... loading ...
افغانستان کے آٹھ پڑوسی ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اس ملک کی سرزمین کو دہشت گردوں کی تربیت یا پناہ گاہ، یا دہشت گردی کی مالی امداد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بھارت اس اجلاس کا میزبان تھا۔جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے آٹھ پڑوسی ملکوں کے قومی سلامتی مشیروں کے اجلاس کی صدارت بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوال نے کی۔ پاکستان نے میٹنگ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا جب کہ چین نے بھی ایک روز قبل میٹنگ میں شرکت سے اپنی معذوری ظاہر کر دی تھی۔ میٹنگ میں روس اور ایران کے علاوہ قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے قومی سلامتی مشیران موجود تھے۔ بدھ کو دوپہر کے بعد ایک مشترکہ بیان ‘افغانستان پر دہلی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور اس کے علاقوں کو دہشت گردوں کو پناہ دینے یا ان کی تربیت گاہ کے طور پر استعمال کرنے یا دہشت گردی کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کی صورت حال اور اس کے عالمی مضمرات پر غور و خوض کیا گیا۔ ”تمام ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور جہتوں کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنے عزائم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردی کو مالی امداد کو ختم کرنا، دہشت گردی کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا اور شدت پسندی کا مقابلہ کرنا شامل ہے، تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان عالمی دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ کبھی نہیں بن سکے۔بھارت میں اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ دہلی اعلامیہ میں افغانستان کے حوالے سے خواہ جو بھی باتیں کہی گئی ہوں، لیکن پاکستان کی عدم شمولیت کی وجہ سے یہ بے سود ہیں۔ اسٹریٹیجک امورکے ماہر اور جریدہ ‘ہارڈ نیوز کے ایڈیٹر سنجے کپور نے جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان کے بغیر تو آپ کچھ کرہی نہیں سکتے، کیونکہ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو افغانستان پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ بھارت اور دیگر ملکوں میں بھی ایک عرصے سے یہ بحث چلتی آ رہی ہے کہ اگر آپ افغانستان کو مینیج کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پاکستان کا سہارا لینا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے اب تک جو بھی معاہدے ہوئے ہیں ان میں پاکستان کا بہت اہم رول رہا ہے اور طالبان کے کنٹرول کے بعد جو نظم بھی قائم ہے اس میں بھی پاکستان کا بہت اہم کردار ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ دہلی اعلامیہ کا طالبان پر کتنا اثر ہو گا؟ سنجے کپور کا کہنا تھا کہ طالبان کافی حد تک پاکستان کے اوپر منحصر ہیں۔ ”افغانستان میں تو ابھی پوری طرح سے حکومت بھی نہیں بنی ہے سب کچھ کارگذار وزیروں کے سہارے چل رہا ہے۔ ایسے میں ان پر کیا اثر ہوگا؟انہوں نے مزید کہا کہ کابل پر قبضہ کرنے سے قبل اور اس کے ابتدائی چند دنوں میں طالبان کے جن بڑے رہنماؤں کے نام سامنے آئے تھے وہ سب غائب ہوگئے ہیں، ‘ہمیں ان کے بار ے میں پتہ ہی نہیں چل رہا۔دہلی اعلامیہ میں افغانستان کی ابترہوتی سماجی اور اقتصادی صورت حال اور انسانی بحران پر ‘گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور افغان عوام کو ہر ممکن انسانی امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اسٹریٹیجک امور کے ماہر سنجے کپور کا کہنا تھا کہ اگر بھارت اپنے اعلان کے مطابق افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنا چاہتا ہے تب بھی اسے پاکستان کی مدد لینا ہو گی۔ کپور کہتے ہیں، ”بھارت انسانی امداد فراہم کرنے میں یقینا اہم کردار ادا کرسکتا ہے اگر وہ پاکستان کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہو۔ اگر پاکستان کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہوں گے تو آپ انسانی امداد فراہم نہیں کرسکیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا میں یہ خبریں تو بہت آتی ہیں کہ افغانستان تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے پاکستان کو ٹرانزٹ روٹ کی اجازت دے دینا چاہیے لیکن اس حوالے سے نئی دہلی اور اسلام آباد میں براہ راست بات چیت کی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔بھارتی تجزیہ کار سنجے کپور کا کہنا تھا، ”اگر ہمیں یہ احساس ہے کہ افغانستان میں حالات بہت برے ہیں، وہاں کے عوام پریشان حال ہیں تو امدادی اشیا وہاں پہنچانے کے لیے ہمیں راستے تلاش کرنے پڑیں گے۔سنجے کپور کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے ہی طے تھا کہ جب چین اور پاکستان جیسے دو بڑے ممالک پیچھے ہٹ گئے ہیں تو میٹنگ کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ”یہ میٹنگ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ قومی سلامتی مشیروں کی تھی۔ یہ سب پولیس والے ہیں اور پولیس والوں کا نظریہ الگ ہوتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت بھی اس میٹنگ کو سیکورٹی کے نقطہ نظر سے دیکھ رہا تھا۔ وہ علاقے کو مستحکم کرنے کے بار ے میں بہت زیادہ غور نہیں کررہا تھا۔”یوں بھی ہم نے افغانستان میں اپنے رول کو کم سے کم تر کر دیا ہے۔ ہم طالبان سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ بھارت صرف یہ کوشش کر رہا ہے کہ کسی طریقے سے افغانستان کے معاملے میں اس کی انٹری ہو جائے لیکن ہم آج کی تاریخ میں کوئی پلیئر نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ قومی سلامتی مشیروں کی اس میٹنگ میں افغانستان کے کسی عہدیدار یا طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ دریں اثنا جمعرات گیارہ نومبر کو پاکستان افغانستان کی صورت حال پر غور و غوص کے لیے ‘ٹرائیکا پلس کا اجلاس منعقد کر رہا ہے۔ اس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور قومی سلامتی مشیر معید یوسف کریں گے۔اس میٹنگ میں افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی تھامس ویسٹ، روس کے خصوصی سفیر ضمیر کابلوف اور چین کے خصوصی سفیر یوی زیاو یونگ شرکت کر رہے ہیں۔ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی افغانستان کی عبوری حکومت کی نمائندگی کریں گے۔
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...
سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...