... loading ...
ماجرا/ محمد طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ریاستی جِنوں کے منہ سے ایک مرتبہ پھر ”آدم بو آدم بو” کی صدائیں سنتے ہیں۔ افسانوی رنگ میں ڈھلے بین السطور پیغام میں ایک نہ ختم ہونے والی بھوک کا طرزِ احساس ملتا ہے تودوسری طرف کسی ‘شہزادی’ کی قید کا بھی بار دگر خوف جاگتا ہے۔شہزادہ رہائی کے لیے تکلیفیں جھیلتا جب شہزادی کے قریب پہنچتا ہے تو ‘جن ‘کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ شہزادی ، شہزادے کو چھپادیتی ہے مگر جن ”آدم بو آدم بو” کہتے ہوئے شہزادے کو تلاشنے لگتا ہے۔کہانیوں اور افسانوں میں یہ”جن” ناکام ہو جاتے ہیں اور شہزادے اکثر اپنی مراد پا لیتے ہیں۔ مگر ہمارے سماج کے’ جن’ اپنی نہ ختم ہونے والی بھوک میںکتنے ہی شہزادوں کو اپنا لقمۂ تر بنا چکے ہیں۔
عدلیہ اور وکلاء تنظیموں پر مکمل قابو پانے کے باوجود پنجاب میں ابھی بھی ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، کیوں؟ آدم بو آدم بو!! جن ججز کے متعلق کبھی وکلاء سوال اُٹھاتے تھے کہ کیا وہ جج کہلائے جانے کے قابل ہیں؟ اب وہی ججز وکلاء کے سامنے سوال اُٹھاتے ہیں کہ ”کیا اُسے آپ وکیل سمجھتے ہیں”؟ آدم بو آدم بو!!!پارلیمنٹ قابو میں ہے، سیاسی جماعتیں دیوار سے لگی ہیں۔ وزیراعظم کبھی وزیراعلیٰ ہو کر خود کو ‘خادم اعلیٰ’ کے بناؤٹی بیانئے میں چھپاتے تھے، اب حقیقت میں طاقت ور کے ”خادم” بن چکے۔ مگر پھر بھی طاقت ور ‘نوکر’ صحافیوں کے ذریعے ‘ونڈر بوائے’ کی درفنطنی چھوڑتے ہیں۔ دنگ خادم نے شکوہ بھی نہ کیا ہوگا، مگر کہیں سے کوئی آواز ضرور اُٹھی ہو گی تو ‘نوکروں’ کے دوسرے حلقے سے طفل تسلی کا سامان بھی کر دیا جاتا ہے، ایک صفحہ ابھی پھٹا نہیں، اور خادم سے بڑھ کر خادم کہاں دستیاب ہوگا؟ اس پورے طرزِ فکر کے دائرے میںنہ ختم ہونے والی بھوک کی آواز ہے، آدم بو آدم بو!!!
آئینی ترامیم کی دھماچوکڑی بھی اسی’ آدم بو’ کی نفسیات میں ہے۔ ابھی 26 ویں ترمیم ہضم بھی نہ ہوئی تھی کہ 27 ویں ترمیم کی بھوک ستانے لگی۔ وزیر خارجہ اسحق ڈارکسی 27 ویں ترمیم کے امکان کو مان کر نہ دے رہے تھے، اُن کی زبان سے یہ الفاظ بلاوجہ نہ پھسلے تھے کہ ”ابھی تو 26 ویں ترمیم ہضم بھی نہیں ہوئی”۔ پھر وہی 27 ویںترمیم کی فضیلت میں رَطبُ اللساں ہو گئے۔پیچھے محرک وہی تھا، نہ ختم ہونے والی بھوک کی ستادینے والی آواز ۔۔ آدم بو آدم بو!!! اب ایک نئی ترمیم کا غلغلہ ہے، 28ویں ترمیم اور وہی آواز۔۔” آدم بو آدم بو”!!
نفاق میں لت پت لب و لہجے سے مستعار الفاظ کی جو کھٹ پٹ سنائی دیتی ہے، وہ انتہائی خوش نما ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن کی ریاضیاتی ترمیم جس کا ایک ہدف ہے۔طاقت ور حلقوں کے نزدیک وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی آئینی تقسیم کا فارمولااب کفایت نہیں کررہا۔ یہ گیان دھیان بانٹنے والے لوگ کون ہیں؟ وہی جو کرپشن کو مسئلہ نہیں سمجھتے اور ریاست کے اندر ریاست کے قیام کو اور اس کی حفاظت کو ترجیح اول سمجھتے ہیں، دوسری طرف مخالفت کرنے والے وہ ‘اتحادی’ ہیں جنہیں اسی ریاست میں حکومت کے اندر ایک حکومت قائم کیے رکھنی ہے۔ ”سسٹم” کے نام سے جسے جانا پہچانا جاتا ہے۔ جب ایسے ‘ساجھے دار’ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہوں تو یہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نام پر مفادات کا ٹکڑاؤاورہاتھ لگے کیک کی پیمائشی لڑائی لگتی ہے۔ایک اور شور بلدیاتی نظام کا بھی ہے۔ گزشتہ دنوں خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میںسانحہ گل پلازہ کو یاد کیا تو ان کے کُنج لب سے بلدیاتی نظام کو طاقت ور بنانے کے الفاظ بھی پھوٹے، بھول جائیں کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی نظام کو معطل رکھنے کے حوالے سے کیا کیا حیلے بہانے اختیار کیے گئے ۔ سندھ میںتو پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور اقتدار کی رسمی کشمکش میں اس نوع کے الفاظ مباح ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے احتجاج پر نون لیگ نے اِسے خواجہ آصف کے ذاتی خیالات کہہ کر ٹال دیا۔ یاد رہے کہ خواجہ آصف پاکستان کے وزیر دفاع ہیں۔ یہاں’ آدم بو آدم بو ‘کی صدائیں بھی متعصبانہ ہیں۔
دلچسپ طور پر 28ویں ترمیم کا ایک ہدف نئے صوبوں کی تشکیل بھی ہیں۔سندھ کو یہ گوارا نہیں۔ پی پی کی حکومت اس کے لیے کچھ مقدس توجیہات کی آڑ لیتی ہے، یعنی دھرتی ماں وغیرہ وغیرہ! اگرچہ اس دھرتی ماں کو کرپشن سے بھنبھوڑتے ہوئے اس کی عزت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ انور مجید اورڈاکٹر عاصم ایسی مخلوق کو اسی دھرتی ماں سے چھیڑ چھاڑ کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم ہے، جو اپنے قائد سے دست کش ہو کر طا قت ور حلقوں کے رحم وکرم پر ہے اور جن کے ارکان اسمبلی اپنا مکمل وجود فارم 47 کی بدولت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایم کیوایم مدت ِ مدید سے اپنا اُجرتی کردار پسند کر چکی ہے۔چنانچہ ایم کیو ایم رہنماؤں کی زبانوں سے مطالبات دراصل ہواؤں کے رخ کاتعین کرتے ہیں، تھوڑا یہ بھی کہ قیدی سانس لیتا ہے۔ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ ہو یا اِسے ایک نیا صوبہ بنانے کی آرزو۔ درحقیقت پشت پر دوڑ ہلانے والوں کی منشاء واضح کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اُن قوتوں کو براہِ راست ہدفِ تنقید نہیں بنا سکتی، چنانچہ وہ آسان ہدف چنتی ہے، یعنی ایم کیو ایم!کراچی کے ان یخ بستہ دنوں میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم گل پلازہ کی آگ میں اسی کھیل سے ہاتھ تاپ رہی ہیں۔ کردار کی یہی بہیمت انسان کو ”آدم بو آدم بو” کی نفسیات دیتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی شعبدہ بازیوں اور طاقت کی نٹ بازیوں نے قومی سطح کے ہر مسئلے کو مذاق بنا دیا ہے، قومی مالیاتی کمیشن ، بلدیاتی نظام اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملات بھی ایسے ہی ”مذاق ” یا پھر مسئلے ہیں۔ کوئی کہیں پر بھی کھڑا ہو، وہ ان مسئلوں کے ساتھ آدم بوآدم بو کی ذہنیت کے ساتھ کھلواڑ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ سانحہ گل پلازہ کی آگ میں جل کر راکھ ہونے والے غریب گھروں کے بچے تو نہ ملے مگر لڑنے کے لیے کراچی کا مستقبل مل گیا۔ مائیں بلک بلک کر اپنے بچوں کی راکھ مانگ رہی ہیں، مگر انہیں کراچی میں حکمران اتحادیوں کی پریس کانفرنسیں مل رہی ہیںجو دراصل اس سوال پر لڑرہے ہیں کہ کراچی کا پیسہ کون کمائے گا، پیپلزپارٹی کی حکومت کا تہہ دار سسٹم یا پھر طاقت ور حلقوں میں پنپتا متبادل نظام؟
28ویں ترمیم کا دستر خوان سج گیا ہے اور”ریاستی و حکومتی جن” آوازیں لگا رہے ہیں، آدم بو، آدم بو، آدم بو!!
٭٭٭