... loading ...
صحن چمن
۔۔۔۔۔۔
عطا محمد تبسم
قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی ہے ، 2003 کی ایک سہ پہر کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے ایک ماں کو اس کے تین معصوم بچوں سمیت اس وقت اٹھا لیا گیاجب وہ خریداری کے لیے جا رہی تھی۔ نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی، نہ وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی کوئی الزام سامنے آیا۔ خفیہ ایجنسیاں آئیں اور چند ہی لمحوں میں وہ خاتون اور اس کے بچے معمول کی زندگی سے غائب ہو گئے۔اسی رات انہیں خاموشی کے ساتھ پاکستان کی سرزمین سے نکال کر بگرام بیس کے ذریعے ایک امریکی فوجی اڈے پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ خبر پہلی مرتبہ برطانوی صحافی ایون رڈلی نے دنیا کے سامنے رکھی، جب انہوں نے امریکی حراستی مرکز کا دورہ کیا۔ وہاں قید خواتین کے بارے میں معلومات کے دوران ایک خاتون کا ذکر سامنے آیا، جسے قیدی نمبر 650کہا جا رہا تھا۔ بعد ازاں اسی معاملے پر ہیومین نیٹ ورک پاکستان نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں اس پراسرار قیدی خاتون کے بارے میں ایک کتابچہ تیار کروں۔ یوں عافیہ صدیقی کے بارے میں پہلا معلوماتی کتابچہ قیدی نمبر 650کے عنوان سے وجود میں آیا۔
یہ کتابچہ بعد میں جماعت ِاسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ اس اشاعت کا سفر ہرگز آسان نہ تھا۔ دباؤ، رکاوٹیں اور خاموش دھمکیوں سمیت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ قانونی خامیوں، عدالتی تضادات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پلندہ ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ اکیسویں صدی کے متنازع ترین قانونی معاملات میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ کیس صرف ایک فرد کی
سزا کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، شفاف عدالتی عمل اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی، پاکستانی نیورو سائنسدان، کو 2003 میں پاکستان سے زبردستی اٹھایا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد کئی برس تک ان کا کوئی قانونی ریکارڈ موجود نہیں رہا،جسے بین الاقوامی قانون میں زبردستی گمشدگی تصور کیا جاتا ہے ۔ اس عرصے میں انھیں بگرام ائیربیس افغانستان میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں امریکہ منتقل کر کے مقدمہ چلایا گیا، جو عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی بغیر وارنٹ،بغیر فردِ جرم،اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے عمل میں لائی گئی۔2003سے 2008 تک ان کا کوئی باضابطہ قانونی وجود تسلیم نہیں کیا گیا، جو اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے زبردستی گمشدگی کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ڈاکٹر عافیہ کو بگرام ایئر بیس میں خفیہ حراست میں رکھا گیا، جہاں:انہیں وکیل تک رسائی نہیں دی گئی۔خاندان سے ملاقات ممنوع رہی،عدالتی نگرانی موجود نہیں تھی۔اس دوران انہیں قیدی نمبر 650 یا گرے لیڈی کہا جاتا تھا، جو انسانی وقار اور قانونی شناخت کی نفی ہے ۔
اہم امر یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پردہشت گردی کا مقدمہ نہیں چلایا گیابلکہ امریکی فوجیوں پر فائرنگ کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔تاہم
اسلحہ پر ان کے فنگر پرنٹس موجود نہیں تھے ۔گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔یہ تمام عوامل مقدمے کی بنیاد کو کمزور کرتے ہیں۔ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد پر غور کیا جائے توبیلسٹک طور پر غیر حتمی تھے ۔گولی کے نشانات سے واضح نہیں ہوتا کہ فائر کس نے کیا۔وقوعہ کے حالات غیر واضح اور متنازع تھے ۔تحقیقی معیار کے مطابق ایسے شواہد کسی سنگین سزا کے لیے ناکافی سمجھے جاتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران متعدد ماہرین نے ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت،شدید صدمے(PTSD)،اور نفسیاتی عدم استحکام کی نشاندہی کی، مگر اس کے باوجود عدالت نے انہیں مقدمہ لڑنے کے قابل قرار دیا، جو منصفانہ سماعت کے اصول سے متصادم ہے ۔ اس طرح ڈاکٹر عافیہ کے بچوں، خصوصاً چھوٹے بیٹے سلمان کی گمشدگی کو عدالت نے مقدمے کا حصہ بنانے سے انکار کیا، حالانکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت یہ ایک سنگین معاملہ تھا یہ مقدمہ سیاسی ماحول اور تعصب کی مثال ہے ۔ یہ مقدمہ 9/11کے بعد کے ماحول میں چلا، جہاں اسلاموفوبیا،سکیورٹی بیانیہ،اور میڈیا ٹرائل نے غیر جانبدار عدالتی فیصلے کو متاثر کیا۔ ایک مسلمان خاتون کی شناخت نے جیوری اور رائے عامہ پر واضح اثر ڈالا۔
دوسری جانب یہ غیر متناسب سزا ہے ، جو کسی جانی نقصان کے بغیر86 سال قید کی سزا دی گئی ہے ۔ امریکی عدالتی نظائر کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر سخت ہے ، جو سزا اور جرم کے تناسب کے اصول کی خلاف ورزی ہے ۔ویانا کنونشن آن قونصلرریلیشنزکی کھلی خلاف ورزی تھی، جس سے ملزم کے دفاعی حقوق متاثر ہوئے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ محض ایک فوجداری کیس نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون،انسانی
حقوق،اور عدالتی شفافیت کے لیے ایک آزمائش ہے ۔ اس مقدمے میں موجود قانونی خامیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انصاف کا عمل سکیورٹی اور سیاسی مفادات کے تابع ہو گیا۔ اس کیس کا غیر جانبدارانہ ازسرِنو جائزہ نہ صرف ڈاکٹر عافیہ کے لیے بلکہ عالمی انصاف کے نظام کے لیے بھی ناگزیر ہے ۔
آج 23 برس گزر چکے ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی قید ہیں،اور ان کی رہائی اب تک ایک نامکمل خواب بنی ہوئی ہے ۔یہ محض ایک خاتون کی قید کی کہانی نہیں،بلکہ ایک ماں، ایک بیٹی اور ایک قوم کے اجتماعی ضمیر کی آزمائش ہے ۔امریکہ کی جیلوں میں گزشتہ 23 برس سے قید پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی زندہ مثال بن چکا ہے ۔ ان کی رہائی اور لاپتہ بچے کی بازیابی اب ایک عالمی مطالبہ بن چکی ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ کو 2003 بگرام ایئر بیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ وہاں انہیں خفیہ حراست میں رکھا گیا ۔ڈاکٹر عافیہ کے تین بچوں میں سے بڑا بیٹا احمد اور بیٹی مریم 2010 میں پاکستانی حکام کے حوالے کیے گئے ۔ احمد نے قرآنِ مجید حفظ کیا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم ان کا چھوٹا بیٹا سلمان، جو 2003 میں پیدا ہوا، آج تک لاپتہ ہے ۔ اس کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں، جو انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔اس وقت ڈاکٹر عافیہ ٹیکساس کی FMC Carswell جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں تشدد، جنسی ہراسانی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔پاکستان کی جانب سے 2024 میں امریکی صدر کو ان کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے خط بھی لکھا گیا، جبکہ عدالتی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ مسلم دنیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستانی عوام مسلسل ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر اب تک کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔یہ کیس امریکی نظامِ انصاف کے دعوؤں کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ایک پاکستانی ماں کو کبھی انصاف مل سکے گا؟
٭٭٭