وجود

... loading ...

وجود

ن لیگ،پیپلز پارٹی میں موجودہ حکومت سے چھٹکارے کیلئے اکٹھے چلنے پر اتفاق

هفته 05 فروری 2022 ن لیگ،پیپلز پارٹی میں موجودہ حکومت سے چھٹکارے کیلئے اکٹھے چلنے پر اتفاق

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے موجودہ حکومت سے چھٹکارے کیلئے اکٹھے چلنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہر قدم اٹھانے کے لئے تیار ہیں ، ہم ماضی کے اختلافات کے باوجود ایک بڑے مقصد کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں،اگر سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کر ے گی، جہاں تک قومی مفاد اور عوام کے مطالبے کی بات ہے تو پیپلز پارٹی او ر(ن)لیگ ایک پیج پر ہیں کہ عمران خان کو جانا چاہیے ،عوام کا اس حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے اب پارلیمان کا اعتماد بھی اٹھنا چاہیے ،اتفاق پایا ہے کہ اس حکومت سے ملک کو چھٹکارا دلانے کے لئے اورعوام کے دکھوں کو ختم کرنے کے لئے غربت بیروگاری اورمہنگائی سے بچانے کے لئے تمام آئینی قانون اور سیاسی آپشنز کو بلا تاخیر استعمال کرنا ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اعزاز میں اپنی رہائشگاہ پر ظہرانہ دیا گیا ۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی آمد پر شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ استقبال کیا ۔ ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز ، مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب ، پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ اور رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں ۔ملاقات میں ملک کے موجودہ حالات سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے 27فروری کو اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ۔ ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اس سے متعلقہ مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو آگاہ کیا کہ وہ اس سلسلہ میں پارٹی قائد نواز شریف کو اعتماد میں لیں گے اور جلد پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر زیر بحث آنے والی تمام تجاویز کو اس میں رکھا جائے گا جس کے بعدانہیں حتمی شکل دے کر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر لے جایا جائے گا۔ رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ہمارا مقصد بہت بڑا ہے اس لئے ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال ک آگے بڑھیں گے ۔ ملاقات کے بعد شہباز شریف نے بلاول بھٹو، مریم نواز اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو اپنی طرف سے اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور ہم نے ملک کے مجموعی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج یوم کشمیر بھی ہے اور پورے ملک میں کشمیری بہنوں بھائیوں کے حق میں ریلیاںنکالی جارہی ہیں ۔ پانچ اگست 2019ء کو مودی سرکار نے ظلم کا بازار مزید گرم کیا اور ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی ، ستر سال سے زائد گزر چکے ہیں کشمیر کی وادی ہزاروں شہداء کے خون سے سرخ ہو چکی ہے ،بد قسمتی سے موجودہ حکومت نے نہ صرف اس غاصبانہ اقدام جو مودی نے اٹھایا اس پر پر اسرار خاموشی اختیار کی بلکہ کشمیر کاز کو آگے بڑھانے میں بھی بری طرح ناکام رہی ،حکومت اس معاملے پر او آئی سی سے کشمیر پر اپنے موقف کی توثیق نہیں لے سکی ، گزشتہ دنوں میں جب اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تو وہاں فلسطین کی بات توکی گئی لیکنکشمیر کی بات نہیں کی گئی ، کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے او رہم انہیں یقین دلانا چاہے ہیں کہ انہیںحق خود ارادیت ملنے تک پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا ،ہر لحاظ سفارتی سیاسی اور اخلاقی سپورٹ پہلے سے بھی زیادہ کشمیریوں کے ساتھ ہے ،انشااللہ آخری دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حالیہ دنوںمیں دہشتگردی نے پھر سر اٹھایا ہے اور لاہور اسلام آباد پشاور بلوچستان میں پے درپے دہشتگردی کے حملے ہوئے ہیں ،خونخوار وں اوردہشتگرد وں کو جہنم رسید کرنے کے لئے ہماری افواج کے افسران اور جوانوںنے ہمیشہ کی طرح جام شہادت نوش کیا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جب پیپلز پارٹی کا زمانہ تھا تو اس وقت ضرب مومن کا آغا ہوا ،جب نواز شریف کا دور آیا تو ضرب عضب اور رد الفساد کے آپریشن ہوئے اور اس ملک کے اندر دہشتگردی کا تقریباً خاتمہ ہو چکات ھا لیکن بد قسمتی ہے کہ ساڑھے تین سال میں موجودہ حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ نیشنل ایکشن پلان جو ان کی حکومت سے پہلے ترتیب دیا گیا تھا اس پر پیشرفت کرتی بلکہ اسے سرد خانے میں ڈال دیا ،جس طرح حکومت نے باقی زندگی کے ہر شعبے میں ناکامی اور تباہی مچائی ہے ویسے ہی دہشتگردی کے حوالے سے ان کا رویہ اورکارکردگی پوری قوم کے سامنے ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج بیروزگاری غربت اور مہنگائی نے ہر جگہ ڈیرے ڈال رکھے ہیں او ریہ میں نہیں دنیا کے سروے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت دنیا میں تیسرا مہنگا ترین ملک ہے ،غریب آدمی ایک وقت کی روٹی کو ترس گیاہے ، ان پر زندگی تنگ ہے اور بیمار ماں کے لئے بچوںکے لئے دوائی حاصل کرنا محال ہو چکا ہے ٍ،بیوہ اور یتیم کے سر پر کوئی دست شفقت رکھنے والا نہیں ،ملک میں غربت اور بیروزگاری نے تباہی مچا دی ہے ،آج لوگ ہاتھ آسمان کی طرف کر کے دیکھتے ہیں کہ کب پاکستان کی ناکام ترین ،کرپٹ نا اہل او رنا تجربہ کار حکومت سے سے جان چھوٹے گی ،جودن رات جھوٹ بولتے ہیں یوٹرن مارتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں ان کا سارا زور مخالفین کے اوپر ہے ،ان کی ساری قوت مخالفین کو گالیاں دینے اور انہیں عوام کے سامنے برا بھلا کہنے میں لگتی ہے ، اگریہ اس توانائی اور وقت کا آدھا حصہ بھی ملک کی خدمت کے لئے وقف کرتے تو ملک آج تباہی کا شکار نہ ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ِملک میں تباہی کا جو منظر ہے چوہتر سال میں کسی آنکھ نے وہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ پاکستان کی آج جو صورت گری ہے جو معاشی تباہی ہے ،مزید قرضے لئے گئے ہیں ،پاکستان کے بچے بچے کو ان قرصوں میں جکڑ دیا گیا ہے اور حکمرانوں سے کوئی اوربات سننے کو نہیں ملتی ، موصوف اب چین تشریف لے گئے ہیں اور سنا ہے کہ وہاںسے بھی قرضے لینے ہیں۔نواز شریف کے دور میں بھی قرضے لئے گئے مگر جو کچھ ترقی کے حوالے سے خوشحالی کے حوالے سے کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے،پی ٹی آئی کے عمران نیازی کے در میں قرضے لینے کی انتہا ہوگئی ہے اور کھربوں روپے کے قرضے لینے کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن ایک نئی اینٹ دیکھنے کو نہیں ملتی ، یہ صرف یہ کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے بنائے ہوئے منصوبوں پر دن رات تختیاں لگا رہے ہیںاو رانہیں اس پرکوئی شرم نہیں آتی بلکہ ڈھٹائی کے ساتھ اس کام کو سر انجام دے رہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہر پاٹی کا اپنا منشور اور ایجنڈا ہوتا ہے لیکن ہم نے ملک کو درپیش ہر مسئلے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے ۔ آج عوام جس بد ترین صورتحال سے دوچار ہیں اس صور تحال کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کی گئی ہے ،عوام کی منشاء ان کے ماتھے پر لکھی ہے اورکوئی سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، کوئی سوال کرنے سے پہلے عوام ٹھوک کر جواب دیتے ہیں کہ کب حکومت سے جان چھڑائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ بطور سیاسی جماعتوں اور سیاستدان کے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا نہ کیا تو پھر نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی ۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں تمام حوالے سے تفصیل سے گفتگو کی ہے، ہر سیاسی جماعت کی اپنی اپنی سوچ ہے لیکن موجودہ حالات میں جو شدید بحران ہیں اس میں ہم اکٹھے نہ ہو ئے ہم آہنگی پیدا نہ کی ایک ایجنڈا پر اتفاق نہ کیا تو قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کر ے گی ۔انہوں نے کہا کہ اتفاق پایا ہے کہ اس حکومت سے ملک کو چھٹکارا دلانے کے لئے اورعوام کے دکھوں کو ختم کرنے کے لئے غربت بیروگاری اورمہنگائی سے بچانے کے لئے تمام آئینی قانون اور سیاسی آپشنز کو بلا تاخیر استعمال کرنا ہوگا ۔ یقینا پیپلز پارٹی اس حوالے واضح ہے ،ہماری جماعت میں کچھ رائے ہیںلیکن نواز شرف کی لیڈر میںیکسوئی ہے ۔ آج ہم نے طے کیا ہے اگلے چند روز میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت کر کے اس کو پی ڈی ایم میں لے کر جائیں گے اوروہاںمشاورت کے ساتھ اجازت کے ساتھ فی الفور اکٹھا کرنے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا وت آئے گا اور سب اپنی اپنی سیاست کریں گے لیکن اس وقت ایک نقطے پر اکٹھے ہونا چاہیے کہ ملک کو تباہی سے بچانااہے اور اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔شہبا ز شریف نے مزید کہا کہ ملاقات میں لانگ مارچ ، عدم اعتماد سمیت تمام معاملات پر بات ہوئی ہے،پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے دوسری جانب پی ڈی ایم نے بھی اعلان کر رکھا ہے اور کوشش ہے کہ اس میں ہم آہنگی اور کواردی نیشن پید اکر سکیں ، اس حوالے سے دو تین مثبت رائے سامنے آئی ہیں ، پیپلز پارٹی نے نرمی دکھائی ہے ، ہم مشاورت کے ساتھ اسے شریف اور پی ڈی ایم میں لے کر جائیں گے اور مثبت بات سامنے آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتمادآئینی وقانونی حق ہے اور اسے ملک کے وسیع تر مفاد میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے ،اس حکومت نے ملک کی جو تباہی کر دی ہے اس آپشن کو بہت سنجیدگی کے ساتھ لیں گے اور اگلے چند دنوںمیںمسلم لیگ (ن)اور پی ڈی ایم کی میٹنگ ہو گی جس میں یہ زیر بحث آئے گا۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلز پارٹی واضح تھی لیکن ہمارے جماعت میں ایک سے زیادہ رائے تھی لیکن کافی اتفاق رائے ہوا ہے اور نواز شریف سے کہیں گے کہ وہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلائیں اس کے بعد اسے پی ڈی ایم میں لے جائیں گے اورپی ڈی ایم سے مشاورت کے بعد اعلان کریں گے۔انہوںنے کسی طرف سے سگنل ملنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ سگنلزکی بات کر رہے ہیں کیا ہم ساڑھے تین سال سے سگنلزپر چل رہے ہیں ، حکومت جو ملک کو تباہی کی طرف لے کر جارہی ہے ، اس سے پہلے اس طرح کی معاشی ابتری دیکھی ہے ، آج بچوں سے ان کا دودھ چھن گیا ہے ، عوام سے ایک وقت کی روٹی چھن گئی ہے ، اس کے بعد بھی کن سگنلز کی بات کر رہے ہیں ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ظہرانے پر مدعو کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں کے شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے جماعت میں تفصیل سے مشاورت کے بعد اپنے سیاسی فیصلے کئے تھے ، ہم نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت کے بعد اپنے فیصلے کئے ۔بجٹ اجلاس کے بعد پہلی باضابطہ ملاقات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کی اپنی سوچ اور منصوبہ بندی ہے ، ہماری جو سوچ اور منصوبہ بندی ہے ہم نے وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے سامنے رکھ دی ہے اور تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور (ن)لیگ اور ان کے اتحادیوں نے اپنے جو منصوبے بنائے ہیں وہ بھی بات ہوئی ہے ۔ ہماری پارٹی کی تجاویز پر مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی بات ہو گی اور وہ اپنے اتحادیوں سے بھی با ت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے جو مشکل حالات ہیں ، جس معاشی بحران سے عوام گزر رہے ہیں جس سطح تک بیروزگاری اور مہنگائی پہنچ چکی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نالائق حکومت معیشت یا کسی اور حوالے سے و پالیسی نہیں بنا سکی لیکن کشمیر کاز کے اہم ایشو ہے پر بھی نالائق حکومت کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکی ۔ دہشتگرد کی لہر پھر سے سامنے آرہی ہے ،جس طرح سے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ، بلوچستان سے خبریں آرہی ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں، موجودہ حکومت کی ہر حوالے سے نا اہلی او رنالائقی سب کے سامنے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جماعتوں میں جتنا ورکنگ ریلیشن شپ میں اضافہ ہوگا کوارڈی نیشن ہو گی حکومت کو اتنا ہی خطرہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز نے سیاسی جماعتوں میں اختلا ف کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے ، انہوں نے اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں بھی اکٹھا کیا او رمل کر مقابلہ کیا گیا ،ہمارا خیال ہے عوام کا اس حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے اب پارلیمان کا اعتماد بھی اٹھنا چاہیے ،پارلیمانی جمہوری طریقہ ہے کہ احتجاج کے ساتھ عدم اعتماد بھی لایا جائے ،(ن) لیگ کی قیادت سے بات کی ہے ، انکی اپنی جماعت میں اتفاق رائے بن رہا ہے او ر امید ہے کہ مزید اتفاق رائے پید اکر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانا ہے تو عمران خان کو نکالنا ہوگا اور اس نقطے پر سب ایک پیج پر ہیں، جہاں تک قومی مفاد اور عوام کے مطالبے کی بات ہے تو پیپلز پارٹی او ر(ن)لیگ ایک پیج پر ہیں کہ عمران خان کو جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لانگ مارچ کا پی ڈی ایم اور ان کے لانگ مارچ کا ہم نے خیر مقدم کیا ہے،سیاسی جماعتوں میں جنا ورکنگ ریلیشن شپ میں اضافہ ہوگا اتنا ہی بہتر اثر ہوگا،عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہر قدم اٹھانے کے لئے تیا رہیں، ہم ماضی کے اختلافات کے باوجود بڑے مقصد کے لئے اکٹھے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات اور دوریاں آ جاتی ہیںلیکن ہمیںعوام کی مشکلات جوڑتی ہے، پیپلزپارٹی کے ساتھ اتفاق و اختلاف چلتا رہے گا لیکن عوامی امیدوں کو پورا کریں گے، عوام کے مسائل پر آپسی اختلافات بھلاکر اکٹھے ہو جائیں گے، جو سلیکٹڈ تھا وہ اب جانے والا ہے، عوام کی امیدیں پوری کرنے جا رہے ہوتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی، نومبر بہت دور ہے حکومت پہلے ہی گھر چلی جائے گی۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر