وجود

... loading ...

وجود

پیپلزپارٹی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا

جمعه 07 جنوری 2022 پیپلزپارٹی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا

پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے پہلے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27فروری کو مزار قائد سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کے لئے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی، ملک کے مسائل کے حل کے لئے صاف اور شفاف انتخابات نا گزیر ہیں، ملکی مسائل کا حل صرف پیپلزپارٹی کے پاس ہے، ہم نے ماضی میں بھی ملک کو بحران سے نکالا اور آئندہ بھی نکالیں گے،اگر کسی ادارے کا ایسا بیان آیا ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں تو اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں ادارے ہماری جدوجہد میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں،ہم کسی گرین سگنل کے انتظار میں نہیں نہ ہم کسی کی طرف دیکھ رہے ہیں،پنجاب کے عوام بھی اب پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان پیپلزپارٹی ایسے ہی چاروں صوبوں کی زنجیر بنے گی۔ بلاول ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امید ہے ہماری پرامن جدوجہد میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، ہم چاہتے ہیں کہ سارے ادارے غیرجانبدار رہیں،بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہم نے 27 دسمبر کو اعلان کیا تھا شہیدذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش پر 5 جنوری کو ہم لاہور میں سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ رکھیں گے،جس شہر سے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی ، اسی لاہور شہر سے ہم اس سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس وقت ملک جس صورتحال سے گزر رہا ہے ہم منی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ، اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی میں پھنسا ہوا ہے ، جس دن منی بجٹ کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا اس دن ہڑتال ہو گی ، ملک میں زراعت بحران کا شکار ہے، اس حکومت نے کسان کو جس مشکل میں ڈالا ہے ، اس کی ہم مذمت کرتے ہیں،جو گیس کا بحران پیدا ہوا ہے ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ اس حکومت نے تاریخی غربت اور بیروزگاری دی ہے ، امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دہشتگردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتی ہے اور کسی بھی خفیہ ڈیل کی مذمت کرتی ہے اور ایسی کسی بھی ڈیل کو منظور نہیں کرتی جو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کی جائے گی، ہم دہشتگردوں کے سامنے حکومت کے گھٹنے ٹیکنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی صورتحال پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کی صوبائی اور قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے جو ہمارے سابق قبائلی علاقے ہیں جن کی جدوجہد کی ذمہ داری شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے لی تھی انہوں نے سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے تھے کہ قبائلی علاقوںکو خیبر پختوانخواہ میں انضمام ہونا چاہیے ، ابھی تک وہ انضمام اپنے اصول کے مطابق نہیں ہوا ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ جو وعدے فاٹا کے عوام کے ساتھ کیے گئے وہ پورے نہیں ہورہے ہیں،ہمیں پتا چلا ہے کہ فاٹا کے انضمام کو واپس کیا جارہا ہے ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا کے قبائل کامکمل طور خیبر پختوانخواہ میں انضمام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی مزید تحقیقات کی جائیں ،تحریک انصاف نے 7 سال تک غیر ملکی فنڈنگ کو چھپایا اور اس پیسے کو جمہوری جماعتوں کے خلاف سازشوں میں استعمال کیا جو قابل مذمت ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان اس معاملے پر پی ٹی آئی کے خلاف سخت ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری معاشی خود مختاری کا سودا کیا جا رہا ہے، اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب پارلیمانی یا پاکستان کے کسی اور ادارے کی بجائے آئی ایم ایف کو جواب دے گا،حکومت عالمی اداروںکے سامنے جھک گئی ہے ، یہ ہماری خود مختاری کا سودا ہے او رہم اس کوچیلنج کریں گے اس کے لئے ہماری قانونی ٹیم کام کر رہی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت نے جو آرڈیننسز پاس کرائے گئے ہیں وہ زائد المیعاد تھے اور انہیںغیر قانونی طریقے سے سٹیمپ کرنے کی کوشش کی گئی اسے بھی ہم چیلنج کریں گے ، قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا جن آرڈیننسز کی مدت ختم ہوانہیںایوان سے منظور کرایا جائے ، سپیکراس غیر قانونی کام میں ملوث ہیں ہم اس کو بھی چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مہنگائی کے خلاف جدوجہد کرتے آئے ہیں اب ہمار ااحتجاج نئے فیز میں داخل ہونے جارہا ہے ، منی بجٹ عوام کے عوام کے معاشی حقوق پر ،یہ عوام کی جیب اور پیٹ پر ڈاکہ ہے ،حکومت اسے زبردستی پاس کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ، پیپلز پارٹی اس کی پارلیمنٹ کے اندر بھرپور مخالفت کرے ، ہمارے سارے اراکین اس دن پارلیمان میں ہوں گے، ہم اس روز پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کسی او رکی طرف نہیں بلکہ عوام کی طرف دیکھتی ہے اور ہم عوام کی طاقت سے میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر کھاد کا بحران پیدا کیا ، ہم کسانوں کے ساتھ مل کر ڈویژنل سطح پر ریلیاں نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم کراچی سے 27 فروری کو لانگ مارچ کا آغاز کریں گے اور ہمارا قافلہ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا اور وہاں پہنچ کر اپنے مطالبات سامنے رکھے گا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنے لانگ مارچ کے سلسلے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا، انہیں حق حاصل ہے کہ وہ اپنا احتجاج کریں ،ہم نے اپنا احتجاج آج سے ہی شروع کردیا ہے، اس حکومت کے خلاف جتنے لوگ نکلیں گے اتنا ہی اچھا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا ہم پر دبائو ہے وہ ایک دن تک انتظار نہیں کرنا چاہتے ، ان کا کہنا ہے ہم مہنگائی سے مر رہے ہیں، پیپلز پارٹی اگلے مرحلے کی مزاحمت اور احتجاج آج سے ہی شروع کر رہی ہے اور ہم پاکستان کے عوام کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ ہم نے صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہیں، آپ کو معاشی اور جمہوری حقوق دلوانے ہیں، ملک کو پھر آزاد کرانا ہے ، ہم نے پہلے بھی ملک کو مشکل سے نکالا ہے اور اب بھی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ استعفے دینا دیگر جماعتوں کی مرضی ہے ، پیپلز پارٹی کا جمہوری اور آئینی حق ہے ہم ہر وہ ہتھیار استعمال کریں جو اپوزیشن کا حق ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں،اگر ایسا بیان آیا ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں تو اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں ادارے ہماری جدوجہد میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں،پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف اب پنجاب کی عوام دیکھ رہے ہیں،پاکستان پیپلزپارٹی ایسے ہی چاروں صوبوں کی زنجیر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی کتنی بار کوشش کی کہ ہم ساتھ چلیںجو سینٹ الیکشن کا حصہ نہیں لینا چاہتے تھے وہاں ہم نے حصہ لیا،ہم کسی گرین سگنل کے انتظار میں نہیں ہیں ،ادارے قانون کے تابع ہوتے ہیں،ہم عوام کو عمران خان کے عذاب سے نجات دلوانا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات ہونی چاہیے ،ابراج گروپ کی کرپشن کا پیسہ تحریک انصاف کو چلا رہا ہے،عمران خان نے ملک کو کنگال کر دیا ، خود امیر ہو گیا ہے جبکہ پاکستان اور اس کے عوام غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں،تحریک انصاف کا پراپیگنڈا اتنا مضبوط ہے کہ وہ ہر چیز کو چھپاتا ہے ،عمران خان حساب دیں کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد امیر کیسے ہوئے۔قبل ازیں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے بلدیاتی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جو روزگار دیتی ہے ، ماضی میں یہ نعرہ لگتا رہا ہے کہ بینظیر آئے گی تو روزگار لائے گی، پیپلزپارٹی کے ہر دور میں اپنے ریکارڈ توڑ کر تاریخی روزگار دلوایا تھا ، اس حکومت نے وعدہ کیا تھاکہ ایک کرور نوکریاں دے گی الٹا جن کے پاس روزگار موجود تھا چھینا ہے ، اب پاکستان کے عوام زیادہ دیر انتظار نہیں بلکہ اس عذاب سے نجات چاہتے ہیں۔ آپ لوگ ہمارے تگڑے بازو ہوں گے کیونکہ آپ گراس روٹ کے نمائندے ہیں ،پیپلز پارٹی بھی گراس روٹ کی جماعت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اختیار دئیے ہیں ،جب آصف زرداری صدر تھے توملک کی تاریخ کے سب سے طاقتور سویلین صد ر تھے، جب ہماری حکومت ختم ہو گئی تو صدر زرداری نے اپنے سارے اختیارات پارلیمان کو دے کر ملک کی تاریخ میں کمزور ترین سویلین صدر ہو کر مدت پوری کی ۔پیپلز پارٹی کے دور میں صوبوں کو حقوق ملے ، ہم نے لوکل باڈی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے ۔ جس طرح پنجاب میں لوکل باڈیز کا نظام آرڈیننس پر چل رہا ہے اسی طرح اسلام آباد کا نظام ہے وہ بھی زبردستی آرڈیننس کے ذریعے مسلط کیا جارہاہے ۔ خبر پختوانخواہ میں قانون الگ ہے اورانتخاب الگ طریقے سے ہو رہا ہے۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نیا لوکل باڈیز کا نظام دیا ہے جس سے بلدیاتی نمائندوں کو نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ معاشی طو رپر مضبوط کیا گیا ہے ، ویسے ہی پنجاب میں لوکل باڈیز کا قانون لے کر آنا چاہیے ،سندھ میں انہیںاپنا ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ،پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے تاکہ وہ خو دمعاشی طو رپر وسائل اکٹھے کر رہے ہوں۔ مراد علی شاہ نے چیئرمین، میئر کو با اختیار کیا ، لوکل کونسل کو با اختیار کیا ، پولیس ، ہسپتال تحریری طو رپر لوکل کونسل کو رپورٹ دیں گے ، لوکل کونسل ان کا حل نکال سکتی ہے ۔ صوبائی حکومت سے بھی درخواست کر سکتی ہے ۔ پنجاب میں ویسٹ کا نظام صوبائی حکومت کے پاس ہے ۔جبکہ سندھ میں ہم نے اختیارات کومنتقل کیا ہے یا شیئر کیا ہے ۔ واٹر بورڈ کے چیئرمین ِکے ساتھ میئر کو شریک چیئرمین بنا دیا ہے ، ویسٹ مینجمنٹ کو لوکل باڈیز کے نیچے لائے ہیں۔ ہم یہ سفر ملک میں لے کر جائیں ہم جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر