... loading ...
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ 2018ء کے انتخابات مقررہ آئینی مدت میں ہونے چاہئیں۔ میڈیا میں انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں‘ ہمیں اسکی پرواہ نہیں۔ آئین اسمبلیوں کی آئینی میعاد پوری ہونے کے بعد نئے انتخابات کے لیے 60 دن کی اجازت دیتا ہے اس لیے الیکشن اس مدت میں ہی ہونے ہیں۔ جو اسکی خلاف ورزی کریگا اس پر آئین کی دفعہ 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔ انہوں نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں اور جمعرات کے روز قومی اسمبلی کے الوداعی سیشن میں بطور وزیراعظم اپنے آخری خطاب میں جمہوریت کے تسلسل کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے متحد اور یکسو ہے۔ اس سے جمہوریت کے تسلسل کی بنیاد مستحکم ہوگی۔ انکے بقول کوئی غیرجمہوری حکومت پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکتی اس لیے حکومت اور اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر نہ کی جائے تاکہ جمہوریت کے تسلسل میں سلطانی جمہور کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکیں۔ انہوں نے جمہوریت کے تسلسل کے ساتھ ساتھ میڈیا کی آزادی پر بھی زور دیا اور کہا کہ آزاد میڈیا کے ذریعے ہی ہم اپنا نقطہ نظر قوم تک پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے میڈیا کی آزادی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ انہوں نے قومی ایشوز پر قومی ڈائیلاگ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) قومی ڈائیلاگ کے لیے پرعزم ہے تاکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی حدود وقیود پر ٹھوس انداز میں بات ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج عدلیہ اور نیب کی طرف سے جو کچھ ہورہا ہے‘ اسکے باعث حکومتی مشینری کا کام کرنا مشکل ہے اور اس صورت میں سرکاری اہلکاروں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ نہ کریں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھ کر ہی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیاد مستحکم کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں دو اسمبلیوں اور انکے ماتحت منتخب جمہوری حکومتوں نے جیسے تیسے اپنی پانچ پانچ سال کی آئینی مدت مکمل کی ہے تو جمہوریت کے تسلسل کی ایک دہائی کے مکمل ہونے پر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی عملداری کا تشخص ہی مستحکم ہوا ہے۔ اب آئینی تقاضوں کے تحت نگران سیٹ اپ اور الیکشن کمیشن کے ماتحت دو ماہ کے عرصہ میں نئی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے ہیں جس کے لیے صدر مملکت کی جانب سے 25 جولائی کی پولنگ کی تاریخ بھی مقرر کردی گئی ہے۔ چنانچہ اب آسمان ٹوٹے یا بجلی گرے‘ اس آئینی تقاضے کے تحت عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونا ہیں جس میں نگران سیٹ اپ یا الیکشن کمیشن میں سے کوئی بھی انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر کرنے کا مجاز نہیں۔ اگر انتخابات میں تاخیر کی جاتی ہے تو وہ کسی ماورائے آئین اقدام کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اس تناظر میں وزیراعظم شاہد خاقان نے بجا طور پر اس امر کا تقاضا کیا ہے کہ انتخابات کے مقررہ آئینی مدت کے اندر انعقاد سے متعلق آئینی شق کی جو بھی خلاف ورزی کرے‘ اس پر آئین کی دفعہ 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔ قوم کی توقع تو یہی ہے کہ ہر قسم کی محلاتی سازشوں اور جمہوریت کو لاحق ہونیوالے خطرات کے باوجود اسمبلیوں اور حکومت نے اپنی پانچ سال کی آئینی میعاد مکمل کرلی ہے تو اس سے اب جمہوریت کے تسلسل میں کسی قسم کا رخنہ پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے نہ اسکی گنجائش ہے۔ تاہم گزشتہ روز جس انداز میں بلوچستان‘ کے پی کے اور سندھ سے کسی نہ کسی جواز کے تحت انتخابات مقررہ میعاد سے مو¿خر کرانے کے لیے آوازیں اٹھائی گئیں‘ وہ انتخابات کو آگے لے جانے کی گزشتہ سال سے جاری سازشی تھیوری کو عملی جامہ پہنانے کی ہی کوشش نظر آتی ہے۔ چند روز قبل بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگتی کی جانب سے پراسرار طریقے سے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی جس میں اس جواز کے تحت 25 جولائی کے انتخابات اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کرنے کا کہا گیا کہ 25 جولائی کو عازمین حج اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے جبکہ مون سون کے موسم میں بارشوں کے باعث ووٹروں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہوگا۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی دھکم پیل میں یہ قرارداد منظور بھی کرلی گئی۔
اسی طرح گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کی جانب سے الیکشن کمیشن کو مراسلہ بھجوادیا گیا جس میں اس جواز کے تحت عام انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی گئی کہ فاٹا کے خیبر پی کے میں انضمام کے بعد فاٹا کی نشستوں سمیت کے پی کے میں تمام نشستوں کے ایک ہی دن انتخابات ہونے چاہئیں۔ کچھ ایسی ہی چنگاری کراچی سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے بیان کے ذریعہ چھوڑی گئی کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے زیرسماعت تمام مقدمات کے فیصلہ تک انتخابات نہ کرائے جائیں۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر حلقہ بندیوں کے فیصلوں سے قبل انتخابات ہوئے تو ایم کیو ایم پاکستان ان انتخابات کا بائیکاٹ کریگی۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حلقہ بندیوں کیخلاف دائر درخواستوں کے فیصلوں کے تحت متعدد شہروں کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار پانے لگیں تو اس سے بھی بعض حلقوں کی جانب سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ نئی حلقہ بندیوں کا پراسس 25 جولائی کو انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہونے دیگا۔
گزشتہ روز بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قصور‘ شیخوپورہ‘ بہاولپور‘ ہری پور‘ گھوٹکی اور خاران کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی گئیں تو انتخابات مو¿خر کرانے کے خواہش مند عناصر مختلف فورموں پر متحرک نظر آئے۔ چنانچہ گزشتہ روز ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک باضابطہ بیان جاری کرکے باور کرایا گیا کہ عدالت حلقہ بندیاں کالعدم قرار دینے کی ہرگز مجاز نہیں ہیں۔ ترجمان کے بقول الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں پر عدالتی فیصلوں کے آئینی و قانونی پہلو?ں کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے کسی فیصلہ کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے اس امر کی بھی وضاحت کردی ہے کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 60 دن کے اندر الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے اس لیے الیکشن کمیشن آئندہ چند روز تک عام انتخابات کا شیڈول جاری کردیگا۔ اسکی روشنی میں انتخابات کو موخر کرانے کے لیے الیکشن کمیشن بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور وزیراعلیٰ خیبر پی کے کی جانب سے بھجوائے گئے مراسلے کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کا مجاز ہے۔ اگر الیکشن کمیشن انتخابات کے مقررہ میعاد کے اندر انعقاد کے لیے آئینی تقاضے پر کاربند رہنے کے لیے پرعزم ہے تو پھر انتخابات کسی نہ کسی جواز کے تحت موخر یا ملتوی کرانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے عزم کے مطابق 25 جولائی کو ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ممکن ہو جائینگے۔ اسکے باوجود انتخابات مو¿خر کرانے کے لیے سرگرم حلقوں کی اس حوالے سے سرگرمیاں جاری رہتی ہیں تو یہ ماورائے آئین اقدام کی سوچ کو ہی تقویت پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ بلوچستان اسمبلی میں اس حوالے سے یکایک قرارداد کی منظوری ایسی ہی سازشوں کی کڑی نظر آتی ہے جو اس اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو الٹانے اور پھر سینٹ اور چیئرمین سینٹ کے انتخابات میں ایک دوسرے کی متحارب پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں اتفاق رائے کی فضا بنانے کے لیے بر وئے کار لائی گئیں۔
اس تناظر میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ اگر بلوچستان اسمبلی میں انتخابات کے التواء کی قرارداد منظور کرائی گئی ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پی کے کی جانب سے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے التواء کے لیے مراسلہ بھجوایا گیا ہے اور اسی طرح ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے حلقہ بندیوں کے فیصلوں سے پہلے انتخابات منعقد کرانے کی صورت میں ان انتخابات کے بائیکاٹ کا نعرہ لگوایا گیا ہے تو انکی ڈوریاں ہلانے والے انہیں ہرگز چین سے نہیں بیٹھنے دینگے اور ملک میں ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جائیگی کہ جیسے تیسے 25 جولائی کے انتخابات موخر کرانے کا جواز نکل آئے۔ اس حوالے سے اب ملک کی جمہوری قوتوں کو غیرجمہوری عناصر کی انتخابات موخر کرانے کی سازشوں کے توڑ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہیں 25 جولائی کے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے اور بلیم گیم کے ذریعے سیاسی محاذآرائی کو فروغ دینے کا سلسلہ ترک کر دینا چاہیے کیونکہ یہی ایک صورت ہے جو انتخابات کے التواء ا جواز نکال سکتی ہے۔ ایک دوسرے کیخلاف صف آراء سیاسی جماعتوں اور انکے قائدین کو بہرصورت اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ انتخابات ایک بار مقررہ تاریخ سے آگے گئے تو پھر انکے مزید التواء کے راستے بھی نکلتے جائینگے۔ اس طرح ٹریک پر چڑھی جمہوریت کی گاڑی پھر ٹریک سے اترے گی تو اس بار جمہوریت اور اس سے وابستہ قائدین راندہ¿ درگاہ ہو جائینگے۔
تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...
انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...
شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...
حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...
پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...
عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...
حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...
خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...
وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...
متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...
کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...