وجود

... loading ...

وجود

جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشتگردی تھا،مشیر قومی سلامتی

پیر 05 جولائی 2021 جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشتگردی تھا،مشیر قومی سلامتی

وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والابم دھماکا بھارتی دہشت گردی تھا، واردات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے ،فون اور دیگر جو آلات ملے ہیں اس کا فورنزک تجزیہ ہوا ہے ، مرکزی ماسٹر مائنڈ اور معاونین کا تعلق بھی بھارت سے جڑتا ہے ،ہمارے پاس ان کے جعلی نام، اصل شناخت اور وہ کہاں موجود ہیں، تمام چیزوں کی نشان دہی ہوچکی ہے ، حملے والے دن ہمارے تفتیشی ڈھانچے پر ہزاروں منظم سائبر حملے ہوچکے ہیں،حملے پر ہونے والے اخراجات کی شروعات بھی بھارت سے ہو رہی ہے ، بینک اکائونٹس موجود ہیں، پاکستان میں تیسرے ملک کے ذریعے پیسے بھجوائے گئے ،ہمسایہ ریاست کے عمل دخل پر کوئی شک نہیں، وقت آگیا ہے دنیا اصل مجرم کی طرف اپنی نظر دوڑائے ،بھارت کے اصل چہرے کو سامنے لائیں گے ،لاہور دھماکے سے توجہ ہٹانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں ڈرون حملے کا ڈرامہ کیا گیا،اتنے ثبوت ملنے کے بعد بھی دنیا خاموش رہے تو ثابت ہوجائیگا اس کی دلچسپی امن میں نہیں ہے ۔ وہ اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ آئی جی پنجاب نے اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ بات کی تھی تو بتایا تھا کہ ہمارے پاس اطلاع اور ثبوت ہیں کہ کوئی غیرملکی خفیہ ایجنسی بھی ملوث ہے ۔معید یوسف نے کہا کہ آج میں کسی ابہام کے بغیر وثوق سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سارے حملے کے تانے بانے بھارت کی پاکستان کے خلاف اسپانسر شپ دہشت گردی سے جڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے فون اور دیگر جو آلات ملے ہیں اس کا فورنزک تجزیہ ہوا ہے ، مرکزی ماسٹر مائنڈ اور معاونین کا تعلق بھی بھارت سے جڑتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو ماسٹر مائنڈ ہے اس کا تعلق ہمیں بالکل واضح طور پر معلوم ہے ، وہ بھارت کا شہری ہے ، بھارت میں رہتا ہے اور را سے اس کا بالکل واضح طور پر تعلق ہے ۔مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے حملے کے ماسٹر مائنڈ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ان کے جعلی نام، ان کی اصل شناخت اور وہ کہاں موجود ہیں، ان تمام چیزوں کی نشان دہی ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں پہلی دفعہ نہیں ہیں، ہم بار بار یہ بات کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے ، اگر کسی کو یہ سوال، ابہام یا شک ہے کہ چلیں بھارت کے اندر سے ہوا لیکن کیا ریاست ملوث ہے تو میں یہ بتاوں کہ پہلے عموماًایسی چیز ہوتی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ جس دن یہ حملہ ہوا ہے ، اس دن ہمارے تفتیشی ڈھانچے پر ہزاروں منظم سائبر حملے ہوچکے ہیں، ہم جس ہائبرڈ وار فیئر کی بات کرتے ہیں جو دنیا ہمارے خلاف کر رہی ہے ، یہ اس کی ایک مثال ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس دن سائبر حملے کیے گئے اور اس لیے کیے گئے کہ ہم جو تفتیش کررہے ہیں اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کی نشان دہی کر رہے ہیں، وہ فعال نہ ہوسکیں، اس میں دارڈیں آئیں اور وقت اتنا مل جائے کہ یہ نیٹ ورک ادھر ادھر ہوجائے اور اس جگہ سے نکل جائے ۔معید یوسف نے کہا کہ انہوں نے کوشش کی لیکن ان کو وقت نہیں ملا کیونکہ ہم سائبر سیکیورٹی پر بھی کام کرکے اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے یہ کامیابی ہمیں حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی قسم کی کوئی شک نہیں ہے کہ جوہری ٹاون کا دھماکا اور یہ سائبر حملے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی سوچ اور منصوبے کا حصہ ہیں کیونکہ وہ اس تعداد میں کیے گئے ، جس سے کسی قسم کا شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں ہماری ہمسایہ ریاست کی عمل د خل موجود ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پچھلے سال نومبر میں ایک جامع ڈوزیئر دیا تھا اور اسی طرح پریس کانفرنس کی تھی، دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز اور بڑے ، مضبوط اور اہم ممالک کو تمام معلومات اس سطح تک دی کہ کون کہاں سے فون کر رہا تھا، بھارت کے کون سے بینک سے پیسے منتقل ہورہے تھے ، کون سے فون کے ریکارڈ تھے جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھی اسی تسلسل میں ایک اور کڑی ہے ، جہاں ہمارا دشمن یہ کام بدستور کرتا جارہا ہے ۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ اس حملے پر ہونے والے اخراجات کی شروعات بھی بھارت سے ہو رہی ہے ، بینک اکائونٹس موجود ہیں، پاکستان میں تیسرے ملک کے ذریعے پیسے بھجوائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیں بار بار فیٹف، یہ اور وہ بات کرتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ اصل مجرم کی طرف اپنی نظر دوڑائیں اور واقعی ہی یہ سیاسی نہیں بلکہ ٹیکنیکل پلیٹ فارمز ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دنیا میں بہت سے اور ادارے ہیں جن کا کام ہے ان چیزوں کی نشان دہی کریں تو اب کارروائی کرنے کے لیے آپ کو اسے زیادہ ثبوت نہیں چاہئیں جو ہمیں اس سارے واقعے سے ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عید گل کا بنیادی تعلق افغانستان ہے ، اس کے بعد یہ پاکستان میں بسا اور اس کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ بھی ہے ، اسی لیے ہم کہتے ہیں افغان ہمارے بہن اور بھائی ہیں اب ان کی باعزت واپسی ہو۔ انہوںنے کہاکہ دنیا ہمیں بار بار سوالر کرتی ہے کہ یہاں ایسے افغان موجود ہیں جنہیں پکڑنا ضروری ہے جو افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں اور ہم کہتے رہے ہیں کہ جہاں 30 لاکھ مہاجرین موجود ہوں انہی میں یہ اپنے آپ کو سمو لیتے ہیں۔معید یوسف نے کہا کہ یہ بندہ کسی مہاجر کیمپ میں نہیں بلکہ پاکستان میں عام پنجاب میں رہتا تھا، اس لیے بجائے ہم پر انگلی اٹھانے کے ہم چاہتے ہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق ان کی باعزت واپسی ہو اور جب ان کی واپسی ہوجائے تو پھر ہم سے سوال کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ پاکستان تمام قانونی اور سیاسی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو منظر عام پر لایا جائیگا اور ہمیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے جن ملزمان کی ضرورت ہے ، ان کولانے کے لیے بھی تمام کوششیں کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا اصل چہرہ جیسے پہلے دنیا کے سامنے لائے ہیں اسی طرح دوبارہ بھی لے کر آئیں گے ۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور کی دہشت گردی میں براہ راست بھارت ملوث تھا، بھارت کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سپورٹ کررہی ہے ، پاکستان میں موجود گینگ کے تمام لوگ ہماری گرفت میں ہیں۔پریس کانفرنس کے آغاز میں آئی جی پنجاب سے جوہر ٹائون دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 23 جون کو صبح 11 بج کر 9 منٹ پر جوہر ٹاون کے بلاک ای میں وی وی آئی ای ڈی دھماکا ہوا تھا۔انہوںنے کہاکہ دھماکے کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 پولیس افسران سمیت 22 زخمی ہوئے ، 12 گاڑیوں اور 7 گھروں کو شدید نقصان ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سی ٹی ڈی دھماکے کے 16گھنٹے کے اندر اندر پورے پلان تک پہنچ گئی تھی،کچھ لوگ باہر بیٹھ کر پوری کارروائی پلان کررہے تھے اور فنانس کررہے تھے ، کچھ لوگوں نے پاکستان میں تمام کارروائی پر عمل کیا،دھماکے میں ملوث 56 سال کا پیٹرکراچی کا رہنے والا ہے ، پیٹر زیادہ تر باہر ممالک میں رہا ہے اور اس کے رابطے تھے ۔ انعام غنی نے بتایا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا بندوبست پیٹر نیکیا، دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی گئی تھی، گاڑی کے انجن اور چیچز نمبرکو ٹیمپرکیا گیا تھا، ملزمان نے دھماکے سے پہلے گاڑی چلا کر ٹیسٹ بھی کی تھی،پیٹرکا تمام ٹیلی فونک اور واٹس اپ ڈیٹا موجود ہے ،گاڑی میں دھماکا خیز مواد پیٹر نے نصب کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 21 تاریخ کو گاڑی میں دھماکاخیز مواد نہیں تھا، 21 تاریخ کو عید گل نے گاڑی کے ذریعے ریکی کی،22 تاریخ کو بھی ملزم عید گل نے رکشے میں علاقے کی ریکی کی، ملزم پنجابی بولتا تھا، کسی کو علاقے میں گھومنے پر شک نہیں ہوا، جس دن دھماکا ہوا ملزم اسلام آباد سے گاڑی لے کر آیا،ملزم عید گل کی بیوی نے بھی اس کی مدد کی، ملزم اسلام آباد سے موٹر وے کے ذریعے گاڑی لے کر پہنچا، ملزم نے موٹروے پر 12 گھنٹے سفر کیا، ایک جگہ ریسٹ بھی کیا۔ انہوںنے کہاکہ ملزم نے کالے رنگ کی 2010 کے ماڈل کی گاڑی زیر تعمیر عمارت کے گھر کے نیچے گاڑی کھڑی کی،دھماکے سے پولیس پکٹ بھی نشاہ بنی، ہمارے جوان زخمی ہوئے ، دھماکے میں 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، دھماکے کے بعد گاڑی کا ایک ٹکڑا بھی موقع پر موجود نہیں تھا،دھماکے سے گاڑی کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوگئے تھے ، عموما دھماکے میں ایسا نہیں ہوتا، یہ شخص بہت ماہر تھا۔معید یوسف نے کہاکہ بھارت کے اصل چہرے کو سامنے لائیں گے ، لاہور دھماکے سے توجہ ہٹانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ڈرون حملے کا ڈرامہ کیا گیا،اتنے ثبوت ملنے کے بعد بھی دنیا خاموش رہے تو ثابت ہوجائیگا کہ اس کی دلچسپی امن میں نہیں ہے ۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر