وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر بنانے کا اعلان وجود - بدھ 24 فروری 2021

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے دوسرے بڑے امیر تاجر مکیش امبانی نے دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر گجرات میں تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس پروجیکٹ کو ابتدا میں ہی تنقید کا سامنا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق ارب پتی تاجر مکیش امبانی نے ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں 113 ہیکٹر یعنی 280 ایکڑ پر محیط دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں افریقی شیر ، بنگال کے شیر اور کوموڈو ڈریگن سمیت ہندوستان اور دنیا بھر سے جانوروں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کی 100 سے...

مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر بنانے کا اعلان

نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں میں کے ٹو سَر کرکے تاریخ رقم کردی وجود - اتوار 17 جنوری 2021

نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو موسم سرما میں سر کر کے نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے ۔نیپالی کوہ پیماؤں کی 10 رکنی ٹیم نے 31 دسمبر 2020 سے اپنے مہم جوئی کا آغاز کیا تھا اور16 جنوری 2021 کو دن کے وقت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کا اعلان کیا گیا۔گلگت بلتستان حکومت نے پہلی بار موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے نیپالی حکومت کی کاوشوں کو سرمائی مہم جوئی کے لیے حوصلہ مند قرار دیا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان محمد خال...

نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں میں کے ٹو سَر کرکے تاریخ رقم کردی

شاہ سلمان کے یوم بیعت کے 5 سال مکمل،خوشی کا اظہار وجود - اتوار 01 دسمبر 2019

سعودی عرب کے عوام اور مقیم غیر ملکی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے پانچویں یوم بیعت پرخوشی کا اظہار کیا گیا ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پانچ برس قبل 3 ربیع الثانی 1436ھ کو مملکت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عوام شاہ سلمان کے دور میں ترقی کے عمل میں تیز رفتاری اور زندگی کے تمام شعبوں میں کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھنے پردلی محبت کے ساتھ اظہار یکجہتی کر تے رہے ۔سعودی عرب کے موجودہ دور حکومت میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرنگرانی مملکت بھر میں اپنے شہریو...

شاہ سلمان کے یوم بیعت کے 5 سال مکمل،خوشی کا اظہار

سعودی عرب، ریاض سیزن میں زائرین کی تعداد 84 لاکھ سے تجاوز وجود - اتوار 01 دسمبر 2019

سعودی عرب کے منعقدہ الرریاض سیزن میں زائرین کی تعداد 84 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے کہاہے کہ دارالحکومت الریاض میں منعقدہ الریاض تفریحی سیزن میں اب تک 84 لاکھ سے زائد زائرین شرکت کرچکے ہیں۔ تفریحی اتھارٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ ماہ کے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ریاض سیزن میں شرکت ایک نیا ریکارڈ ہے ۔زائرین میں اندرون ملک کے ساتھ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں شائقین شریک ہوچکے ہ...

سعودی عرب، ریاض سیزن میں زائرین کی تعداد 84 لاکھ سے تجاوز

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک وجود - اتوار 10 جون 2018

یوں تو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان وادی السلام کے نام سے عراق کے شہر نجف میں ہے جو کہ 1400سال سے قائم و دا ئم ہے اس قبرستان کا کل رقبہ 6مر بع کلو میٹر ہے اور یہاں 50لا کھ سے زا ئد لوگ دفن ہیں اس قبرستان میں رو زا نہ 200مر دے دفنا ئے جا تے ہیں جبکہ عراق کے فو جی جو کہ جنگوں میں بر سر پیکار رہتے ہیں وہ محاذ پر جا نے سے قبل اس قبرستان میں کھڑے ہو کر دعا گو ہوتے ہیں کہ اگر لڑا ئی کے دوران وہ زندگی کی با زی ہا ر جا ئیں تو انہیں اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا جا ئے۔ ـیہ قبرستان ایک ایس...

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘ وجود - اتوار 10 جون 2018

کوبر پیڈی ایک ایسا آسٹریلوی ٹائون ہے جو کہ آسٹریلیا کے علاقے ایڈیلیڈ کے شمال میں 850 کلومیٹر کے فاصلے پر اسٹیورٹ ہائی وے کے ساتھ واقع ہے۔ یہ مقام دیکھنے میں کسی صحرا کی مانند لگتا ہے جہاں کوئی درخت موجود نہیں اور صرف ہموار زمین ہے۔آپ کو یہاں ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع چند گھر،ریسٹورنٹس، ایک پولیس اسٹیشن ،ایک اسکول اور ایک ہسپتال دکھائی دے گا۔ لیکن آپ کو یہ جو دکھائی دے رہا ہے یہ صرف آدھا ٹائون ہے۔ اور باقی نصف ٹائون زیرِ زمین آباد ہے۔یہاں کے زیادہ تر رہائشیوں نے زیرِ زم...

زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘

سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک وجود - اتوار 03 جون 2018

سکھر کے سیاسی لوگوں نے بلند وبانگ دعوے جو کیے تھے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کاوشوں کے ساتھ اپنے وعدے مکمل کیے جارہے ہیں، دن دگنی اور رات چگنی میں سکھر شہر کو پیرس تو نہیں بنایا جاسکتا البتہ کچھ ایسے منصوبے ہیں جو رفتہ رفتہ بنائے جارہے ہیں، سکھر شہر میں جتنے بھی منصوبے ہیں ان میں سے تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور چند منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن میں سے ایک منصوبہ ایسا بھی ہے جو تقریباً تاحال مکمل ہوتے ہوتے نامکمل ہوگیا ہے،وہ ہے سکھر کی گنجان آبادی والے علاقے بچل شاہ میانی او...

سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک

لاہور کا تاریخی پس منظر وجود - اتوار 03 جون 2018

لاہور شہر کا شمار دنیا کے مشہور، قدیم اور خوبصورت تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق تو یہ شہر قبل از مسیح دور کا ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ لاہور شہر رام کے بیٹے لوہ نے آباد کیا تھا لیکن تاریخ لاہور کا ذکر پہلی مرتبہ 982ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’حدودالعالم‘‘ میں ملتا ہے۔ شاہ حسین میراں زنجانی اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ اسی دور میں لاہور تشریف لائے۔ ان کی آمد کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے ہندو راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا اور محمود غزنوی ...

لاہور کا تاریخی پس منظر

دورِ اکبری کی یادگار ’’عمر کوٹ‘‘ وجود - اتوار 03 جون 2018

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہیں قدرت نے بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، وطن عزیز میں جہاں عظیم ترین چوٹیاں، دیو قامت گلیشیئر، قدرتی چشمے، خوب صورت جھیلیں، دریا، ریگستان، معدنیات، جنگلات اور ہر طرح کے موسم شامل ہیں، وہاں ملک کے مختلف علاقوں میں زمانہ قدیم میں مختلف حکمرانوں کے ادوار میں تعمیر کیے جانے والے بلند و بالا تاریخی قلعے بھی موجود ہیں، جو نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ مغل دور میں قائم ہونے والا تاریخی قلعہ ’’عمر کوٹ ‘‘بھی اپنی پ...

دورِ اکبری کی یادگار ’’عمر کوٹ‘‘

دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ وجود - اتوار 27 مئی 2018

1960ء کے اوائل کی بات ہے کہ جب کوہاٹ ایک اہم فوجی چھاؤنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی پرسکون علاقہ تھا۔ سرسبز و شاداب وادی میں واقعہ یہ شہر قدرت کے خوبصورت ترین مناظر سے لدا پھندا دکھائی دیتا تھا۔ وادی کو خدوخال عطا کرنے والے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے چشمے اس کی مٹی کو سیراب بھی کرتے تھے اور زرخیز بھی۔ اس علاقے کی تاریخ شجاعت اور بہادری کے عظیم واقعات سے پْر ہے۔یہی وہ ساری رعنائیاں اور دلکشیاں تھیں جنہوں نے 1960ء میں نوجوانوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ہم لاہور ر...

دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز وجود - اتوار 27 مئی 2018

مصر دنیا کے آٹھ قدیم عجوبوں میں واحد بچ جانے والے ایک عجوبے یعنی اہراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کامحورہے۔ان اہراموں کے راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کئی برسوں سے وادی مصرکی ریت چھان رہے ہیں۔جس کے تلے برآمدہونے والی ان گنت دریافتوں نے حیرت کاایک جہاں آباد کررکھا ہے۔ انہی دریافتوں میں ایک دریافت قدیم مصری فرعون توتن خامن کے مقبرے کی بھی ہے۔انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی اس دریافت میں اس قدر عالمگیر ش...

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز

دنیا کا سردترین ٹکڑا۔۔۔قطب شمالی وجود - اتوار 20 مئی 2018

قطب شمالی بحر منجمد شمالی پر واقع دنیا کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جہاں ہر طرف برف ہی نظر آتی ہے۔ یہاں شدید سردی کے سیر کے شوقین افراد آتے ہیں جو برف کے اوپر ہی خیمے گاڑھ کر پندرہ بیس دن تک یہاں رہتے ہیں۔ قطب شمالی سے مراد زمین کا انتہائی شمالی نقطہ ہے یعنی 90درجے شمال عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جہاں سے آپ جس سمت بھی سفر کریں آپ جنوب کی طرف ہی جارہے ہونگے۔ قطب نما قسب شمالی کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ مختلف تعریفوں کے مطابق شمالی قطب کو بحری سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج کل ان...

دنیا کا سردترین ٹکڑا۔۔۔قطب شمالی

تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے وجود - اتوار 20 مئی 2018

پاکستان کا سب سے بڑا صحراتھر، اپنے اندر قدرت کے کئی خوب صورت رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں کہیں اڑتی ریت نظر آتی ہے تو کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں ٹیلے ہیں تو کہیں پہاڑ اور کہیں تاریخی مقامات ،غرض کہ یہ قدرت کے دل کش مناظر کا شاہکار صحرا طبعی خصوصیات سے پوری طرح مزین ہے۔ یہ سندھ کا وہ خطہ ہے ،جو نہ صرف معدنی دولت سے مالامال ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی اس کی اہمیت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ساڑھے 3 سو کلو میٹر تک بھارت سے جڑا یہ صحرا بہت حساس گردانا جاتا ہے۔یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ...

تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے

گوات در سے گوادر تک وجود - اتوار 13 مئی 2018

گوادر بلوچستان کا ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے آثار ملتے ہیں جو گوادر کی قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن ظاہر کرتے ہیں۔ گوادر کا لفظی مفہوم ’’گوات در‘‘ یعنی ہوا کا دروازہ ہے۔ کوہ باتیل کے دامن میں واقع یہ شہر نہ صرف ماضی میں ایک تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے بلکہ اکیسویں صدی میں گوادر کو وسط ایشیا کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا یہ ساحلی شہر 1892 سے 1958 تک سلطنتِ عمان کا حصہ رہا۔ 1958 میں حکومت پاکستان نے اسے سلطنت عمان سے 40 لاکھ پونڈ ...

گوات در سے گوادر تک

سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں وجود - اتوار 13 مئی 2018

سرگودھا جغرافیائی لحاظ سے خوبصورت پہاڑیوں سے مالا مال ہے۔ کرانہ پہاڑیوں کا یہ سلسلہ سرگودھا کے علاقے شاہین آباد سے لے کر چنیوٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد روڈ پر جائیں تو ان پہاڑیوں کی تابناکی کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے دیو مالائی حسن اور قصے کہانیوں کے وارث ہیں۔ انہی پہاڑیوں کی بدولت سرگودھا کو ایشیا کی سب سے بڑی اسٹون کرشنگ انڈسٹری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرگودھا کی انہی پہاڑیوں میں سے پھوٹنے والے چشمے اور جھیلیں جہاں اپنی خوبصورتی کی...

سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں

محکمہ آثارقدیمہ کی نظروں سے اوجھل’’ڈگری ‘‘کے تاریخی مقامات وجود - بدھ 09 مئی 2018

ڈگری تحصیل تاریخی حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ مذکورہ تحصیل کے گردو نواح میں کئی تاریخی مقام موجود ہیں۔ جو اب تک تاریخ دانوں اور محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ڈگری کے نواحی گاؤں رانوں رمدان کے قریب دیھ 175 میں میندھروں کے ٹیلے جنہیں سندھی زبان میں (میندھرن جا بھٹ) کہا جاتا ہے کہ پران دریا کے کنارے دوسو بیس ایکڑ زمین پر مشتمل ہے۔ آثار قدیمہ کی عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے ستر سے اسی ایکڑ زمین پراطراف میں قبضہ ہوچکا ہے۔ اور زمین آباد کی جارہی ہے۔ اس سلسلے...

محکمہ آثارقدیمہ کی نظروں سے اوجھل’’ڈگری ‘‘کے تاریخی مقامات

عظمت رفتہ کایادگارشہر’’قرطبہ‘‘ وجود - اتوار 06 مئی 2018

اسپن جس کو اندلس یا ہسپانیہ کہتے ہیں براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس کے وسط میں شہر قرطبہ آباد ہے۔ اس شہر پر مسلمانوں کو حکومت تقریباََ آٹھ سو سال تک رہی۔ بنی اْمیہ کے چھٹے خلیفہ عبدالملک کے عہدِ حکومت میں ایک مشہور سپہ سالار طارق بن زیاد نے یہ ملک فتح کیا تھا۔ جس مقام پربہادر طارق پہلی مرتبہ اْترے تھے وہ جیل الطارق (انگریزی میں جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہے۔ خلیفہ عبدالملک نے طارق کو اندلس کا حاکم مقرر کر دیا تھا لیکن جب بنی اْمیہ کی سلطنت کا دور ختم ہوا اور سلطنت...

عظمت رفتہ کایادگارشہر’’قرطبہ‘‘

پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر وجود - اتوار 06 مئی 2018

پاکستان کے شمالی علاقے اپنے قدرتی حسن کی بناء پر سیاحت کی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔ اندون اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دیکھنے آتے ہیں۔ موسم سرما میں محدود راستوں اور موسم کی سختی کی بناء￿ پر سیاح مری کی برف باری دیکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مہم جو قسم کے ہّمت والے سیاح ہی موسم سرما میں مری کے علاوہ دوسرے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ گرمیوں کا آغاز شدت سے ہوتاہے، ساتھ شمالی پاکستان دیکھنے کا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح، ٹریکر، کوہ پیما اور ...

پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر

خیرپور سندھ کا اہم تاریخی شہر وجود - اتوار 29 اپریل 2018

یوں تو سندھ کے کم وبیش تمام شہروں کو کسی نہ کسی اعتبار سے تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن حیدرآباد، سکھر، خیرپور اور عمر کوٹ کو ان میں دوسروں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔خیرپور کو سندھ کاپانچواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر تصور کیاجاتاہے ، جبکہ رقبے کے اعتبار سے یہ سندھ کا تیسرا سب سے بڑا ضلع ہے ، خیرپور ضلع 8تعلقوں ،15ٹائونز اور89یونین کونسلوںپر مشتمل ہے اور2017 کی مردم شماری کے مطابق اس ضلع کی مجموعی آبادی 2.4 ملین یعنی24لاکھ بتائی گئی ہے۔ خیرپور ضلع میں شامل معروف شہروں میں خیرپور...

خیرپور سندھ کا اہم تاریخی شہر

مقبرہ قطب الدین ایبک وجود - اتوار 29 اپریل 2018

انارکلی بازار لاہور سے ایک سڑک جومیو ہسپتال کی طرف جاتی ہے اسے ایبک روڈ کہتے ہیں ۔ اس چھوٹی سی سڑک پر ایک بہت بڑا اور ہندوستان کا پہلا باقاعدہ مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک آسودہ خاک ہے۔قطب الدین ایبک ایک ترک غلام تھا۔نیشاپور کے قاضی فخرالدین نے اسے ترکستان کے ایک تاجر سے خریدا اور غزنی لے گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری کی جہاں دیدہ نگاہوں نے قطب الدین ایبک کی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور ایبک کو خرید کر اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔قطب الدین ایبک نے چھوٹی عمر میں ہی قرآن مجی...

مقبرہ قطب الدین ایبک

رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی سے کرا چی یو نیورسٹی تک وجود - اتوار 22 اپریل 2018

زندہ قومیں اپنے ما ضی حال اور مستقبل سے غافل نہیں ہو تیں قوموں کی تبا ہی اس وقت ہو تی ہے جب وہ اپنے تابناک ماضی کو بھلا دیتی ہیں ،جو لوگ تاریخ کو بھول جا تے ہیں تا ریخ بھی انہیں بھول جا تی ہے اور پھر نہ تو ان کا ما ضی ہو تا اور نہ ہی حال مستقبل اور یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے، ہم نے اپنے ما ضی کو فراموش کر تے ہو ئے انگریزوں کو سب سے مہذب سب سے ترقی یافتہ قوموں میں شمار کر نا شروع کر دیا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے ہم انگریزوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہیں جس کی زندہ...

رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی سے کرا چی یو نیورسٹی تک

گاشو جھیل گلگت بلتستان وجود - اتوار 22 اپریل 2018

پاکستان کوعطاکردی بے شمار نعمتوں میں سرفہرست اس کے فلک شگاف پہاڑاورطویل ترین گلیشیرہیں ،جنھیں قدرت پھلوں پھلوں اورقو قزع کے حسین رنگوں سے سجادیاہے ۔اوروادیاں بھی دلفریب ہیں ۔اورجھیلوں کاتذکرہ کیاجائے توذہن میں بے شمارنام کلبلانے لگتے ہیں ۔یہاں تما م جھیلوں کاتذکرہ مناسب نہیں اس لیے ’’گاشوجھیل ‘کی طرف آتے ہیں جوگلگت میں جگلوٹ کے قریب سائی بالاکے مقام پرواقع ہے ۔ جگلوٹ گلگت سے تقریباً 45 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دنیاکے تین بڑے پہاڑی سلسلے کوہ قراق...

گاشو جھیل گلگت بلتستان

ایمسٹرڈیم سمندرکے اوپرکھڑابلندوبالاعمارتوں کاعالی شان شہر وجود - اتوار 15 اپریل 2018

قوموں کی تہذیب وتمدّن سے آشنا ہونے کے لیے قرآن میں حکم ہے کہ زمین میں پھرو اور انکار کرنے والی مردہ قوموں کے حالات سے واقفیت حاصل کرو۔ چنانچہ ہم نے کئی ممالک دیکھے اور جہالت کی زندگی سے روشنی تک حالات کا علم ہوا۔ موجودہ دور میں ہالینڈ کے لوگوں نے جینے کاسلیقہ سیکھ لیا اور ماڈرن تہذیب و تمدن کے میدان میں عروج حاصل کیا۔ ڈچ قوم نے اپنے اردگرد پر غور کیا۔ تدبر و تفکر اوریکسوئی سے اپنے اندر انقلاب برپا کر کے دنیا کی ماڈرن قوموں میں اپنا شمار کرلیا۔ایک زمانہ تھاکہ ڈچ مچھلیاں پکڑت...

ایمسٹرڈیم سمندرکے اوپرکھڑابلندوبالاعمارتوں کاعالی شان شہر