وجود

... loading ...

وجود

لیاقت علی خان سے اب تک کون کون وزیراعظم رہا؟

اتوار 03 مارچ 2024 لیاقت علی خان سے اب تک کون کون وزیراعظم رہا؟

مسلم لیگ (ن)کے صدرشہباز شریف پاکستان کے 24ویں وزیراعظم بن گئے ہیں اور قومی اسمبلی میں انہوں نے حزب اختلاف کے امیدوار کو واضح برتری سے شکست دی۔شہباز شریف پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جو مسلسل دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے ۔ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی 5سالہ مدت مکمل نہیں کر سکا ہے ۔اگر 1947سے اب تک ہر وزیراعظم کو 5سالہ مدت مکمل کرنے کا موقع ملتا تو شہباز شریف 24ویں کی بجائے پاکستان کے 17ویں وزیراعظم ہوتے ۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 15اگست 1947کو منتخب ہوئے اور 16اکتوبر 1951کو اپنی شہادت تک 4سال سے کچھ زائد عرصے تک اپنے منصب پر برقرار رہے ۔خواجہ ناظم الدین نے وزیراعظم کا عہدہ 17اکتوبر 1951کو سنبھالا، یعنی لیاقت علی خان کی شہادت کے اگلے روز۔مذہبی سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں کے باعث اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیاجس کو انہوں نے مسترد کر دیا۔جس پر گورنر جنرل نے 17اپریل 1953کو خواجہ ناظم الدین کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔گورنر جنرل غلام محمد نے 17اپریل 1953کو محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا۔انہیں 12اگست 1955کو قائم مقام گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے اور خطے کے مسائل کے باعث عہدے سے برطرف کیا۔چوہدری محمد علی نے 12اگست 1955کو پاکستان کو چوتھے وزیراعظم کے طور پر عہدہ سنبھالاجن کا نام گورنر جنرل اسکندر مرزا نے تجویز کیا تھا۔چوہدری محمد علی کے عہد میں 1956کے آئین کا نفاذ ہوا۔12ستمبر 1956کو چوہدری محمد علی نے اپنے پارٹی کے اراکین سے اختلافات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا۔حسین شہید سہروردی نے 12ستمبر 1956کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا مگر 17اکتوبر 1957کو اسکندر مرزا سے اختلافات کے باعث انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔ابراہیم اسماعیل چندریگر نے چھٹے وزیراعظم کے طور پر 17اکتوبر 1957کو اپنا عہدہ سنبھالا، مگر ان کا اقتدار 2ماہ بعد ختم ہوگیا۔اسکندر مرزا نے فیروز خان نون 17دسمبر 1957کو وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا۔انہیں 7اکتوبر 1957کو جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا۔نورالامین ملکی تاریخ کی کم ترین مدت تک وزیراعظم رہے ۔ملک میں مارشل لا کے 13برسوں بعد یحییٰ خان انتظامیہ نے 7دسمبر 1971کو نور الامین کو وزیراعظم منتخب کیا مگر 20 دسمبر 1971کو انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ذوالفقار علی بھٹو 14اگست 1973کو وزیراعظم منتخب ہوئے ۔اس کے بعد 1977کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر کامیاب ہوئے مگر جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کو 1979میں پھانسی دی گئی۔محمد خان جونیجو 23مارچ 1985کو فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کی حکومت کو 29مئی 1988کو برطرف کیا گیا۔بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر 1988میں منتخب ہوئیں۔وہ 6اگست 1990تک اس عہدے پر کام کرتی رہیں اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کو برطرف کیا۔نواز شریف 1990 میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوئے مگر ان کی حکومت کو بھی صدر غلام اسحاق خان نے 1993میں برطرف کر دیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا مگر اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو 18جولائی 1993 کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا۔بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993میں وزیراعظم منتخب ہوئیں مگر اس بار بھی مدت مکمل نہ کر سکیں۔اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کو نومبر 1996میں برطرف کیا۔نواز شریف 1997میں دوسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے مگر 12اکتوبر 1999کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نواز شریف کو عہدے سے ہٹا دیا۔ظفر اللہ خان جمالی پرویز مشرف کے دور میں منتخب ہونے والے پہلے وزیراعظم تھے ، مگر 19ماہ بعد ہی انہیں پرویز مشرف نے عہدے سے ہٹا دیا۔ چوہدری شجاعت حسین 30جون 2004کو وزیراعظم بنے مگر 2ماہ بعد شوکت عزیز کیلئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔شوکت عزیز 28اگست 2004کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور پارلیمان کی مدت پوری ہونے کے بعد 15نومبر 2007کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔ یوسف رضا گیلانی 2008کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان کے 18ویں وزیراعظم بنے ۔وہ 2012میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کے بعد اپنے عہدے سے فارغ ہوئے ۔یوسف رضا گیلانی کو ہٹائے جانے کے بعد 22جون 2012کو راجا پرویز اشرف وزیراعظم منتخب ہوئے اور 24مارچ 2013کو حکومت کی مدت پوری ہونے تک اس عہدے پر کام کرتے رہے ۔نواز شریف جون 2013میں تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بنے اور 4سال 53دن تک اپنے عہدے پر برقرار رہے ۔اس طرح وہ پاکستان کے تمام وزرائے اعظم میں ایک مدت میں سب سے زیادہ وقت تک کام کرنے والے وزیراعظم ہیں۔ 28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دئیے جانے پر وہ عہدے سے محروم ہوئے ۔شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے بعد اگست 2017میں 21ویں وزیراعظم منتخب ہوئے ۔قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر 31مئی 2018کو شاہد خاقان عباسی کی حکومت ختم ہوئی۔عمران خان 18اگست 2018کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کا اقتدار 10اپریل 2022کو ختم ہوا۔وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کو پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا۔عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد شہباز شریف 11اپریل 2022کو پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہوئے اور اس عہدے پر 14اگست 2023تک کام کرتے رہے ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر