وجود

... loading ...

وجود

کورکمانڈر پشاور کے متعلق سیاست دانوں کے بیانات نامناسب ہیں، ترجمان پاک فوج

جمعه 13 مئی 2022 کورکمانڈر پشاور کے متعلق سیاست دانوں کے بیانات نامناسب ہیں، ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان میجر بابر افتخار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سیاست دانوں کی طرف سے نامناسب بیانات دیے جا رہے ہیں، بار بار کہہ رہے ہیں فوج کو سیاست سے دور رکھیں ،کچھ عناصر چاہتے ہیں مسلح افواج اور عوام کے درمیان محبت، اعتماد کے رشتہ میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جائے، یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں، تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی اس موضوع کو بحث نہ بنائیں ، الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں کو کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، ملکی حفاظت کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے، تنقید پر کسی کو پرابلم نہیں۔ سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تنقید نہیں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،سکیورٹی کے معاملے پر ہماری ضرورت پڑی تو فوج اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہے، ملک کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں،ملک پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے اس میں سب کچھ واضح ہے، سینئر سیاستدانوں کی طرف سے مختلف مواقعوں پر نامناسب بیانات دئیے جا رہے ہیں، کافی عرصے سے برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بار بار کہہ رہے ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں، ملک میں سکیورٹی کے چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہماری افواج سرحدوں اور اندرون ملک اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، تمام فوکس ان تمام ذمہ داریوں پر ہے، سیاسی حالات میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، میں میڈیا، سیاستدانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں ہے، تقرری کا طریقہ کار آئین اور قانون میں واضع کر دیا ہے، تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی، اس موضوع کو بحث بنانا اور بات چیت کرنا اس کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ایک بار پھر درخواست ہے اس کو موضوع بحث نہ بنائیں۔سیاستدانوں کی جانب سے الیکشن کروانے کے مطالبے کے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، سیاست کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں، ایک سال سے واضح طور پر عمل کر کے دکھایا ہے، کسی بھی ضمنی انتخابات، بلدیاتی انتخابات سمیت دیگر سیاسی معاملات دیکھ لیں ہم نے واضح طور پر ان چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھا، اب اس کی تصدیق تمام سیاستدان کر رہے ہیں،سیاسی صورتحال میں مداخلت کی باتیں مناسب نہیں، یہ کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتی۔لانگ مارچ خونی ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس پر کوئی کمنٹ نہیں کرنا چاہتا، ملک کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں،ملک پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان جو ایک محبت ، اعتماد کا رشتہ ہے اس میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جائے،یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، ڈس انفارمیشن لیب اس کی مثال ہیں جو پندرہ سال سے یہ حرکتیں کر رہی تھیں، فوج اور عوام کے رشتے میں کوئی دراڑ نہیں آ سکتی۔انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے بیان جاری کرنا بدقسمتی ہے، یہ کسی ایک پولیٹیکل پارٹی کیلئے نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے کچھ ایسے بیانات دیئے ہیں جس کا تعلق سینئر فوجی قیادت اور ادارے سے متعلق ہے اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،اس پر بار بار تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بار بار مطالبہ کر رہے ہیں سیاسی گفتگو سے پاک فوج کو باہر رکھیں۔ انہوںنے کہاکہ 74 سال سیاستدانوں کا بھی یہی مطالبہ ہے، ادارے نے جب فیصلہ کیا ہے اور واضح طور پر بتا دیا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، ملکی حفاظت کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہیترجمان پاک فوج نے کہا کہ کوئی سمجھتا ہے خدانخواستہ فوج میں دراڑ ڈال سکتا ہے، اس کو فوج کا پتہ نہیں، پاک فوج کے جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں، سب جوان آرمی چیف کی طرف دیکھتے ہیں، ادارے میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ تنقید پر کسی کو پرابلم نہیں ہے، سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تنقید نہیں، پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، کچھ عرصے سے بار بار ترجمان پاک فوج کی حیثیت سے بات کر رہے ہیں کہ ملک پر ہائبرڈ وار فیئر مسلط کی جا رہی ہے، ہائی لیول کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے،تمام سیاستدان، میڈیا سمیت ادارے سمجھیں کہ ہمیں متنازع نہ بنائیں۔پشاور کور سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کسی بھی رینک پر اہم عہدہ کمانڈ ہوتی ہے، چاہے کسی بھی کور کی کمانڈ ہو، کور کی کمانڈ آرمی چیف کے بعد سب سے اہم ہوتی ہے،70 فیصد فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی)، پاک افغان، پاک ایران بارڈر سمیت مختلف جگہوں پر تعینات ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔الیکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی اٰر نے کہا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاستدانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سینئر سیاستدانوں کی حیثیت ہے وہ آپس میں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں، سیاسی معاملے میں فوج کو جب بھی بلایا گیا ہے معاملہ متنازع ہوا ہے، ہم نے اس فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی چیزوں سے ہم نے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے، الیکشن کی سکیورٹی کے معاملے پر ہماری ضرورت پڑی تو فوج اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج سیاستدانوں کو ملاقات کے لیے نہیں بلاتی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ واضح کر چکے ہیں، ملاقات کیلئے بار ہاسیاستدانوں کی طرف سے درخواست کی جاتی ہے، آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ میں کبھی خود ملنے نہیں گیا، اگر سیاستدان ملنا چاہتے ہیں تو اس پر ملنا پڑتا ہے، ساری کی ساری ذمہ داری محترم سیاستدانوں پر ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکا سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس طرح کی معلومات نہیں ہے، ان کے دوروں کو اوپن نہیں رکھا جاتا، دورہ سے متعلق بیک گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہیں، انٹیلی جنس شیئرنگ ہوتی ہے جس طرح کے سکیورٹی چیلنجز ہمارے ریجنز میں چل رہے ہیں ان کا تعلق بلواسطہ اور بلاواسطہ ہمارے ریجن کے ساتھ بنتا ہے، تمام ممالک کے انٹیلی جنس چیفس کے ساتھ اور ہمارے انٹیلی جنس چیف کی ملاقاتیں ہوتی ہیں اس کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ بھی ہوتی ہے، اس لیے ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے جوان اور آفیسرز عزیز و اقارب اور سوسائٹی سے کٹ کر نہیں بیٹھے، غلط قسم کی بات چیت ادارے کے بارے میں ہوتی ہے تو جوانوں پر یہ معلومات پہنچتی ہے، اس طرح کے بیانات کے اثرات ادارے کے مورال پر ہوتا ہے، رینک اینڈ فائل متاثر ہوتا ہے، کئی بار سن چکا ہوں کہ جوانوں کی بہت عزت کی جاتی ہے، ادارے میں جوانوں، آفیسرز کو یقین ہے اس پر لیڈر جو بیٹھا ہے وہ اس کے ساتھ بیٹھا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں آفیسرز اور جوانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، میجر ، کرنل ، بریگیڈر، جنرل سمیت ہر رینک میں جوان شہادت کے رتبے پر فائز ہوا، تنقید کرنے والوں کو پتہ نہیں فوج کام کیسے کرتی ہے۔ ہمارے جوانوں کو آرمی چیف اور کور کمانڈر پر بھروسہ ہوتا ہے۔آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ملک کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاک فوج کی سینٹر آف گریویٹی چیف آف آرمی سٹاف ہے،یہ سب کو کلیئر ہونا چاہیے، سپہ سالار کی تعیناتی اور ان کی ذات پر جب کوئی بات کی جاتی ہے اس کا اثر پوری فوج پر ہوتا ہے، اس طرح کی بات بلاوجہ اور بلاجواز اور بحث میں تعیناتی کو لیکر آنے منفی اثر پڑتا ہے، اسی لیے بار بار کہا جاتا ہے کہ فوج، اس کے ماضی کے کردار اور قیادت کو ٹیلی ویژن پر موضوع بحث بنایا جاتا ہے، اس لیے درخواست کرتے ہیں فوج کو اس کی قیادت کو اس معاملات میں نہ لایا جائے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر