وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

اجیت دوول کے خلاف مقدمہ

هفته 30 مئی 2026 اجیت دوول کے خلاف مقدمہ

ریاض احمدچودھری

یورپی ملک اٹلی کے شہر میلان کی ایک فوجداری عدالت میں بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کے خلاف سکھ رہنماؤں کے قتل کی بین الاقوامی سازشیں تیار کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔یہ ہائی پروفائل قانونی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اطالوی ہم منصب سے ملاقات کے لیے اٹلی کے سرکاری دورے پر موجود تھے اور اجیت دوول بھی اس بھارتی وفد کا حصہ تھے۔میلان کی عدالت میں یہ فوجداری مقدمہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی سرگرم سکھ کارکنوں جگروپ سنگھ اور گورپال سنگھ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ سکھ رہنماؤں کا موقف ہے کہ اجیت دوول نے مختلف مغربی ممالک میں مقیم سکھ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور ان کے خلاف دہشت گردی کے نیٹ ورک کی خود نگرانی کی ہے۔مقدمے کے متن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل، برطانیہ میں پرمجیت سنگھ پنیوار کے خلاف بنائی گئی سازشوں سمیت دیگر اہم شکایات کو شامل کیا گیا ہے۔درخواست گزاروں، جگروپ سنگھ اور گورپال سنگھ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اجیت دوول کی ایما پر انہیں خود اٹلی کے اندر نشانہ بنانے اور ان کی زندگیوں کو ختم کرنے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ سکھس فار جسٹس کے سربراہ اور عالمی سطح پر خالصتان تحریک کے اہم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اس عدالتی کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے ”بھارت کا قومی سلامتی مشیر اجیت دوول عالمی سطح پر سکھ رہنماؤں اور مودی سرکار کے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے باقاعدہ ‘قاتل اسکواڈز’ استعمال کر رہا ہے، ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت اجیت دوول کو ان کے جرائم پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے دنیا بھر میں وکلا کی نامور ٹیمیں متحرک کر رہے ہیں”۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق، مودی کے دورہ اٹلی کے دوران ان کے وفد میں شامل اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار کے خلاف یورپی عدالت میں مقدمہ دائر ہونا نئی دہلی کے لیے بین الاقوامی سطح پر انتہائی خفت اور بڑی سفارتی ناکامی کا باعث بن گیا ہے۔مودی سرکار سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر ریاستی کارروائیوں میں ملوث ہے، بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے مودی سرکار کے ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا۔ 35 سالہ سکھ کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برمنگھم میں مشکوک موت نے بھارتی سرکار پر سوال اٹھا دیے۔دی گارڈین کے مطابق مقتول اوتار سنگھ پر بھارتی میڈیا نے مارچ 2023 کے احتجاج کے دوران لندن میں بھارتی پرچم اتارنے کا الزام لگایا تھا، 2016 میں اوتار سنگھ کو بھارتی ایجنسیوں سے زندگی کو خطرہ ہونے کی بنا پر برطانیہ میں سیاسی پناہ ملی تھی۔مقتول کے والد اور چچا 90 کی دہائی میں خالصتان کی حمایت کرنے پر ماورائے عدالت قتل کر دیے گئے تھے۔اوتار سنگھ کے دوست جسوِندر سنگھ کے مطابق ”اوتار اپنی موت سے کچھ دن پہلے خوفزدہ تھے کہ انہیں ٹریس یا فالو کیا جا رہا ہے۔”اوتار سنگھ کی والدہ اور بہن کو حکام نے علیحدگی پسند رہنما امرت پال سنگھ کی تلاش کے سلسلے میں حراست میں لے رکھا تھا۔ وکیل پولاک کے مطابق اوتار سنگھ کو ”زندگی کے خطرے کی دھمکیاں” موصول ہوئیں۔برطانوی فرانزک ماہر ڈاکٹر ایشلے فیگن ایرل کے مطابق ”سکھ کارکن کو زہر دیے جانے کا شبہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔”اوتار سنگھ کے اہل خانہ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اوتار سنگھ کے قریبی عزیز جگجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں جواب چاہیے کہ اتنی دھمکیوں کے باوجود اوتار کی موت کیسے ہوئی؟”
بھارت اختلافی آوازوں کو خاموش کر کے بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ بی جے پی کیمیکل ہتھیار، اعصابی زہر اور ماورائے عدالت قتل سے سکھ تحریک کو کچل رہی ہے۔اوتار سنگھ کی موت کے بعد چند ہی ہفتوں میں خالصتانی کارکنان کا کینیڈا میں قتل سکھ تحریک کو کچلنے کی مذموم بھارتی سازش ہے۔مودی سرکار نے ٹارگٹ کلنگ اور قتل کو اختلاف رائے کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے۔ مودی کا بھارت اب ریاستی قتل و غارت گری کا عالمی چیمپیئن بن چکا ہے۔ نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار انڈین شہری نے امریکہ کی وفاقی عدالت میں تین جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ 54 سالہ نکھل گپتا نے قتل کرنے کے لیے رقم لینے، اجرت کے عوض قتل اور منی لانڈرنگ کی سازش کرنے کے جرائم قبول کیے۔ انھیں 40 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔قتل کی اس مبینہ سازش کا ہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنّوں تھے، جو خالصتان کے حامی ہیں۔ خالصتان تحریک انڈیا میں سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔استغاثہ کا الزام ہے کہ نکھل گپتا کو قتل کرنے کے احکامات انڈین حکومت کے اہلکار نے دیے تھے۔ انڈیا پنّوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔امریکی وکیل جے کلیٹن نے کہا: ‘نکھل گپتا نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش کی، صرف اس لیے کہ وہ امریکی شہری آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کر رہے تھے جو یہ ملک انھیں دیتا ہے۔”نکھل گپتا کا خیال تھا کہ انھیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن وہ غلط فہمی کا شکار تھے، انھیں اب انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔”نکھل گپتا کے اعترافِ جرم نے عدالتی طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈیا کی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی سازش تیار کی تھی۔’
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر