزیشن جماعتوں پر دبا ئوڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مخالف سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیاہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے بہار اور مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے مسلم ووٹرز کے بڑی تعداد میں نام خارج کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے انتخابی شفافیت کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلیاں اور مذہبی بنیادوں پر سیاست کو ہوا دے کر ہندو ووٹ بینک کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو ریاستی سیاست میں نمایاں حیثیت دی گئی ہے، جس کے باعث بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلمانوں، کے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔مودی سرکار ملک بھر میں ہندو انتہا پسندی پر مبنی ہندوتوا پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس نے سیکولر ازم کا بھارتی دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔
بین الاقوامی میڈیا میں بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔ 2014 میں مودی کے دور اقتدار کے آغاز ہی سے بھارت کا سماجی اور سیاسی مکالمہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے سے متاثر ہے۔ مودی کے ہندوتوا اقدامات میں تین طلاق پر پابندی، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، شہریت ترمیمی ایکٹ،نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی قانون سازی اور رام جنم بھومی منصوبہ شامل ہیں۔
علاوہ ازیں ہندوتوا کے نئے مرحلے میں اب شہروں اور شہری زندگی پر کام کیا جارہا ہے، جہاں سماجی، ثقافتی اور مکانی طور پر ہندوتوا نظریہ کو لاگو کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو اجتماعی سزا کے طور پر منظم طریقے سے مسمار کرنا شہروں پر ہندوتوا پالیسیوں کے رائج ہونے کی واضح مثال ہے۔ سمبھال مسجد کا واقعہ بھی مودی کی انتہا پسندی کی تازہ ترین مثال ہے۔ بھارت میں ”منی پاکستان” کا نام مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو توہین آمیز انداز میں پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گھیٹوائزیشن کے تصور کا استعمال کرتے ہوئے مودی سرکار نے مسلمانوں کو کم ترقی یافتہ اور بدحال علاقوں میں دھکیل دیا ہے، جہاں بنیادی ضروریات، تعلیم اور اقتصادی مواقع بھی موجود نہیں۔ یہ علاقے سرکاری اور قانونی تحفظات سے محروم ہیں اور غیر رسمی طور پر وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہندوتوا سرکار صرف مسلمانوں کو ان ”گھیٹوں” میں دھکیلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ شہروں کو ہم آہنگ ہندوتوا شہر میں ڈھالنے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔
ہندوتوا شہروں میں پانچ نمایاں خصوصیات دیکھی جاسکتی ہیں جن میں محو کرنا، روزگار میں خلل ڈالنا، مستثنیٰ شہری مسماری و تعمیر نو کی اسکیمیں اور مقامی سطح پر عوامی تحریکیں شامل ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں شروع ہونے والی ڈی کالونائزیشن نے ممبئی، چنئی اور کولکتہ کے بعد اب مسلمانوں کے نام پر بنائی جانے والی سڑکوں اور شہروں کے نام بھی تبدیل کردیے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر