... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
وطن عزیز کو لاحق سب سے بڑا خطرہ شنکر اچاریہ کی توہین نہیں بلکہ مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان ٹکراو کاہے ۔ کیرالہ کے بعد تمل ناڈو اور اب کرناٹک تینوں ریاستوں پر یکے بعد دیگرے گورنروں کے رویہ نے ایک بڑا آئینی بحران کھڑا کردیا ہے ۔ یہ اس لیے نہیں ہوا کیونکہ وہاں غیر بی جے پی سرکار یں ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صوبوں میں گورنروں کو وہ خطبہ پڑھنے کے لیے نہیں دیا گیا جس کی توثیق وزیر اعظم کے دفتر سے ہوئی ہو۔ ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی ریاستی حکومت ہے یا ان کے حلیف برسرِ اقتدار ہیں کوئی ایسا خطبہ نہیں لکھا جاتا جس میں مرکزی حکومت پر تنقید ہوتی ہو اس لیے کوئی گورنر اعتراض نہیں کرتا ۔ موجودہ مرکزی حکومت اختلاف کوبرداشت کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوچکی ہے کیونکہ آر ایس ایس کی شاکھا میں تربیت پانے والے یہ لوگ اپنے آقاوں کی آنکھ موند کر اتباع کرنے کے قائل ہیں ۔ ان لوگوں نے مغلوں کے زمانے میں ان کی اطاعت کی انگریزوں کے دور میں برطانوی سامراج کے وفادار بن گئے اور جب خود اقتدار میں آئے تو دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ سب لوگ ان کی بلا چوں چرا پیروی کریں ۔ ان کے خلاف زبان نہ کھولیں مگر چونکہ ایسا نہیں ہوتا اس لیے بے چینی ہوتی ہے اور اس کا اظہار گورنر صاحبان کی بغاوت بن کر ظاہر ہوتا ہے ۔
ایوان پارلیمان کے اجلاس میں جس طرح صدر مملکت کو مرکزی حکومت کا خطبہ پڑھ کر سنانا پڑتا ہے اسی طرح ریاستی اسمبلی میں گورنر کو اپنی مقامی کابینہ کا منظور شدہ خطبہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدر مملکت کے کسی ہذف و اضافہ کو مرکزی حکومت برداشت کرے گی یا اگر وہ خطبہ پڑھے بغیر کوئی بہانہ بناکر نکل جائیں تو اس کو درست سمجھا جائے گا ؟ اگر نہیں تو جو اصول مرکز میں ہے وہ ریاست میں کیوں نہیں ؟ موجودہ مرکزی حکومت ریاستوں کو اپنے برابر کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ وہ بھول گئی ہیں کہ جس طرح اسے ملک کے عوام نے منتخب کیا ہے اسی طرح ریاستی حکومت بھی الیکشن جیت کر اقتدار پر فائز ہوئی ہیں ۔ صدر مملکت کی مانند گورنر بھی براہِ راست عوام کے ذریعہ منتخب نہیں ہوئے ۔ صدر کا انتخاب تو پھر بھی عوام کے نمائندے کرتے ہیں لیکن گورنر کا تو تقرر ہوتا ہے ۔ ان کو یہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ وہ عوام کی منتخبہ حکومت کے خلاف اپنی مرضی چلائیں ۔ وہ دراصل اپنی بھی نہیں بلکہ مرکز میں بیٹھے ہوئے اپنے آقاوں کے ایماء پر یہ کام کرتے ہیں۔ آزادی سے قبل غلام ہندوستان کے اندر ملک کا وائسرائے برطانوی ملکہ کی مرضی چلاتا تھا ۔ موجودہ حالات میں اگر گورنر صاحبان دہلی کی مرضی ریاستوں پر تھوپنے لگیں تو عوام میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے اور بحران پیدا ہوجاتاہے ۔
کرناٹک اور کیرالہ سے قبل گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان تمل ناڈو کے اندر تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب اسمبلی میں پاس ہونے والے قوانین کی توثیق روک دی گئی ۔ یہ معاملہ عدالتِ عظمیٰ میں پہنچا تو وہاں اس رویہ پر سخت تنقید کے بعد واضح ہدایات دی گئیں اس سے گورنر کی آڑ میں مرکزی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اس بابت سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ 13اپریل 2025 کو اپنے اہم فیصلے میں تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی بنیاد پر ریاست میں ان دس قوانین کو نافذ کر دیا جنھیں ریاستی اسمبلی نے منظور کیا تھا کیونکہ عدالتی پھٹکار کے بعدگورنر آر این روی نے اپنی ناک کٹوا کر منظوری دے دی ۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی ریاستی حکومت نے صدر یا گورنر کی منظوری کے بجائے عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر قانون کو نافذ کیا ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں گورنر کی جانب سے قوانین کی منظوری میں تاخیر اور دوبارہ اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد بھی انہیں صدر کے پاس بھیجنے پر سخت پھٹکار لگائی تھی۔
گورنر کو ان قوانین کے کھٹکنے کی ایک وجہ تو اپنے آقاوں کی خوشنودی حاصل کرنا تھا لیکن دوسرا سبب خود ان کے اختیارات پر بھی چوٹ تھی۔ اسمبلی سے دوبار منظور شدہ دس قوانین میں سے ٩ کا تعلق ریاست کی یونیورسٹیوں میں چانسلر کے عہدے سے گورنر کو ہٹا کر وہاں چانسلر کے تقرر کا اختیارریاستی حکومت کو تفویز کرنے کا تھا۔ یہ قوانین 2022اور 2023 کے درمیان اسمبلی نے منظورکئے جبکہ ایک تو 2020 میں منظور ہوا مگرگورنر نے اسے آئین کی دفع 200 کے تحت بروقت منظوری دینے کے بجائے روک دیا تھا، مجبوراً ریاستی حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے آئین کے آرٹیکل142 کے تحت اپنی غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منظور شدہ قرار دے کر گورنر کے توسط سے مرکزی حکومت کے منہ پر کرارہ طمانچہ مارا مگردونوں کو شرم نہیں آئی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ہم آرٹیکل 200کے تحت گورنر کے اختیارات پر وقت کی حد مقرر کر کے ان کے عہدے کو کمزور نہیں کر رہے لیکن انہیں چاہئے کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کی روایات کا احترام کریں۔ عدالت نے کہاتھا کہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گورنر کو عوام کے منتخب نمائندوں اور عوامی خواہشات کاپاس و لحاظ کرنا چاہیے ۔ انہیں ایک دوست، فلسفی اور رہنما کے طور پر غیر جانبدار ہوکر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ سیاسی سہولت کی بنیاد پرکام کرنے کے بجائے آئینی حلف کی روح کے مطابق کام کرنا چاہئے ۔ جنوب کی تینوں ریاستوں میں گورنر کے حالیہ تصادم کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان لاتوں کے بھوت پر عدالتی جوتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہی چال بے ڈھنگی سے جو پہلے تھی اب بھی جاری و ساری ہے ۔ تمل ناڈو کے گورنر آر این روی کو اگر اپنی رسوائی یاد ہوتی تو وہ اس ہفتہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن اپنی روایتی نئے سال کی تقریر کیے بغیر ایوان سے واک آؤٹ نہ کرتے ۔ انہوں نے اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے کرنے کا بہانہ بنایا حالانکہ یہ تیسرا مسلسل سال ہے جب موصوف نے اسمبلی میں اپنا روایتی خطبہ پیش نہیں کیا۔
تمل ناڈو کی روایت کے مطابق اسمبلی کا اجلاس ہمیشہ ”تمل تائی وازتھو” (ماں تمل کی تعریف میں ترانہ) سے شروع ہوتا ہے ، اور اسی روایت پر اس سال بھی عمل کیا گیا۔ اس تنازع کی بابت اسمبلی کے اسپیکر ایم اپّاوو نے ایوان کو بتایا کہ گورنر کا اصرار تھا کہ اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہو، تاہم انہیں واضح کیا گیا کہ اسمبلی اپنی طے شدہ روایات اور ضوابط کے مطابق کام کرتی ہے ، جن کے تحت سب سے پہلے ”تمل تائی وازتھو” پیش کیا جاتا ہے ۔ گورنر نے اس روایت میں تبدیلی کے مطالبے کو مسترد کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے تمل روایت کو پامال کیا اور برہمی کے عالم میں ایوان سے نکل گئے ۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اپنے خطاب میں گورنر کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی کی توہین ہے ، جس کی تاریخ اور روایت سو سال سے زائد پر محیط ہے ۔ انہوں نے ڈی ایم کے کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ سی این انا درئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انا درئی نے گورنر کے عہدے کی ضرورت پر سوال اٹھائے تھے ، مگر جب تک یہ عہدہ موجود رہا، اس کی عزت اور وقار کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ اسٹالن نے الزام لگایا کہ موجودہ گورنر اسمبلی کے وقار کا احترام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
قومی ترانہ تو ایک بہانہ تھا حکومت کا تیارشدہ خطبہ نہیں پڑھنا نشانہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بہانے بازی کو بے نقاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یہ تجویز پیش کی کہ واک آؤٹ کے باوجود گورنر کے خطاب کو ”ادا شدہ” تصور کیا جائے ۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اسپیکر اپّاوو نے اعلان کیا کہ اسمبلی کی کارروائی میں صرف گورنر کے خطاب کا متن شامل کیا جائے گا اور دن بھر کی دیگر کارروائیاں ریکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گی۔اس طرح گورنر نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی اور پھر کھسیانی بلی کی مانند راج بھون سے جاری بیان میں واک آؤٹ کی وضاحت کرتے ہوئے 13 وجوہات بتائیں، مثلاً ”ایک بار پھر قومی ترانے کی توہین کی گئی اور آئینی بنیادی فریضے کو نظر انداز کیا گیا”۔ گورنر نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کا مائیک بار بار بند کیا گیا اور انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان کے خطاب کے مسودے میں بے بنیاد اور گمراہ کن دعوے شامل تھے ۔ اس طرح وضاحت کے دوران من کی بات نکل کر سامنے آگئی اور اوپر سے جو بے عزتی ہوئی وہ الگ سے ہے ۔ تمل ناڈو کے گورنر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کی ان اوٹ پٹانگ حرکتوں سے تمل وقار کو ٹھیس لگتی ہے اور اس الزام کو تقویت ملتی ہے شمالی ہندوستان کے لوگ ان پر تہذیبی یلغار کرکے ان کے تشخص کو ختم کردینا چاہتے ہیں ۔ یہ احساس نہ صرف بی جے پی بلکہ پورے ملک کے لیے نقصاندہ ہے ۔
٭٭٭