وجود

... loading ...

وجود

وفاقی کابینہ میں آئل اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی منظوری

بدھ 17 مارچ 2021 وفاقی کابینہ میں آئل اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی منظوری

وفاقی کابینہ نے آئل اسکینڈل میں ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی منظوری دیدی،8ارب 70کروڑ روپے کے رمضان پیکیج کی بھی منظوری دیدی گئی، پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے سمارٹ کارڈز جاری کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا جب کہ ہر وفاقی سیکرٹری ماہانہ ایک بار بلوچستان کا دورہ کرے گا ۔ یہ فیصلے منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے ہیں۔ کابینہ نے مجموعی طورپر معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام شروع کرنے پر کابینہ کے ارکان نے وزیراعظم کو مبارکباد دی ہے جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے اس پروگرام میں عطیات دینے کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ کابینہ نے وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنس کی یکساں پالیسی کو حتمی شکل دینے کا کام تیز کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیکس چوری کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو گزشتہ 15 برس سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہر مرتبہ اس کے اقدامات کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے وفاقی حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ یکم جون سے ٹریک سسٹم نافذ العمل ہوگا۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کے ٹریک سسٹم کے خلاف سندھ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ پانچ برس میں صرف شوگر ملز انڈسٹری پر 400 ارب روپے کا ٹیکس لگایا۔انہوں نے زور دیا کہ مکمل تحقیقات کے بعد مذکورہ انڈسٹری پر ٹیکس لگایا گیا لیکن اگر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم ہوتا تو وقت اور توانائی سمیت وسائل زیادہ خرچ نہ ہوتے ۔عمران خان نے کہا کہ جب تک ایف بی آر میں ٹریس اور ٹریک سسٹم نافذ العمل نہیں ہوگا اس وقت تک ٹیکس چوری نہیں روک سکتے ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوری کے نتیجے میں حکومت کو ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی ہوتی ہے ۔وزیر اعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ سندھ ہائیکورٹ میں ٹریک سسٹم کے نفاذ کے خلاف حکم امتناع کو ختم کرانے کے لیے عدالت کو باور کرائیں کہ یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے کلیدی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے ۔انہوں نے کابینہ اجلاس میں زور دیا کہ ہر اجلاس میں ای وی ایم سے متعلق کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ای وی ایم اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔اجلاس کے بعد پی آئی ڈی کے میڈیا سنٹر میں وزیر صنعت و تجارت حماد اظہر کے ہمراہ بریفنگ دیتے ہوئے وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ نے 7.8ارب روپے کے رمضان پیکج کی منظوری دی ہے ، وزیراعظم کی پوری کوشش ہے کہ مہنگائی کا بوجھ لوگوں پر کم سے کم پڑے اور 7.8 ارب روپے کا پیکج اسی کوشش کا حصہ ہے ۔ وزیر اعظم کا سب سے زیادہ وقت مہنگائی کو نیچے لانے پر صرف ہوتا ہے اور ہمیں اتنی تباہ حال معیشت ملی تھی کہ تمام کوششوں کے باوجود قرضوں کے بوجھ سے نمٹنا آسان نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز ایک تباہ شدہ ادارہ تھا لیکن حماد اظہر نے ابھی خوشخبری سنائی ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ خسارے سے باہر آ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، یہ ہمیں تیسری لہر کا سامنا ہے ، پہلے جو دو لہر آئی تھیں اس کا ہم نے بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا تھا اور کورونا سے جتنا نقصان باقی دنیا کو ہوا ہے ، پاکستان کو اس کا عشر عشیر بھی بھگتنا نہیں پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت بھی مستحکم رہی اور جانی نقصان بھی کم رہا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم نے بڑی جلدی اقدامات شروع کردیے تھے اور کیسز کی شرح کم رہی، ہم نے جب پہلی لہر آئی تھی تو جو پالیسی بنائی تھی وہ بہت کامیاب رہی تھی اور اسی پر عمل کر کے ہم اسی پر قابو پا لیں گے ۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں الیکشن کی شفافیت پر بات کی، تحریک انصاف کی پوری تحریک دو ستونوں احتساب اور شفاف انتخابات پر کھڑی ہے اور شفاف انتخابات کے لیے وزیر اعظم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہم ایسی اصلاحات متعارف کرا سکیں جس کی بدولت شفاف الیکشن ممکن بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشین پر وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ کابینہ کو ہر ہفتے بتایا جائے گا کہ وہ کس مرلے پر ہے اور ان میں جو شرائط ہیں ان پر ہم کس حد تک عمل کر چکے ہیں اور ہمارے الیکشن کے مینوئل سسٹم کو ہم کتنی جلدی مشین پر لا سکتے ہیں تاکہ کوئی بھی جماعت یہ نہ کہہ سکے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ۔فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کے 85 اداروں میں سے 51 منافع میں ہیں اور ریلویز، پی آئی اے ، سوئی سدرن، پشاور الیکٹریسٹی، جینکو تھری ناردرن پاور جیسے خسارے میں چلنے والے اداروں کا وزیراعظم نے فارنزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے اور 30 جون 2021 تک یہ عمل مکمل ہو جائے گا اور اگلے مرحلے میں پاکستان پوسٹ، کوئٹہ الیکٹریسٹی کمپنی، حیدرآباد، لاہور اور سکھر الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی کا آڈٹ کرایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ممنوعہ اور غیرممنوعہ اسلحہ لائسنس کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے ان کے اجرا کی منظوری دی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنس کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ، پہلے 2012 کی پالیسی چل رہی تھی لیکن اب 2020 کی پالیسی لارہے ہیں۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا کہ کابینہ نے ان افغان پناہ گزینوں کے اسمارٹ کارڈ کے اجرا کی منظوری دی ہے جن کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت موجود ہے اور اس کارڈ میعاد دو سال ہو گی، اس کارڈ میں ان افراد کی اضافی معلومات جیسے سماجی اور معاشی تفصیلات، پاکستان میں نقل و حرکت اور اہلخانہ کے غیررجسٹرڈ اراکین کی تفصیلات درج کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی اس کارڈ کی بدولت زندگی آسان ہو گی اور باقاعدہ رجسٹریشن کے تحت ان کے مسائل حل کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں سال ساڑھے 4لاکھ نئے گیس میٹر لگے ہیں اور ہدف 6 لاکھ نئے میٹرز کا ہے ، کابینہ کو بتایا گیا کہ اگلے سال 12لاکھ نئے میٹرز ہدف مکمل کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان کی صرف 27فیصد آبادی پائپ گیس میسر ہے اور 67 فیصد لوگوں کو یہ گیس دستیاب ہی نہیں ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اس میں ایسی اصلاحات لانا چاہتے ہیں جس سے ملک کی اکثریتی آبادی کو پائپ گیس کی سہولت فراہم کی جا سکے اور اس میں گیس ریٹ میں سبسڈی کا ازسرنو جائزہ لے کر نیا نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ جن لوگوں کو گیس میسر نہیں ہے ان کو بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکے ۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کیٹی کے 10مارچ 2021 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی، آٹو ڈس-ایبل سیرنج کی درآمد اور مقامی طور پر سامان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں چھوٹ بھی شامل ہے ۔فواد چوہدری نے بتایا کہ تیل کی چوری میں ملوث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف وزارت پیٹرولیم کارروائی عمل میں لائے گی اور تمام دستاب وسائل اور احتساب کے نظام کو بروئے کار لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے تمام وفاقی سیکریٹریز کو مہینے میں کم از کم ایک بار بلوچستان کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہاں کے مسائل کو وہیں حل کرنے کا لائحہ عمل تیار ہو سکے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم آفس پہلے ہی اعلامیہ جاری کرچکا ہے ۔اس موقع پر وزیر صنعت و تجارت حماد اظہر نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹور کے لیے کابینہ نے 7.8ارب روپے کے رمضان پیکج منظور کر لیا ہے اور یہ 19 اشیا پر مشتمل ہے ۔انہوں نے اشیا پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں موجودہ قیمت کے لحاظ سے آٹے پر 30.50روپے ڈسکانٹ، چینی پر 40 روپے فی کلو، گھی پر 43 روپے فی کلو، تیل پر 20 روپے فی کلو، دال 15 روپے کلو، دال مونگ پر 10 روپے کلو، دال ماش پر 10 روپے کلو، دال مسور پر 30 روپے کلو، سفید چنے پر 25 روپے ، بیسن پر 20 روپے کلو، کھجوروں پر 20 روپے ، چاول پر 10 روپے کلو، ٹوٹا چاول پر 12 روپے کلو اور مختلف مشروبات، دودھ اور مرچ پر بھی یہ سبسڈی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلئے یوٹیلٹی اسٹورز پر صرف 5 اشیا پر سبسڈی دی جا رہی تھی لیکن رمضان میں پانچ سے بڑھ کر 19 اشیا پر یہ سبسڈی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تھی تو اس کی سالانہ سیل 10ارب روپے ہے اور اس سال ہماری سیل 100ارب روپے کے قریب ہو گی اور اس سال کئی دہائیوں کے بعد ادارہ خسارہ میں نہیں رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کھاد کے حوالے سے ہم اعدادوشمار اکٹھا جمع کررہے ہیں لیکن لگ یہ رہا ہے کہ اس سال ربیع سیزن میں 10سال میں سب سے زیادہ کھاد استعمال کی ہے جو اچھی چیز ہے اور اس بلند شرح کے باوجود ہمیں یوریا درآمد نہیں کرنا پڑا کیونکہ ہم نے پچھلے سال بروقت دو چھوٹے یوریا کے پلانٹ چلا دیے تھے ۔حماد اظہر نے کہا کہ بڑے پپیمانے کی صنعت کے اعدادوشمار بی موصول ہوا ہے جو بہت خوش ہے ، جنوری میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی صنعت میں 9.1فیصد کی شرح نمو نظر آئی۔ان کا کہنا تھاک ہ مجموعی طور پر جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں 7.8فیصد شرح نمو نظر آئی ہے اور ہماری صنعت مکمل استعداد کے ساتھ کام کرنے کے قریب جا رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ معشیت صحیح رخ پر جا رہی ہے ، کرنٹ اکانٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا، ڈالر پیچھے کی طرف آیا ہے اور آج 156 روپے ٹریڈنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں جو پچھلی حکومت نے تقریبا ختم کر دیے تھے ۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بوقت قرضوں کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام بھی بحال ہو گیا ہے ، ایکسپورٹرز میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے اور ایکسپورٹ کی نئی راہیں کھلتی نظر آ رہی ہیں جس سے روزگار بھی پیدا ہو گا، معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور ملک کی پیداوار بھی بڑھے گی۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر