وجود

... loading ...

وجود

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

اتوار 24 مئی 2026 کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

میری بات/روہیل اکبر

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سسٹمز اور آن لائن سہولیات کے خواب دکھائے جا
رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عام شہری کے دل میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے۔ آج 22 مئی 2026 کو بجلی کے بلوں پر
موجود کوڈ کیو آر کا معاملہ پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا یہ واقعی سہولت ہے یا ایک
ایسا دروازہ جو شہریوں کی ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟ پاکستان کے لاکھوں شہری پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے
بھاری بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب ایک نیا خوف اُن کے ذہنوں میں داخل ہو چکا ہے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر
ایک عام شہری صرف اپنا بجلی کا بل دیکھنے یا سبسڈی کی تصدیق کے لیے کوڈ اسکین کیو آر کرے اور اُس کی معلومات کسی فراڈیے کے ہاتھ لگ
جائیں تو اُس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ یہی سوال آج چائے کے ہوٹلوں سے لے کر دفاتر، بازاروں، گھروں اور سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم
تک گونج رہا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی آن لائن فراڈ، جعلی لنکس، بینک اکاؤنٹس کی ہیکنگ اور سوشل میڈیا اسکیمزعام ہو چکے ہیں ،ایسے
میں بجلی جیسے حساس نظام میں کوڈز کیو آرمتعارف کرانا بغیر مکمل آگاہی کے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
فیس بک پر ہزاروں صارفین یہ لکھ رہے ہیں کہ غریب آدمی کو پہلے بجلی کے بل نے پریشان کیا اب کوڈ کیو آرنے خوفزدہ کر دیا ہے
حکومت کو جدید نظام لانے سے پہلے عوام کو مکمل تربیت دینی چاہیے تھی تاکہ لوگ اصلی اور جعلی کوڈ کیو آر میں فرق سمجھ سکیں اگربزرگ شہری،کم
پڑھے لکھے مزدور یادیہاتی شخص غلط کوڈ اسکین کیو آر کر بیٹھے تو اُس کا نقصان کون پورا کرے گا؟ اگر جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے
توکوڈ کیو آر بذاتِ خود خطرناک نہیں ہے مگر مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب فراڈیے جعلی کوڈ کیو آر بنا کر لوگوں کوٹریپ کرتے ہیں یہی
خدشہ آج پورے پاکستان میں بے چینی پیدا کر رہا ہے کیونکہ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ ہر شہری محفوظ رہ سکے اس
لیے فوری طور پر ایسا نظام بنایا جائے جس میں ہر صارف کو واضح ہدایات دی جائیں، اصل اور جعلی کوڈ کیو آرکی پہچان سکھائی جائے اور عوام کو
تحفظ کی ضمانت دی جائے سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ اس معاملے پر شدید بحث کر رہا ہے کچھ لوگ اسے جدید پاکستان کی علامت قرار دے
رہے ہیں جبکہ کچھ اسے غریب عوام کے لیے ایک نئی مشکل کہہ رہے ہیں۔ ٹک ٹاک پر وائرل ویڈیوز میں شہری کہہ رہے ہیں کہ”پہلے بل نے
جینا مشکل کیا اب کوڈ کیو آر نے ڈر پیدا کر دیا”ایک صارف نے لکھا کہ ”پاکستان میں ہر نئی چیز پہلے عوام پر آزمائی جاتی ہے تحفظ بعد میں دیا
جاتا ہے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ڈیجیٹل پاکستان چاہتی ہے تو سب سے پہلے سائبر
سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ ہر نیا سسٹم عوام میں خوف پیدا کرے گا عوام یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ کیا حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود
ہیں کہ کروڑوں شہریوں کا ڈیٹا مکمل محفوظ رکھا جا سکے؟ اگر کل کسی شہری کا بینک اکاؤنٹ ہیک ہو جائے اُس کی شناختی معلومات لیک ہو
جائیں یا اُس کے موبائل کا ڈیٹا چرا لیا جائے تو کیا اُسے انصاف مل سکے گا؟ یہ معاملہ صرف ایک کوڈ کیو آر کا نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا مسئلہ بن
چکا ہے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور ہوگا تو ہر نیا نظام خوف پیدا کرے گا پاکستان کی عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، بے
روزگاری اور معاشی دباؤ سے تھکی ہوئی ہے ایسے میں اگر ٹیکنالوجی بھی خوف کی علامت بن جائے تو یہ لمحہ فکریہ ہے اس لیے حکومت فوری
آگاہی مہم شروع کرے، میڈیا پر واضح پیغامات نشر کیے جائیں، بجلی کے بلوں پر مکمل حفاظتی ہدایات لکھی جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ کون سا
کوڈ کیو آر اصلی ہے اور کون سا جعلی اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں آن لائن فراڈ کے کیسز بڑھ سکتے ہیں جبکہ کچھ حلقے یہ
بھی کہہ رہے ہیں کہ مخالف عناصر عوام میں خوف پھیلا کر جدید نظام کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اُن کا مؤقف ہے کہ کوڈ کیو آر دنیا بھر میں استعمال
ہوتے ہیں اور پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی مگر اس کے ساتھ مضبوط حفاظتی اقدامات ضروری ہیں سوشل میڈیا پر آج کا سب سے
بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان واقعی محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے یا عوام ایک ایسے نظام میں داخل ہو رہی ہے جہاں سہولت
اور خطرہ ساتھ ساتھ چلیں گے؟
آج کوڈ کیو آر صرف ایک چھوٹا سا مربع نشان نہیں بلکہ پورے ملک میں بحث، خوف، غصے اور سوالات کی علامت بن چکا ہے عوام اب
صرف بجلی کے بل نہیں دیکھ رہی بلکہ اپنے مستقبل، اپنی پرائیویسی اور اپنی حفاظت کے بارے میں سوچ رہی ہے پاکستان کی گلیوں، بازاروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی حلقوں میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ کیا ہماری معلومات واقعی محفوظ ہیں؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع وجود اتوار 24 مئی 2026
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟ وجود اتوار 24 مئی 2026
کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

ایک دن کا وزیراعظم وجود اتوار 24 مئی 2026
ایک دن کا وزیراعظم

اسرائیل کی مکروہ چال وجود هفته 23 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود هفته 23 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر