وجود

... loading ...

وجود

اسرائیل کی مکروہ چال

جمعه 22 مئی 2026 اسرائیل کی مکروہ چال

جاوید محمود
۔۔۔۔۔
امریکہ سے

المیہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاو کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کے مکروہ کردار کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے اسرائیل نہیں چاہتا کہ یہ جنگ بند ہو کیونکہ اس کی پیچھے اس کا یہ ایجنڈا ہے کہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار ہوتی رہے۔ بھارت بھی اس میں اپنا منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے آپس میں قریبی تعلقات ہیں۔ تصور کریں امارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران نتن یاہو کے یو اے ای کے دورے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں جبکہ نتن یاہو کے آفس سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور امارتی صدر شیخ محمد بن زید کے درمیان ہونے والی اس ملاقات سے ایک تاریخی پیش رفت حاصل ہوئی ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم کے آفس سے دورہ یو اے ای کی خبر کی تصدیق پر رد عمل دیتے ہوئے ایران کے وزیراعظم عباس عراقچی نے کہا کہ نتین یاہو نے سر عام وہ بات ظاہر کر دی ہے جس سے ایران کی سیکورٹی سروسز پہلی ہی ملک کی قیادت کو آگاہ کر چکی تھی۔ عراقچی نے سخت الفاظ میں لکھے گئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی احمقا نہ جوا ہے اور اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے جو عناصر اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں جواب دے ہونا پڑے گا عراقچی کے ان بیانات کو متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران نے امارات میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا جبکہ تہران مسلسل اس بات پر امارات پر تنقید کرتا رہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران نتن یاہو اور عمارتی صدر کے درمیان ملاقات العین شہر میں ہوئی تھی جو عمان کی سرحد کے قریب واقع ایک نخلستانی شہر ہے اور یہ ملاقات کئی گھنٹوں جاری رہی۔ یہ خبریں بھی حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ پر شائع ہوتی رہی ہیں کہ ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم سسٹم امارات میں نصب کیا جبکہ یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ یواے ای کی جانب سے ایران میں موجود اہداف پر حملے بھی کیے گئے ۔اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک یکنی نے آئرن ڈوم سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے اپنے آئرن ڈوم دفاعی نظام کی اینٹی میزائل بیٹریاں امارات کو فراہم کی تاکہ وہ ایرانی حملوں کا مقابلہ کر سکے ۔آئرن ڈوم ایک جدید اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ہے جو مختلف اقسام کے میزائلوں راکٹوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔مائک یقنی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے ان تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور عسکری اتحاد کو بھی فروغ دیا ہے ۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایران پر اسرائیل و امریکہ حملے سے قبل دوران بعد میں تعاون سے متعلق حالیہ انکشافات کے بعد اس بات پر کافی بحث کی جا رہی ہے کہ آیا ایران کی جانب جنگ کے دوران اہداف کا انتخاب درست تھا یا نہیں ۔اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو بیانیہ اس انداز میں مرتب ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے مرکزی کردار کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جنگ کے دوران ایران نے امارات پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے تھے اور امارتی حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ چند مقامات پر ملبہ گرنے سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی تھی۔ تھنک ٹینک کونسی انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی نے ایکس پر لکھا کہ اب ثابت ہو رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا ایک بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف ایک عرب اسرائیلی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ اب اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اس معاہدے کا یہ بنیادی مقصد بالکل واضح ہو چکا ہے ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ امارات کی غلطی اس لیے تھی کیونکہ اس کے نتیجے میں اس نے خود کو اسرائیل کے ایران کے ساتھ دشمنی کے ساتھ جوڑ لیا جو کہ امارات اور تہران کے درمیان کشیدگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہری ہے۔ حالانکہ جغرافیائی طور پر امارات ایران کے بالکل قریب ہے جبکہ اسرائیل تقریبا ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ابوظبی اس صورتحال میں پھنس چکا ہے اور کسی حد پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ یا ایک مقصد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو مجبور کرنا تھا کہ وہ ایران سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے مزید قریب ہو جائیں اور شاید اسی تناظر میں
جنگ کے دوران نتن یاہو نے خفیہ طور پر ابوظبی کا دورہ کیا اور امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اسرائیل اس پیشرفت کو اپنے دو طرفہ تعلقات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیتا ہے۔ حقیقت میں یہ اس جال کا عملی اظہار ہے جس میں ابراہیم معاہدے امارات کو جکڑ چکے ہیں۔ اسرائیل کی مکرو ہ چال نے مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
اسرائیل کی مکروہ چال وجود جمعه 22 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود جمعه 22 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر