وجود

... loading ...

وجود

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک غذائی اشیا بے دریغ ضائع کرنے میں سرفہرست

جمعه 19 اکتوبر 2018 دنیا کے ترقی یافتہ ممالک غذائی اشیا بے دریغ ضائع کرنے میں سرفہرست

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک غذائی اشیا بے دریغ ضائع کرنے میں سرفہرست ہیں ۔برطانیہ ،جرمنی ،ناروے ،امریکا ،فن لینڈ ،کینیڈا ،ڈنمارک اور آسٹریلیا میں سب سے غذائی اشیا ضائع کی جاتی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق انسان کے زندہ رہنے کے لیے جو اشیا سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں غذا سرفہرست ہے ، اس کے باوجود دنیا کے بہت سے ممالک غذائی اشیا بے دریغ ضائع کرتے ہیں، اس غذائی کچرے کو تلف کرنے پر بھی کثیر رقم صرف ہوتی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس کرہ ارض کے 78 کروڑ افراد مسلسل بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ، وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو غذائی اشیا کو انتہائی معمولی وجوہات کی بنا پر ضائع کردیتے ہیں اور یہ ضائع شدہ غذائی اشیا لاکھوں ٹن ہوتی ہیں جن سے پوری دنیا کے بھوکے لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھاسکتے ہیں۔یہ غذا نہ صرف گھروں میں بلکہ کھیتوں میں اور انڈسٹریل سطح پر بھی بے دریغ ضائع کی جارہی ہے اور اس کا سب سے بنیادی سبب اسٹوریج کے مناسب اقدامات نہ ہونا ہے، آپ جان کرحیران رہ جائیں گے کہ غذا ضائع کرنے میں ترقی یافتہ ممالک سب سے آگے ہیں۔

ایک ایسی دنیا جہاں صرف افریقا میں لاکھوں افراد ایک ایک روٹی کو ترستے ہیں ، یقیناًغذائی اشیا کے ساتھ ایسا رویہ کسی بھی طور انسانی نہیں ہے۔غذائی اشیا کو ضائع کرنے والے ممالک میں برطانیہ سرفہرست ہے جو اپنی غذائی ضرورت کا بڑا حصہ ملک میں اگاتے ہیں ، ان کی ساٹھ فیصد غذائی ضرورت ملک سے پوری ہوتی ہے جبکہ باقی 40 فیصد امپورٹ کیا جاتا ہے ۔ یہ ملک6.7 ملین ٹن غذائی کچرا پیدا کرکے اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے میں 10.2 بلین ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں ، یاد رہے کہ اتنی رقم سے پاکستان جیسے ممالک اپنے تمام مسائل حل کرسکتے ہیں۔

برطانیہ کی حکومت کی کوشش کہ ہے کہ اس کچرے کو کم کر ایک لاکھ 37 ہزار ٹن تک لایا جاسکے اور مقصد کے لیے وہاں غذا سے پیار، غذا کے ضیاع سے نفرت کے عنوان سے مہم بھی چل رہی ہے۔انسانی ہمدردی پر مشتمل رویوں کا حامل ملک جرمنی میں بھی اس فہرست میں دوسرے نمبرپر ہے یعنی یہاں بھی کھانا ضائع کرنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اندازہ ہے کہ ایک جرمن شہری ہر سال 82 کلو کرام غذا ضائع کردیتا ہے جو کہ مجموعی طور پر 11 ملین ٹن بنتا ہے ۔ اس غذای کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے حکومت کو کثیر سرمایہ صرف کرنا پڑتا ہے۔

جرمنی کی حکومت کوشش کررہی ہے کہ 2030 تک اس مقدار کو کم کرکے آدھے پر لایا جائے۔کھانا ضائع کرنے والے ممالک میں جنوب مشرقی ایشیائی ملک ملائیشیا تیسرے نمبر پر ہے ، یہ ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے، عموما ایسے ممالک میں غذا ضائع کرنے کی شرح بے حد کم ہوتی ہے تاہم یہاں افسوس ناک حد تک زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 560 کلو فی کس غذا ضائع کردی جاتی ہے۔ ضائع ہونے والی اشیا میں سرفہرست فروٹ اور سبزیاں ہیں۔جزیروں پر مشتمل ملک سنگا پور کا غذائی ضرورت کا انحصار درآمد کرنے پر ہے اس کے باوجود کھانا ضائع کرنے والوں کی اس لسٹ میں یہ ملک چوتھے نمبر ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں آنے والی تمام تر غذائی اشیا کا کل 13 فیصد حصہ مکمل ضائع ہوجاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کھانے کو مکمل ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم ان اقدامات سے فی الحال کل ضائع شدہ کھانے کا تیرہ فیصد ہی ری سائیکل کیا جارہا ہے، دوسری جانب ملک میں کھانا ضائع کرنے کی شرح ہر سال بڑھ رہی ہے۔فن لینڈ انتہائی چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اس فہرست میں پانچویں نمبر ہے، اندازہ ہے کہ یہاں 550 کلو گرام فوڈ فی کس ضائع ہوجاتا ہے۔

غذاضائع کرنے میں ریستوران، ہوٹل اور کیفے سب سے آگے ہیں ، گھریلو کچن اس معاملے میں دوسرے نمبر پر ہیں۔امریکا غذا پیدا کرنیاور امپورٹ کرنے ، دونوں میں بہت آگے ہے ، یہاں کے افراد کھانے پینے کے بے حد شوقین ہیں۔ غذا ضائع کرنے میں امریکا چھٹے نمبر پر ہے ۔فارم سے لے کر کیٹرنگ پوائنٹ تک پہنچنے میں ہی یہاں غذا کا ایک بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے ۔ اندازہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی آدھی غذا ضائع ہوتی ہے۔ یعنی یہاں فی کس 760 کلو غذائی اشیا ضائع کی جارہی ہیں جن کی قیمت 1600 ڈالر بنتی ہے۔ یہ غذائی کچرا نقصان دہ گیسز پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے جس سے گلوبل وارمنگ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔آسٹریلیا کی جہاں آبادی زیادہ ہے اس کا نمبر ساتواں ہے ۔ وہاں غذائی اشیا ضائع کرنے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ یہاں نوجوانوں کی کثیر تعداد بتائی جاتی ہے جو کہ بچا ہوا کھانا سنبھالنے کے بجائے پھینک دینے کی عادی ہے۔

غذا ضائع ہونے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ یہاں کے تاجر اکثر غذائی اشیا کو مارکیٹ میں آنے سیقبل ہی مسترد کردیتے ہیں جس کے سبب اسے ضائع کرنا پڑتا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کو کم از کم آٹھ ملین ڈالر اس غذائی کچرے کو ٹھکانے لگانے میں صرف کرنا پڑتے ہیں۔ڈنمارک اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے ، اس ملک میں پیک شدہ اور غیر پیک شدہ دونوں طرح کی غذائی اشیا طویل عرصے سے استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ ملک اپنی ضرورت کا محض دو فیصد خود اگاتا ہے اور باقی تمام کا تمام باہر سے امپورٹ کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں فی کس 660 کلو کھانا ضائع کیا جاتا ہے جو کہ مجموعی طور 7 لاکھ ٹن کھانا ضائع کرتا ہے ۔ ا س بڑی مقدار کوٹھکانے لگانا یہاں کی حکومتوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔یاد رہے کہ ڈنمار ک آبادی کینیڈا سے انتہائی کم ہے۔کینیڈا اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق یہاں فی کس 640 کلو گرام فوڈ ضائع ہوجاتا ہے جو کہ مجموعی طور پر ایک کروڑ 75 لاکھ ٹن بنتا ہے۔ یہ ضائع شدہ کھانا نہ صرف ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ ماحولیات کے لیے بھی خطرہ بناتا ہے۔ یہاں بھی گھریلو کچن اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔ ٹورنٹو غذائی اشیا کو ضائع کرنے والے اور اس پیدا ہونے والی آلودگی سے متاثر ہونے والے اہم شہروں میں شامل ہے۔غذا ضائع کرنے والے ممالک میں ناروے دسویں نمبر پر ہے، حیرت انگیز طور پر ا س ملک کا صرف تین فیصد رقبہ زیرِ کاشت ہے جو کہ یہاں کے عوام کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے قطعی ناکافی ہے ۔ ملک کی تمام تر غذائی ضرورت باہر سے امپورٹ کرکے پوری کی جاتی ہے اس کے باوجود یہاں سالانہ 620 کلو غذائی اشیا فی کس ضائع ہوجاتی ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ناروے سالانہ تین لاکھ 35 ہزار ٹن فوڈ ہر سال ضائع کردیتا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں سب سے زیادہ گھروں میں اور کھانے پینے کی جگہوں پر ضائع کیا جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر