وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک وجود - اتوار 10 جون 2018

یوں تو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان وادی السلام کے نام سے عراق کے شہر نجف میں ہے جو کہ 1400سال سے قائم و دا ئم ہے اس قبرستان کا کل رقبہ 6مر بع کلو میٹر ہے اور یہاں 50لا کھ سے زا ئد لوگ دفن ہیں اس قبرستان میں رو زا نہ 200مر دے دفنا ئے جا تے ہیں جبکہ عراق کے فو جی جو کہ جنگوں میں بر سر پیکار رہتے ہیں وہ محاذ پر جا نے سے قبل اس قبرستان میں کھڑے ہو کر دعا گو ہوتے ہیں کہ اگر لڑا ئی کے دوران وہ زندگی کی با زی ہا ر جا ئیں تو انہیں اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا جا ئے۔ ـیہ قبرستان ایک ایس...

عراق کے وادی السلا م سے ٹھٹھہ کے مکلی تک

زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘ وجود - اتوار 10 جون 2018

کوبر پیڈی ایک ایسا آسٹریلوی ٹائون ہے جو کہ آسٹریلیا کے علاقے ایڈیلیڈ کے شمال میں 850 کلومیٹر کے فاصلے پر اسٹیورٹ ہائی وے کے ساتھ واقع ہے۔ یہ مقام دیکھنے میں کسی صحرا کی مانند لگتا ہے جہاں کوئی درخت موجود نہیں اور صرف ہموار زمین ہے۔آپ کو یہاں ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع چند گھر،ریسٹورنٹس، ایک پولیس اسٹیشن ،ایک اسکول اور ایک ہسپتال دکھائی دے گا۔ لیکن آپ کو یہ جو دکھائی دے رہا ہے یہ صرف آدھا ٹائون ہے۔ اور باقی نصف ٹائون زیرِ زمین آباد ہے۔یہاں کے زیادہ تر رہائشیوں نے زیرِ زم...

زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘

سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک وجود - اتوار 03 جون 2018

سکھر کے سیاسی لوگوں نے بلند وبانگ دعوے جو کیے تھے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کاوشوں کے ساتھ اپنے وعدے مکمل کیے جارہے ہیں، دن دگنی اور رات چگنی میں سکھر شہر کو پیرس تو نہیں بنایا جاسکتا البتہ کچھ ایسے منصوبے ہیں جو رفتہ رفتہ بنائے جارہے ہیں، سکھر شہر میں جتنے بھی منصوبے ہیں ان میں سے تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور چند منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن میں سے ایک منصوبہ ایسا بھی ہے جو تقریباً تاحال مکمل ہوتے ہوتے نامکمل ہوگیا ہے،وہ ہے سکھر کی گنجان آبادی والے علاقے بچل شاہ میانی او...

سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک

لاہور کا تاریخی پس منظر وجود - اتوار 03 جون 2018

لاہور شہر کا شمار دنیا کے مشہور، قدیم اور خوبصورت تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق تو یہ شہر قبل از مسیح دور کا ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ لاہور شہر رام کے بیٹے لوہ نے آباد کیا تھا لیکن تاریخ لاہور کا ذکر پہلی مرتبہ 982ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’حدودالعالم‘‘ میں ملتا ہے۔ شاہ حسین میراں زنجانی اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ اسی دور میں لاہور تشریف لائے۔ ان کی آمد کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے ہندو راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا اور محمود غزنوی ...

لاہور کا تاریخی پس منظر

دورِ اکبری کی یادگار ’’عمر کوٹ‘‘ وجود - اتوار 03 جون 2018

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہیں قدرت نے بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، وطن عزیز میں جہاں عظیم ترین چوٹیاں، دیو قامت گلیشیئر، قدرتی چشمے، خوب صورت جھیلیں، دریا، ریگستان، معدنیات، جنگلات اور ہر طرح کے موسم شامل ہیں، وہاں ملک کے مختلف علاقوں میں زمانہ قدیم میں مختلف حکمرانوں کے ادوار میں تعمیر کیے جانے والے بلند و بالا تاریخی قلعے بھی موجود ہیں، جو نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ مغل دور میں قائم ہونے والا تاریخی قلعہ ’’عمر کوٹ ‘‘بھی اپنی پ...

دورِ اکبری کی یادگار ’’عمر کوٹ‘‘

دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ وجود - اتوار 27 مئی 2018

1960ء کے اوائل کی بات ہے کہ جب کوہاٹ ایک اہم فوجی چھاؤنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی پرسکون علاقہ تھا۔ سرسبز و شاداب وادی میں واقعہ یہ شہر قدرت کے خوبصورت ترین مناظر سے لدا پھندا دکھائی دیتا تھا۔ وادی کو خدوخال عطا کرنے والے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے چشمے اس کی مٹی کو سیراب بھی کرتے تھے اور زرخیز بھی۔ اس علاقے کی تاریخ شجاعت اور بہادری کے عظیم واقعات سے پْر ہے۔یہی وہ ساری رعنائیاں اور دلکشیاں تھیں جنہوں نے 1960ء میں نوجوانوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ہم لاہور ر...

دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز وجود - اتوار 27 مئی 2018

مصر دنیا کے آٹھ قدیم عجوبوں میں واحد بچ جانے والے ایک عجوبے یعنی اہراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کامحورہے۔ان اہراموں کے راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کئی برسوں سے وادی مصرکی ریت چھان رہے ہیں۔جس کے تلے برآمدہونے والی ان گنت دریافتوں نے حیرت کاایک جہاں آباد کررکھا ہے۔ انہی دریافتوں میں ایک دریافت قدیم مصری فرعون توتن خامن کے مقبرے کی بھی ہے۔انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی اس دریافت میں اس قدر عالمگیر ش...

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز

دنیا کا سردترین ٹکڑا۔۔۔قطب شمالی وجود - اتوار 20 مئی 2018

قطب شمالی بحر منجمد شمالی پر واقع دنیا کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جہاں ہر طرف برف ہی نظر آتی ہے۔ یہاں شدید سردی کے سیر کے شوقین افراد آتے ہیں جو برف کے اوپر ہی خیمے گاڑھ کر پندرہ بیس دن تک یہاں رہتے ہیں۔ قطب شمالی سے مراد زمین کا انتہائی شمالی نقطہ ہے یعنی 90درجے شمال عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جہاں سے آپ جس سمت بھی سفر کریں آپ جنوب کی طرف ہی جارہے ہونگے۔ قطب نما قسب شمالی کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ مختلف تعریفوں کے مطابق شمالی قطب کو بحری سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج کل ان...

دنیا کا سردترین ٹکڑا۔۔۔قطب شمالی

تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے وجود - اتوار 20 مئی 2018

پاکستان کا سب سے بڑا صحراتھر، اپنے اندر قدرت کے کئی خوب صورت رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں کہیں اڑتی ریت نظر آتی ہے تو کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں ٹیلے ہیں تو کہیں پہاڑ اور کہیں تاریخی مقامات ،غرض کہ یہ قدرت کے دل کش مناظر کا شاہکار صحرا طبعی خصوصیات سے پوری طرح مزین ہے۔ یہ سندھ کا وہ خطہ ہے ،جو نہ صرف معدنی دولت سے مالامال ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی اس کی اہمیت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ساڑھے 3 سو کلو میٹر تک بھارت سے جڑا یہ صحرا بہت حساس گردانا جاتا ہے۔یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ...

تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے

گوات در سے گوادر تک وجود - اتوار 13 مئی 2018

گوادر بلوچستان کا ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے آثار ملتے ہیں جو گوادر کی قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن ظاہر کرتے ہیں۔ گوادر کا لفظی مفہوم ’’گوات در‘‘ یعنی ہوا کا دروازہ ہے۔ کوہ باتیل کے دامن میں واقع یہ شہر نہ صرف ماضی میں ایک تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے بلکہ اکیسویں صدی میں گوادر کو وسط ایشیا کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا یہ ساحلی شہر 1892 سے 1958 تک سلطنتِ عمان کا حصہ رہا۔ 1958 میں حکومت پاکستان نے اسے سلطنت عمان سے 40 لاکھ پونڈ ...

گوات در سے گوادر تک

سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں وجود - اتوار 13 مئی 2018

سرگودھا جغرافیائی لحاظ سے خوبصورت پہاڑیوں سے مالا مال ہے۔ کرانہ پہاڑیوں کا یہ سلسلہ سرگودھا کے علاقے شاہین آباد سے لے کر چنیوٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد روڈ پر جائیں تو ان پہاڑیوں کی تابناکی کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے دیو مالائی حسن اور قصے کہانیوں کے وارث ہیں۔ انہی پہاڑیوں کی بدولت سرگودھا کو ایشیا کی سب سے بڑی اسٹون کرشنگ انڈسٹری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرگودھا کی انہی پہاڑیوں میں سے پھوٹنے والے چشمے اور جھیلیں جہاں اپنی خوبصورتی کی...

سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں

محکمہ آثارقدیمہ کی نظروں سے اوجھل’’ڈگری ‘‘کے تاریخی مقامات وجود - بدھ 09 مئی 2018

ڈگری تحصیل تاریخی حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ مذکورہ تحصیل کے گردو نواح میں کئی تاریخی مقام موجود ہیں۔ جو اب تک تاریخ دانوں اور محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ڈگری کے نواحی گاؤں رانوں رمدان کے قریب دیھ 175 میں میندھروں کے ٹیلے جنہیں سندھی زبان میں (میندھرن جا بھٹ) کہا جاتا ہے کہ پران دریا کے کنارے دوسو بیس ایکڑ زمین پر مشتمل ہے۔ آثار قدیمہ کی عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے ستر سے اسی ایکڑ زمین پراطراف میں قبضہ ہوچکا ہے۔ اور زمین آباد کی جارہی ہے۔ اس سلسلے...

محکمہ آثارقدیمہ کی نظروں سے اوجھل’’ڈگری ‘‘کے تاریخی مقامات

عظمت رفتہ کایادگارشہر’’قرطبہ‘‘ وجود - اتوار 06 مئی 2018

اسپن جس کو اندلس یا ہسپانیہ کہتے ہیں براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس کے وسط میں شہر قرطبہ آباد ہے۔ اس شہر پر مسلمانوں کو حکومت تقریباََ آٹھ سو سال تک رہی۔ بنی اْمیہ کے چھٹے خلیفہ عبدالملک کے عہدِ حکومت میں ایک مشہور سپہ سالار طارق بن زیاد نے یہ ملک فتح کیا تھا۔ جس مقام پربہادر طارق پہلی مرتبہ اْترے تھے وہ جیل الطارق (انگریزی میں جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہے۔ خلیفہ عبدالملک نے طارق کو اندلس کا حاکم مقرر کر دیا تھا لیکن جب بنی اْمیہ کی سلطنت کا دور ختم ہوا اور سلطنت...

عظمت رفتہ کایادگارشہر’’قرطبہ‘‘

پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر وجود - اتوار 06 مئی 2018

پاکستان کے شمالی علاقے اپنے قدرتی حسن کی بناء پر سیاحت کی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔ اندون اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دیکھنے آتے ہیں۔ موسم سرما میں محدود راستوں اور موسم کی سختی کی بناء￿ پر سیاح مری کی برف باری دیکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مہم جو قسم کے ہّمت والے سیاح ہی موسم سرما میں مری کے علاوہ دوسرے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ گرمیوں کا آغاز شدت سے ہوتاہے، ساتھ شمالی پاکستان دیکھنے کا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح، ٹریکر، کوہ پیما اور ...

پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر

خیرپور سندھ کا اہم تاریخی شہر وجود - اتوار 29 اپریل 2018

یوں تو سندھ کے کم وبیش تمام شہروں کو کسی نہ کسی اعتبار سے تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن حیدرآباد، سکھر، خیرپور اور عمر کوٹ کو ان میں دوسروں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔خیرپور کو سندھ کاپانچواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر تصور کیاجاتاہے ، جبکہ رقبے کے اعتبار سے یہ سندھ کا تیسرا سب سے بڑا ضلع ہے ، خیرپور ضلع 8تعلقوں ،15ٹائونز اور89یونین کونسلوںپر مشتمل ہے اور2017 کی مردم شماری کے مطابق اس ضلع کی مجموعی آبادی 2.4 ملین یعنی24لاکھ بتائی گئی ہے۔ خیرپور ضلع میں شامل معروف شہروں میں خیرپور...

خیرپور سندھ کا اہم تاریخی شہر

مقبرہ قطب الدین ایبک وجود - اتوار 29 اپریل 2018

انارکلی بازار لاہور سے ایک سڑک جومیو ہسپتال کی طرف جاتی ہے اسے ایبک روڈ کہتے ہیں ۔ اس چھوٹی سی سڑک پر ایک بہت بڑا اور ہندوستان کا پہلا باقاعدہ مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک آسودہ خاک ہے۔قطب الدین ایبک ایک ترک غلام تھا۔نیشاپور کے قاضی فخرالدین نے اسے ترکستان کے ایک تاجر سے خریدا اور غزنی لے گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری کی جہاں دیدہ نگاہوں نے قطب الدین ایبک کی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور ایبک کو خرید کر اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔قطب الدین ایبک نے چھوٹی عمر میں ہی قرآن مجی...

مقبرہ قطب الدین ایبک

رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی سے کرا چی یو نیورسٹی تک وجود - اتوار 22 اپریل 2018

زندہ قومیں اپنے ما ضی حال اور مستقبل سے غافل نہیں ہو تیں قوموں کی تبا ہی اس وقت ہو تی ہے جب وہ اپنے تابناک ماضی کو بھلا دیتی ہیں ،جو لوگ تاریخ کو بھول جا تے ہیں تا ریخ بھی انہیں بھول جا تی ہے اور پھر نہ تو ان کا ما ضی ہو تا اور نہ ہی حال مستقبل اور یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے، ہم نے اپنے ما ضی کو فراموش کر تے ہو ئے انگریزوں کو سب سے مہذب سب سے ترقی یافتہ قوموں میں شمار کر نا شروع کر دیا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے ہم انگریزوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہیں جس کی زندہ...

رنچھوڑ لائن کی سندھ یو نیورسٹی سے کرا چی یو نیورسٹی تک

گاشو جھیل گلگت بلتستان وجود - اتوار 22 اپریل 2018

پاکستان کوعطاکردی بے شمار نعمتوں میں سرفہرست اس کے فلک شگاف پہاڑاورطویل ترین گلیشیرہیں ،جنھیں قدرت پھلوں پھلوں اورقو قزع کے حسین رنگوں سے سجادیاہے ۔اوروادیاں بھی دلفریب ہیں ۔اورجھیلوں کاتذکرہ کیاجائے توذہن میں بے شمارنام کلبلانے لگتے ہیں ۔یہاں تما م جھیلوں کاتذکرہ مناسب نہیں اس لیے ’’گاشوجھیل ‘کی طرف آتے ہیں جوگلگت میں جگلوٹ کے قریب سائی بالاکے مقام پرواقع ہے ۔ جگلوٹ گلگت سے تقریباً 45 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دنیاکے تین بڑے پہاڑی سلسلے کوہ قراق...

گاشو جھیل گلگت بلتستان

ایمسٹرڈیم سمندرکے اوپرکھڑابلندوبالاعمارتوں کاعالی شان شہر وجود - اتوار 15 اپریل 2018

قوموں کی تہذیب وتمدّن سے آشنا ہونے کے لیے قرآن میں حکم ہے کہ زمین میں پھرو اور انکار کرنے والی مردہ قوموں کے حالات سے واقفیت حاصل کرو۔ چنانچہ ہم نے کئی ممالک دیکھے اور جہالت کی زندگی سے روشنی تک حالات کا علم ہوا۔ موجودہ دور میں ہالینڈ کے لوگوں نے جینے کاسلیقہ سیکھ لیا اور ماڈرن تہذیب و تمدن کے میدان میں عروج حاصل کیا۔ ڈچ قوم نے اپنے اردگرد پر غور کیا۔ تدبر و تفکر اوریکسوئی سے اپنے اندر انقلاب برپا کر کے دنیا کی ماڈرن قوموں میں اپنا شمار کرلیا۔ایک زمانہ تھاکہ ڈچ مچھلیاں پکڑت...

ایمسٹرڈیم سمندرکے اوپرکھڑابلندوبالاعمارتوں کاعالی شان شہر

قدیم وجدیدروایتی طرززندگی کاحسین سنگم ’’لائیبیریا‘‘ وجود - اتوار 15 اپریل 2018

جمہوریہ لائیبیریا،مغربی افریقہ کا ایسا ملک ہے جس کے عوام نے کبھی غلامی قبول نہیں کی۔اس کے شمال مغرب میں ’’سیرے لونے‘‘ کا ملک ہے،شمال میں ’’گینیا‘‘ کی ریاست ہے،مشرق میں ’’کوٹے‘‘کی مملکت ہے اور مغرب اور جنوب میں بحراوقیانوس کے وسیع و عریض ساحل ہیں۔اٹھتیس ہزار مربع میل (38,250)سے کچھ زائد اس مملکت کا کل رقبہ ہے۔’’مانروویا‘‘یہاں کا دارالحکومت ہے ،1822میں اس شہر کی تاسیس ہوئی جو اب ریاست کا مرکزی ثقافتی ،تجارتی اور سیاسی مرکزہے۔’’مانروویا‘‘کم و بیش پانچ میل کے علاقے میں پھیلاہوا ش...

قدیم وجدیدروایتی طرززندگی کاحسین سنگم ’’لائیبیریا‘‘

حیدرآباد کے قریب واقع شہر سندھ کاخوبصورت شہر مٹیاری وجود - اتوار 08 اپریل 2018

مٹیاری کاشمار سندھ کے اہم شہروں میں ہوتاہے،سندھ کے دوسرے بڑے تاریخی شہر اور سندھ کے سابق دارالحکومت حیدرآباد کے قریب قومی شاہراہ سے صرف 100گز کے فاصلے پر واقع ضلع مٹیاری کے شہری اس ایٹمی دور میں بھی بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہیں ، اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، اس علاقے کے لوگوں کو پینے کاصاف پانی فراہم کرنے کاکوئی معقول انتظام نہیں ہے، کم وبیش یہی صورت حال ہسپتالوں کی ہے سرکاری ہسپتالوں کی بلند وبالا عمارتیں تو موجود ہ...

حیدرآباد کے قریب واقع شہر سندھ کاخوبصورت شہر مٹیاری

جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا وجود - اتوار 08 اپریل 2018

سری لنکا کا نام سنتے ہی عموماً کرکٹ، ریڈیو سیلون، چائے یا پھر تامل ٹائیگرز کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ کولمبو ائرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف جاتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کسی بھی ملک کی عالمی شناخت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں، مگر حقیقت میں ہر ملک متنوع مزاج رکھتا ہے۔ پچیس ہزار مربع میل کے اس سرسبز و شاداب جزیرے کی زمینی سرحدیں نہیں، فقط سمندری حدود ہیں، جو بھارت اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں۔ دو کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ملک، پہلی نظر میں بے حد مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیا۔ فی مربع م...

جنوبی ایشیاکاسرسبزوشاداب ترین جزیرہ۔۔ سری لنکا

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ وجود - اتوار 01 اپریل 2018

وقت ہو یا سمندر دونوں ہی بڑے بے رحم ہو تے ہیں ان کی فطرت میں لوٹ آ نا لکھا ہے لہذا لوٹتے ضرور ہیں مگر اللہ کی قدرت کے پیش نظر وہ سمندر جو کہ 50میل پیچھے چلا گیا ہے لوٹ کر نہیں آ یا مگر وقت ایک بار پھر لوٹ کر آ نا شروع ہو چکا ہے یہ غالبا 1839 کی بات ہے جب بر طانوی افواج نے سندھ پر قبضہ کیا اور یہاں مستقل سکونت پذیر ہو گئے، مستقل سکونت اختیار کر نے کے پیش نظر انہیں سب سے پہلے با زار کی ضرورت پیش آ ئی لہذا ان کے لیے صدر جسے کیمپ کا علا قہ کہا جا تا تھا میں ایک با زار قائم کر...

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ

قدیم ترین شہر ’’نیرون کوٹ‘‘جسے دنیاحیدرآبادکے نام سے جانتی ہے وجود - اتوار 01 اپریل 2018

پاکستان دنیا کا ایسا منفرد ملک ہے جہاں پہاڑ بھی ہیں، صحرا بھی اور سمندر بھی، کہیں برف زاروں سے ڈھکے میدان ہیں تو کہیں دور دور تک پانی کے آثار بھی نظر نہیں آتے، یہاں کے تاریخی مقامات، شمالی علاقہ جات کے دل کو چھو لینے والے مقامات اس سرزمین کو منفرد بناتے ہیں، یہ سب مقامات وطن عزیز کے تمام صوبوں کی رنگا رنگ تہذیبی ثقافت کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔وادی مہران کی قدیم ترین تہذیب کی تو پھر زمانہ قدیم کے مناظر ذہنوں میں اْبھر آتے ہیں۔آج ہم سندھ کے ایک قدیم شہر نیرون کوٹ موجودہ حیدر ا...

قدیم ترین شہر ’’نیرون کوٹ‘‘جسے دنیاحیدرآبادکے نام سے جانتی ہے

چینی تہذیب کی اہم خصوصیات وجود - منگل 27 مارچ 2018

چینی تہذیب کی اہم انفرادیت یہ تھی کہ اس میں فلسفیوں کا کردار سب سے اہم تھا۔ مذہب ان کی سیاست اور عملی زندگی میں دخل انداز نہیں ہوتا تھا۔ اِن کے ہاں آبائو اجداد کی پرستش ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کی تہذیب میں ماضی اور حال ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔ اگرچہ چین میں دوسرے مذاہب بھی آئے جن میں ایران سے زرتشت کا مذہب آیا مختلف عیسائی فرقے بھی آئے اسلام بھی آیا اور ہندوستان سے بدھ مت بھی لیکن بدھ مت کے علاوہ دوسرے مذاہب چین میں جگہ نہ پا سکے بدھ مذہب نے چین کا رابطہ ہندوستان سے قائم ...

چینی تہذیب کی اہم خصوصیات

ہنگول نیشنل پارک وجود - اتوار 25 مارچ 2018

ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا ایک بڑا پارک ہے ،جو تقریباً چالیس ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل ہے۔نیشنل پارک اس علاقے کو کہتے ہیں، جہاں جنگلی حیات، پھول، پھل اور درخت شامل ہوتے ہیں کو تحفظ حاصل ہو۔ یہاں نہ کوئی درخت کاٹ سکتا نہ شکار کر سکتا ہے ،نہ یہاں کی مٹی بجری ،گریول یا ریت نکال سکتا ہے۔ ماحول جیسا ہے ویسا ہی رکھا جاتا ہے۔ اس علاقے کے باشندے، جو ماحول دوست پیشہ اختیار کیے ہوتے ہیں ان کو اس کی اجازت ہوتی ہے جیسے گلہ بانی ،کاشتکاری یا ماہی گیری وغیرہ۔ ہنگول نیشنل پارک کا عل...

ہنگول نیشنل پارک

مالدیپبحرہند کے جزائر پر مشتمل ایک اسلامی ملک وجود - اتوار 18 مارچ 2018

جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس(510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی(80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ ’’مالی‘‘یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چار سو(400)میل کے فاصلے پر بنتا ہے ۔ دارالحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیںلیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا مع...

مالدیپبحرہند کے جزائر پر مشتمل ایک اسلامی ملک

تھائی لینڈ وجود - اتوار 18 مارچ 2018

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا ملک ہے،اس کے مغرب اور شمال مغرب میں برما کی ریاست ہے،شمال مشرق اور مشرق میں ’’لائس‘‘اور کمبوڈیاکے ممالک ہیںاورجنوب میں سمندری خلیج ہے جسے ’’خلیج تھائی لینڈ‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔خلیج تھائی لینڈ کے ساتھ ہی جنوبی چین کے سمندر اور پھرجزیرہ نما ملائیشیا بھی واقع ہیں۔تھائی لینڈ کا کل رقبہ دولاکھ مربع میل سے کچھ کم ہے اور یہ سارا ملک اپنی خلیج کے گرد ایک مدار کی صورت میں واقع ہے۔جغرافیائی طورپرتھائی لینڈ دوہزار میل طویل ساحلی پٹی کا مالک ملک ہے جس...

تھائی لینڈ

مسلمانوں کے چند حیرت انگیزکارنامے وجود - پیر 12 مارچ 2018

اندلس کے شہر اشبیلیہ کا مکین ابن زہر (وفات 1162ء) دنیا کے اولین پیرا سائٹالوجسٹس (Parasitologist ) میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے خارش کے کیڑوں (scabies) کو بیان کیا۔ مایہ ناز مسلمان انجینئر بد یع الزماں الجزاری نے 1206ء میں ایک ایسی مشین بنائی جس کے ذریعہ پانی بلندی تک لے جایا جاتا تھا۔ اس نے پانی کو اوپر لے جا نے کے لیے (یعنی آب پاشی کے لیے ) کرینک کنیکٹنگ راڈ سسٹم بنایا۔ اس ایجاد نے ٹیکنالوجی پر دیرپا اثر چھوڑا اور انجینئرنگ کی فیلڈ میں انقلاب آ گیا۔ یہ سسٹم با ئیسکل میں بھی اس...

مسلمانوں کے چند حیرت انگیزکارنامے

قدیم گندھاراتہذیب کا مرکز پشاور وجود - اتوار 11 مارچ 2018

پشا ور قد یم ز ما نے گند ھا ر اسلطنت کا مر کز تھا اور اس کا مزید پر ا نا نام بر ش پو ر تھا ۔جبکہ با دشا ہ اکبر اعظم نے اسے بعد میں پشا ور کا نا م د یا بر صغیر ہند میں تما م بیرو نی مما لک کے حملہ آور ا س را ستے سے حملہ آور ہو ئے لیکن انگر یز وں نے پشا در کا ر خ نہ کیا ۔پشاور پرحملہ آورہونے والوں میں افغا نی ،ایر انی ،یو نا نی اور مغل با دشا قا بل ذ کر ہیں ۔انیسیو یں صد ی کے ا ٓغا ز ہی میں سکھو ں نے پشا ور پر قبضہ کر لیا ۔پھر 1848ء میں انگریز قا بض ہوگئے ۔بیسو ی صد ی کے آ ...

قدیم گندھاراتہذیب کا مرکز پشاور

پاکستان کی خوبصورت جھیلوں کی سیرکریں وجود - اتوار 11 مارچ 2018

موسم گرما کی ملک بھرمیں آمد آمد ہے ‘ایسے میں گرمی سے گھبراکرکسی پرفضامقام پرجانے کوجی کرتاہے اوراگریہ مقام کوئی شاندارسی جھیل ہوتوکیاکہنے ۔ یوں توپاکستان کاچپہ چپہ قابل دید ہے لیکن ہم یہاں دس خوبصورت جھیلوں کا تعارف کرارہے ہیں ،جہاں جانے کے بعدآپ کاواپس آنے کودل ہی نہیں کرتا۔ جھیل سیف الملک خو بصو رت تر ین جھیل کی اس فہرست میں سب سے پہلا نمبر جھیل سیف الملو ک کو حا صل سے ۔یہ جھیل سیف الملو ک وادی کا غا ن کے اختتا م اور وار ی نا ران سے انہتا ئی قر یب ہے یہ پا کستا ن کی ...

پاکستان کی خوبصورت جھیلوں کی سیرکریں

ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر وجود - اتوار 04 مارچ 2018

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی سرزمین دنیا کے حسین ترین مناظرسے بھری پڑی ہے ،اور حکومت کی جانب سے ان علاقوں پر مناسب توجہ نہ دئے جانے کے باوجود ان علاقوں کودنیا کے حسین ترین مناظرکاحامل مقام قراردیا جاسکتا ہے ، ایبٹ آباد کا شمار بھی ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے ،ایبٹ آباد کاشمار پاکستان کے حسین ترین شہروں میں ہوتا ہے اور یہ غالباً پاکستان کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جو اب بھی قدیم روایات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیںیہاں قدیم روایات سے میری مراد قبائلی یا...

ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت وجود - بدھ 28 فروری 2018

برگد کے درخت صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ بہت سے قصے کہانیوں اور علاقائی ثقافت سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ کہیں اسے بوڑھ پکارا جاتا ہے تو کوئی بوہڑ کے نام سے اس کی شناخت کرتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں بینین (Banyan) کہا جاتا ہے جو گجراتی لفظ ’’بنیا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بنیا کا لفظ ہندو تاجروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ بنیا کہلانے والے ہندو تاجر اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گرمی سے بچنے اور تھکاوٹ اتارنے کے لیے برگد کے درختوں کے نیچے لیٹ جایا...

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

پاکستان کے چندقابل دیدمقامات وجود - اتوار 25 فروری 2018

پاکستان ایک ایسا خطہ ارضی ہے جو ایک ہی وقت میں گنجان آباد شہروں، قدرتی حسن اور ایک انتہائی دلکش تہذیب کا مجموعہ ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں اور کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور ہر سال ہزاروں سیاح پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ سیاحت کے شوقین افراد کے مختلف مزاج اور ذوق ہوتے ہیں، کچھ لوگ پرانی تہذیب اور تاریخ کے حامل ایسے بڑے شہروں کی طرف جانا چاہتے ہیں جو سیاحوں کو تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے کراچی اور لاہور دو ایسے شہر ہیں جو نہ صرف پاکستانی بلکہ بیرونی سیاحوں کو بھی اپ...

پاکستان کے چندقابل دیدمقامات

دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات وجود - اتوار 18 فروری 2018

ایفل ٹاور1889ء کو پیرس کی ایک نمائش کے لیے تیار کیا گیا تھا اس وقت ایفل ٹاور کو مستقل طور پر تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔1909ء میں ایفل ٹاور کو مسمار کر دیا جانا تھا لیکن پھر اس کو ایک بہت بڑے ریڈیو اینٹینا کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا گیا اور اس کو مسمار کرنے کا حکم خارج کر دیا گیا۔2011ء میں ایفل ٹاور پیسے دے کر دیکھے جانے والی دنیا کی مقبول ترین جگہ تھی اس سال تقریباً 6.98ملین لوگوں نے ایفل ٹاور کی سیر کی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران جب ہٹلر پیرس پہنچا تو فرانسیسی لوگ...

دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

انارکلی کا معمہ وجود - اتوار 18 فروری 2018

مغلوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان عمارات جہاں مرقع کاری اور کاریگری کے مبہوت کر دینے والے عناصر سے مزین ہیں وہاں اپنے اندر مختلف انسانی جذبات یعنی‘ نفرت‘ محبت‘ حسد‘ انتقام‘ انصاف‘ اور سازش وغیرہ کی سینکڑوں داستانوں کو بھی سموئے ہوئے ہیں۔ محبت کی داستانوں میں سب سے مشہور کہانی انارکلی ہے جسے سچی محبت کے جذبے نے لازوال بنا دیا ہے۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم (جہانگیر) کے عشق کی داستان ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔تاریخ دانوں اور عوام کی آراء بالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف ...

انارکلی کا معمہ

شہرمیں دوڑتی گاڑیوں کے بیچ سائیکلیںِ اسٹاک ہوم کی پہچان ہیں وجود - اتوار 18 فروری 2018

اسٹاک ہوم کی طرف روانہ ہوا تو ایسا نہیں لگا کہ کسی اور ملک گیا ہوں کیوں کہ اسکینڈے نیویا کا عمومی مزاج ایک جیسا ہے۔ صاف ستھرا ماحول، اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ، عوامی ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام، ایک ہی طرز کے ٹرانسپورٹ کارڈ، جیب پھاڑ قسم کی مہنگائی، امن و شانتی ایسی کہ لوگوں کے چہروں سے چھلکتی ہوئی محسوس ہو، دکھاوے سے ذرا دور سادہ دکھائی دینے والی اکثریت، گاڑیوں کے ساتھ ساتھ دوڑتی بھاگتی سائیکلیں اور ایک عجب سی خماری جو آسودگی کے بعد خود بخود چہرے کا حصہ بن جاتی ہے، جو باہ...

شہرمیں دوڑتی گاڑیوں کے بیچ سائیکلیںِ اسٹاک ہوم کی پہچان ہیں

دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں وجود - اتوار 11 فروری 2018

دنیا میں قدرت میں بہت سے خوبصورت مقامات تخلیق کیے ہیں جن میں بعض مقامات ایسے ہیں جن کو دیکھ کر قدرت کی کاری گرمی پر انسان رشک کر اٹھتا ہے ۔ ایسی ہی مقامات کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں ہم جھیل کا نام دیتے ہیں ، جھیلوں کا وجود پانی کے کسی جگہ پر ٹہرنے یا پھر کٹاؤ یا راستہ بنانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔زیرنظرمضمون میں بھی ہم نے چند خوبصورت جھیلوں کی معلومات اکٹھا کیا ہے جوقارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ پلی ویس جھیل Plitvice Lakes یہ جھیل کروشیا ( Croatia ) میں واقع ہے ۔ یہ...

دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں

ملیرکنڈ وجود - اتوار 11 فروری 2018

یوں پاک سرزمین کاچپہ چپہ دیکھنے کے قابل ہے ۔ لیکن قدرت بعض ایسے مقامات بھی پاکستان کوعطاء کیے جن کی مثال دیناناممکن ہے ۔ کراچی کی ساحلی پٹی ویسے توساراسال سیاحوں کی توجہ کامرکزبنی رہتی ہے لیکن موسم گرمامیں یہاں پرتفریح کے لیے آنیوالوں کاہجو م ہوتاہے اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ سمندرکے سامنے انسانوں کاسمندرنظرآتاہے ۔ہاکس بے ہویاگڈانی ہرجانب لوگ لوگ ہی لوگ نظرآتے ہیں ۔یہی نہیں سی یواورکلفٹن کے ساحل پربھی اتنارش نظرآتاہے کہ الامان والحفیظ ۔یہی نہیں صوبہ بلوچستان میں پھیلے ...

ملیرکنڈ

پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘ وجود - اتوار 04 فروری 2018

پاکستان کی پہچان نانگا پربت اپنے حسن کے جلوے بکہیرتا پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے ضلع استور میں واقع ہے ۔ دنیا کی نویں اور پاکستان میں K-2 کے بعد دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو سلسلہ کوہ ہمالیہ میں واقع ہے ۔ سطح سمندر سے اسکی بلندی تقریباً 8126 میٹر یا 26,660 فٹ ہے، سال بہر برف سے ڈہکی یہ چوٹی اپنے اندر بے پناہ حسن اور کشش رکہتی ہے اور خاص طور پر چودہویں کی رات کو جب چاند اپنے پورے جوبن پرہوتا ہے اور کہکشائیں اس سے باتیں کرتی ہیں تو اسکی خوبصورتی انسانی عقل کو حیرت میں مبتلا ک...

پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘ وجود - اتوار 04 فروری 2018

بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ یہ وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہرسال یہاں دشوارگزارراستہ طے کرکے آتے ہیں ۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ شاہ بلاول نورانی کامزاربھی ہے کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلے کاپہلاپڑائومحبت فقیرکے مزارپرہوتاہے ۔ اس کے بارے م...

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

سوات کے موسم اور نباتات وجود - اتوار 04 فروری 2018

وادی سوات دریائے سوات اور اس کے معاونین دریاووں کے نکاس کا علاقہ ہے۔ اس میں زرخیز سیلابی مٹیپائی جاتی ہے۔سوات میں وسیع پیمانے پر کاشتکاری کی جاتی ہے۔ یہ اپنے گھنے جنگلوں اور مختلف النوع پھولوں اور پھلوں کی فصلوں کے لیے مشہور ہے۔ چاول، گندم، مکئی، جو، دالیں، سرسوں، گنا اور مسور یہاں کی بڑی فصلیں رہی ہیں۔ بہت اوپر کے علاقوں میں صرف ایک فصل ہوتی ہے جب کہ وادی خاص میں دو فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کا سارا علاقہ اتنا زرخیز ہے کہ اچھی فصلوں کے حصول کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہو...

سوات کے موسم اور نباتات

رمسیس الثانی کا 3200 سال قدیم مجسمہ نئے عجائب گھر منتقل وجود - پیر 29 جنوری 2018

مصر نے جمعرات کو رمسیس دوم کا دیوہیکل مجسمہ قاہرہ کے نئے عجائب گھر میں رکھنے کے لیے منتقل کر دیا ہے۔مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ رمسیس دوم کا مجسمہ قاہرہ کے عجائب گھر میں ہونے سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔رمسیس دوم کا 3200 سالہ قدیم دیوہیکل مجسمہ گرینڈ میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ کئی سالوں کی تاخیر کے بعد یہ عجائب گھر اگلے ایک سال میں پبلک کے لیے کھول دیا جائے گا۔اس 83 ٹن وزنی مجسمے کو 400 میٹر کے فاصلے پر خاص طور پر تیار کیے گئے آہنی فریم میں منتقل کیا گ...

رمسیس الثانی کا 3200 سال قدیم مجسمہ نئے عجائب گھر منتقل

پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ وجود - اتوار 21 جنوری 2018

صحرا جس کے نام سے گرمی دھوپ۔ پیاس اور تاحدِ نگاہ ریت کا احساس ابھر کر سامنے آجاتا ہے لیکن اللہ تعالی نے کائنات میں ایسی بھی صحرا تخلیق کی ہے جو گرم نہیں بلکہ سرد ہے اور بنی نوع انسان کے لیے ایک عجوبے کی حثیت رکھتا ہے اور ایسی ہی تخلیق دیکھ کر وہ اللہ رب العزت کا متصرف ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے خوش نصیبی اور فخر کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خوبصورت خطہ عطاء کیا ہے جن میں سے ایک ــــ پہچان پاکستان گلگت بلتستان بھی ہے۔ اس خوبصورت اور دلکش خطے کا تو کیا ہ...

پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ

کرہ ارض پرموجودہ حیرت انگیزممالک‘کئی کی آبادانگلیوں پرگنی جاسکتی ہے وجود - اتوار 21 جنوری 2018

دنیامیں کئی ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی کراچی سے بھی کم ہے لیکن معاشی اعتبارسے کئی بڑے ممالک سے بہت آگے ہے جن میں کویت اوربرنائی دارالسلام قابل ذکرہیں لیکن اگریہ کہاجائے توسب کوحیرت ہوگی کہ دنیامیں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جن کی آبادی کراچی کی کسی کچی بستی میں رہنے والو ںکی تعدادسے بھی کم ہے ۔بلکہ ایک ملک توایسابھی جس کی آبادی کسی گنجا ن آبادی والے محلے سے بھی کم ہی ہے ۔یہاں ایسے ممالک کے بارے میں لکھاجارہاہے جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ آپ نے کبھی سنانہیں ہوگا۔ان ممالک ...

کرہ ارض پرموجودہ حیرت انگیزممالک‘کئی کی آبادانگلیوں پرگنی جاسکتی ہے

نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت وجود - اتوار 07 جنوری 2018

رمضان رفیق شاہراہِ قراقرم پر چلاس سے ہنزہ کی طرف جائیں تو نومل نامی علاقے سے نلتر نامی جھیل کی سمت جانے کیلیے جیپ کرائے پر حاصل کی جاسکتی ہے اِس جھیل کے لیے جیپیں جاتی ہیں۔ یہ جھیل کیا ہے قدرت کی صناعی کا نادر ثبوت ہے ،کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ کیا اِسے جھیل بھی کہنا چاہیے یا ابسٹرکٹ آرٹ کا قدرتی نمونہ؟ پہلی نظر میں ہَرا رنگ جھیل کے رنگ پر غالب نظر آتا ہے، اگلی نظر میں کہیں دور ایک نیلگوں رنگ کا بھی احساس ہوتا ہے، کہیں کہیں قوس قزاح کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، ایسی جگہ جو ...

نلتر جھیل قدرت کی صناعی کانادر ثبوت

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی وجود - اتوار 07 جنوری 2018

شہلا حیات بھارت کاہر شہر اپنے انواع واقسام کے کھانوں میں ایک دوسرے سے جدا شناخت رکھتاہے، اگرچہ اب بھارت کے ہر بڑے شہر میں بھارت کے مختلف شہروں کے مشہور اورمرغوب کھانے بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کھانوں کے ان کے شہروں میں جس اہتمام کے ساتھ پکایا جاتاہے، دوسرے شہروں میں وہ ذائقہ حاصل نہیں ہوپاتا، کھانوں کے اعتبار سے بھارت کے وہ شہر زیادہ مشہور ہیں جہاں نوابوں اورراجہ مہاراجائوں کے حکمرانی رہی ہے کیونکہ ان کو طرح طرح کے کھانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بھار...

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت وجود - پیر 18 دسمبر 2017

ماہرین کا خیال کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن چونکہ یہ سمندر کے کنارے رہتے تھے۔ انہیں اڑنے کے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی۔ چنانچہ کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔نیوزی لینڈ میں سائنس دانوں کو زمانہ قبل از تاریخ کے ایک دیو قامت پرندے کی باقیات ملی ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ اپنی ساخت میں آج کے پینگوئن جیسا تھا لیکن قدو قامت اور وزن میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔جاری ہونے والے بیان م...

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ابو خضر دلفریب پہاڑوں، دیدہ زیب جھرنوں، حسین وادیوں، ہر دم برستے ساونوں، تاحدِ نگاہ سرسبز چراگاہوں، آئینہ نما جھیلوں، اِٹھلاتے بل کھاتے دریاؤں، رنگ برنگے پھولوں اور چہچہاتے خوش رنگ پرندوں کی سرزمین نیوزی لینڈ کو کرہ ارض پر ایک محفوظ، محبوب اور خوبصورت ترین خطہ زمین تصور کیا جاتا ہے۔ 2017 کے ’’گلوبل پیس انڈیکس‘‘ (Global Peace Index) کے مطابق نیوزی لینڈ کو دنیا کو دوسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ (Corruption Perception ...

نیوزی لینڈ: سرسبزپہاڑوں‘دیدہ زیب جھرنوں ‘حسین وادیوں اور ہردم برستے ساون کی سرزمین

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ وجود - اتوار 17 دسمبر 2017

ظریف بلوچ مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر ک...

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘ وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

پرویرقمر ہری پور جو کہ ہزارہ ڈویژن کا اہم شہر ہے۔ صوبہ خیبر پختوانخواہ میں واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس شہر کا فاصلہ تقریباً 65 کلومیٹر ہے۔ ہری پور شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلے میں ایک پر فضا اور خوبصورت پہاڑ کے بالکل ٹاپ پر سری کوٹ کا گاؤں موجود ہے۔ جو کہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نہایت ہی اعلیٰ مذہبی سید گھرانے کی د جکر معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ سری کوٹ کے لفظی معنی ’’پہاڑ کی اونچائی پر گاؤں ‘‘ کے ہے۔ چوکہ لفظ سری کے معنی اونچا ...

ہزارہ ڈویژن کا خوبصورت گاؤں ’’سری کوٹ‘‘

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں وجود - اتوار 29 اکتوبر 2017

رمضان رفیق میں نے اب تک تین بار ایمسٹرڈیم دیکھا ہے، دو دفعہ دوستوں کے ساتھ اور ایک بار اکیلے۔ ایمسٹرڈیم کے رنگوں میں کچھ ایسا خاص ہے جو آدمی کو بیزار ہونے ہی نہیں دیتا۔ پہلی بار دیکھا تو یہ شہر پہلی نظر میں ہی اچھا لگا۔ اْس وقت ہم ایک بس کے ذریعے پیرس سے ایمسٹرڈیم آئے تھے۔ بس میں گزرے اِن چند گھنٹوں کے دوران مجھے ایک ڈچ خاتون کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ اْس ملاقات میں ہی ایمسٹرڈیم کے خوبصورت ہونے کا یقین سا ہو گیا تھا۔ اگلی دفعہ میرے منہ سے ایمسٹرڈیم کی خوبصو...

ایمسٹرڈیم، نہریں ، پل، عمارتیں ، گلیاں ، دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

اختر حفیظ فطرت سے انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ پتوں سے اپنا جسم ڈھانپنے، غاروں کو گھر بنا کر رہنے والا انسان اور دریاؤں کو مقدس ماننے والا انسان ترقی کرتا کرتا اِن فطری رنگوں بلکہ زندگی کے حقیقی رنگوں سے دور ہوتا چلا گیا۔مگر اِسی ترقی کی دوڑ نے انسان کو کافی تنہا اور حقیقی سکون سے عاری بھی کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بناوٹی آسائشی چیزوں میں گھرے رہنے کے باوجود بھی ہمیشہ ذہنی و جسمانی تسکین میں تلاش رہتا ہے جو صرف فطرت اور فطری رنگوں میں پیوستہ ہوتی ہے۔ 18ویں صدی کے فرانسیس...

سندھ کے ریگزار میں گلزار کا سماں ۔۔فقیر کاآستانہ

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر صبا حیات - اتوار 22 اکتوبر 2017

وارانسی، کاشی یا بنارس شہر کا ہندو مذہب میں بڑا مقام ہے جہاں زندگی روزانہ موت سے گلے ملتی نظر آتی ہے۔ہندو مذہب میں بنارس کی خاص اہمیت ہے اور ادب میں صبح بنارس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔یہ شہر صدیوں سے دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے اور یہاں دور دراز سے سیاحوں کی آمد کی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ہندو مذہب میں اس شہر اور اس دریا کا اہم مقام ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں غسل کرنے سے پاپ یعنی گناہ دھل جاتے ہیں ۔ اس لیے یہاں ا شنان کرنے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔یہاں مندروں کی کثرت ہے اور لوگ ...

ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس پسماندگی کی تصویر

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد وجود - اتوار 22 اکتوبر 2017

سلمیٰ حسین سندھ کے مشہور شہر تھرپارکر سے متصل بھارتی ریاست زین آباد 1919 میں قائم کیاگیا تھا۔کچھ مغربی بھارت کا ریگستانی علاقہ ہے جس کی سرحد پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر سے ملتی ہے۔ زین آباد اسی ریگستان میں ایک چھوٹی سی ریاست رہی ہے۔زین آباد کی جھیل پورے بھارت بلکہ برصغیر میں مشہور رہی ہے اس نہر میں دیسی اور بدیسی دونوں قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں ۔ 1919 میں زین خان نے اپنے بزرگوار کے وطن ڈاس ڈا کو خیرباد کہا اور احمد نگر کے سلطان کی دی ہوئی جاگیر اور 12 ہزاری منص...

بھارت کے ریگستان میں نخلستان زین آباد

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

وقار احمد جنگوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ آیا یہ نامکمل ہوتی ہیں یا پھر جھوٹی ہوتی ہیں۔ ہیروز اور فتوحات کی عظیم کہانیوں میں اکثر میدان جنگ کی زد میں آنے والے ایک عام آدمی کا درد کہیں کھو سا جاتا ہے۔1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران عمرکوٹ، سندھ کے باسیوں کا تذکرہ ہمارے اسکولوں کی نصابی کتابوں میں کہیں نہیں ملتا۔ مجھے 1965 اور 1971 کی جنگوں کی یہ غیر تحریری کہانیاں اس چھوٹے، گرد آلود شہر کی حالیہ سیر کے موقعے پر زبانی سننے کو ملیں۔ عمرکوٹ سندھ کے مشرقی حصے میں...

1965 ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کامتاثرہ شہر عمر کوٹ

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا وجود - اتوار 15 اکتوبر 2017

ببرک کارمل جمالی اب کی بار سیر و تفریح کی غرض سے ہماری منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں لوگ نہیں بستے بلکہ ملک میں بسنے والے لوگوں کا علاج کرنے والی جگہ بستی ہے۔ ہماری یہ منزل بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے صرف بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے ’’پیر لاکھا‘‘ کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کے باسی اسے ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ ’’ٹھار لاکھا ٹھار‘‘ سندھی زبان کا جملہ ہے جس کا مطلب ہے ’’اے لاکھو میرے جسم کو ٹھنڈا کردیں ٹھنڈا۔‘‘ یہاں موجود چشمے کا پانی نہانے والے کے جسم کو ٹ...

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے قریب واقع خوبصورت علاقہ پیر لاکھا

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان وجود - اتوار 08 اکتوبر 2017

پرویز قمر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے خوبصورت و دلکش خطے عطاء کئے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور ساری دنیا کے لوگوں باالخصوص قدرتی حسن و رعنائی سے محبت کرنے والوں کو اپنی جانب کھنچتے ہیں ۔ انہی پرکشش وادیوں میں سے ایک وادی حراموش ہے۔وادی حراموش پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان میں اپنے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔وادی حراموش گلگت شہر کے شمال میں سطح سمندر سے4578 میٹر بلند ہے گلگت شہر سے وادی حراموش کا فاصلہ تقریباً78 کلو میٹر ہے جس طرح حراموش قدرتی حسن سے مالا مال ہے اسی...

وادی حراموش… دلفریب و دلکش… گلگت بلتستان

اچھڑو تھر ۔جہاں کی دلدلیں انگریزوں سے جنگ میں لوگوں کاٹھکانہ ہوتی تھیں وجود - اتوار 08 اکتوبر 2017

اختر حفیظ صحراؤں کے بھی اپنے دکھ اور سکھ ہیں ۔ ریت کے ٹیلوں ، پگڈنڈیوں ، جانوروں کے ریوڑ اور انسانی آبادی کو اپنے اندر سمائے ان صحراؤں کے رنگ بھی الگ ہوتے ہیں ۔ بارش کا انتظار کرتے لوگوں کی آنکھیں اْس وقت برسنے لگتی ہیں ، جب بادل اِن صحراؤں کی ریت پر برسنے سے انکار کردیتے ہیں ۔ لیکن آنکھوں کا نمکین پانی ریت کو سینچ نہیں پاتا اور نہ ہی اِن میں زندگی کی بہار لاسکتا ہے۔ لیکن زندگی ہر صورت میں صحراؤں میں اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہتی ہے۔ سندھ کے دو بڑے صحرا، تھر اور اچھڑو تھ...

اچھڑو تھر ۔جہاں کی دلدلیں انگریزوں سے جنگ میں لوگوں کاٹھکانہ ہوتی تھیں

دریائے اسپرے کے کنارے واقع برلن جرمنی کی عظیم تاریخ اور ماضی کا گواہ شہلا حیات نقوی - اتوار 24 ستمبر 2017

جرمنی کا دارالحکومت برلن 35 لاکھ کی آبادی والا سب سے بڑا شہر ہے جو قدیم و جدید دونوں انداز کے ساتھ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اِس شہر کی سیاحت کے لیے ہم نے زمینی راستہ اختیار کیا اور سوئیڈن کے دارالحکومت سے تقریباً1400 کلومیٹر کا سفر کرکے یہاں پہنچے۔ کار کے ذریعے زمینی سفر کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے جس سے راستہ میں گزرتے ہوئے پورے خطّے کی سیاحت ہوجاتی ہے۔ کوپن ہیگن پہنچنے کے لیے ہمیں ڈنمارک اور سوئیڈن کے درمیان بحیرہ بالٹک پر 16 کلومیٹر طویل پل بھی عبور کرنا پڑا جس کا چار کلومیٹ...

دریائے اسپرے کے کنارے واقع برلن جرمنی کی عظیم تاریخ اور ماضی کا گواہ

کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے وجود - اتوار 24 ستمبر 2017

ابوبکر شیخ جب آپ کراچی کے سمندری کنارے سے کشتی میں بیٹھ کر کسی بھی جزیرے پر چلے جائیں تو جولائی کے گرم ترین شب روز بھی کسی افسانوی دنیا جیسے لگنے لگتے ہیں۔ آپ ابراہیم حیدری کے نزدیک واقع ’ڈنگی‘ اور ’بھنڈاڑ‘ جزیروں پر بھی جا سکتے ہیں۔یہ دونوں جزائر فطرت کی ایک عنایت ہیں۔ وہاں بھنڈاڑ پر آپ کو ایک قدیم درگاہ بھی مل جائے گی جہاں جزیروں پر رہنے والے ماہی گیر ہر سال میلے کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان جزیروں کے کناروں تک کثافت نہیں پہنچی اس لیے وہاں کے کنارے ابھی تک صاف سْتھرے ہیں اور ...

کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے

قاہرہ کا نواحی نخلستان سیوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

کچھ عرصہ قبل تک بہت کم لوگ قاہرہ کے نواح میں واقع وسیع نخلستان سیوا کے بارے میں کچھ جانتے تھے اور مصر کی سیر کے لیے نکلنے والے سیاح عام طور پر قاہرہ اور مصرکے دیگر مشہور شہروں تک ہی محدود رہتے تھے ،سیوا قاہرہ کے شمال مغربی علاقے میں لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے مصر کے لیے قدرت کا تحفہ قرار دیاجاتا ہے، اس شہر کی تاریخی عمارتیں اور علاقے میں واقع روایتی مکان دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ، اور انھیں دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ اس علاقے کو بجا طور پر مصر کا پوشیدہ خزانہ کہا جاتا...

قاہرہ کا نواحی نخلستان سیوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز

جنوبی امریکا کا خوبصورت ملک سری نام وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

ہالینڈکا زیادہ عرصے تک قبضہ برقراررہنے کے باعث سری نام میں ڈچ زبان کو سرکاری زبان کادرجہ حاصل ہے ‘ پرقومی زبان نہیں سری نام کاشمار جنوبی امریکا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اورہرسال لاکھوں سیاح اس ملک کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کی سیر کرنے کے لیے اس ملک کا رخ کرتے ہیں ، اوریہاں کے حسین مقات کی سیرکرکے لطف اندوزہوتے ہیں ۔ یہ ملک بدقسمتی سے مختلف ادوار میں مختلف طاقتوں کے زیر نگیں رہا لیکن اس ملک کے جری باشندوں نے کبھی بھی غلامی کو دل سے قبول کیا اور نہ ہی اسے اپنا مقدر تصو...

جنوبی امریکا کا خوبصورت ملک سری نام

ٹلہ جوگیاں جہلم میں سورج پرست آریوں کی نشانی وجود - اتوار 17 ستمبر 2017

ٹلہ کی چوٹی سطح زمین سے 3200 فٹ بلند ہے۔ یہ ایک صحت افزا اور خوبصورت مقام ہے۔ جہاں طبی جڑی بوٹیوں کے علاوہ ایسے مختلف قسم کے درخت اور پرندے بھی پائے جاتے ہیں جو اس علاقے کے دوسرے حصوں میں دکھائی نہیں دیتے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے آریہ قوم ترکمانستان سے کوہ ہمالیہ کے شمالی اور مغربی درّوں کی راہ سے پنجاب میں وارد ہوئی تھی اور چونکہ پنجاب کا پہلا پڑاؤ درئہ جہلم ہے اس لیے اکثر مورخین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ آریہ قوم کی پہلی جولان گاہ وادی جہلم تھی۔ یہ قوم فطری مظاہ...

ٹلہ جوگیاں جہلم میں سورج پرست آریوں کی نشانی

۔کارگل کاوہ پاکستانی گاؤں جو اب بھارت کا حصہ ہے! شہلا حیات نقوی - اتوار 10 ستمبر 2017

1947 میں تقسیم برصغیر کے بعد بہت سے گاؤں اور شہر تھے جن کے رہنے والوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے بجائے بھارت کے شہری بن جائیں گے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنھیں یقین تھا کہ ان کا گاؤں یا شہر بھارت کا حصہ رہے گا لیکن آزادی کو سورج طلوع ہوتے ہی ان کو یہ معلوم ہوا کہ وہ بھارتی نہیں بلکہ پاکستانی شہری بن چکے ہیں ،لیکن کارگل میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جو پہلے پاکستان کا حصہ تھا لیکن اب وہ بھارت کا شہر ہے اور اس شہر سے اپنے دوسرے گھروں کوجانے والے ان کے...

۔کارگل کاوہ پاکستانی گاؤں جو اب بھارت کا حصہ ہے!

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات وجود - اتوار 10 ستمبر 2017

رسیاں باندھ کر آتش فشانی سلسلے کے اندر چھلانگ لگانے سے لے کر لاکھوں جیلی فش کے ساتھ تیراکی کرنے تک دنیا بھر میں مہم جوئی کے شوقین سیاحوں کے لیے خطرناک جگہوں کی کوئی کمی نہیں ۔ تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیاحت کے لیے سب سے خطرناک ترین کن مقامات کو قرار دیا جاتا ہے؟دنیا کے ایسے کئی سیاحتی مقامات ہیں جنھیں انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے مگر پھر بھی مہم جو سیاح وہاں جانے سے باز نہیں رہتے۔ فیری میڈوز ویسے تو یہ انتہائی خوبصورت اور مسحور کردینے والا مقام ہے مگر وہاں جانے والا ...

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات

دیربالا کے پہاڑی علاقوں کے دلفریب مناظر! صبا حیات - اتوار 10 ستمبر 2017

ہم جب بھی پشاور جاتے تھے تو دوستوں کا اصرار ہوتا کہ دیر بالا چلنا چاہئے،لیکن پشاور سے دیربالا تک 6گھنٹے کا سفر سوچ کر ہی پسینہ آجاتا تھا ،لیکن اس دفعہ جب ہم پشاور پہنچے تودوست مصرہوگئے کہ اس دفعہ تو دیربالا ضرور ہی جانا ہے ، بہرحال دوستوں کے اصرار پر ہم اس پرخطر سفر پر تیار ہوگئے،دوست کے پاس گاڑی تھی اور وہ بھی نئی لہٰذا ناشتے کے بعد سفر کاآغاز کیا،جوں جوں ہم آگے بڑھتے جارہے تھے ایک پْرکیف سا ماحول طاری ہوتا جارہاتھا۔ ہم سب ایک دوسرے سے بے خبر گردنوں کو گاڑی کے شیشوں کی جا...

دیربالا کے پہاڑی علاقوں کے دلفریب مناظر!

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں صبا حیات - اتوار 27 اگست 2017

اگر آپ اس برس کہیں گھومنے پھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بیرون ملک جانے سے پہلے اپنے ملک میں سفر کریں اور نئی چیزوں کا تجربہ کرکے دیکھیں ۔اس سلسلے میں آپ کی مدد کے لیے ہم نے ایک فہرست مرتب کی ہے جس کے ذریعے آپ جان سکیں گے کہ 2017 میں آپ پاکستان کے کن مقامات میں گھومنے سے ایک ناقابل فراموش تجربے کو زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں ۔اس فہرست کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں کے گرد گھومتی ہے۔ سیف الملوک جھیل ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل سیف الملو...

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں

جنجیریت: اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی وجود - اتوار 27 اگست 2017

محمد کاشف علی کالاش قبیلہ، سلسلہِ ہندوکش میں دور دراز بسے چترال کی تین وادیوں (بمبوریت، رمبور اور بریر) میں پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی قربت میں آباد ہے۔اس علاقے میں آبادی زیادہ نہیں ، مقامی نجی فلاحی تنظیم کے سربراہ وزیر زادہ کالاش کے مطابق تینوں وادیوں میں کالاش قبیلے کے تقریباً چار ہزار افراد مقیم ہیں ، جو اپنی قدیم تہذیب وتمدن پر آج بھی کاربند ہیں ۔ تاریخ اور روایات کی آمیزش سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کالاش موجودہ وادیوں میں قریب دو ہزار برسوں سے یہاں آباد ہیں ۔ ...

جنجیریت: اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی

انڈیا کا شہر احمدآباد عالمی ثقافتی ورثے میں شامل وجود - پیر 21 اگست 2017

انڈیا کے شہراحمدآباد کو سلطان احمد شاہ نے 15ویں صدی میں آباد کیا تھا۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے انڈیا کے معروف شہر احمدآباد کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔یونیسکو کی کمیٹی نے گزشتہ دنوں احمد آباد کے علاوہ کمبوڈیا میں سمبور پیری کک کے ٹیمپل زون کے علاوہ چین کے کلانگسو کو بھی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ۔ احمدآبادبھارت کا پہلا شہر ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دوڑ میں ہندوستانی دا...

انڈیا کا شہر احمدآباد عالمی ثقافتی ورثے میں شامل

پاکستان۔۔ نعمت خداوندی او ر مواقع کی سرزمین وجود - پیر 21 اگست 2017

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی سرزمین کو دنیا کی ہر نعمت سے نوازا ہے ،بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ اس ملک کی سرزمین کی ہر اینٹ ہر پتھر کے نیچے سے اللہ کی کوئی نہ کوئی نعمت چھپی ہوئی ہے ا س میں سے بہت سی نعمتوں سے ہم استفادہ کررہے ہیں ، بعض نعمتوں کو نکال نکال کر ہمارے رہنما اپنی تجوریاں بھرتے رہے ہیں اور بھر رہے ہیں اور بعض نعمتیں ہمیں فراہم کرکے ان پر بھاری ٹیکس لگا کر اپنے اللے تللوں کاانتطام کرتے رہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین کو جن نعمتوں سے نوازا ہے ان میں گیس ، پیٹرول، تان...

پاکستان۔۔ نعمت خداوندی او ر مواقع کی سرزمین

8بازاروں پر مشتمل فیصل آباد(لائل پور) کی معدوم ہوتی تاریخ وجود - پیر 21 اگست 2017

رضا ہمدانی پنجاب کے شہر لائلپور کو کیپٹن پوپہم ینگ نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس شہر کو ایک مکعب کی صورت میں ڈیزائن کیا گیا جو8 بازاروں پر مشتمل ہے۔ اسی بازار میں فیصل آباد کی پہچان کلاک ٹاور ہے یعنی گھنٹہ گھرہے۔ مرکزی ڈیزائن میں لائلپور کا رقبہ 110 ایکڑ تھا لیکن آبادی کے اضافے کے ساتھ8 بازاروں کے باہر بھی رہائشی علاقوں کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا۔ لائلپور میں 8 بازاروں سے باہر دو اہم رہائشی علاقے تھے ڈگلس پورہ اور گرو نانک پورہ واقع ہیں ۔ لائلپور میں اکثریت سکھوں اور ہندوؤں کی ت...

8بازاروں پر مشتمل فیصل آباد(لائل پور) کی معدوم ہوتی تاریخ

جھیل سیف الملوک پر اب پریاں نہیں اترتیں ؟ وجود - پیر 21 اگست 2017

دادی سے شہزادے سیف اور پری بدری جمال کی رومانوی کہانی سن سن کر جھیل سیف الملوک کا تصوراتی خاکہ ذہن میں کچھ ایسا گھر کر گیا کہ اسے حقیقت میں دیکھنا زندگی کی ایک سب سے اہم تمنا بن گئی۔بچپن تو سیف الملوک سے منسوب شہزادوں اور پریوں کی عشقیہ و طلسماتی کہانیوں کے سحر میں گزرا اور پھر بڑی ہوئی تو دنیاداری کی مصروفیت میں جیسے پھنس کر رہ گئی۔ ایک عرصہ دراز تک جھیل سیف الملوک کے نام سے نا آشنا ہو کر رہ گئی۔ پھر اچانک جب بچوں نے جھیل سیف الملوک کا ذکر چھیڑا اور وہاں سے جڑی پریوں اور دی...

جھیل سیف الملوک پر اب پریاں نہیں اترتیں ؟

سیلفی لیتے سائبیرین شیر وجود - اتوار 13 اگست 2017

روس کے نیشنل پارک نے سائبیرین شیروں کی قربتوں اور بوس و کنار والی تصاویر جاری کی ہیں ۔ان تصاویر میں شیروں کے کنبے اور بچے کھیل کود کرتے اور کیمرے کیلئے پوز کرتے نظر آتے ہیں ۔ سائبیرین شیروں کی تعداد ایک وقت میں کم ہو کر تقریبا دو درجن رہ گئی تھی لیکن اب ان کی تعداد تقریبا 600 بتائی جاتی ہے۔ دو لاکھ 60 ہزار ہیکٹر کی وسیع اراضی پر پھیلے پارک میں تقریباً 22 بالغ سائبیرین شیر اور ان کے سات بچے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب شیروں کی یہ نسل شکار کی وجہ سے ناپید ہونے کے قریب پر...

سیلفی لیتے سائبیرین شیر

ایک خوبصورت پری سے منسوب سحر انگیز آبشار ’’ڈونچار‘‘ وجود - اتوار 13 اگست 2017

سرِدست ایک فرضی کہانی ملاحظہ ہو، جو 'ڈونچار' کے حوالے سے سننے کو ملی۔ اس کے بعد میں نہیں مانتا کہ آپ زندگی میں کم از کم ایک بار اس پیاری آبشار کو دیکھنے کا پروگرام نہیں بنائیں گے۔قدیم زمانے کے لوگوں کاکہناہے کہ"پہلے پہل اس آبشار میں اتنا پانی نہیں ہوا کرتا تھا، یہ ایک چھوٹی سی آبشار تھی۔ پھر ننگو نامی ایک دیو اس علاقے میں ایک پیاری پری کے ساتھ وارد ہوا اور جیسے ہی اس آبشار کے اوپر چڑھا، دیکھتے ہی دیکھتے پانی کی ایک بڑی مقدار اوپر سے گرنے لگی۔ یہ بھی مشہور ہے کہ پہاڑی کے ...

ایک خوبصورت پری سے منسوب سحر انگیز آبشار ’’ڈونچار‘‘

ایران میں غاروں والا گاؤں…میمند شہلا حیات نقوی - اتوار 13 اگست 2017

ایران قدرتی خوبصورتی سے بھرپور ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ میدانی علاقوں میں رہتا ہے لیکن ایران کے کچھ لوگ آج بھی غاروں میں بھی رہتے ہیں۔ یہ تصاویر اسی گاؤں کی ہیں۔یہ ایران کا ایک قدیم گاؤں میمند ہے۔ جو ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 900 کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔اس گاؤں کی آبادی خانہ بدوشوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے باشندے پہاڑی غاروں میں رہتے ہیں۔ ان غاروں کو ملائم پتھروں کو کاٹ کر اور تراش کر بنایا گیا ہے۔ٍان غاروں میں جس طرح کی نقاشی کی گئی ہے اس کو دی...

ایران میں غاروں والا گاؤں…میمند

روہڑی میں 7 سہیلیوں کامزار ،خواتین کا مرکز نگاہ ایچ اے نقوی - پیر 07 اگست 2017

پاکستان کے معاشرے کو عام طورپر مردوں کامعاشرہ تصور کیاجاتاہے جہاں ہر شعبہ زندگی پر مردوں کو بالادستی اور برتری حاصل ہے، اور خواتین کی حیثیت ثانوی تصور کی جاتی ہے، ا س معاشرے میں ایسے بھی ظالم اور درندہ صفت گھرانے موجود ہیں جہاں لڑکی کی پیدائش کو اب بھی منحوسیت تصور کرتے ہوئے لڑکی کی پیدائش پر لوگ خوشی کا اظہار کرنے کے بجائے منہہ بسور نے لگتے ہیں اور بعض اوقات لڑکی پیدا کرنے کے جرم میں ماں کو بھی گھر سے نکال باہر کرتے ہیں یا بہت زیادہ مہربانی کرتے ہیں تو اسے گھر میں لونڈی کی ح...

روہڑی میں 7 سہیلیوں کامزار ،خواتین کا مرکز نگاہ

فورٹ منرو: شدید گرمی میں سرد ہوا کا جھونکا صبا حیات - پیر 07 اگست 2017

انگریزوں نے اپنی حکومت کے دوران دو کام بہت اچھے کئے ایک تو مضبوط عمارتیں بنوائیں دوسرے ریکارڈ مرتب کئے،کراچی میں موجود سندھ سیکریٹریٹ کی پرانی بلڈنگ بھی فن تعمیر ایک ناد شاہکار ہے اور ہائیکورٹ کی مضبوط عمارت بھی دیکھنے سے تعلق ررکھتی ہے۔ اِن ہی نوازشات میں کچھ ایسے شہر بھی ہیں جو انگریز سرکار نے آباد کیے جو آج بھی اْن ہی کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں ، جیسا کہ جنرل جیمز کا آباد کیا ہو جیمز آباد، جنرل جان جیکب کا آباد کیا ہوا جیکب آباد، جنرل منرو کا آباد کیا ہوا فورٹ منرو...

فورٹ منرو: شدید گرمی میں سرد ہوا کا جھونکا

سیاحوں کی جنت پاکستان وجود - پیر 07 اگست 2017

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت ترین مقامات عطا کیے جن کا ساری دنیامیں ثانی نہیں ملتا۔اس مملکت خدادادکو بلند وبالا برف پوش چوٹیوں کی سرزمین کو کہا جائے توغلط نہیں ہوگا۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹیK-2 اپنی پوری آن وشان کے ساتھ گلگت بلتستان میں کھڑی ہے جس کا شمار دنیا کے خوبصورت پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ نانگا پربت دنیا کی9ویں بلند ترین چوٹی ہے جو کوہ پیماؤں کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اپنے خدوخال اورکسی قدر ہموارسطح کی وجہ اسے ’’موت کے پہاڑ،، کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اس پ...

سیاحوں کی جنت پاکستان

دنیا کا سب سے بڑا قدرتی پریشر ککرابشرہ آذربائیجان وجود - اتوار 30 جولائی 2017

میتھین گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی کے باعث یہاں کسی بھی وقت زمین سے اچانک آگ نکلنے لگتی ہے آذرکامطلب آگ ہے‘آذربائیجان کانام بھی اسی وجہ سے پڑا ‘دوہزار سال قبل اسی سرزمین پرپارسی مذہب پروان چڑھا 70 برس قبل یہاںپھینکی گئی سگریٹ سے لگنے والی آگ آج تک جل رہی ہے‘ دس مربع میل میں شعلے بھڑکتے نظرآتے ہیں صبا حیات نقوی آج آپ کو لے چلتے ہیں دنیا کے سب سے بڑے پریشر ککر کی سیر پر۔آپ حیرت زدہ نہ ہوں یہ پریشر ککر کوئی عام پریشر ککر نہیں بلکہ یہ تو قدرتی ہے اور ایک بڑے علاقے م...

دنیا کا سب سے بڑا قدرتی پریشر ککرابشرہ آذربائیجان

جنجیریت اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی وجود - اتوار 30 جولائی 2017

داغستان کے لوک شاعر ابو طالب (بحوالہ رسول حمزہ توف کی کتاب 'یہ میرا داغستان') کہتے ہیں کہ، "جو قوم اپنے ماضی کو گولی کا نشانہ بناتی ہے تو اس کا مستقبل ان کو توپ کا نشانہ بناتا ہے۔"آج کالاش قبیلہ، سلسلہِ ہندوکش میں دور دراز بسے چترال کی تین وادیوں (بمبوریت، رمبور اور بریر) میں پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی قربت میں آباد ہے۔اس علاقے میں آبادی زیادہ نہیں ہے، مقامی نجی فلاحی تنظیم کے سربراہ وزیر زادہ کالاش کے مطابق تینوں وادیوں میں کالاش قبیلے کے تقریباً چار ہزار افراد مقیم ...

جنجیریت اپنی تاریخ سے انکاری چترال کی دلکش وادی

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں وجود - اتوار 30 جولائی 2017

سیف الملوک جھیل ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل سیف الملوک ہے، جس کا نام یہاں مشہور ایک افسانوی داستان، قصہ سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قصہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔ جھیل سیف الملوک وادی کاغان کے شمالی حصے میں واقع ہے، یہ سطح سمندر سے تقریبا 3244 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ملکہ پربت، اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے جو اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتے ہیں خاص طور پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک تک چودہ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اس پر ...

پاکستان کی قابل دید حسین ودلفریب جھیلیں

دنیا کے 10 چھوٹے ترین ممالک جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کوکچھ معلوم ہوگا صبا حیات - پیر 10 جولائی 2017

دنیا بھر میں دو سو سے زائد ممالک ہیں اور آپ نے ان میں سے بیشتر کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔مگر اس دنیا میں کچھ ایسی ریاستیں اور خطے بھی ہیں جن کے بارے میں بیشتر لوگ نہیں جانتے۔یہ ریاستیں یا ملک رقبے میں بہت چھوٹے ہیں اور کئی جگہ تو چند افراد ہی رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ہم یہاں ایسے ہی چھوٹے ترین ممالک کے بارے میں لوگوں کی آگہی کے لئے تفصیلات پیش کررہے ہیں جن کی آبادی بعض ممالک کے چھوٹے گائوں سے بھی کم ہوسکتی ہے۔ جمہوریہ پلائو یہ ملک 300 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے اور زمین کے ...

دنیا کے 10 چھوٹے ترین ممالک جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کوکچھ معلوم ہوگا

دیر اور سوات کی سرحد پر واقع خوبصورت ’’سیدگئی جھیل‘‘ شہلا حیات نقوی - پیر 10 جولائی 2017

سطح سمندر سے ساڑھے گیارہ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر واقع ایک کلومیٹر طویل اور آدھا کلومیٹر چوڑی سید گئی جھیل کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہ حسین اور پرکشش جھیل ہمیشہ سے دنیا بھر کے مہم جو سیاحوں کامرکز نگاہ رہی ہے اورجولائی کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی مہم جوئی کے شوقین افراد ملک بھر سے دیر اور سوات کی سرحد پر واقع خوبصورت سیدگئی جھیل کا رخ کرتے ہیں۔ اس جھیل کے اردگرد گلیشیئرز ساراسال موجود رہتے ہیں۔یہاں تک پہنچنے کا راستہ طویل اور مشکل ہوسکتا ہے مگر علاقے کی خوبصورتی...

دیر اور سوات کی سرحد پر واقع خوبصورت ’’سیدگئی جھیل‘‘

مقدس زمین: ارجنٹائن میں دنیا کا پہلا مذہبی تھیم پارک صبا حیات - منگل 04 جولائی 2017

ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کے مرکز میں ایک تھیم پارک ہے جس کا نام ٹائیرا ساتتا (مقدس زمین) ہے ۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مذہبی تھیم پارک ہے۔ٹائیرا سانتا کو حضرت عیسیٰ کے زمانے کے یروشلم کی گلیوں جیسا بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس پارک میںسیر کے لیے آنے والے افراد تنگ گلیوں میں سے گزرتے ہیں جن کو پلاسٹک سے بنے کھجور کے مصنوعی درختوںاور مجسموں سے اس طرح سجایاگیاہے کہ یہ گلیاں ان سے بھری ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ان گلیوں میںنصب کیے گئے مجسمے اور وہاں موجود ...

مقدس زمین: ارجنٹائن میں دنیا کا پہلا مذہبی تھیم پارک

شارجہ کا بین الاقوامی فلاور فیسٹیول وجود - منگل 04 جولائی 2017

پھول کسے اچھے نہیں لگتے ، لال ، گلابی نیلے ،پیلے اودے اور سفید پھول آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو تراوٹ پہنچانے کا ذریعہ تصور کیے جاتے ہیں۔ پھول پیار محبت اور عقیدت کی نشانی تصور کیے جاتے ہیں ۔اسی لیے لوگ محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کو عموماً پھول پیش کرتے ہیں ۔ اپنے ہر دلعزیز رہنمائوں کو پھولوں سے لاد دیتے ہیں ، اور اپنے محبوب کو پھولوںکے ہار اور گلدستے پیش کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ پھولوں سے سب سے زیادہ محبت جاپان کے لوگ کرتے ہیں ۔ اُن کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوتا جہاں پ...

شارجہ کا بین الاقوامی فلاور فیسٹیول

سندھ کا تاریخی قلعہ رنی کوٹ ۔۔ صدیوں بعد بحالی کی راہ پر گامزن وجود - منگل 04 جولائی 2017

سندھ میں حیدرآباد کے قریب ضلع جام شورو میں سندھ کے قوم پرست سیاستدان اور تحریک پاکستان میں قائد اعظم کا ساتھ دینے والے عظیم سندھی رہنما جی ایم سید کے آبائی گائوں سن سے کم وبیش 30 کلومیٹر کے فاصلے پر سندھ کا عظیم تاریخی قلعہ رنی کوٹ واقع ہے۔ یہ قلعہ اپنے اندر پراسراریت کی ایک داستان چھپائے ہوئے ہے ، اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہے کہ یہ قلعہ کس دور میں اور کس نے تعمیر کرایا ہے ،بس اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں مختلف باتیں کہی جاتی رہی ہیں۔مورخین کے ایک طبقے کاکہ...

سندھ کا تاریخی قلعہ رنی کوٹ ۔۔ صدیوں بعد بحالی کی راہ پر گامزن

زمین پر زندگی کے 4ارب سال پرانے آثارمل گئے وجود - اتوار 05 مارچ 2017

ماہرین کو کینیڈا میں خلیج ہڈسن کے علاقے میں ایک سمندری معدنی چٹان سے حیاتیاتی اجزاءکی باقیات ملیں اس سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 4 ارب 30کروڑ برس قبل بھی زندگی موجود تھی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کو اس سے قبل کبھی ایسے کوئی اربوں سال پرانے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے کہ اپنی قدیم سے قدیم ترین حالت میں بھی زمین پر زندگی کس وقت موجود تھی۔ ’نیچر‘ میں چھپنے والی تفصیلات کے مطابق یہ 3.77 بلین سال پرانے مائیکروفوسلز ایسے بیکٹریا کی وجہ سے بنے، جو سمندر کی تہہ میں ہائیڈرو تھرمل خطوں میں...

زمین پر زندگی کے 4ارب سال پرانے آثارمل گئے