وجود

... loading ...

وجود

انتخابی اصلاحات کے بعد ہی عام انتخابات ہوں گے، آصف علی زرداری

بدھ 11 مئی 2022 انتخابی اصلاحات کے بعد ہی عام انتخابات ہوں گے، آصف علی زرداری

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے نہیں ڈرتے لیکن ہمارے گیم پلان میں انتخابی اور قومی احتساب بیورو (نیب)اصلاحات ہیں، جس کے بعد انتخابات ہوں گے۔ پہلی دفعہ اگر فوج ایک غیرسیاسی ہوتی ہے تو مجھے باجوہ کو سیلوٹ کرنا چاہیے یا ان سے لڑنا چاہیے کہ تم کیوں غیرسیاسی ہوئے ہو۔ حلف پر رہیں تو بھی غلط ہیں اور نہ رہیں تو بھی غلط ہیں، ایسا نہیں چلے گا۔ بدھ کوکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج تک میں یہ کہتا آیا ہوں کہ الیکشن کرائیں، یہ الیکشن دھاندلی کے ہوئے ہیں تو کسی مانا نہیں اور کسی نے سنا نہیں، اس کے وقت کے نام نہاد سلیکٹڈ نے بھی نہیں سنا۔انہوںنے کہا کہ جب میں نے سلیکٹڈ کو سیاسی فورسز کی مدد سے ہم نے حکومت بنالی ہے لیکن اس کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے وزیراعظم بنانے کے لیے ہمیں کوئی ایک ووٹ بھی نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ اب وہ چاہتے ہیں الیکشن ہوں تو ہم نے کب کہا کہ ہم الیکشن سے ڈرتے ہیں، ہمارے گیم پلان میں انتخابی اور قومی احتساب بیورو(نیب)کی اصلاحات ہیں، یہ سب اصلاحات کرنے ہیں جس سے معاشی حالات بہتر ہوں۔سابق صدر نے کہا کہ جس حال پر اس وقت معیشت ہے، میں منفی اصطلاح استعمال نہیں کرنا چاہتا کہ لوگ آپ کو پیسہ بھی نہیں دینا چاہتے ہیں اور آپ کا اسٹاک ایکسچینج کھڑا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج پرویز مشرف کے زمانے میں 9 ہزار سے جب ہم نے چھوڑا تو تقریبا 26 ہزار تھا، ان کا الیکشن کا جو نعرہ ہے، تو یہ الیکشن سے کیا کرلے گا، پہلے اس نے 4 سال میں کیا کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں صاحب سے مشاورت کے بعد بات کر رہا ہوں کہ جیسے ہماری اصلاحات پورے ہوتے ہیں مثلا اس وقت تیل مہنگا ہے تو تیل کہاں سے سستا لائیں گے، ہمیں مذاکرات کرنے ہوں گے، سعودی عرب نے پہلے 10 لاکھ بیرل 70 ڈالر کا وعدہ کیا ہے، وہ مل رہی ہے یا ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے تعلقات اچھے ہیں اور وہ ان سے بات کریں گے اور جہاں تک عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کا تعلق ہے، توجب پروگرام نہیں آجاتا تو ہمارے پاس مشکلات ہیں، تیل کی قیمت ہم نہیں بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ایک دفعہ تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو تیل، انڈہ اور ٹماٹر کی قیمت بڑھتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ تو کہتا تھا کہ ٹماٹر اور آلو کی قیمت کے لیے نہیں آیا لیکن میں تو ٹماٹر اور آلو کے لیے آیا ہوں، جو چولھے بجھ گئے ہیں میں ان کو جلاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس آٹ آف دا بکس کافی تجاویز ہیں، آپ کے پاس اسٹیٹ لائف انشورنس ہے، اس وقت 100 ارب سے زیادہ سرمایہ ہے، اس میں سے 26 فیصد کسی کاروباری کو دے دیں، جس کا ریکارڈ اچھا ہو، مارکیٹ سے 26 فیصد پر کم سے کم آپ کو 8، 10 ارب ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی لائنز کی بھی نجکاری کرنی ہیں، سندھ اور پنجاب میں یہ لائنز نجی شعبے میں لے کر جانا، پاکستان کے کاروباری ہمارے ساتھ بیٹھیں، ان کی تجاویز بھی لینا چاہتا ہوں اور اپنی تجاویز بھی دینا چاہتا ہوں لیکن حل آٹ آف دا بکس نکالنا ہے، ان دا بکس جس طرح ماہرین معاشیات کرتے ہیں، تو اس وقت معیشت چھوٹی اور آبادی کم تھی، 2 فیصد نیچے کرنے سے قصہ چلتا تھا لیکن آج چلتا۔انہوں نے کہا کہ آج 50 ہزار میں بھی شہری کو تکلیف ہے کیونکہ بجلی مہنگی ہے جس کو برداشت نہیں کرسکتا ہے، ہمیں ایک پروگرام دینا پڑے گا، پورے سندھ اور پاکستان میں سولر بجلی پیدا کرنی ہے، پاورپلانٹس پر نہیں جائیں بلکہ انفرادی طور پر سوفٹ لون پر دیں اور وہ زمینوں، پمپس اور گھروں میں بھی لگائیں، جہاں سے جو بجلی بچتی ہے وہ صنعتی شعبے کو دیں لیکن ایک طریقے سے دیں تاکہ بجلی اتنی مہنگی نہ ہو اس کی مصنوعات ناقابل رسائی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے نظام کے لیے میں نے پارلیمان میں موجود ایک پارٹی کو بھی نہیں چھوڑا جو ہمارے ساتھ نہیں بیٹھے ہوں۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صرف جھوٹ کا مربہ ہے، جب کھڑا ہوتا ہے، امریکا اور پوری دنیا میں اینجلیکن پریسٹ کی بڑی پیروی ہوتی ہے، ان کے پاس بڑا مال ہوتا ہے اور پیسہ آتا ہے، اس کے پاس بھی بڑا مال آرہا ہے اور لوگ بے وقوف بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک شخصیت تخلیق کرتے ہیں، کلٹ پیدا کر رہے ہیں اور پھر اس کو استعمال کرتے ہیں لیکن وہ پاکستان میں اس طرح نہیں کر سکیں گے، پاکستان سے باہر جو لوگ مقیم ہیں، ان کو گمراہ کیا ہوا ہے کیونکہ وہ یہاں رہتے نہیں ہیں، اس لیے ان کو یہاں کے حالات اور مہنگائی کا پتہ نہیں ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو نہیں پتا کہ میں گڑھی خدابخش سے آرہا جہاں 52 ڈگری تھی، تین دن نواب شاہ میں تھا جہاں 48 مگر 58 ہے، اتنی لو چلتی ہے تو یہ عملی حقیقت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہمارے لیے جتنا بھی اچھا اور ہمدری رکھنے والا ہمارے لیے حل نہیں نکال سکتا ہے، ہمیں خود بنانا ہے، پاکستان سے بنانا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پہلی دفعہ اگر فوج ایک غیرسیاسی ہوتی ہے تو مجھے باجوہ کو سیلوٹ کرنا چاہیے یا ان سے لڑنا چاہیے کہ تم کیوں غیرسیاسی ہوئے ہو۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے یا کسی اور کو یہ نہیں کہا کہ تم جا کر زرداری یا شہباز شریف کو ووٹ دو، وہ اس لیے غیرسیاسی ہوئے کہ ہم دخل انداز نہیں ہوں گے، کیونکہ انہوں نے آئینی طور پر حلف لیا ہوا ہے اور وہ اسی پر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حلف پر رہیں تو بھی غلط ہیں اور نہ رہیں تو بھی غلط ہیں، ایسا نہیں چلے گا، شکر یہ اس مشق میں پتہ پڑا کہ وہ غیر جانب دار اور غیرسیاسی ہو سکتے ہیں اور ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ وہ ایسے رہیں۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ اگر عوام اور قوم کے کوئی مسائل ہیں تو اس کے عوامی نمائندے ہم ہیں، لوگوں نے ووٹ اسی لیے دیا ہے کہ میں دنیا میں ان کے مسئلے بتاسکوں اور دیکھ سکوں۔ان کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ بھی ہے، نواب شاہ میں اپنی اور غریبوں کی فصلیں دیکھ کر رو رہا تھا، کچھ گلیشئرز پگھل گئی ہیں اور پانی آرہا ہے، ہم لوگوں کو یہ تو نہیں کہیں گے عمرے پر مت جا ہم نے جلسہ کرنا ہے، مگر جو دوست ہیں ان کو کام پر لگائیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگ ٹی وی پر یہ گانا گا رہے ہیں کہ فریش الیکشن کرواؤ، جو بھی آئے گا اس کو یہ مسئلے حل کرنے ہیں، تو ہمیں کرنے دو پھر ہمیں الیکشن میں جانے دو، پھر ہم دیکھیں گے۔انتخابات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قانون تو بنانے دو، سارا جھگڑا اسی قانون پر ہے، جس پر یہ سلیکٹڈ یا کوئی اور سلیکٹڈ لایا جاسکتا ہے، ہم نے قانون تبدیل کرنا ہے اور بہتری کے بعد انتخابات میں جانا ہے، اس میں 3 مہینے لگیں یا 4 ماہ لگیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر