وجود

... loading ...

وجود

انسانیت کا سوال

هفته 14 مارچ 2026 انسانیت کا سوال

بے لگام / ستارچوہدری

جنگ میں اصل شکست فوج کی نہیں ہوتی، اصل شکست انسانیت کی ہوتی ہے ۔۔۔گاندھی نے کہا تھا !! جنگیں اس دن ختم ہوجائیں گی جب جنگوں میں حکمرانوں کے بھی بچے مرنے لگیں گے ۔۔۔۔ ایسے ہی فرانسیسی فلسفی جین پاؤل کا قول ہے !! جب امیر جنگ چھیڑتے ہیں تو غریب مرتے ہیں ۔۔۔ سابق امریکی صدرہربرٹ ہوور نے کہا تھا !! بوڑھے آدمی جنگ کا اعلان کرتے ہیں، لیکن لڑائی اور موت نوجوانوں کی ہوتی ہے ۔۔۔ اور وہی نوجوان جنگ کے بعد کے دکھ، تکالیف اورنتائج کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔
جنگیں صرف بندوقوں، میزائلوں اورٹینکوں سے نہیں جیتی جاتیں ،جنگ کی اصل فتح اس دن ہوتی ہے جب بندوقیں خاموش ہوجائیں اورانسان محفوظ ہوجائے ۔ جب ماؤں کی گودیں ویران نہ ہوں، جب بچوں کے اسکول ملبہ نہ بنیں اور جب شہروں پردھواں نہ چھایا ہو۔۔۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے دنیا کی بڑی طاقتیں اکثر جنگ کے میدان میں اپنی قوت دکھا دیتی ہیں، مگر اصل سوال ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ کیا وہ اپنے مقصد تک بھی پہنچتی ہیں۔۔۔؟دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن کر ابھرا۔ اس کے پاس جدید ترین ہتھیار، مضبوط معیشت اورعالمی اثر و رسوخ تھا۔ لیکن گزشتہ سات دہائیوں کی جنگی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے ۔۔ کیا امریکا فاتح رہا یا شکست کھائی ۔۔۔؟ ویتنام کی جنگ ہو، افغانستان کی طویل لڑائی ہو یا عراق کی مہم، ان سب کے بعد دنیا میں ایک بحث ہمیشہ زندہ رہی ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا میدان جنگ میں غالب آجاتا ہے ، جبکہ کچھ کے نزدیک اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جب جنگ کے بعد امن قائم ہو جائے ۔۔۔اوراگر امن نہ آئے ، اگر تباہی باقی رہ جائے ، تو پھر فتح کا مفہوم خود سوال بن جاتا ہے ۔
تاریخ میں کئی ایسی جنگیں ملتی ہیں جہاں فوجیں جیت گئیں مگر مقصد ہار گیا۔ میدان میں کامیابی مل گئی مگر حالات وہی کے وہی رہے ، میری ناقص رائے کے مطابق یہ بدترین شکست ہے ۔ جیسے کہ امریکا نے ویتنام میں بے پناہ فوجی طاقت استعمال کی۔ ٹیکنالوجی، اسلحہ اور وسائل کے اعتبار سے امریکا ناقابل مقابلہ تھا،مگر برسوں کی جنگ کے بعد بھی وہ نتیجہ حاصل نہ کرسکا جس کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی۔ آخرکار امریکی فوج کو واپس جانا پڑا اور تاریخ نے اسے ایک مشکل اور متنازع جنگ کے طورپریاد رکھا۔۔۔ اور اسے پوری دنیا امریکی شکست تصور کرتی ہے ۔اسی طرح افغانستان میں بھی دنیا کی سب سے طاقتور فوج بیس سال تک موجود رہی۔ اربوں ڈالر خرچ ہوئے ، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، مگر جب جنگ ختم ہوئی تو دنیا نے دیکھا کہ حالات پھروہیں آگئے جہاں سے جنگ شروع ہوئی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کے مفہوم پر سوال اٹھتا ہے ۔ اگر جنگ کے بعد وہی مسئلے دوبارہ پیدا ہوجائیں تو پھر کامیابی کس چیز کا نام ہے ۔۔۔؟
جنگ کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ مارے جاتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،تاریخ گواہ ہے جدید جنگوں میں مرنے والوں کی بڑی تعداد عام شہریوں پرمشتمل ہوتی ہے ۔ کبھی بمباری شہروں پر ہوتی ہے ، کبھی میزائل رہائشی علاقوں میں گرتے ہیں اور کبھی جنگ کا دائرہ اسکولوں اور اسپتالوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ انسانی تاریخ کے لیے یہ سب سے بڑا سوال ہے ، کیا کسی بھی مقصد کے لیے بے گناہ جانوں کا ضیاع قابل قبول ہوسکتا ہے ۔۔۔؟یہ سوال صرف ایک ملک یا ایک جنگ تک محدود نہیں۔ یہ سوال ہر اس طاقت سے ہے جو ہتھیار اٹھاتی ہے ۔ طاقت ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے ۔ جتنی بڑی طاقت ہو، اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے ۔دنیا کی بڑی طاقتوں سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے امن کی راہ تلاش کریں۔ کیونکہ جب بڑی طاقتیں جنگ کرتی ہیں تو اس کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے ، بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے ۔اسی لیے بہت سے دانشور کہتے ہیں کہ اصل عظمت جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے میں ہے ۔جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی، وہ انسان کے اندرامید کو بھی توڑ دیتی ہے ۔ ایک بچہ جو بمباری میں اپنے والدین کھو دیتا ہے ، اس کے لیے دنیا کا نقشہ ہمیشہ بدل جاتا ہے ۔ ایک ماں جس کا بیٹا جنگ میں مارا جائے ، اس کے لیے کوئی فتح معنی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد اکثر معاشرے دہائیوں تک زخم سمیٹتے رہتے ہیں۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے جس سے یہ بحث شروع ہوئی تھی۔ امریکا جنگیں جیتتا ہے یا صرف لڑتا ہے ۔۔۔؟ شاید اس سوال کا جواب صرف امریکا کے بارے میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے بارے میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر حکومتیں جیتتی ہیں مگر انسان ہار جاتا ہے ۔اصل فتح وہ ہے جب جنگ نہ ہو۔ اصل کامیابی وہ ہے جب انسان زندہ رہے ۔۔۔ اوراصل طاقت وہ ہے جو بندوق کو خاموش کر دے ۔ شاید اسی لیے ایک مفکر نے کہا تھا !! جنگ کا سب سے بڑا ہیرو وہ ہے جو جنگ کو ہونے سے روک دے ۔
جنگوں کی تاریخ پڑھتے ہوئے ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ میدان جنگ میں اکثر وہ لوگ مارے جاتے ہیں جنہوں نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔ فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی قیمت گلیوں، گھروں اور ملبوں کے درمیان ادا کی جاتی ہے ۔ایک سپاہی جو محاذ پر کھڑا ہوتا ہے ، وہ بھی کسی ماں کا بیٹا ہوتا ہے ، کسی بہن کا بھائی اور کسی بچے کا باپ۔۔۔ اور جو شہری بمباری کا شکار ہوتے ہیں، ان کا تو جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے ایک بات کہی تھی جو آج بھی انسانی تاریخ پر سوال بن کر کھڑی ہے!
گاندھی نے کہا تھا!!
جنگیں اس دن ختم ہوجائیں گی جب جنگوں میں مرنے والوں میں حکمرانوں کے بیٹے بھی شامل ہونے لگیں گے ۔شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ بھی جنگ کے اصل معنی کو سمجھ سکیں گے ۔ کیونکہ جنگ کا شور ختم ہونے کے بعد جو خاموشی باقی رہتی ہے ، اس میں صرف ماؤں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔۔اور شاید اسی خاموشی میں انسانیت ہم سے یہ سوال کرتی ہے ۔۔۔۔کیا واقعی کوئی جنگ جیتی بھی جاتی ہے ۔۔۔؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود هفته 14 مارچ 2026
انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود هفته 14 مارچ 2026
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر