... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
جنگ میں اصل شکست فوج کی نہیں ہوتی، اصل شکست انسانیت کی ہوتی ہے ۔۔۔گاندھی نے کہا تھا !! جنگیں اس دن ختم ہوجائیں گی جب جنگوں میں حکمرانوں کے بھی بچے مرنے لگیں گے ۔۔۔۔ ایسے ہی فرانسیسی فلسفی جین پاؤل کا قول ہے !! جب امیر جنگ چھیڑتے ہیں تو غریب مرتے ہیں ۔۔۔ سابق امریکی صدرہربرٹ ہوور نے کہا تھا !! بوڑھے آدمی جنگ کا اعلان کرتے ہیں، لیکن لڑائی اور موت نوجوانوں کی ہوتی ہے ۔۔۔ اور وہی نوجوان جنگ کے بعد کے دکھ، تکالیف اورنتائج کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔
جنگیں صرف بندوقوں، میزائلوں اورٹینکوں سے نہیں جیتی جاتیں ،جنگ کی اصل فتح اس دن ہوتی ہے جب بندوقیں خاموش ہوجائیں اورانسان محفوظ ہوجائے ۔ جب ماؤں کی گودیں ویران نہ ہوں، جب بچوں کے اسکول ملبہ نہ بنیں اور جب شہروں پردھواں نہ چھایا ہو۔۔۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے دنیا کی بڑی طاقتیں اکثر جنگ کے میدان میں اپنی قوت دکھا دیتی ہیں، مگر اصل سوال ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ کیا وہ اپنے مقصد تک بھی پہنچتی ہیں۔۔۔؟دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن کر ابھرا۔ اس کے پاس جدید ترین ہتھیار، مضبوط معیشت اورعالمی اثر و رسوخ تھا۔ لیکن گزشتہ سات دہائیوں کی جنگی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے ۔۔ کیا امریکا فاتح رہا یا شکست کھائی ۔۔۔؟ ویتنام کی جنگ ہو، افغانستان کی طویل لڑائی ہو یا عراق کی مہم، ان سب کے بعد دنیا میں ایک بحث ہمیشہ زندہ رہی ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا میدان جنگ میں غالب آجاتا ہے ، جبکہ کچھ کے نزدیک اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جب جنگ کے بعد امن قائم ہو جائے ۔۔۔اوراگر امن نہ آئے ، اگر تباہی باقی رہ جائے ، تو پھر فتح کا مفہوم خود سوال بن جاتا ہے ۔
تاریخ میں کئی ایسی جنگیں ملتی ہیں جہاں فوجیں جیت گئیں مگر مقصد ہار گیا۔ میدان میں کامیابی مل گئی مگر حالات وہی کے وہی رہے ، میری ناقص رائے کے مطابق یہ بدترین شکست ہے ۔ جیسے کہ امریکا نے ویتنام میں بے پناہ فوجی طاقت استعمال کی۔ ٹیکنالوجی، اسلحہ اور وسائل کے اعتبار سے امریکا ناقابل مقابلہ تھا،مگر برسوں کی جنگ کے بعد بھی وہ نتیجہ حاصل نہ کرسکا جس کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی۔ آخرکار امریکی فوج کو واپس جانا پڑا اور تاریخ نے اسے ایک مشکل اور متنازع جنگ کے طورپریاد رکھا۔۔۔ اور اسے پوری دنیا امریکی شکست تصور کرتی ہے ۔اسی طرح افغانستان میں بھی دنیا کی سب سے طاقتور فوج بیس سال تک موجود رہی۔ اربوں ڈالر خرچ ہوئے ، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، مگر جب جنگ ختم ہوئی تو دنیا نے دیکھا کہ حالات پھروہیں آگئے جہاں سے جنگ شروع ہوئی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کے مفہوم پر سوال اٹھتا ہے ۔ اگر جنگ کے بعد وہی مسئلے دوبارہ پیدا ہوجائیں تو پھر کامیابی کس چیز کا نام ہے ۔۔۔؟
جنگ کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ مارے جاتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،تاریخ گواہ ہے جدید جنگوں میں مرنے والوں کی بڑی تعداد عام شہریوں پرمشتمل ہوتی ہے ۔ کبھی بمباری شہروں پر ہوتی ہے ، کبھی میزائل رہائشی علاقوں میں گرتے ہیں اور کبھی جنگ کا دائرہ اسکولوں اور اسپتالوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ انسانی تاریخ کے لیے یہ سب سے بڑا سوال ہے ، کیا کسی بھی مقصد کے لیے بے گناہ جانوں کا ضیاع قابل قبول ہوسکتا ہے ۔۔۔؟یہ سوال صرف ایک ملک یا ایک جنگ تک محدود نہیں۔ یہ سوال ہر اس طاقت سے ہے جو ہتھیار اٹھاتی ہے ۔ طاقت ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے ۔ جتنی بڑی طاقت ہو، اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے ۔دنیا کی بڑی طاقتوں سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے امن کی راہ تلاش کریں۔ کیونکہ جب بڑی طاقتیں جنگ کرتی ہیں تو اس کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے ، بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے ۔اسی لیے بہت سے دانشور کہتے ہیں کہ اصل عظمت جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے میں ہے ۔جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی، وہ انسان کے اندرامید کو بھی توڑ دیتی ہے ۔ ایک بچہ جو بمباری میں اپنے والدین کھو دیتا ہے ، اس کے لیے دنیا کا نقشہ ہمیشہ بدل جاتا ہے ۔ ایک ماں جس کا بیٹا جنگ میں مارا جائے ، اس کے لیے کوئی فتح معنی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد اکثر معاشرے دہائیوں تک زخم سمیٹتے رہتے ہیں۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے جس سے یہ بحث شروع ہوئی تھی۔ امریکا جنگیں جیتتا ہے یا صرف لڑتا ہے ۔۔۔؟ شاید اس سوال کا جواب صرف امریکا کے بارے میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے بارے میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر حکومتیں جیتتی ہیں مگر انسان ہار جاتا ہے ۔اصل فتح وہ ہے جب جنگ نہ ہو۔ اصل کامیابی وہ ہے جب انسان زندہ رہے ۔۔۔ اوراصل طاقت وہ ہے جو بندوق کو خاموش کر دے ۔ شاید اسی لیے ایک مفکر نے کہا تھا !! جنگ کا سب سے بڑا ہیرو وہ ہے جو جنگ کو ہونے سے روک دے ۔
جنگوں کی تاریخ پڑھتے ہوئے ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ میدان جنگ میں اکثر وہ لوگ مارے جاتے ہیں جنہوں نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔ فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی قیمت گلیوں، گھروں اور ملبوں کے درمیان ادا کی جاتی ہے ۔ایک سپاہی جو محاذ پر کھڑا ہوتا ہے ، وہ بھی کسی ماں کا بیٹا ہوتا ہے ، کسی بہن کا بھائی اور کسی بچے کا باپ۔۔۔ اور جو شہری بمباری کا شکار ہوتے ہیں، ان کا تو جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے ایک بات کہی تھی جو آج بھی انسانی تاریخ پر سوال بن کر کھڑی ہے!
گاندھی نے کہا تھا!!
جنگیں اس دن ختم ہوجائیں گی جب جنگوں میں مرنے والوں میں حکمرانوں کے بیٹے بھی شامل ہونے لگیں گے ۔شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ بھی جنگ کے اصل معنی کو سمجھ سکیں گے ۔ کیونکہ جنگ کا شور ختم ہونے کے بعد جو خاموشی باقی رہتی ہے ، اس میں صرف ماؤں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔۔اور شاید اسی خاموشی میں انسانیت ہم سے یہ سوال کرتی ہے ۔۔۔۔کیا واقعی کوئی جنگ جیتی بھی جاتی ہے ۔۔۔؟
٭٭٭