... loading ...
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ میں زندہ رہا تو انشاء اللہ! 8 فروری بروز جمعرات ہر صورت قومی اورتمام صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں گے۔ اگر الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کرواسکتا تو پھر گھر جائے۔اگر انتخابات نہیں ہوں گے تو ہم دیکھ لیں گے۔ پاکستان کے عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں عام انتخابات ہوں۔ جتنا بڑا آئینی ادارہ ہوگا اتنی ہی بڑی ذمہ داری اس پر ہوگی۔ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوانے میں اپنا معمولی کردار اداکیا ہے۔ آئین کو بنے 50سال ہو گئے ہیں اورکسی آئینی آفس اورآئینی باڈی کا کہنا نہیں بنتا کہ وہ آئین سے آگاہ نہیں۔ آج ہی کے روز 15سال قبل آئین سے تجاوز ہوا ، آج تک آئین سے تجاوز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آئین کی خلاف ورزی کی تاریخ سے سیکھنا چاہیئے۔ آئین کی خلاف ورزی کے لوگوں اور پاکستان کی سرزمین پر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ عدالتیں غیر ضروری معاملات میں ملوث نہیں ہوتیں ، عدالت کا قابل ذکر وقت معاملات کو حل کرنے اورایڈوائس کرنے میں لگ جاتا ہے۔عدالتی حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا دیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملک میں 90روز کے اندر انتخابات کروانے کے حوالہ سے پاکستان تحریک انصاف، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان پیپلز پارٹی، منیر احمد اورجسٹس (ر)عبادالرحمان لودھی کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل بیرسٹر منصور عثمان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل سجیل شہریار سواتی بھی موجود تھے۔ جمعہ کے روز سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دیگر کیس سن کر پھر یہ کیس سنیں گے۔ جب 11بجے کیس کی سماعت شروع ہو تی تو اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی جانب سے صدر مملکت کے ساتھ ملاقات کرنے اورانتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے حوالہ سے آگاہ کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا صدر کا دستخط شدہ شیڈول کدھر ہے ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ ابھی نہیں ملا۔ اس پر چیف جسٹس نے سماعت ملتوی کردی اور کہا کہ پہلے اپنے آفس کے کیس بندے کو بھجواکر نوٹفیکیشن منگوا لیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کوئی گرے ایریا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے نوٹیفیکیشن پیش کرنے کے بعد دوبارہ 12بجکر 25منٹ پر سماعت شروع ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اور الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران کے دستخط کے ساتھ انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے حوالہ سے خط پیش کیا۔ بہت زیادہ دور کی بات نہیں موجودہ صدر نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر غیر قانونی طور پر قومی اسمبلی تحلیل کی جب وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے۔ آئین بڑا واضح ہے کہ جب اکثریت عدم اعتماد کرتی ہے تو پھر وزیر اعظم کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس بھیجنے کا اختیار نہیں تھا۔ چیف جسٹس اور چار ججز نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں تھا۔ ہم یہ معاملہ پارلیمنٹیرینز پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ایسے معاملات کو روکنے کے لئے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ہر آئینی عہدہ رکھنے اورادارے کا مقصد آئین کی سخت پابندی کرنا ہے جو کہ پاکستانی عوام کے مفاد میں ہے۔ ہرادارے کو میچورٹی اور انڈر سٹینڈنگ پروان چڑھانی چاہیئے اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو پھر وہ دیکھیں کہ کیا وہ پاکستان کے عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ انتخابات کی تاریخ پر اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ آئینی عہدہ رکھنے والا ہرشخص اور ہر باڈی جس میں صدر اور الیکشن بھی شامل ہے انہیں پتا ہونا چاہیئے کہ آئین کیا چاہتا ہے اور آئین پر عمل کرنا آپشنل نہیں۔ ایک ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں تجاوز نہ کرے اوراگر ایسا ہواتواس کے سنگین نتائج ہوں گے، صدر اورالیکشن کمیشن کا آفس غیر ضروری طورپر سپریم کورٹ میں آئے، بہت سی درخواستیں دائر کی گئیں اور پورا ملک فکرمند ہوا اور کچھ نے توتصور کیا کہ ہوسکتا ہے انتخابات نہ ہوں۔ سپریم کورٹ کو وہ اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیئے جواسے حاصل نہیں، ہم نے سہولت فراہم کی کہ صدر اورالیکشن کمیشن آپس میں ملیں۔ہماری طرف سے پیغام واضح ہے کہ جو بھی انتخابات نہ ہونے کے حوالہ سے عوام میں شکوک وشہبات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اورمیڈیا بھی ایسا کرتا ہے تو بھی آئین کی خلاف ورزی ہو گی، ایک مائیک پکڑ کر شروع کردیں، پٹی چلا دیں ہوں گے، نہیں ہوں گے، ہم میڈیا کو منفی کردار ادا نہیں کرنے دیں گے، انتخابات نہ ہونے کے حوالہ سے کوئی میڈیا اینکر بات کرے توپیمرااس کے خلاف کاروائی کرے۔چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا نمائندگان سے پوچھا کہ انہیں میڈیا کے حوالہ سے کی گئی باتوں پر کوئی اعتراض تو نہیں ۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود سینئر صحافی اوراینکر مطیع اللہ جانب نے بلند آواز میں کہا میں اپنی رائے باہر جاکردوں گا۔جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ یہ عدالت جانتی ہے کہ اپنے حکم پر عمل کیسے کروانا ہے، پی ٹی آئی وکیل سیدعلی ظفر کو تحفظات نہیں ہونے چاہیں۔ عدالت نے حکمنامے کے ساتھ انتخابات سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا تے ہوئے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صدر اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلاف ہوا، چاروں صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے حکمنامے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، وکیل پی ٹی آئی نے صدر کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط بھی دکھا دیا۔ خط میں صدر نے کمیشن کو سیاسی جماعتوں اور صوبوں سے مشاورت جبکہ عدلیہ سے بھی رہنمائی لینے کا کہا۔ صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔عدالت نے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے، ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا، سپریم کورٹ آگاہ ہے ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا۔سپریم کورٹ نے حکمنامے میں لکھا کہ انتخابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا، جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی بڑی ہوتی ہے۔ آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔ انتخابات کے لیے سازگار ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اٹھا رکھا ہے۔ صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدر مملکت حلف لیتے ہیں، عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے۔عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں، آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا، اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا۔ سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا، اسمبلی تحلیل کیس میںجسٹس مظہر عالم خان میاں خیل نے کہا کہ صدر مملکت، سابق وزیر اعظم ، اس وقت اسپیکر اورڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی کے خلاف پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے، عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا، وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا، عوام پاکستان حقدار ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں۔صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملاقات کرانے کے لیے اٹارنی جنرل نے کردار ادا کیا اور معاملہ حل ہوگیا۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے پورے ملک میں ایک ساتھ عام انتخابات کے لیے تاریخ دے دی، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن شیڈول جاری کرے گا۔ انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے، تمام لا افسران نے انتخابی تاریخ پر کوئی اعتراض نہیں کیا، توقع ہے کہ تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے، اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی کریں گے، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہم توقع رکھتے ہیں تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ انتخابات کروائیں گے۔ میڈیا کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ یہ بات کرے کہ 8فروری کو انتخابات نہیں ہوں گے، اگر انتخابات 8فرروی کو نہ ہوں پھر میڈیا یہ بات کرے۔اگر کوئی یہ آکر کہتا ہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے تو یہ عوام پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ دنیا میں بھی کہیں اس کی اجازت نہیں۔ اگر میڈیا آئین کے آرٹیکل 19-Aمیں درج آزادیوں کا مطالبہ کرتا ہے تو پھر پابندیوں پر بھی عمل کرے۔ جبکہ حکم لکھوانے کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار منیر احمد کے وکیل انورمنصور خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکمنامہ پر اعتراض ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پراسرارشخصیت ہیں جو اپنی شکل بھی نہیں دکھارہے، کوئی ایڈووکیٹ کو نہیں جانتا،ایسی پیٹیشنز پر ہمیں تشویش ہوتی ہے، ایسی درخواستیں دائر کرکے وکیل غائب ہوجاتے ہیں۔جبکہ حکم لکھوانے کے دوران درخواست گزار عبادالرحمان لودھی کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں انتخابات ہونے کے حوالہ سے تحفظات ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے باکل یہ بات نہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...