وجود

... loading ...

وجود

ارکان کی خرید وفروخت ، وزیراعظم کی نوجوانوں سے احتجاج کی اپیل

اتوار 03 اپریل 2022 ارکان کی خرید وفروخت ، وزیراعظم کی نوجوانوں سے احتجاج کی اپیل

وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر نوجوانوں سے (آج)اتوار تک حکومت کے خلاف ہونے والی مبینہ سازش کے خلاف احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ چپ کرکے بیٹھیں گے تو آپ برائی کا ساتھ دیں گے،غداروں کے خلاف پر امن احتجاج کیا جائے ، کسی قسم کا اپنے ملک کو نقصان نہ پہنچائیں ،سیاست دانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے ، حکومت گرانے کی سازش باہر سے ہوئی ہے ، دھمکی آمیز پیغام کے مطابق عمران خان کو اگر ہٹائیں گے تو امریکہ کے تعلقات آپ سے اچھے ہوں گے، جیسے عمران خان کو ہٹائیں گے تو آپ کو معاف کردیں گے، سارا دن وکیلوں کے ساتھ بیٹھا رہا ، منصوبہ بنالیا ہے ،ہم کسی صورت ان کو جانے نہیں دیں گے، غداروں وکے خلاف ایک ایک کے اوپر مقدمہ کریں گے،سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے مجھے بتائیں کب ہماری خارجہ پالیسی آزاد رہی ہے ، اس کو اس طرح کے میر جعفروں نے مروایا تھا،کرپٹ ٹولہ میڈیا کوپیسہ کھلا کر جھوٹی خبریں نکال کر پروپیگنڈا کرتے ہیں، میڈیا کے اوپر بڑا پیسہ چلا ہے، سب کو پتہ ہے کون سا میڈیا ہاؤس کدھر کھڑا ہے۔ ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر عوام سے بات کرنے کے حوالے سے ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ” کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام میں نوجوانوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں اس لیے نوجوانوں سے بات کرنا چاہ رہا ہوں کیونکہ اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن وقت پر کھڑا ہے اس میں آپ کا مستقبل کہ کس طرح کا پاکستان بنے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک دو راستوں پر جاسکتا ہے، قوموں کی زندگیوں میں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہم نے ایک تباہی کے راستے پر جانا ہے یا اس راستے میں جانا ہے جو مشکل بھی ہوگا اور ہر قسم کی آزمائشیں بھی آئیں گی لیکن وہ ہماری عظمت کا راستہ ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی سیاست وہاں پہنچ گئی ہے کہ آج ساری قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا ہے، نوجوان اگر راہ حق میں جھوٹ کے خلاف کھڑے ہوں گے تو معاشرہ زندہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ معاشرہ درمیان میں بیٹھ جاتا ہے کہ مجھے تو کچھ نہیں، میری زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور غیرفعال ہو کر کچھ نہیں کرتا ہے تو دراصل وہ برائی کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے، جب وہ اچھائی اور برائی کے درمیان نیوٹرل ہوتا ہے تو وہ برائی کا ساتھ دینا شروع ہوجاتا ہے اور وہ معاشرے کی تباہی ہوتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاست دانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے جو ملک کی قیادت ہے، ایک حکومت گرانے کے لیے ان کو خریدا جارہا ہے، باہر سے سازش شروع ہوئی، یہاں ذاتی مفادات کے لیے ان کے ساتھ مل کر سودا کرنے کیلئے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے خاص طور پر کہ آپ کے پاس یہ نہیں ہے کہ آپ چپ کرکے بیٹھ جائیں، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اچھائی کدھر ہے اور برائی کدھر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ چپ کرکے بیٹھیں گے تو آپ برائی کا ساتھ دیں گے، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ سب احتجاج کریں، آپ سب اپنی آواز بلند کریں، یہ جو سازش ہورہی ہے، میرے لیے نہیں اپنے مستقبل کے لیے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا ہوگا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی باہر کی قوت کو ملک کی قیادت، وزیراعظم پسند نہ ہوتو کیا وہ 15،20 ارب روپے خرچ کرکے حکومت گرا دیگا۔انہوںنے کہاکہ ایک جوہری قوت پاکستان کی قیادت تبدیل ہوسکتی ہے، باہر کی قوت تھوڑے پیسے ضمیر فروشوں کو دے اور ان کو بکروں کی طرح خریدے اور حکومت گرادے تو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ نوجوانوں کو اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس پاکستان میں تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس لیے جو زیادہ پڑھ لکھ لیتا ہے باہر جاتا ہے لیکن یہ آپ کا ملک ہے، اس کے لیے آپ کو لڑنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں احتجاج آپ کا حق ہے، میں زندہ معاشرے کی بات کر رہا ہوں، برطانیہ زندہ معاشرہ ہے، جب انہوں نے ناجائز طریقے سے، جھوٹ پر تباہی پھیلنے والے اسلحے کا نام لے کرعراق پر حملہ کیا تو احتجاج کرنے کے لیے 20 لاکھ لوگ نکلے، پرامن احتجاج تھا، کوئی گملا نہیں ٹوٹا، میں ان کے ساتھ تھا اور یہ کسی ایک پارٹی نے نہیں نکالا تھا۔وزیر اعظم نے کہاکہ میں دہراتا ہوں کہ آپ کا جو احتجاج ہوگا وہ پرامن ہو، کسی قسم کا اپنے ملک کو نقصان نہ پہنچائیں، یہ ہمارا ملک ہے، ہم جب توڑ پھوڑ کرتے ہیں تو اپنے لوگوں اور اپنے ملک کا نقصان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سے اس طرح کے غداروں کو خوف ہوتا ہے، جب قوم سچائی اور حق کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے تو معاشرے میں ان غداروں کو سب سے بڑا خوف ہوتا ہے جو اپنے ضمیر کا سودا کر چکے ہوتے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کو غلام بنا دیتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ ان غداروں کو نہ بھولے، یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ تھوڑی دیر میں بھول جائیں گے، نوجوانوں کی ذمہ داری ہے، آپ نے ان کو بھولنے نہیں دینا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس قوم کے ساتھ بے شرمی سے غداری کی ہے، ثابت ہوگیا کہ یہ باہر سے پوری سازش تھی، ہماری پاس قومی سلامتی کمیٹی، کابینہ سب نے وہ خط دیکھ لیا ہے، یہ سرکاری دستاویز ہے کہ عمران خان کو اگر ہٹائیں گے تو امریکا کے تعلقات آپ سے اچھے ہوں گے، جیسے عمران خان کو ہٹائیں گے تو آپ کو معاف کردیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال پر کہا کہ میں ہمیشہ آخری گیند تک مقابلہ کرنے والا کپتان تھا اور کبھی ہار نہیں مانتا، یہ سازش ہوئی ہے تب سے میں منصوبہ بندی کررہا ہوں ان کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کوآپ دیکھیں گے میں کیسے ان کا مقابلہ کرتا ہوں، آپ سب نے اس پر احتجاج ضرور کرنا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری قوم زندہ ہو، کوئی اور زندہ ملک ہوتا جہاں اس طرح کی چیز ہوتی تو قوم نے سڑکوں پر ہونا تھا۔عوام کو مخاطب کرکے انہوںنے کہاکہ میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ پرامن احتجاج کریں، میں پھر سے کہتا ہوں کہ آپ کو ہفتہ اور اتوار کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے، کوئی پارٹی آپ کو نہ نکالے بلکہ آپ کا ضمیر آپ کو نکالے۔انہوں نے کہا کہ آپ اپنے ملک اور اپنے بچوں کے مستقبل کی وجہ سے نکلیں، یہ حکومت میں اپنے مقدمات ختم کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کیلئے ملک سے غداری کر رہے ہیں۔عوام پر زور دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آپ سب کو نکلنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ آپ زندہ قوم ہیں۔مقدمے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک غداری کے مقدمے کی بات ہے تو آج میں اپنے وکیلوں کے ساتھ سارا دن بیٹھا ہوں، ہمارا منصوبہ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے ملک کے ساتھ انہوں نے غداری کی ہے، ہم کسی صورت ان کو جانے نہیں دیں گے، ایک ایک کے اوپر مقدمہ کریں گے۔انہوںنے کہاکہ میں وکیلوں کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ اس کا بہترین طریقہ کیا ہے کیونکہ ہم نے قانون بھی دیکھنا ہے، ہم آج رات تک فیصلہ کریں گے کہ کس طرح کی قانونی کارروائی کرنی ہے۔وزیراعظم نے ایک اور سوال پر کہا کہ میرے پاکستانیو! ایک چیز یاد رکھنا، آج اس ملک کو دو ایسی فورسز ہیں جو اس کو اکٹھا کر رہی ہیں، ایک پاکستان کی فوج ہے کیونکہ ہمیں فخر ہے، پاکستان کی فوج ایک مضبوط فوج ہے، پروفیشنل آرمی ہے، وہ ایک ملک کو اکٹھا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پوری کوشش کرتے رہے ہیں کہ ملک تین حصوں میں ہوجائے، ٹوٹ جائے، ایک مضبوط فوج اس ملک کیلئے بہت ضروری ہے اور دوسرا تحریک انصاف نے ملک کو اکٹھا کیا ہوا ہے کیونکہ واحد قومی جماعت ہے۔انہوںنے کہاکہ ان دونوں فورسز کے خلاف سازش، یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے، تحریک انصاف کو کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ کسی طرح اگر مجھے ہٹائیں اور حکومت اور پارٹی کو کمزور کریں۔انہوں نے کہا کہ دوسرا کسی طرح پاکستانی فوج سے لوگ متنفر ہوں، ہمیں اس فوج کی بہت ضرورت ہے، اس نے ہمارے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور روز قربانیاں دی رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں سب سے چاہتا ہوں کہ کسی قسم کی اپنی فوج پر تنقید نہ کریں۔معیشت کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ معیشت کے ماہرین بیٹھیں اور وہ موازنہ کریں کہ یہ ساڑھے تین کے دور میں تحریک انصاف نے کیا کیا اور اس سے پہلے 10 سال یہ دونوں جماعتیں کرتی رہی ہیں وہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ کبھی بھی وہ چیزیں نہیں ہوئیں جو ہمارے دور میں ہوئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کبھی بھی کوئی قوم بھکاریوں کی طرح گھٹنوں پر چل کر کے دوسرے لوگوں کے مفادات کیلئے اپنے لوگوں کو قربان کرکے، جیسا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے 80 ہزار لوگ مروا دیے، کبھی قوم ترقی نہیں کرتی، ہم غلاموں کی طرح دوسری قوتوں کے سامنے جھکتے رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے، مجھے بتائیں کب ہماری خارجہ پالیسی آزاد رہی ہے اور اس کو اس طرح کے میر جعفروں نے مروایا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہی فضل الرحمن اور نواز شریف کی جماعتیں تھیں، جنہوں نے غیرملکوں کے ساتھ سازش کرکے ماحول بنایا اور پھر اس کو پھانسی لگوائی۔انہوں نے کہا کہ یہ اس جرم میں شامل تھے، یہ آج پھر وہی ماحول بنا رہے ہیں، جب تک یہ قوم احتجاج نہیں کرے گی جب اس طرح کے ظلم اور سازش ہوگی، جب تک قوم اظہار نہیں کرے گی اور جب تک پرامن احتجاج نہیں کرے گی اور کہے گی کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، تب تک تبدیلی نہیں آئے گی اور یہ سازشیں کامیاب ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ جب ساری قوم ایک بن کر کھڑی ہوجاتی ہے تو اس کے خلاف کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا اور قوم اب ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ ٹولہ میڈیا کوپیسہ کھلا کر جھوٹی خبریں نکال کر پروپیگنڈا کرتے ہیں، میڈیا کے اوپر بڑا پیسہ چلا ہے، سب کو پتہ ہے کہ کون سا میڈیا ہاؤس کدھر کھڑا ہے، جو جو میڈیا ہاؤس ان چوروں کے ساتھ کھڑا ہے، ان پر پیسہ چلا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا کہ کوئی ان کے ساتھ جاسکتا ہے، قوم یہ برداشت نہیں کرے گی، قوم احتجاج کرے اور پتہ چلے کہ یہ زندہ قوم ہے اور قوم اس کے خلاف نکلے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرا منصوبہ بنا ہوا ہے، میں ان کو اسمبلی میں شکست دے کر دکھاؤں گا، کپتان کا ہمیشہ منصوبہ ہوتا ہے اور اس بار میرا ایک سے زیادہ منصوبہ ہے، ان شااللہ (آج) اتوار کو ہم جیتیں گے اور آپ کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں کیوں کہہ رہا ہوں کہ کل میں آپ کو خوش خبری دوں گا کیونکہ وہ لوگ جو ان کی طرف چلے گئے تھے وہ ڈرنا شروع ہوگئے ہیں، مجھے گزشتہ رات سے پیغام آنے شروع ہوگئے ہیں اور (آج) اتو ار کوآپ نتیجہ دیکھیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنی قوم سے پوری امید ہے کہ اپنے لوگوں کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر